ایشان کشن کی طوفانی سنچری، India VS NewZealand بھارت نے نیوزی لینڈ کو 46 رنز سے شکست دے کر ٹی20 سیریز 4-1 سے جیت لی
ترووننت پورم: بھارت نے گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پانچویں ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ کو 46 رنز سے شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بھارتی ٹیم نے کپتان سوریہ کمار یادو اور ایشان کشن کی شاندار اور جارحانہ اننگز کی بدولت 5 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بنائے۔ یہ ٹی20 کرکٹ میں بھارت کا تیسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔
بھارت نے 48 رنز کے مجموعی اسکور پر اپنے دونوں اوپننگ بلے بازوں کی وکٹیں گنوا دی تھیں۔ اس کے بعد ایشان کشن نے کپتان سوریہ کمار یادو کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 57 گیندوں پر 137 رنز کی شاندار شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کو 185 رنز تک پہنچایا۔
سوریہ کمار یادو 30 گیندوں پر 6 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد ایشان کشن نے ہاردک پانڈیا کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 18 گیندوں پر 48 رنز جوڑے۔ ایشان کشن نے 43 گیندوں پر 10 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 103 رنز بنائے، جو ان کے ٹی20 بین الاقوامی کیریئر کی پہلی سنچری تھی۔
ہاردک پانڈیا نے آخری اوورز میں جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 گیندوں پر 4 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 42 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے لاکی فرگوسن نے سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جیکب ڈفی، کائل جیمیسن اور مچل سینٹنر نے ایک، ایک وکٹ لی۔
272 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں اتری کیوی ٹیم 19.4 اوورز میں 225 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ مہمان ٹیم نے 17 رنز کے اسکور پر ٹم سیفرٹ (5) کی وکٹ گنوا دی تھی۔ اس کے بعد رچن رویندرا نے فن ایلن کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 48 گیندوں پر 100 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا۔
یہ شراکت نویں اوور کی آخری گیند پر ٹوٹ گئی، جب فن ایلن 38 گیندوں پر 6 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 80 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ ڈیرل مچل نے 26 رنز جبکہ ایش سوڑھی نے 33 رنز بنائے، مگر ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہے۔
ون ڈے سیریز 1-2 سے ہارنے کے بعد بھارت نے ٹی20 سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کو 48 رنز سے شکست دی تھی۔ اس کے بعد دوسرے اور تیسرے میچ میں بالترتیب 7 وکٹوں اور 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ حالانکہ، چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ نے 50 رنز سے جیت درج کر کے اپنی ساکھ بچائی۔
کم چکنائی اور نشاستے والی خوراک، طویل عمر کا راز؟
نئی تحقیق کے مطابق کم چکنائی اور کم نشاستے یعنی کاربوہائیڈریٹس والی غذا صحت مند زندگی گزارنے اور عمر درازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ہیلتھ لائن میگزین کے مطابق دل کے امراض، مختلف قسم کے کینسر اور قبل از وقت موت کی ایک وجہ نشاستے اور چکنائی سے بھرپور غذا ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی جریدے جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کم نشاستے اور کم چکنائی والی غذا کے بیماریوں اور شرح اموات پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس تحقیق میں ادھیٹر اور بڑی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔
تحقیق میں شامل افراد کو کم چکنائی والی صحت مند خوراک دی گئی جس میں سیچوریٹڈ فیٹس کی کم سے کم مقدار شامل تھی جبکہ نباتاتی ذرائع سے حاصل کردہ پروٹین اور ہائی کوالٹی کاربوہائیڈریٹس کو استعمال میں لایا گیا۔
اس سے پہلے ہونے والے کلینکل ٹرائلز میں یہ بات سامنے آئی کہ کم چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس والی غذا سے وزن میں کمی اور دل کی صحت میں بہتری دیکھی گئی تھی۔
تاہم اس نئی تحقیق سے سامنے آنے والے حقائق زیادہ پیچیدہ ہیں۔
تحقیق کے مصنفین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ادھیڑ اور بڑی عمر کے لوگوں میں موت کی وجہ بننے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے کم چکنائی اور کم سیچوریٹڈ فیٹس والی صحت مند غذا لینے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔‘
امریکی ماہر غذائیت لون بین اشر نے ہیلتھ لائن میگزین کو بتایا کہ کسی بھی انسان کی زندگی میں خوراک کی کوالٹی کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے، جس سے اس کی صحت بہتر یا بگڑ سکتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص باقاعدگی سے کم نشاستے اور چکنائی والی خوراک لیتا ہے جس میں اچھی کوالٹی کے کاربوہائیڈریٹس، نباتاتی ذرائع سے حاصل کردہ پروٹین، وٹامن، منرلز اور فائبر شامل ہو تو بہت ساری دائمی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن میں ہائپر ٹینشن، دل کے امراض، شوگر اور کینسر شامل ہیں۔
ماہر غذائیت کے مطابق فائبر سے بھرپور غذاؤں میں تمام سبزیاں بالخصوص مٹر، آلو، پھلیاں یا لوبیا، دالیں، جو کا دلیہ اور تمام اناج شامل ہیں۔
ایک اور ماہر غذائیت کرسٹین کرپاٹرک نے بتایا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ چکنائی صحت مند ذرائع سے حاصل کی جائے جیسے ڈرائی فروٹ اور زیتون کا تیل۔
انہوں نے کہا کہ ہر تحقیق میں ڈرائی فروٹ اور زیتون سے حاصل ہونے والی چکنائی کو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
’نشاستہ یا چکنائی لینے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن کس ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے وہ انسانی صحت کا تعین کرتے ہیں۔‘
بجٹ سے پہلے بڑا جھٹکا، اتنے روپئے مہنگا ہوگیا گیس سلینڈر، جانئے مکمل تفصیل
نئی دہلی: بجٹ 2026 پیش ہونے سے پہلے ہی حکومت نے عوام اورتاجروں کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ حکومت نے 19 کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلینڈرکے دام 50 روپئے دیئے ہیں۔ تاہم, 14 کلوگرام والے گھریلورسوئی گیس سلینڈرکی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گھریلوسلینڈراب بھی 8 اپریل 2025 کوطے شدہ پرانے ریٹ پرہی مل رہے ہیں۔دہلی سے چنئی تک کمرشیل سلینڈروں کی قیمت میں اضافہ
رسوئی گیس مہنگی ہونے کے بعد دہلی میں اب 19 کلوگرام والے ایل پی جی سلینڈرکی قیمت 1740.50 روپئے ہوگئی ہے۔ کولکاتا میں اس کی قیمت بڑھ کر1844.50 روپئے ہوگئی ہے۔ ممبئی میں یہ اب 1692.00 روپئے میں ملے گا، جوپہلے 1642.50 روپئے تھا۔ چنئی میں اس کی قیمت اب 1899.50 روپئے ہوگئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 50 روپئے کا یہ اضافہ کمرشیل سلینڈرپرکی گئی ہے، جن کا استعمال ہوٹل، ریسٹورنٹ، ڈھابہ اور دیگر تجارتی کاموں میں ہوتا ہے۔
گھریلو ایل پی جی سلینڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں
گھروں میں استعمال ہونے والے 14.2 کلوکے ایل پی جی سلینڈرکی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس میں آخری بار8 اپریل 2025 میں تبدیلی ہوئی تھی۔ فی الحال الگ الگ شہروں میں 14 کلو والے گھریلوسلینڈرکی قیمتیں الگ الگ ہیں۔ دہلی میں 853 روپئے، کولکاتا 879 روپئے، ممبئی 852.50 روپئے، چنئی 868.50 روپئے، لکھنو میں 890.50 روپئے، احمدآباد میں 860 روپئے، حیدرآباد میں 905 روپئے، وارانسی میں 916.50 روپئے اور پٹنہ میں 591 روپئے کی قیمت ہے۔
ہرماہ کی پہلی تاریخ کو لیا جاتا ہے قیمتوں کا جائزہ
پٹرولیم مارکیٹنگ سے متعلق سرکاری کمپنیاں ہرماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی سلینڈروں کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ اس سے پہلے جنوری میں 19 کلو والے کمرشیل گیس سلینڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ وہیں، گزشتہ سال نومبراوردسمبرمیں ان سلینڈروں کی قیمتوں میں بالترتیب پانچ اور10 روپئے کی کٹوتی کی گئی تھی۔