*ادارہ نثری ادب کی232 ویں ماہانہ ادبی نشست*
*ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(232) بتاریخ 31جنوری 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی- صدارت کے فرائض محترم عمران جمیل سر انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ڈاکٹر مختار انصاری (افسانہ نگا) ہارون اختر (افسانہ نگار) عتیق شعبان (صدر ادارہ نثری ادب)و رضوان ربانی صاحبان اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ، زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-*
ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں، ان سے کیسے بچا جائے؟
پانی میں ڈوبنا، جنگل میں سرپٹ دوڑنا، کسی خونخوار جانور سے جان بچانے کی کوشش یا مافوق الفطرت چیزیں دکھائی دینے کے علاوہ اور بھی بہت سے مناظر ہو سکتے ہیں جو اکثر لوگوں کو خواب میں نظر آتے ہیں اور جاگنے پر بھی انسان بے چینی اور خوف محسوس کرتا ہے اور اکثر لوگ یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ایسے خواب آخر آتے ہی کیوں ہیں؟
انڈین این ڈی ٹی وی نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس ان تمام نکات پر بات کی گئی ہے جو عموماً ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بنتے ہیں اور ان سے بچنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ایسے خواب کسی بھی عمر کے فرد کو آ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر ’ریپڈ آئی موومنٹ‘ کے دوران آتے ہیں۔
ریپڈ آئی موومنٹ کیا ہے؟
یہ نیند کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں زیادہ تر ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں سونے والے کی سانس کی رفتار، دل کی دھڑکن اور فشار خون بڑھ جاتا ہے جبکہ آنکھیں بند ہونے کے باوجود تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اس دوران پٹھے، بازو اور ٹانگیں عارضی طور پر بے حرکت ہو جاتی ہیں۔
ڈراؤنے خواب عام خوابوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں کیونکہ عام خوابوں میں جسمانی اور جذباتی معاملات قدرے معمول پر رہتے ہیں اور یہ زیادہ تر حقیقت اور خیالات پر مبنی ہوتے ہیں۔اگرچہ ڈراؤنے خوابوں کے معاملے کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا ہے تاہم زیادہ تر ان کا تعلق نفسیاتی معاملات سے ہوتا ہے جیسے اضطراب، دباؤ، خوف اور ٹراما وغیرہ، جبکہ اس کی وجہ زندگی گزارنے کا انداز بھی بتائی جاتی ہے۔
ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسے خواب دباؤ اور اضطراب کی وجہ سے آتے ہیں۔ جب دماغ میں کثرت سے منفی خیالات اور تفکرات موجود ہوں تو وہ نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں اور معاملہ ڈراؤنے خوابوں کی طرف چلا جاتا ہے۔
اسی طرح اعصابی دباؤ جسم میں کورٹیسول اور اینڈرینالائن جیسے ہارمونز بڑھنے کا باعث بنتا ہے اور یہ صورت حال ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بن سکتی ہے۔
کوئی سخت صدمہ
وہ لوگ جو کسی شدید صدمے گزرے ہوں ان کو بھی خوفناک خواب زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ صدمے کی کیفیت دماغ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے جس پر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اکثر اوقات یہ صورت حال گزری تلخ یادوں کے ساتھ مل کر خوفناک خواب بن جایا کرتی ہے۔
علاج کیا ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اعصابی دباؤ کو کم کرنے اور فشار خون کو معمول پر رکھنے والی ادویات لینے سے ایسے خوابوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ ادویات دماغ میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز کو بہتر کر سکتی ہیں جن کا نیند اور خوابوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
کم خوابی، درست نیند نہ آنا اور اپینیا
ڈراؤن خوابوں کی ایک کم خوابی اور معمول کے مطابق نیند نہ آنا بھی بتائی جاتی ہے۔ کم خوابی کے شکار افراد جب سو جاتے ہیں تو ان کو ڈراؤنے خواب آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
اسی طرح سلیپ ایپینیا یعنی سوتے ہوئے سانس کا رکنا بھی اس کی ایک وجہ ہے کیونکہ اس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کا لیول بڑھ جاتا ہے اور بات ڈراؤنے خواب کی طرف چلی جاتی ہے۔نشہ آور اشیا کا استعمال
الکوحل، نشہ آور اشیا اور نیند آور گولیاں کھانے سے بھی برے خواب دکھائی دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
نیند کا معمول بار بار بدلنا
اگر نیند ایک وقت پر لی جائے تو بھی برے خواب آ سکتے ہیں جو لوگ مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور کبھی دن، کبھی شام اور کبھی رات کے آخری پہر میں جا کر سوتے ہیں ان کو ڈراؤنے خواب آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
خراب ماحول
اس میں اس مقام کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے جہاں ایک انسان سوتا ہے۔ اگر بستر آرام دہ نہیں، جس جگہ پر سویا جا رہا ہے اس کے اردگرد شدید شور ہو رہا ہے۔ بہت شدید گرمی یا سردی ہو تو بھی ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں۔
کم نیند لیناضرورت سے کم نیند لینے والے بھی ڈراؤنے خوابوں کی گرفت میں آتے ہیں اس سے دماغ کی وہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو عام خوابوں کی وجہ ہوتی ہے اسی طرح کم نیند کے ساتھ جب دیگر دباؤ بھی شامل ہوتے ہیں تو برے خواب آتے ہیں۔
خوراک اور مشروبات
خوراک اور مشروبات کا نامناسب استعمال بھی آپ کو رات کے وقت ڈرانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر سونے سے چند لمحے قبل بہت زیادہ کھانا کھا لیا جائے تو ہاضمے کے مسائل ہو سکتے ہیں جو ڈراؤنے خوابوں کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
طبی مسائل
طبی مسائل جیسے مرگی، پارکنسز اور الزائمر وغیرہ بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے دماغ کی صلاحیت اور نیند کے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔کیسے بچا جائے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب نیند لی جائے، اعصابی دباؤ اور اضطراب کو قابو میں رکھا جائے۔ کیفین پر مشتمل اشیا کے استعمال کو حدود میں رکھا جائے، سونے سے قبل زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے اور آرام دہ حالات اور مقام پر سویا جائے تو ڈراؤنے خوابوں سے بچا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا رس نچوڑ یں گے ٹرمپ ! IMF نے دئے 11,032 کروڑ روپے ، کیا ، اسی سے بریانی کی قیمت چکائیں گے عاصم منیر؟
: فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکہ کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور بریانی اور دیگر پکو ان کے لطف اٹھائے ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اس کی قیمت چکائے۔ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی فعالیت کوئی اجنبی نہیں لیکن اس بار اس کے ایک فیصلے نے ملکی سیاست سے لے کر عالمی اقتصادی حلقوں تک سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان کا “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کا اعلان، ابتدائی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے شروع کیا تھا، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی امداد پر منحصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 بلین ڈالر (ہندوستانی کرنسی میں 11,032 کروڑ روپے) کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے۔ اس نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ آیا یہ فنڈز بالواسطہ طور پر کسی مہنگے جیو پولیٹیکل پروجیکٹ، خاص طور پر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو جا رہے ہیں۔پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ بورڈ آف پیس کے تحت کوئی بڑے مالیاتی وعدے کرے گی، لیکن ٹرمپ کے اقدام کی ایک اہم شق (پہلے سال میں 1 بلین ڈالر فراہم کرنے پر مستقل رکنیت) نے ملک کے اندر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معاشی بحران سے نبرد آزما پاکستان اس طرح کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے اور اگر ایسا کرتا ہے تو کیا یہ آئی ایم ایف کی مدد سے ممکن ہو سکے گا۔ “بورڈ آف پیس” ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جسے صدر ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) میں متعارف کرایا تھا، جس کا بیان کردہ مقصد تنازعات والے علاقوں میں امن کی تعمیر، تعمیر نو کو فروغ دینا اور حکمرانی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کی موجودہ ترجیح غزہ جیسے تنازعات والے علاقوں پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہیں اور رکنیت اور رہنما اصولوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔
بورڈ آف پیس میں کون ۔ کون ہے شامل ؟
بورڈ آف پیس کی نمایاں شخصیات میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف شامل ہیں۔ اب تک دو درجن سے زائد ممالک نے شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے جن میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، مراکش، انڈونیشیا اور پاکستان شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کوئی بھی مستقل رکن اس میں شامل نہیں ہوا۔ کینیڈا، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے خود کو فورم سے الگ کر لیا ہے، جبکہ دیگر نے بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی امن کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
1 بلین ڈالر کی شق اور پاکستان کے تحفظات
بورڈ کے مسودہ چارٹر میں ایک اہم شق شامل ہے: رکن ممالک کی تقرری تین سال کی مدت کے لیے کی جائے گی، لیکن اگر کوئی ملک پہلے سال میں 1 بلین ڈالر کی نقد رقم دیتا ہے، تو اس کی رکنیت عملی طور پر مستقل ہو سکتی ہے۔ یہ رقم تنازعات کے علاقوں بالخصوص غزہ کی تعمیر نو کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ شق پاکستان کے اندر بحث کا ایک بڑا مرکز بن گئی ہے۔ اگرچہ اسلام آباد نے باضابطہ طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ وہ اس رقم میں حصہ ڈالے گا، لیکن معاشی بحران کے دور میں ایسی شق کا ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب حکومت گھریلو اخراجات، سبسڈی، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے وسائل جمع کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے تو ایک بین الاقوامی فورم پر اربوں ڈالر دینے سے عام شہریوں میں عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے حال ہی میں پاکستان کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی، جس میں توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت 1 بلین ڈالر اور لچک اور پائیداری کی سہولت (RSF) کے تحت 200 ملین ڈالر شامل ہیں۔ یہ کل 3.3 بلین ڈالر کے پیکیج کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کا 7.35 بلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہے اور 1950 کی دہائی سے اب تک تقریباً دو درجن مرتبہ آئی ایم ایف کی امداد حاصل کر چکا ہے۔ یہ 2023 میں ڈیفالٹ ہونے کے بہت قریب تھا اور اسے پچھلے سال 7 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج ملا تھا۔ اس نے مارچ میں 1.3 بلین ڈالر کا نیا موسمیاتی لچکدار قرض بھی حاصل کیا۔
ملک معاشی طور پر ICU میں ہے
ان متعدد ریلیف پیکجز کے باوجود پاکستان کی معاشی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔ اس کا بیرونی قرضہ ستمبر 2025 تک 134 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جب کہ جون 2025 تک کل سرکاری قرضہ تقریباً 286.8 بلین ڈالر تھا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 70 فیصد کے قریب ہے۔ اسلام آباد نے دوست ممالک سے قرضوں کی تنظیم نو کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے شرح سود کو کم کرنے اور 2.5 بلین ڈالر کی سہولت کی مدت میں توسیع کی درخواست بھی شامل ہے۔ اس سے ملک کی مالی صورتحال واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔