مشرق وسطی میں منڈلا رہے ہیں جنگ کے بادل ، امریکہ اورایران کی جنگی مشقیں
مشرق وسطی میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ امریکہ کی جانب سے فوجی تعیناتی سے کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔امریکی جنگی بیڑے کے مشرق وسطی میں داخل ہونے کے بعد عسکری اور سفارتی سطح ہلچل بڑھ رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،بحری بیڑے کے مشرق وسطی پہنچنے کے ایک دن بعد،امریکہ نے فوجی مشق کا اعلان کیا ہے۔
جنگی مشیق
امریکہ کے جواب میں ایران نے بھی ابنائے ہرمز میں فوجی مشق کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے ابنائے ہرمز کے نزدیک فضائی حدود کو محدود کردیا ہے۔ایران نے نوٹیم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ29 جنوری تک پانچ نوٹیکل میل کے رقبے میں مشق کیا جائیگا۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 29 جنوری تک 25 ہزار فٹ سے نیچے پرواز نہ کی جائیں۔ادھر، امریکی فضائیہ کی طرف س بھی مشق کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مشق نویں فضائیہ کی جانب سے کی جارہی ہے، جسے ایئر فورسیز سینٹرل (AFCENT) بھی کہا جاتا ہے۔ ایئرفورسز سینٹرل،امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کا حصہ ہے جو کئی دنوں تک جاری رہے گا۔
ایئر فورسیز سینٹرل کی جانب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشق اثاثہ جات اور عملے کو منتشر کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے، علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور پورے CENTCOM میں لچکدار ردعمل کی تیاری کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
ایئر فورسیز سینٹرل کے مطابق، اس مشق کا استعمال اہلکاروں اور ہوائی جہازوں کی تیز رفتار نقل و حرکت کے طریقہ کار کی توثیق کرنے، ہنگامی مقامات پر منتشر آپریشن کرنے، اور کم سے کم اثرات کے ساتھ رسد کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ آپریشنز کے ایک بڑے علاقے میں مربوط، ملٹی نیشنل کمانڈ اور کنٹرول کی بھی جانچ کرے گا۔
ایران پرحملے کے خدشات کے بیچ ٹرمپ کا حالیہ بیانات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بحری بیڑے کی تعیناتی ایران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔ انھوں نے پہلے بھی اُمید ظاہر کی ہے کہ بحری بیڑے کے استعمال کی نوبت نہیں آنی چاہیے ۔
’امریکہ کا عمل خطے عدم استحکام لائے گا‘
اس بیچ، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سے فون پر بات کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،انھوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوج کی تعیناتی سے عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انھوں نے مظاہروں کے پس منظر میں امریکہ کی مداخلت کی دھمکیوں اوراقتصادی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ان باتوں کا اثرایران کے عوام پرنہیں ہونے والاہے۔
ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور وہ ایران کے خلاف اپنی زمین اورف فضائی حدوداستعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔سعودی عرب نے مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی بات بھی کہی ہے۔سعودی عرب کے موقف کی ایران نے ستائش کی ہے اور ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ابنائے ہرمزاہم تجارتی چیک پوائنٹ
خیال رہے کہ امریکی بحری بیڑے میں ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں۔ خیال رہے کہ،امریکہ نے ایران سے کاروبار جاری رکھنے والے ممالک پر25فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی گزشتہ دنوں کیا تھا ۔مشرق وسطی میں امریکہ کے ان اقدامات کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا بھی ہوگا جو ایران سے تیل درآمد کرتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے حوالے سے توانائی اور جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم چیک پوائنٹ میں ایک ہے۔اس آبی گزر گاہ سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، جو سمندر کے راستےتیل کی تجارت کا تقریباً 37 فیصد ہے۔
جیل میں اندھے ہوسکتے ہیں عمران خان، ڈاکٹروں نے کھڑے کردئے ہاتھ، ’میڈیکل مرڈر‘ بنے گی یہ بیماری؟
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو شہباز شریف اور عاصم منیر کے راج میں زمین پر ہی جہنم جیسی اذیت کا سامنا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے ترسایا جا رہا ہے۔ انہیں دنیا سے کاٹنے کے لیے کال کوٹھری میں بند کر دیا گیا ہے۔ عمران کی بہنیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ان کی صحت مزید بگاڑنے کے لیے انہیں مسلسل ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں بہنوں کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی آنکھوں میں ایک سنگین بیماری لاحق ہو گئی ہے، جس کے باعث ان کی بینائی جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
عمران خان سے متعلق چونکا دینے والی رپورٹمیڈیکل ٹیم کی رپورٹ نے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان سنٹرل ریٹینل وین اوکلیوژن (CRVO) نامی ایک نہایت سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری میں آنکھ کی ریٹینا کی رگوں میں خون کا لوتھڑا جم جاتا ہے یا رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر فوری طور پر علاج فراہم نہ کیا گیا تو عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے جا سکتی ہے۔
راولپنڈی–اسلام آباد کے علاقے میں جاری شدید سردی کی لہر اور جیل کی خشک ٹھنڈ نے ان کی الرجی اور انفیکشن کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
ڈاکٹروں کی وارننگ: ‘جیل میں علاج ممکن نہیں’
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے ڈاکٹروں کے ایک وفد نے جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’عمران خان کو فوری طور پر کسی اسپیشلائزڈ اسپتال اور آپریشن تھیٹر کی ضرورت ہے۔ جیل کے اندر موجود سہولیات سے ان کی آنکھ کو بچانا ناممکن ہے۔‘‘
عمران خان کے ‘میڈیکل مرڈر’ کی سازش
عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی اور ان کے حامیوں نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا جان بوجھ کر عمران خان کو علاج سے محروم رکھ کر انہیں جسمانی طور پر معذور بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان کی بہنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شوکت خانم اسپتال منتقل کیا جائے۔
31 جنوری کو کیا ہونے والا ہے؟
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا، لیکن 31 جنوری 2026 کو ہونے والا اگلا میڈیکل ریویو پاکستان کی سیاست میں بڑا دھماکہ کر سکتا ہے۔ اگر عمران خان کی صحت مزید بگڑی تو پاکستان کی سڑکوں پر خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔55 دنوں سے دو طرح کا ٹارچر؟
عمران خان 2 دسمبر 2025 سے، یعنی گزشتہ تقریباً 55 دنوں سے، ’سولیٹری کنفائنمنٹ‘ یا یوں کہیے کال کوٹھری میں بند ہیں۔
ٹارچر کی انتہا یہ ہے کہ انہیں کسی بھی بیرونی شخص، حتیٰ کہ اپنے وکلاء اور بہنوں (علیمہ اور عظمیٰ خان) سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ، صدرجمہوریہ دروپدی مرموکرینگی مشترکہ اجلاس سے خطاب
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آج(بدھ)سےآغاز ہورہا ہے۔صدرجمہوریہ دروپدی مرمو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی۔پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دومرحلوں میں ہوگا ۔ 65دنوں پر مشتمل اس اجلاس کےدوران تیس نشستیں ہوں گی۔
پہلے مرحلے میں13 جبکہ دوسرے مرحلے میں 17نشستیں ہوں گی۔پہلا مرحلہ 28 جنوری سے13 فروری تک جبکہ دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے2 اپریل تک ہوگا۔پہلے مرحلے بعد کے چار ہفتوں کی تعطیلات کے بعد دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے شروع ہوگا۔
یکم فروری کوبجٹ کی پیشی
بجٹ یکم فروری کو پیش کیا جائیگا۔واضح رہے کہ بجٹ پہلی بار اتوار کے روز پیش کیا جائے گا۔ بہ حیثیت ِ وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نویں بار بجٹ پیش کریں گی۔یکم فروری اتوار ہے اور اتوار کوپہلی بار بجٹ پیش کیا جائیگا۔ بجٹ سے قبل، اقتصادی سروے پیش کیا جائیگا۔شکریہ کی تحریک پربحث
لوک سبھا کے مراسلے کے مطابق ، صدر جمہوریہ کے خطاب پرشکریے کی تحریک پربحث کے لیے عارضی طو رپر2 سے4 فروری تک تین دن مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس کو عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس کے درمیان وقفہ ہوتا ہے تاکہ اسٹینڈنگ کمیٹیاں الگ الگ وزارتوں کی گرانٹس کے مطالبات کی جانچ کر سکیں۔دومرحلوں میں ہوگا بجٹ اجلاس
بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ بنیادی طور پر مالیاتی کاروبار اور صدر کے خطاب پرشکریے کی تحریک پر بحث کے لیے وقف ہوتا ہے۔دوسرے مرحلے میں قانون سازی اوردیگر امور کے لیے وقف ہوتا ہے۔پارلیمنٹ کےبجٹ سیشن کےدوران کئی قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔