پاکستان نے ایران جانے کے لئے پاسپورٹ اور ویزا لازمی کردیا۔ دہائیوں پرانا نظام ختم:کیاپاکستان اور ایران تعلقات میں کڑواہٹ آرہی ہے؟
منوج گپتاکی رپورٹ:
پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحدی آمد و رفت کے لیے کئی دہائیوں سے جاری ون ڈاکومنٹ راہداری (Rahdari) نظام ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت اب پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ اور ویزا لازمی ہوگا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا نفاذ مرحلہ وار کیا جائے گا، جس کا آغاز 15 مارچ 2026 سے ہوگا جبکہ اس نظام کا باضابطہ افتتاح 31 مارچ 2026 کو متوقع ہے۔
یہ فیصلہ سرحدی علاقوں میں رہنے والی آبادی کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ ماضی میں بلوچستان اور ایران سے متصل علاقوں کے رہائشی صرف ایک مقامی دستاویز کے ذریعے آسانی سے سرحد عبور کر سکتے تھے۔
سرحدی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ
سینئر انٹیلی جنس ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ سرحد پر کنٹرول سخت کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ایران کی سرحد کو طویل عرصے سے ایک حساس اور کمزور سرحد سمجھا جاتا رہا ہے، جسے :
عسکریت پسند گروہوں کی آمد و رفت
اسمگلنگ نیٹ ورکس
غیر رسمی مالی لین دین
کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔
عالمی دباؤ اور جیوپولیٹیکل زاویہ
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ قدم امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی ہم آہنگی بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، خصوصاً ایران سے جڑی نقل و حرکت کی نگرانی کے حوالے سے۔
پاسپورٹ اور ویزا کی شرط نافذ کر کے اسلام آباد عالمی انسداد دہشت گردی فریم ورک اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت کا اشارہ دے رہا ہے۔
ایران کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ؟
ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے بظاہر یہ فیصلہ ایران کے ساتھ کسی نئی دو طرفہ مفاہمت کے بغیر یکطرفہ طور پر کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی سمت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی سرحدی آبادی متاثر
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر بلوچستان کے ان سرحدی علاقوں پر پڑے گا جہاں ہزاروں افراد کا روزگار اور روزمرہ زندگی سرحد پار تجارت اور آمد و رفت سے وابستہ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی ترجیحات اب داخلی انسانی اور معاشی مسائل پر غالب دکھائی دے رہی ہیں۔
پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً 900 کلومیٹر طویل ہے اور یہ خطہ طویل عرصے سے اسمگلنگ، عسکریت پسند نقل و حرکت اور غیر رسمی تجارت کے لیے حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں بلوچستان میں شورش، ایران میں سیکیورٹی خدشات اور خطے میں امریکہ-ایران کشیدگی نے پاکستان کو سرحدی پالیسی سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ایران کے دو دشمنوں کو امریکہ دے رہا خطرناک ہتھیار، ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا کھیل کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران پر فوجی حملے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اب اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیار اور فوجی سازوسامان اور تقریباً 9 بلین ڈالر سعودی عرب کو فروخت کرے گا، جو دونوں ایران کے دیرینہ دشمن ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کی رات دیر گئے ان سودوں کا اعلان کیا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اسلحے کے ان سودوں کے بارے میں پہلے جمعہ کو امریکی کانگریس کو مطلع کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں عام کر دیا گیا تھا۔ یہ معاہدے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور دنیا ایران کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل کو اپاچی ہیلی کاپٹر اور فوجی گاڑیاں ملیں گیاسرائیل کے لیے منظور کیے گئے ہتھیاروں کے پیکج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کی کل رقم 6.67 بلین ڈالر ہے۔ سب سے بڑا سودا 30 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کا ہے، جس کی لاگت تقریباً 3.8 بلین ڈالر ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر راکٹ لانچرز اور انتہائی جدید ہدف سازی کے نظام سے لیس ہوں گے جس سے اسرائیلی فوج کی جارحانہ صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔اس کے علاوہ اسرائیل کو 3,250 لائٹ ٹیکٹیکل گاڑیاں بھی ملیں گی جن کی لاگت 1.98 بلین ڈالر ہے۔ یہ گاڑیاں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) میں فوجیوں اور رسد کو ایک جگہ سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جائیں گی، فوجی مواصلات اور سپلائی لائنوں کو مضبوط بنائیں گی۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اسرائیل اپنی بکتر بند فوجی گاڑیوں کے پاور پیک پر اضافی 740 ملین ڈالر خرچ کرے گا، جو وہ 2008 سے استعمال کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 150 ملین ڈالر ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹروں کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے، جو اسرائیل کے موجودہ ہیلی کاپٹر بیڑے کو مضبوط بنائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی فروخت سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ سودے اسرائیل کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے اور اپنی سرحدوں، اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری آبادی کی حفاظتی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے میں مدد کریں گے۔
سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائل ملیں گے
سعودی عرب کو تقریباً 9 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی فروخت کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل اور متعلقہ ساز و سامان ملے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مفادات کو تقویت ملے گی۔
محکمہ خارجہ کے مطابق پیٹریاٹ میزائل سسٹم سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی زمینی افواج کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے خلیجی خطے میں مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام مزید مضبوط ہوگا۔
امریکہ نے سعودی عرب کو ایک بڑا نان نیٹو اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایران پر حملے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ہتھیاروں کے سودے
ہتھیاروں کے ان سودوں کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران پر امریکی فوجی حملے کی قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ دریں اثناء صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنا اور جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور تعمیر نو کے عمل کو شروع کرنا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں اس تنازعے نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور غزہ میں بڑی تباہی مچائی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اس کی اپنے دفاع کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا امریکہ کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔ محکمہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ مضبوط اور چوکس سیلف ڈیفنس انفراسٹرکچر تیار کرنے میں اسرائیل کی مدد جاری رکھے گا۔ہتھیاروں کے یہ بڑے سودے ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سٹریٹجک موجودگی اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات مستقبل میں مزید گہرے ہونے کے لیے تیار ہیں۔
’’غزنوی غیر ملکی نہیں بلکہ ہندوستانی تھا‘‘؛ سابق نائب صدر جمہوریہجمہوریہ حامد انصاری کے بیان سےمچی سیاسی ہلچل
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ جن لوگوں کو ہم اپنی کتابوں میں غیر ملکی حملہ آور بتاتے ہیں، کوئی لودی ہے، کوئی غازی ہے، وہ سب دراصل ہندوستانی لٹیرے تھے۔ وہ باہر سے نہیں آئے تھے۔ یہ کہنا ہے بھارت کے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کا۔ سابق نائب صدر جمہوریہ کے اس بیان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حملہ آور ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ غیر ملکی حملہ آوروں اور لٹیروں کے تئیں سابق نائب صدر جمہوریہ کی ہمدردی ان کی بیمار ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے۔دراصل حامد انصاری نے ایک صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں تاریخ کی کتابوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی تاریخ کی کتابوں میں جنہیں غیر ملکی حملہ آور اور لٹیرے بتایا گیا ہے، وہ سب حقیقت میں ہندوستانی لٹیرے تھے۔ اس میں محمود غزنوی بھی شامل ہے۔
محمود غزنوی ہندوستانی تھا—حامد انصاری
انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر یہ کہنا آسان ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ تباہ کیا، انہوں نے وہ تباہ کیا، لیکن وہ سب ہندوستانی تھے۔
سابق نائب صدر جمہوریہ کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے کانگریس اور حامد انصاری پر زبردست حملہ کیا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے کہا کہ، کانگریس اور اس کا ایکو سسٹم غیر ملکی حملہ آوروں کی تعریف کرتا ہے ۔ یہ افسوسناک ہے کہ ایسا شخص بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہ چکا ہے۔
پہلے بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں حامد انصاری
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے سیاسی ہلچل مچا دینے والا بیان دیا ہو۔ اس سے قبل 26 مئی 2016 کو ایران کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ اس بیان پر بھارتی حکومت نے ان پر بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔