یومِ جمہوریہ استقبالیہ میں گمچھا نہ پہننے پرامت شاہ نے راہل گاندھی پر کی تنقید۔ آسام کانگریس کی خاموشی پر اُٹھائے سوال
وزیر داخلہ امیت شاہ نے آسام کانگریس کی قیادت کو سخت سوالات کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب راہل گاندھی نے صدر جمہوریہ کی یومِ جمہوریہ استقبالیہ تقریب میں آسام کا روایتی گمچھا نہیں پہنا تو کانگریس اس پر خاموش کیوں رہی؟امیت شاہ نے ڈبروگڑھ میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید مزید تیز کر دی اور کہا کہ گمچھا آسام اور پورے شمال مشرق کی ثقافت میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
امیت شاہ نے کہا :
’’صرف راہل گاندھی نے شمال مشرق کا گمچھا نہیں پہنا۔ آخر ان کی شمال مشرق سے کیا دشمنی ہے؟‘‘
امیت شاہ نے راہل گاندھی کے طرزِ عمل کا موازنہ وزیراعظم نریندر مودی سے کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے کئی عالمی مواقع پر، حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں بھی گمچھا پہن کر شمال مشرق کے احترام کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کسی ایک فرد کے عمل سے علاقائی روایات ختم نہیں ہوتیں :
’’راہل گاندھی جو چاہیں کریں، لیکن شمال مشرق کی ثقافت ہمیشہ پھلتی پھولتی رہے گی۔‘‘
سوشل میڈیا تصاویر کے بعد تنازع
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یومِ جمہوریہ کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔
بی جے پی کے کئی لیڈروں، جن میں آسام کے چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما بھی شامل ہیں،ہمانتا دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کا یہ عمل ’’شمال مشرق مخالف ذہنیت‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
کانگریس کا ردعمل
کانگریس پارٹی نے بی جے پی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت دی کہ راہل گاندھی نے ابتدا میں پٹکا پہنا تھا، بعد میں بیٹھنے کے دوران اسے اتار دیا۔
کانگریس نے یہ بھی کہا کہ تقریب میں موجود کئی دیگر لیڈر، جن میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بھی شامل ہیں، بعض اوقات گمچھا کے بغیر نظر آئے۔
پارٹی کا کہنا تھا کہ بی جے پی ایک رسمی تقریب کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔
امیت شاہ کی امیگریشن پر کانگریس کو تنقید
امیت شاہ نے اپنی تنقید کو صرف ثقافتی مسئلے تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بھی کانگریس کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے آسام جیسے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی تارکین وطن کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
امیت شاہ نے کہا :
’’غیر قانونی امیگریشن کو اجازت دے کر کانگریس نے صرف اپنا ووٹ بینک مضبوط کیا۔‘‘
ڈبروگڑھ کو دوسرا دارالحکومت بنانے کی تعریف
امیت شاہ نے آسام کی ہمانتا بسوا سرما حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈبروگڑھ کو ریاست کا دوسرا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ عملی طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 250 ایکڑ زمین پر نئی قانون ساز اسمبلی کمپلیکس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’پہلے حکومتیں صرف اعلانات کرتی تھیں، لیکن یہاں فیصلہ لیا گیا تو اسے نافذ بھی کیا گیا۔‘‘
امیت شاہ کے مطابق اس اقدام سے ڈبروگڑھ کی سیاسی اور انتظامی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور شہر کو قومی سطح پر شناخت ملے گی۔
امریکہ-ایران جنگ کا خدشہ، ایران کے نزدیک امریکی جنگی جہاز تعینات؛ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ موجودہ کشیدگی کے درمیان وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں۔ کینیڈی سینٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت کی نمائش
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا تباہ کن جنگی جہاز تعینات کیا ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک اس خطے میں پہنچا ہے، جس کے بعد وہاں امریکی تباہ کن جنگی جہازوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور تین ساحلی جنگی جہاز بھی علاقے میں موجود ہیں، جو امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایران کی عسکری تیاریاں تیز
دوسری جانب ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو حال ہی میں ایک ہزار نئے ڈرون فراہم کیے گئے ہیں۔ تہران کا ماننا ہے کہ امریکہ کی شرائط پر کسی معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنا جنگ سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران ممکنہ تصادم کے پیش نظر خود کو ہر سطح پر تیار کر رہا ہے۔
نئے ڈرونز کی خصوصیات
ایران کو ملنے والے یہ ڈرون مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں لڑاکا، حملہ آور، نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر سے وابستہ ڈرون شامل ہیں۔ انہیں زمین، سمندر اور فضا میں موجود جامد اور متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل سے ملنے والے تجربات
ایرانی حکام کے مطابق ان ڈرونز کی تیاری میں جون کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع اور فوجی ماہرین نے مشترکہ طور پر ان ڈرونز کو تیار کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ جدید ڈرون مستقبل میں ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
بھارت-بنگلہ دیش سرحدی سلامتی پر کلکتہ ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 31 مارچ تک ریاستی حکومت بی ایس ایف کو سونپے زمین
کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ نو سرحدی اضلاع میں حاصل کی گئی زمین 31 مارچ تک سرحدی سلامتی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کر دے۔ عدالت نے کہا کہ یہ قدم اس لیے ضروری ہے تاکہ بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کا ادھورا کام مکمل کیا جا سکے اور سرحدی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
معاملہ کیوں ہے سنگین ؟
بھارت-بنگلہ دیش سرحد کی کل لمبائی 4,096 کلومیٹر ہے، جس میں سے 2,216 کلومیٹر سے زائد حصہ مغربی بنگال سے جڑا ہوا ہے۔ سال 2016 سے متعدد کابینہ منظوریوں اور زمین کے حصول کے عمل کے مکمل ہو جانے کے باوجود سرحد کا ایک بڑا حصہ اب بھی بغیر باڑ کے ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورتحال سے دراندازی، اسمگلنگ، جعلی کرنسی اور منشیات سے متعلق جرائم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کورٹ نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کے فنڈ سے حاصل کی گئی زمین حوالے کرنے میں تاخیر کا کوئی معقول جواز نہیں ہے۔
’سلامتی سب سے بالا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ انتخابی عمل یا ووٹر لسٹ میں ترمیم جیسے انتظامی اسباب قومی سلامتی سے جڑے معاملات میں تاخیر کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ سلامتی سب سے مقدم ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت تک معاملہ کیسے پہنچا؟
یہ معاملہ ایک سابق فوجی افسر کی جانب سے دائر کی گئی عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) کے ذریعے عدالت تک پہنچا۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے زمین بی ایس ایف کو نہ سونپنے کے باعث سرحد پر باڑ بندی کا کام رکا ہوا ہے، جس سے سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب زمین کے حصول کا معاوضہ پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے تو زمین کی منتقلی روکنا ناانصافی ہے۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ سدھانشو تریویدی کا ردِعمل
ہائی کورٹ کے حکم پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو تریویدی نے ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے درست اور قابلِ ستائش قرار دیا۔ تریویدی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت دراندازوں کو خوش کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جس سے سلامتی کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام مستقبل میں ایسی حکومت کو دوبارہ موقع نہیں دیں گے جو قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرے۔
آئندہ کی کارروائی
ہائی کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا زمین کے حصول کے عمل کو ’ہنگامی دفعات‘ کے تحت مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 2 اپریل 2026 کو مقرر کی ہے۔