Wednesday, 31 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





گھنے کہرے کی زد میں میں دہلی-این سی آر، فضائی آلودگی بدستور ’شدید‘ زمرے میں
نئی دہلی: بدھ کی صبح دہلی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) کے کئی علاقوں میں گھنی دھند چھا گئی، جس کے باعث حد نگاہ میں شدید کمی واقع ہوئی اور اہم سڑکوں پر معمول کی آمد و رفت متاثر رہی۔ غازی آباد کے اندراپورم، نوئیڈا کے بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن اور دہلی کے اکشردھام علاقے سے موصولہ مناظر میں سڑکوں اور رہائشی علاقوں پر دھند کی موٹی تہہ دیکھی گئی۔ کم حد نگاہ کے باعث گاڑیاں انتہائی سست رفتاری سے چلتی نظر آئیں۔ نوئیڈا کے مختلف علاقوں میں بھی یہی صورتحال رہی، جس سے صبح کے وقت دفتر جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فضائی آلودگی خطرناک سطح پر

سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے اعداد و شمار کے مطابق صبح 7 بجے دہلی کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 384 ریکارڈ کیا گیا، جو ’انتہائی خراب سے شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔ شہر کے کئی مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر اے کیو آئی خطرناک سطح پر رہا:

آنند وہار: 452

آئی ٹی او: 426

آر کے پورم: 411

چاندنی چوک: 419

دوارکا سیکٹر-8: 414

یہ تمام علاقے ’شدید‘ آلودگی کے زمرے میں شامل ہیں۔ کچھ علاقوں میں اگرچہ سطح نسبتاً کم رہی، لیکن اب بھی صحت کے لیے خطرناک تھی:

اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ٹرمینل-3): 334

نجف گڑھ: 331

آیا نگر: 321

یہ علاقے ’انتہائی خراب‘ زمرے میں درج کیے گئے۔

فضائی پروازیں متاثر، CAT-III پروٹوکول نافذ

گھنے کہرے اور دھند کے باعث اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں CAT-III حالات کے تحت چلائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے تاخیر اور منسوخی کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی ایئرپورٹ انتظامیہ نے ایک ایڈوائزری میں کہا کہ کم حدِ نگاہ کے باوجود مسافروں کی سہولت کے لیے گراؤنڈ ٹیمیں تعینات ہیں اور فعال طور پر مدد فراہم کر رہی ہیں۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا: ’’موجودہ گھنے کہرے کے باعث پروازیں CAT-III پروٹوکول کے تحت چلائی جا رہی ہیں، جس سے تاخیر یا منسوخی ہو سکتی ہے۔ ہماری ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے سرگرم ہیں۔ ہونے والی زحمت کے لیے ہمیں افسوس ہے۔‘‘

ریل خدمات بھی متاثر

دھند کے باعث ریل خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ کم حد نگاہ کے سبب متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار رہیں۔ قومی دارالحکومت کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر ٹرینوں کے انتظار میں کھڑے نظر آئے، جبکہ ٹرینوں کی رفتار سست رہی۔












سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز میں بھارت کی بیٹیوں کا کمال، 5-0 سے کیا ’کلین سویپ‘
ترواننت پورم: بھارت نے منگل کے روز گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی20 سیریز کے پانچویں اور آخری مقابلے میں سری لنکا کو 15 رنز سے شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے سیریز میں 5-0 سے کلین سویپ مکمل کر لیا۔

ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارتی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ بھارت کو محض 5 رنز کے اسکور پر شیفالی ورما (5) کی صورت میں پہلا جھٹکا لگا۔ اس کے بعد ڈیبیو کرنے والی جی کملینی (12) بھی پویلین لوٹ گئیں۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ ٹیم انڈیا نے 77 رنز تک 5 وکٹیں گنوا دی تھیں۔

اروندھتی ریڈی نے بنائے ناقابلِ شکست 27 رنز

یہاں سے کپتان ہرمن پریت کور نے امنجوت کور کے ساتھ چھٹے وکٹ کے لیے 37 گیندوں میں 61 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے بھارتی اننگز کو سنبھالا۔ امنجوت کور 18 گیندوں میں ایک چھکا اور ایک چوکے کی مدد سے 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جبکہ ہرمن پریت کور نے 43 گیندوں میں ایک چھکے اور 9 چوکوں کے ساتھ شاندار 68 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس کے علاوہ اروندھتی ریڈی نے ناقابلِ شکست 27 رنز بنائے۔
دوسرے وکٹ کے لیے بنے 56 گیندوں میں 79 رنز

سری لنکا کی جانب سے رشمیکا سیوندی، کویشا دلہاری اور چمری اتھاپتھو نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نمیشہ مدوشانی نے ایک وکٹ لی۔ جواب میں اچھی شروعات کے باوجود سری لنکن ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 160 رنز ہی بنا سکی۔ سری لنکا کو 7 کے اسکور پر کپتان چامری اتھاپتھو (2) کی وکٹ گنوانی پڑی۔ اس کے بعد ہسینی پریرا نے امیشا دلانی کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے 56 گیندوں میں 79 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کو 86 رنز تک پہنچایا۔

ہسینی پریرا 65 رنز بنا کر ہوئیں آؤٹ

ہسینی پریرا 42 گیندوں میں ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جبکہ دلانی نے 39 گیندوں میں 50 رنز بنائے، جس میں 8 چوکے شامل تھے۔ رشمیکا سیوندی نے 14 رنز کا تعاون کیا، جبکہ اس کے علاوہ کوئی بھی بلے باز دوہرے ہندسے میں داخل نہ ہو سکا۔ بھارت کی جانب سے دیپتی شرما، اروندھتی ریڈی، اسنیہ رانا، ویشناوی شرما، شری چَرَنی اور امنجوت کور نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔

بھارت نے سیریز کا پہلا میچ 8 وکٹوں سے جیتا تھا، اس کے بعد دوسرے میچ میں سری لنکا کو 7 وکٹوں سے شکست دی۔ تیسرے میچ میں ٹیم انڈیا نے 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی، جبکہ چوتھا مقابلہ 30 رنز سے اپنے نام کیا تھا۔













وہ غذائیں جنہیں خالی پیٹ کھانے سے وزن کم ہو سکتا ہے
دن کی شروعات اگر درست غذاؤں سے کی جائے تو وزن کم کرنے کے سفر میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
خالی پیٹ کچھ مخصوص غذائیں کھانے سے نہ صرف میٹابولزم تیز ہوتا ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے اور جسم کو ضروری توانائی فراہم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت صبح کے وقت درست خوراک لینے پر خاص زور دیتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فٹنس ایکسپرٹ نیہا پریہار نے وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایسی پانچ غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو خالی پیٹ کھانے سے فائدہ دیتی ہیں۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ سال کے آخر میں وزن بڑھنے کی بڑی وجہ صرف ایک دن زیادہ کھانا نہیں ہوتا بلکہ غلط صبح کا آغاز، غیر ضروری خواہشات، توانائی کی کمی اور جسم میں چربی کا جمع ہونا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اگر مقصد تیزی سے چربی کم کرنا اور پیٹ کو فلیٹ بنانا ہے تو صبح خالی پیٹ یہ غذائیں شامل کرنی چاہییں۔
بھگوئے ہوئے بادام یا آخروٹ
نیہا پریہار کے مطابق دن کا آغاز بھگوئے ہوئے بادام یا آخروٹ سے کرنا وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ غذائیں پروٹین، فائبر اور صحت مند فیٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو میٹابولزم کو بہتر بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دیر تک توانائی فراہم کرتی ہیں اور دن کے آغاز میں غیر ضروری بھوک کو کم کرتی ہیں۔
آملے کا رس
خالی پیٹ بغیر چینی کے آملے کا رس پینا وزن کم کرنے کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
یہ نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، میٹابولزم تیز کرتا ہے اور بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔برازیل نٹس
برازیل نٹس میں سیلینیم، پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی پائی جاتی ہے جو جسم کو دیر تک توانا محسوس کراتی ہے۔
یہ تھائیرائیڈ کے افعال کو بہتر بنانے اور ہارمونز کو متوازن رکھنے میں بھی مددگار ہیں۔ انہیں پانی یا بھگوئے ہوئے بادام کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گرم پانی میں ہلدی اور کالی مرچ
خالی پیٹ ہلدی اور کالی مرچ ملا گرم پانی پینا ایک مقبول صحت بخش عادت ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مشروب میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
چیا سیڈ کا رس
خالی پیٹ چیا سیڈ والا پانی پینا وزن کنٹرول کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ یہ براہِ راست چربی تو نہیں جلاتا تاہم بھوک کم کرنے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے کیلوریز کم لینے میں آسانی ہوتی ہے۔
فٹنس کوچ نیہا پریہار کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کو باقاعدگی سے اپنایا جائے، متوازن کھانے، گھر پر سادہ ورزش اور روزانہ خود احتسابی کے ساتھ، تو 30 سے 90 دن میں واضح نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





بھارت نے چین کے پاک بھارت جنگ بندی ثالثی دعوے کومسترد کر دیا
چین بھارت پاکستان جنگ بندی کے دوران امریکہ بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اپنے کریڈٹ کے حصول میں چین نے وہی غلطی کی جو ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ اب بھارت کی طرف سے اس کی سرزنش کی گئی ہے۔ جی ہاں، ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح، بھارت نے چین کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ختم کرنے کے دعوے کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ بھارت نے چین کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے کہ اس نے اس سال کے شروع میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران کوئی ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ بھارت نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد پاک بھارت جنگ بندی معاہدے میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔

CNN-News18 نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ نئی دہلی چین کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ اس نے جنگ کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی تھی۔ ہندوستان نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی بیرونی ملک نے دشمنی کو ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ بھارت پہلے کہہ چکا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی جس کے بعد بھارت نے لڑائی روکنے کا فیصلہ کیا۔چینی وزیر خارجہ نے کریڈٹ لیا۔
ہندوستان کی تردید چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے تبصروں کے بعد ہوئی ہے، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ نے عالمی تنازعات والے علاقوں میں اپنی جامع سفارتی مصروفیات کے حصے کے طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ نے یہ بیان بیجنگ میں بین الاقوامی صورتحال اور چین کے خارجہ تعلقات کے موضوع پر ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال جغرافیائی سیاسی بحران میں شدت آئی ہے اور چین نے حل کرنے کے لیے منصفانہ انداز اپنایا ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا، “ان اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے چین کے نقطہ نظر کے ایک حصے کے طور پر، ہم نے شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے اور حال ہی میں، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان تنازعہ میں ثالثی کی ہے۔”

پاک بھارت جنگ بندی کی حقیقت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی میں کسی دوسرے ملک نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں بھی اس کا جواب دیا ہے۔ یہاں تک کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی تو ہندوستانی حکومت کا موقف رہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کسی دوسرے ملک کی مداخلت سے نہیں رکی۔ بھارتی حکومت نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آپریشن سندھ کے بعد کوئی ثالثی نہیں ہوئی اور پاکستان نے خود بھارتی فوجی کارروائی کے بعد جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹرمپ کا دعویٰ اور بھارت کا سخت ردعمل
بھارتی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ثالثی پر بھارت کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد کوئی ثالثی نہیں ہوئی۔ بھارت کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان نے ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی تنازع کے دوران ثالثی کی تھی۔ تاہم تنازع کے بعد سے اس معاملے پر بھارت کے سرکاری موقف کا بار بار اعادہ کیا جاتا رہا ہے۔وزارت نے کیا کہا
ہندوستانی وزارت خارجہ نے 13 مئی کو ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان براہ راست طے پایا۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ “معاہدے کی تاریخ، وقت اور الفاظ پر 10 مئی 2025 کو 15:35 پر دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان فون کال میں اتفاق کیا گیا تھا۔”













عمران خان کی بہنیں بھائی سے ملنے پہنچی، پولیس نے گرفتار کر کے کیمیکل والا پانی ڈالا
اب عاصم منیر جن کی مرضی پاکستان میں امن سے رہ سکے گی۔ کم از کم عمران خان کے معاملے سے تو یہی لگتا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد بھی ان کے اہل خانہ کو جیل میں قید عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود اڈیالہ جیل کے جلاد نے عمران خان کی بہنوں کو اپنے بھائی سے ملنے تک نہیں دیا۔ وہ جب بھی تشریف لاتے ہیں انہیں ذلت اور زبردستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی پنجاب کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ آدھی رات کے بعد مظاہرین پر پانی کی توپیں چلائی جا رہی ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ سخت سردی میں پرامن اور غیر مسلح مظاہرین پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ احتجاج میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے لیکن کسی کی پرواہ نہیں کی گئی۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ عین پاکستان نے بھی دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس نے معصوم لوگوں پر کیمیکل ملا پانی چھڑکایا۔پولیس عمران خان کی بہنوں کو لے گئی۔
ٹی ٹی اے پی کے مطابق اس کارروائی میں متعدد افراد متاثر ہوئے جن میں عمران خان کی بہنیں علیمہ، نورین اور عظمیٰ، ٹی ٹی اے پی کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی، پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شاہد خٹک اور وکیل خالد یوسف شامل ہیں اور کچھ کو حراست میں لے لیا گیا۔ پی ٹی آئی نے بعد میں اطلاع دی کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے چکری لے جایا گیا، جہاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ 24 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ تاہم پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کے طور پر جیل کے قریب احتجاج کیا جا رہا ہے، جنہیں پہلے واٹر کینن سے منتشر کیا جا چکا ہے۔حکومت عمران خان کے حامیوں سے خوفزدہ ہے
علیمہ خان نے کہا کہ حکومت عمران خان کے حامیوں سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سڑکیں اور علاقے بند ہیں پھر بھی لوگ عمران خان کی حمایت میں نکل آئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں مذاکرات کی دعوت دی تھی تاہم پارٹی عمران خان کی ہدایت پر سڑکوں پر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ہی پارٹی کے رہنما سے ملاقات کی درخواست کرنا بدقسمتی ہے۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسے قیدیوں کا بنیادی انسانی حق قرار دیا اور عمران خان کی قید تنہائی کی مذمت کی۔ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور انہیں کرپشن اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے۔ پارٹی نے ان کی صحت اور ان کی حراست کے حالات کے بارے میں مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے۔












سعودی عرب کی دھمکی کے بعد یو اے ای نے یمن سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کر دیا، یہاں جانیں دونوں ممالک میں کشیدگی کی وجہ
سعودی عرب کی جانب سے یمن کے بندرگاہی شہر مکلا پر بمباری کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمن کے علیحدگی پسند قوتوں (ایس ٹی سی) کے لیے ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنانے اور ابوظہبی پر یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کر دیا۔ یو اے ای نے اسی کے ساتھ یمن میں اپنے "انسداد دہشت گردی" آپریشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

سعودی عرب کے الزام کے بعد یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی سعودی عرب نے حمایت کی تھی۔

سدرن ٹرانزیشن کونسل (ایس ٹی سی)، جس نے ابتدائی طور پر حوثی باغیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی تھی، اس ماہ جنوب میں ایک آزاد ریاست کی تلاش میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ سرکاری فوجیوں کے خلاف ایک جارحانہ کارروائی شروع کی تھی۔سعودی عرب کے انتباہات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایس ٹی سی کی اس پیش قدمی نے کئی سالوں کے تعطل کو توڑ دیا۔ ایس ٹی سی نے حضرموت اور مہارا صوبوں سمیت جنوبی یمن کے وسیع حصوں پر قبضہ کر لیا۔ واضح رہے حضرموت کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے، اور مہارا سرحد کے قریب ہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر ایس ٹی سی پر حضرموت اور مہارا صوبوں میں فوجی آپریشن کرنے کے لیے مجبور کرنے اور دباؤ بنانے کا الزام لگایا تھا۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

سعودی عرب نے دھمکی دی تھی کہ، "اس تناظر میں، مملکت اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس کی قومی سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ ایک سرخ لکیر ہے، اور مملکت ایسے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے اور اسے بے اثر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔"ان تیز رفتار واقعات کے بعد، متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے یمن میں اپنے کردار کا "جامع جائزہ" لیا اور وہاں اپنا آپریشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

یو اے ای کی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "حالیہ پیش رفت اور انسداد دہشت گردی کے مشنوں کی حفاظت اور تاثیر کے لیے ان کے ممکنہ مضمرات کی روشنی میں، وزارت دفاع یمن میں انسداد دہشت گردی کے باقی ماندہ اہلکاروں کو اپنی مرضی سے، اس طریقے سے برطرف کرنے کا اعلان کرتی ہے کہ اس کے اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے"۔

متحدہ عرب امارات کا یہ اعلان حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بیانات کا خیرمقدم کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "خطے کے مفادات کو ترجیح دینے، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کو مضبوط بنانے، اور ان بنیادوں اور اصولوں پر عمل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جن پر جی سی سی چارٹر قائم ہے۔"خلیج تعاون کونسل (گلف کو آپریشن کونسل) قطر، سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔

بحران کی ابتدا

یمن میں جنگ 2014 میں شروع ہوئی، جب حوثیوں نے اپنے شمالی گڑھ صعدہ سے مارچ کیا۔ انہوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات حکومت کی بحالی کی کوشش میں جنگ میں شامل ہوئے۔

نئی جنگ ایس ٹی سی کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اس کے اتحادی قبائل کی افواج کے خلاف کھڑا کرتی ہے، یہاں تک کہ یہ دونوں (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) یمن کی وسیع خانہ جنگی میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے کیمپ کے ممبر ہیں۔

ایس ٹی سی جنوبی یمن کا سب سے طاقتور گروپ ہے، جسے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اہم مالی اور فوجی مدد حاصل ہے۔ یہ اپریل 2017 میں ان گروہوں کے لیے ایک امبریلا تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو جنوبی یمن کو ایک آزاد ریاست کے طور پر بحال کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ یہ 1967 اور 1990 کے درمیان تھا۔

تازہ ترین اقدامات نے جنوبی یمن میں ایس ٹی سی کی پوزیشنوں کو تقویت بخشی، جو یمن کے تنازع کو حل کرنے کے لیے مستقبل میں ہونے والی کسی بھی بات چیت میں انہیں فائدہ دے سکتی ہے۔ ایس ٹی سی نے طویل عرصے سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی تصفیے سے جنوبی یمن کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔

ایس ٹی سی کو جنوبی یمن کے بیشتر علاقوں میں حمایت حاصل ہے۔ اس کی صدارت ایدارس الزبیدی کر رہے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا حکمراں ادارہ پریزیڈینشیل لیڈرشپ کونسل کے نائب صدر بھی ہیں۔

ایس ٹی سی اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ دیگر گروپ اب اہم بندرگاہی شہر اور جزائر سمیت یمن کے جنوبی نصف حصے پر کنٹرول کرتے ہیں۔

تازہ ترین کشیدگی میں دوسرے فریق میں یمنی فوج بھی شامل ہے، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو رپورٹ کرتی ہے۔ ان کا اتحاد سعودی عرب کی حمایت یافتہ حضرموت قبائلی اتحاد سے ہے۔

ان فورسز کا مرکز یمن کے سب سے بڑے صوبے حضرموت میں ہے جو جنوب میں خلیج عدن سے شمال میں سعودی عرب کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال یہ صوبہ یمن کے جنوبی علاقوں کے لیے ایندھن کا بڑا ذریعہ ہے۔

علیحدگی پسندوں کے حضرموت اور صوبہ مہرہ پر قبضے نے سعودی عرب کو مشتعل کر دیا:

اس ماہ کے شروع میں، ایس ٹی سی فورسز نے حضرموت کی طرف مارچ کیا اور سرکاری افواج اور ان کے قبائلی اتحادیوں کے ساتھ مختصر جھڑپوں کے بعد یمن کی سب سے بڑی تیل کمپنی پیٹرو مسیلا سمیت صوبے کی اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔

یہ اس وقت ہوا جب سعودی حمایت یافتہ حضرموت قبائلی اتحاد نے نومبر کے آخر میں پیٹرو مسیلا تیل کی سہولت پر قبضہ کر لیا تھا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ تیل کی آمدنی میں زیادہ حصہ اور حضرموت کے رہائشیوں کے لیے خدمات کی بہتری کے مطالبات پر رضامند ہو۔

اس کے بعد ایس ٹی سی فورسز نے عمان کے ساتھ سرحدوں پر واقع صوبہ مہرہ کی طرف مارچ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ عدن میں، متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورس نے صدارتی محل پر بھی قبضہ کر لیا، جو حکمران صدارتی کونسل کی نشست کے طور پر کام کرتا ہے۔

یمنی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سعودی فوجی بھی اس ماہ کے شروع میں عدن کے اڈوں سے واپس چلے گئے تھے۔

جمعے کے روز سعودی عرب نے حضرموت کے علاقے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جسے تجزیہ کاروں نے علیحدگی پسندوں کے لیے اپنی پیش قدمی روکنے اور حضرموت اور مہرہ کے گورنروں کو چھوڑنے کی وارننگ قرار دیا۔اس کشیدگی نے یمن کی جنگ میں نسبتاً خاموشی کو توڑ دیا، جو حالیہ برسوں میں حوثیوں کے سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچنے کے بعد تعطل کا شکار ہے جس نے اپنے علاقوں پر سعودی زیرقیادت حملے بند کرنے کے بدلے میں مملکت پر حملے روک دیے تھے۔

یہ تناؤ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان کشیدہ تعلقات کو اجاگر کرتا ہے، جو بحیرہ احمر کے وسیع علاقے میں بے چینی کے ایک لمحے کے دوران ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن کی دہائیوں سے جاری جنگ میں مسابقتی فریقوں کی حمایت کر رہے تھے۔ دونوں ممالک، وسیع تر مشرق وسطیٰ میں بہت سے معاملات پر قریب سے جڑی ہوئی ہیں، اقتصادی مسائل اور خطے کی سیاست پر تیزی سے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ یمن کی حکمرانی اور علاقائی سالمیت "ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعین یمنی فریقین کو خود کرنا چاہیے۔"

Tuesday, 30 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





2026 میں بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کون سے ہیں؟
بچوں کی پرورش والدین کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور وہ جس ملک میں رہتے ہیں وہ بچوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
آج کے دور میں والدین صرف اچھی نوکری یا زیادہ تنخواہ ہی نہیں دیکھتے بلکہ وہ تحفظ، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔’گلوبل سٹیزن سولوشنز‘ کی رپورٹ میں ایسے ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو 2026 میں بچوں کی پرورش کے لحاظ سے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔
اس فہرست میں شمالی یورپ کے ممالک نمایاں ہیں جو عالمی معیار کی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے علاوہ پرامن ماحول بھی رکھتے ہیں۔
فن لینڈ
فہرست میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور اسے بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل پیس انڈیکس 2025 کے مطابق فن لینڈ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے۔
یہاں تعلیمی معیار او ای سی ڈی کی اوسط سے بہتر ہے، صحت کی سہولیات بہت آسان اور مفت ہیں جبکہ والدین کو 160 دن کی تنخواہ سمیت رخصت بھی دی جاتی ہے۔ ہیلسنکی اور ٹیمپیرے فیملیز کی پسندیدگی کے لحاظ سے یہاں کے مقبول شہر ہیں۔
ڈنمارک
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ڈنمارک ہے جہاں کی پالیسیاں عوامی فلاح پر مبنی ہیں۔ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی فلاح پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
والدین کو 52 ہفتے تک چھٹی ملتی ہے اور صحت کی سہولتیں ٹیکس کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈنمارک عالمی خوشی کے انڈیکس میں دوسرے نمبر پر ہے۔سویڈن
اس فہرست میں تیسرے نمبر پر سویڈن ہے جہاں تعلیم کا معیار ریاضی، سائنس اور مطالعہ میں او ای سی ڈی اوسط سے بہتر ہے۔
یہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر فراہم کی جاتی ہے اور والدین کو ہر بچے کے لیے 480 دن کی رخصت دی جاتی ہے۔ سٹاک ہوم اور گوتھن برگ خاندانوں کے پسندیدہ شہر ہیں۔
نیدر لینڈز
نیدرلینڈز کا اس فہرست میں چوتھا نمبر ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مضبوط پبلک سسٹم اور واضح امیگریشن پالیسیز فیملیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔
یہاں طلبہ ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ صحت کا نظام وسیع سہولتوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ ہائی سکلڈ مائیگرنٹ پروگرام اور یورپی یونین بلیو کارڈ کے تحت یہاں خاندان مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔ناروے
اس فہرست میں ناروے کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں بچوں کی پرورش فطرت کے قریب کی جاتی ہے۔
والدین کو طویل المدتی تنخواہ سمیت رخصت، یونیورسل ہیلتھ کیئر اور ہنرمند افراد کے لیے آسان امیگریشن راستے دستیاب ہیں۔
کینیڈا
کینیڈا خاندانوں کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔ مضبوط سرکاری تعلیمی ادارے، اعلیٰ جامعات اور قدرتی مناظر اسے ایک پرکشش ملک بناتے ہیں۔
ایکسپریس انٹری اور سٹارٹ اپ ویزا پروگرام کے ذریعے خاندان یہاں مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ
اس فہرست کے ساتویں نمبر پر نیوزی لینڈ ہے جہاں سادہ طرزِ زندگی، معاشرتی اقدار اور قدرتی ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سرکاری صحت کی سہولتیں بچوں کے لیے بہت کم لاگت میں دستیاب ہیں جبکہ سکلڈ مائیگرنٹ ویزا کے تحت خاندان ایک ساتھ منتقل بھی ہو سکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ
فہرست میں سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہے جو صاف ستھرے شہروں، معیاری تعلیم اور بہترین صحت کے نظام کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہاں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کافی پرکشش سہولتیں موجود ہیں جبکہ غیر یورپی خاندانوں کے لیے فیملی ری یونین کے واضح قوانین ہیں۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ 2026 میں وہی ممالک بچوں کی پرورش کے لیے موزوں سمجھے جا رہے ہیں جہاں ریاست والدین اور بچوں دونوں کی فلاح کو ترجیح دیتی ہے۔
















آندھرا پردیش میں ٹاٹا نگر-ارناکلم ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی، دو کوچز خاکستر، ایک مسافر ہلاک
وشاکھاپٹنم: پیر کو نصف شب کے بعد آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم سے تقریباً 66 کلومیٹر دور یلمانچلی میں ٹاٹا نگر-ارناکلم جنکشن سپر فاسٹ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں آگ لگنے کے بعد ایک بزرگ مسافر مبینہ طور پر جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ ریلوے کے ایک اہلکار نے اس بات کی جانکاری دی۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے آج صبح بتایا کہ انہیں تقریباً 12:45 بجے آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے بتایا کہ "آندھرا پردیش کے اناکا پلی ضلع میں یلمانچلی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک پیر (29 دسمبر) کی صبح سویرے ٹرین نمبر 18189 ٹاٹا نگر-ارناکلم جنکشن سپر فاسٹ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں آگ لگ گئی۔"اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ نے ٹرین کے دو ڈبوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ پی ٹی آئی نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے اس واقعے کی اطلاع دی۔ "آگ لگنے کے وقت متاثرہ کوچ میں سے ایک میں 82 اور دوسری میں 76 مسافر سوار تھے۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ مرنے والے شخص کی شناخت چندر شیکھر سندرم کے طور پر کی گئی ہے۔آگ بجھانے کے بعد دونوں تباہ شدہ ڈبوں کو ٹرین سے الگ کر دیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ تباہ شدہ کوچز میں سوار مسافروں کو ان کی منزلوں تک بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا کہ دو فرانزک ٹیمیں آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس سے قبل ساؤتھ سنٹرل ریلوے نے ابتدا میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ٹاٹا نگر-ارناکلم ایکسپریس کے کوچ نمبر B-1 اور M-2 آگ کی زد میں آگئے اور بری طرح تباہ ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی مسافر زخمی ہوا۔ ایس سی آر نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس بات کی جانکاری دی۔ پوسٹ میں لکھا کہ "ٹاٹا نگر سے ایرناکولم ٹرین میں - وجے واڑہ ڈویژن کے یلمانچلی اسٹیشن (YLM) پر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ فائر بریگیڈ موقعے پر پہنچی اور آگ بجھانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا یا کوئی زخمی نہیں ہوا۔"واضح رہے کہ ریلوے حکام نے ابھی تک کسی مسافر کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ریلوے نے جانکاری فراہم کرنے کے لیے درج ذیل ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں:

یلمانچلی - 7815909386

اناکاپلے - 7569305669

ٹونی - 7815909479

سمالکوٹ۔ 7382629990

راجمندری - 088 - 32420541; 088 - 32420543

ایلورو - 7569305268

وجے واڑہ - 0866 - 2575167

اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔















’غیرمسلح نہ ہونے پر حماس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘، ٹرمپ کی ایران کو بھی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہو جائے ورنہ اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے ایران کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل بنانے کا کام بحال کیا تو امریکہ اس پر ایک اور بڑے حملے کی حمایت کرے گا۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہمراہ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اگر وہ غیر مسلح نہیں ہوتے، جس پر انہوں نے پہلے رضامندی ظاہر کی تھی، تو ان کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے ہیں اور اگلے مرحلے کے مشکل نکات کو تسلیم کرتے نظر نہیں آ رہے۔
حماس کے غیر مسلح نہ ہونے اور کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اب بھی تقریباً نصف سے زیادہ علاقے میں اسرائیلی فوج موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے حماس پر فوری طور پر غیر مسلح نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دلیل دی کہ اسرائیل اپنی طرف سے معاہدے پر قائم ہے۔
ان کے مطابق ’حماس سنگین نتائج کو دعوت دے رہی ہے، اسے کم وقت میں غیر مسلح ہونا ہو گا۔‘
صدر ٹرمپ کھل کر اپنا وزن نیتن یاہو کی حمایت کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں جو کہ غزہ فائر بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے ہیں۔امریکی صدر کے مطابق ’مجھے اس بارے میں کوئی فکر نہیں کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، میں فکرمند ہوں کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا شاید نہیں کر رہے۔‘
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے ایران کے ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے کہا کہ وہ امریکہ کے بڑے حملے کے بعد اس کو بحال کرنے پر کام کر رہا ہے۔
’میں پڑھ رہا ہوں کہ وہ ہتھیاروں اور دوسری چیزوں کو پھر سے کھڑا کر رہے ہیں جس کے لیے وہ ان سائٹس کو استعمال نہیں کر رہے جن کو ہم نے ختم کر دیا تھا بلکہ ممکنہ طور پر مختلف سائٹس استعمال ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ یہ سب کہاں پر کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہم بی ٹو پر ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘
انہوں نے پچھلے حملے میں استعمال ہونے والے بمبار جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دونوں طرف سے 37 گھنٹے کا سفر ہے اور میں زیادہ ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتا۔‘
حالیہ مہینوں کے دوران تہران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے سے متعلق بات کرنے والے صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو غزہ کے نازک معاہدے کو آگے بڑھانے اور ایران اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی خدشات دور کرنے پر مرکوز تھی۔ایران جس نے جون کے دوران اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ لڑی، کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ اس نے ایک مہینے میں دوسری بار میزائلوں کی مشقیں کی ہیں۔
جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا تاہم اس بارے میں صدر ٹرمپ سے بات کریں گے۔
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی طرف بڑھا جائے۔
امریکی صدر نے رواں ماہ اسرائیلی صدر کو بات چیت کے لیے دعوت دی تھی کیونکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے میں عبوری حکومت کے قیام پر زور دے رہا ہے جبکہ اسرائیل ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




عرب اتحاد کا یمن میں اسلحہ سمگل کرنے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ فضائی حملہ
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ایک ’محدود‘ فضائی حملہ کیا ہے جس کا ہدف دو ایسے جہاز تھے جو سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی المکلا بندرگاہ میں ہتھیار لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں اتحاد ی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے باضابطہ اجازت حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’دونوں جہازوں کے عملے نے دونوں جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں تاکہ مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المھرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی حمایت کی جا سکے جس کا مقصد تنازع کو مزید ہوا دینا ہے۔ یہ جنگ بندی نافذ کرنے اور پُرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2216) 2015 کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘المالکی نے کہا کہ اتحادی افواج نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست پر کارروائی کی جس میں ’حضرموت اور المھرہ کے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کرنے کا کہا گیا تھا۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے خطرے اور کشیدگی کے پیش نظر جو امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اتحادی فضائی افواج نے آج صبح ایک محدود فوجی کارروائی کی، جس میں المکلا بندرگاہ پر دونوں جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ہتھیار اتارنے کی دستاویزی تصدیق کے بعد کی گئی اور یہ فوجی کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق کی گئی، جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ عام شہریوں اور املاک کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔‘
المالکی نے اتحاد کے اس عزم کی توثیق کی کہ وہ ’حضرموت اور المھرہ میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی فریق کو ، یمن کی قانونی حکومت اور اتحاد کی اجازت بغیر کسی بھی قسم کی عسکری مدد فراہم کرنے سے روکے گا۔ اس کا مقصد مملکت اور اتحاد کی جانب سے امن و استحکام کے حصول کی کوششوں کو کامیاب بنانا اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔‘
اتحاد کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کہلانے والے گروپ نے دسمبر کے اوائل میں وسیع پیمانے پر فوجی مہم شروع کی جس کے دوران اس نے سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع حضرموت کے علاقوں اور عمان کی سرحد سے متصل مشرقی صوبے المھرہ پر قبضہ کر لیا۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی فورسز نے شہر سیئون پر قبضہ کر لیا جس میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور صدارتی محل بھی شامل ہے۔ انہوں نے سٹریٹیجک پیٹرو مسیلا آئل فیلڈ کا بھی کنٹرول سنبھال لیا جو یمن کے باقی ماندہ تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
اس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایس ٹی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبضے والے علاقوں سے واپس جائیں اور انہیں نیشنل شیلڈ فورسز کے حوالے کریں، جو سعودی عرب کا حمایت یافتہ یونٹ ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتحاد نے خبردار کیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی عسکری حرکت کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات نے ایک بیان جاری کیا جس میں یمن میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے ذریعے جاری بیان میں یمن کے عوام کے مفادات اور ان کے امن و خوشحالی کے خواہش کی حمایت میں سعودی عرب کے مثبت کردار کی تعریف کی گئی۔













پی ایم مودی نے خالدہ ضیا کے انتقال پر کیا رنج وغم کا اظہار، قائدانہ صلاحیت کی تعریف کی
پرائم منسٹر نریندر مودی نےبنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کیے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد میں خالدہ ضیا کا کردار انتہائی اہم رہا ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

ان کے انتقال سے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایسا خلا پید ا ہوگیا ہے جسے کبھی پُرنہیں کیا جاسکے گا۔میں پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں ۔ خدا انھیں صبرجمیل عطا کرے۔ پی ایم مودی نے بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سے 2015 میں ہوئی ملاقات کی یادیں بھی تازہ کیں۔شوہرکی قبر کے پاس خالدہ ضیا کوکیا جائیگا دفن
بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو دارالحکومت ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نگر میں واقع ضیا باغ میں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمان کی قبر کے قریب دفن کیا جاسکتا ہے۔ بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے کہا کہ خالدہ ضیاکی نماز جنازہ بدھ کو دارالحکومت کے مانک میا ایونیو میں ادا کی جا سکتی ہے۔ جنازے کی تیاریوں کے حوالے سے پارٹی اور خاندانی سطح پر بات چیت جاری ہے۔بی این پی کے آفیشل فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی معلومات کے مطابق، ان کا انتقال نماز فجر کے فوراً بعد صبح 6 بجے کے قریب ہوا۔ بی این پی کے جنرل سیکرٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے بھی ان کی موت کی تصدیق کی۔خالدہ ضیا کا انتقال:ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹروں کے مشورے پر خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو ایور کیئر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ دل اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ نمونیا میں مبتلا تھیں۔ 80 سالہ خالدہ ضیاطویل عرصے سے کئی سنگین بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ انھیں دل کی بیماری، جگر اور گردے کے مسائل، ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماری، گٹھیا اور آنکھوں کے مسائل تھے۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے 1991 میں جمہوریت کی بحالی کے دوران اقتدار سنبھلاتھا ۔انتخابا اورکاغذات نامزدگی

اگرچہ خالدہ ضیا کی حالت گزشتہ ایک ماہ کے دوران بگڑ گئی تھی لیکن انہوں نے پیر کو بوگورہ-7 حلقے کے لیے اپنا کاغذات نامزدگی داخل کیا تھا۔ پارٹی رہنماؤں نے دوپہر 3 بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر کے دفتر میں کاغذات جمع کرائے تھے۔ اتوار کو ان کے پرائیویٹ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی حالت بگڑ گئی ہے اور صحت یاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔













’خوف، بدعنوانی اور دراندازی‘ : امت شاہ نے بنگال میں انتخابی بگل بجا دیا، ممتا بنرجی کے 14 سالہ اقتدار پر شدید تنقید
امت شاہ نے مغربی بنگال میں 2026 میں بی جے پی کی جیت کا دعویٰ کیا
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کے روز کولکاتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حکومت پر زبردست حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں گزشتہ تقریباً 15 برسوں سے ممتا بنرجی کی قیادت میں چلنے والی حکومت کا دور خوف، بدعنوانی، بدانتظامی اور غیر قانونی دراندازی سے عبارت رہا ہے۔امت شاہ نے کہا، ’’ یہ بنگال کے لیے ایک نہایت اہم وقت ہے، کیونکہ اب سے لے کر اپریل تک ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ٹی ایم سی کے گزشتہ 15 برسوں کے اقتدار میں بنگال نے خوف، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کا سامنا کیا ہے۔ غیر قانونی دراندازی نے عوام کے اندر عدم تحفظ اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی حکومت کے تحت بدعنوانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مغربی بنگال میں ترقی مکمل طور پر رک گئی ہے۔
’’ مودی جی کی جانب سے شروع کی گئی تمام فلاحی اسکیمیں یہاں ٹول سنڈیکیٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ خوف اور بدعنوانی گزشتہ 14 برسوں سے مغربی بنگال کی شناخت بن چکی ہے۔‘‘
امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ
’’ 15 اپریل 2026 کے بعد جب مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی تو ہم بنگال کی تہذیب، ثقافت اور ورثے کی بحالی کا آغاز کریں گے۔ یہ ’ بنگا بھومی‘ ہمارے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ بی جے پی کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے رکھی تھی، جو اسی سرزمین کے عظیم رہنما تھے۔‘‘

دراندازی کے معاملے پر ممتا حکومت کو نشانہ
مرکزی وزیر داخلہ نے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر ممتا بنرجی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا،
’’ یہ مغربی بنگال کی حکومت ہی ہے جو بنگلہ دیش کی سرحد پر باڑ لگانے کے لیے زمین الاٹ نہیں کر رہی۔ چیف منسٹر یہ بتائیں کہ تریپورہ، آسام، راجستھان، پنجاب، کشمیر اور گجرات میں دراندازی کیوں رک گئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی بنگال میں دراندازی آپ کی نگرانی میں ہو رہی ہے تاکہ آبادیاتی تبدیلی لائی جا سکے اور ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ آئندہ اسمبلی انتخابات دراندازی روکنے اور دراندازوں کو باہر نکالنے کے ایشو پر لڑے جائیں گے۔ بنگال کی سرحد سے ہونے والی دراندازی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔‘‘

امت شاہ نے انتخابی اعداد و شمار پیش کیے

بی جے پی کی جیت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا،
’’ 2026 میں بی جے پی مغربی بنگال میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ہمیں 17 فیصد ووٹ اور صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو 10 فیصد ووٹ اور تین سیٹیں حاصل ہوئیں۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا،
’’ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 41 فیصد ووٹ اور 18 سیٹیں ملیں۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 21 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 77 سیٹیں جیتیں۔ جو پارٹی 2016 میں صرف تین سیٹوں پر تھی، وہ پانچ سال میں 77 سیٹوں تک پہنچ گئی۔ اس دوران کانگریس صفر پر پہنچ گئی اور کمیونسٹ اتحاد ایک بھی سیٹ نہ جیت سکا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 39 فیصد ووٹ اور 12 سیٹیں حاصل کیں۔ 2026 میں بی جے پی یقینی طور پر مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی۔‘‘

مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے۔ بی جے پی ریاست میں ممتا بنرجی کی طویل حکمرانی کو بدعنوانی، تشدد اور دراندازی سے جوڑ کر عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے، جبکہ ترنمول کانگریس مرکز پر سیاسی انتقام اور ایجنسیوں کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ آنے والے انتخابات کو قومی سیاست کے لیے بھی نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔


Monday, 29 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ابو عبیدہ اور دیگر سینئر رہنما شہید،حماس کے مسلح ونگ نے کی تصدیق
فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ اور اس وقت کے غزہ چیف محمد سنوار رواں سال کے آغاز میں اسرائیل کی جنگ کے دوران شہیدہو گئے تھے۔القسام بریگیڈز کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ رفح بریگیڈ کے سربراہ محمدشعبانہ، اور تنظیم کے دو دیگر سینئر رہنما حکام العیسیٰ اور رائد سعد بھی شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے محمد سنوار کو شہید کر دیا ہے، جو سابق حماس سربراہ یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے تین ماہ بعد اسرائیل نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ابو عبیدہ کو بھی شہید کردیا ہے۔ حماس نے اس بیان میں واضح کیا کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکہلوت تھا۔

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ابو عبیدہ غزہ میں حماس کی ایک اہم اور نمایاں آواز سمجھے جاتے تھے۔ وہ میدانِ جنگ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے، خصوصاً اس مختصر جنگ بندی کے دوران جسے اسرائیل نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

محمد سنوار اور ابو عبیدہ ان حماس رہنماؤں میں تازہ ترین ہیں ،جن کی ہلاکت کی اسرائیل نے گزشتہ دو برسوں میں تصدیق کی ہے۔ اس فہرست میں حماس کے کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما شامل ہیں، جن میں سابق سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار، عسکری کمانڈر محمد ضیف (جو 1990 کی دہائی میں القسام بریگیڈز کے بانیوں میں شامل تھے)، اور سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ بھی شامل ہیں، جنہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید کیا گیا تھا۔











جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیش کی ’جین زی‘ پارٹی کے اندر پھوٹ پڑ گئی
بنگلہ دیش کی نئی سیاسی جماعت ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ کو اگلے عام انتخابات سے قبل اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کو احتجاجی تحریک سے ختم کرنے کا باعث بننے والی جنریشن زی کی سیاسی پارٹی کے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نے اس کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
گزشتہ برس 2024 میں احتجاجی تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کے کم از کم 30 رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور مخالفت کی۔اس اتحاد کا اعلان اتوار کو کیا گیا تھا جس کے بعد نیشنل سٹیزن پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے احتجاجا استعفے بھی دے دیے۔
بنگلہ دیش کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اور ملک میں اگلے سال 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔
انتخابی اتحاد سے قبل کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پہلے نمبر پر تھی۔
اوپینیئن پولز کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔
ڈھاکہ کے ایک ماہر تعلیم ایچ ایم ناظم العالم نے اس حوالے سے کہا کہ ’نئی پارٹی نے خود کو روایتی طاقت کے ڈھانچے کے متبادل کے طور پر نوجوان قیادت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پیش کیا۔ یہ شناخت اب شدید دباؤ میں ہے۔‘
ناظم العالم کے مطابق ’نوجوانوں کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں صرف اس وجہ سے نہیں ٹوٹتیں کہ وہ الیکشن ہار جاتی ہیں، وہ اس وقت ٹوٹ جاتی ہیں جب وہ واضح اور اندرونی اتحاد کھو بیٹھتی ہیں۔‘’بڑے اتحاد کے لیے انتخابی اتحاد‘
نئی پارٹی کی تشکیل رواں سال کے آغاز میں احتجاجی تحریک میں شامل رہنماؤں نے کی تھی۔ تحریک نے اگست 2024 میں طویل عرصے سے وزیراعظم کے طور پر موجود شیخ حسینہ واجد کو بے دخل کر کے انہیں انڈیا فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔‘
نیشنل سٹیزن پارٹی میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں پیدا ہوئے اور جن کو جنریشن زی یا ’جین زی‘ پکارا جاتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قوم کو دہائیوں کی اقربا پروری اور حسینہ کی عوامی لیگ اور بی این پی کے تسلط سے نجات دلانا ہے۔
حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی کے باعث ووٹ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔
جماعت اسلامی اپنی حریف دونوں جماعتوں سے بہت پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ سنہ 2013 کے بعد سے پابندی کے باعث اُس نے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اُن کے 32 سالہ رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد جماعت کو اگلے الیکشن میں دیگر پارٹیوں کے ہم پلہ رکھنے کے لیے انتخابی اتحاد ضروری تھا۔
ان کے مطابق بعض قوتیں انتخابی عمل کو تشدد کے ذریعے ’ڈیل ری‘ کرنا چاہتی ہیں ایسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔
’ہم نے جس ڈکٹیٹرشپ کو اقتدار سے ہٹایا وہ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ایک بڑے اتحاد کے لیے ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پارٹی کے اندر اکثریتی فیصلہ تھا لیکن اس کی ممکنہ طور پر کچھ مخالفت ہوگی اور ایسے لوگ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔‘















خواتین میں دل کی بیماری کی غیرمعمولی علامات کون سی ہیں؟
دل کی بیماری دنیا بھر میں موت کی بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2022 میں قلبی امراض سے تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ اموات ہوئیں، جو کل اموات کا 32 فیصد ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بیماری مردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں 6 کروڑ سے زائد خواتین کسی نہ کسی قسم کی دل کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ یہ خواتین میں موت کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔
خواتین میں علامات مردوں سے مختلف ہوتی ہیں، اس لیے انہیں پہچاننا ضروری ہے۔ یہاں 6 غیر معمولی علامات بیان کی جا رہی ہیں۔1. بلا وجہ تھکن
مسلسل تھکن جو آرام کے بعد بھی ختم نہ ہو، دل کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ دل کے پٹھوں میں خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور عام طور پر بڑے دل کے دورے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔
2. جبڑے یا گردن میں درد
جبڑے، گردن یا کندھوں میں درد کو اکثر دانتوں یا تناؤ کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ دل پر دباؤ کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر دباؤ یا جسمانی مشقت کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔
3. سانس لینے میں دشواری
اچانک سانس پھولنا، خاص طور پر لیٹنے پر یا بغیر مشقت کے، دل کی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور ای سی جی کروا کر فوری علاج ضروری ہے۔
4. متلی یا بدہضمی
بار بار متلی، قے یا معدے کی خرابی دل کی بیماری سے جڑی ہو سکتی ہے۔ یہ دل کے کمزور پمپنگ سے خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
5. ہاتھوں یا ٹانگوں میں سوجن
ٹخنوں یا پیروں میں سوجن، جسے اوڈیما کہا جاتا ہے، دل کی کمزور پمپنگ سے پانی جمع ہونے کی علامت ہے۔ یہ دن کے آخر میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
6. غیر معمولی پسینہ یا چکر آنا
اچانک ٹھنڈے پسینے آنا یا چکر آنا دل کی بیماری کی نشانی ہو سکتی ہے، کیونکہ خون کا دباؤ کم ہونے سے دماغ متاثر ہوتا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*



صدر ٹرمپ، نیتن یاہو غزہ امن معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے
توقع ہے کہ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران غزہ میں رکے ہوئے جنگ بندی عمل میں پیش رفت پر زور دیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق اس ملاقات میں لبنان میں حزب اللہ اور ایران سے متعلق اسرائیل کے خدشات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
نیتن یاہو نے اس ماہ کہا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے کے لیے عبوری حکمرانی اور ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد اسرائیلی رہنما سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات سے متعلق تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔ توقع ہے کہ نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے مار-اے-لاگو بیچ کلب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے نے 22 دسمبر کو کہا تھا کہ بات چیت میں غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے ساتھ ساتھ ایران اور لبنان پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
واشنگٹن نے تینوں محاذوں پر جنگ بندی میں ثالثی کی، لیکن اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے مخالفین جنگ میں کمزور ہونے کے بعد دوبارہ اپنی قوت بحال کر سکتے ہیں۔
غزہ جنگ بندی منصوبے کے اگلے اقدامات
اکتوبر میں تمام فریقوں نے صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے تحت اسرائیل کو غزہ سے انخلا کرنا ہے، حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہیں اور علاقے میں حکمرانی کا کردار ترک کرنا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے میں تجویز کردہ عبوری انتظامیہ ، جس میں ’بورڈ آف پیس‘ اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک ادارہ شامل ہے، جلد قائم کی جائے تاکہ غزہ کی حکمرانی سنبھالی جا سکے۔
تاہم اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں، اور اگلے مرحلے میں درکار زیادہ مشکل اقدامات کو قبول کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔
 حماس، جس نے اسلحہ ترک کرنے سے انکار کیا ہے اور آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات واپس نہیں کیں، دوبارہ اپنا کنٹرول مضبوط کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج تقریباً نصف علاقے میں بدستور موجود ہے۔
اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ اگر حماس نے پُرامن طور پر اسلحہ نہیں چھوڑا تو وہ اسے مجبور کرنے کے لیے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے گا۔
اگرچہ لڑائی میں کمی آئی ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اکتوبر میں جنگ بندی کے باضابطہ آغاز کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
لبنان میں جنگ بندی بھی آزمائش کا شکار
لبنان میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی، جو نومبر 2024 میں طے پائی تھی، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد جاری لڑائی کے خاتمے کا سبب بنی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ گروہ حزب اللہ کو اسلحہ چھوڑنا تھا، جس کا آغاز اسرائیل کے قریب دریا کے جنوب میں واقع علاقوں سے ہونا تھا۔
لبنان کا کہنا ہے کہ وہ سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے ہدف کے قریب ہے، تاہم یہ گروہ ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کی مزاحمت کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ پیش رفت جزوی اور سست ہے، اور وہ لبنان میں تقریباً روزانہ حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ حزب اللہ کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہیں۔















پاکستان کو ہندوستان کامنہ توڑجواب : اقلیتوں سے متعلق پاکستان کاالزام مسترد کہا ’’تمہارا اپنا ریکارڈ نہایت خراب ہے‘‘
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی سے چھپا ہوا نہیں
وزارتِ خارجہ (MEA) نے پیر کے روز پاکستان کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں کے مبینہ استحصال سے متعلق دیے گئے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے پاکستان کا اپنا ریکارڈ اس قدر خراب ہے کہ اسے کسی دوسرے ملک پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے رندھیر جیسوال نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے ان الزامات کو رد کیا جن میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ مظالم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بیانات ایک ایسے ملک کی جانب سے آ رہے ہیں جس کا اقلیتوں کے حوالے سے بدترین اور افسوسناک ریکارڈ پوری دنیا کے سامنے ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا منظم اور سنگین استحصال ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور محض الزامات یا الزام تراشی کے ذریعے اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا :
’’ہم ایسے ملک کے بیانات کو مسترد کرتے ہیں جس کا اقلیتوں کے حوالے سے ریکارڈ نہایت ابتر ہے۔ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتیں منظم اور ہولناک مظالم کا شکار رہی ہیں، جو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ انگلی اٹھانے سے یہ سچ چھپ نہیں سکتا۔‘‘یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت میں اقلیتوں کے مبینہ استحصال پر تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے ان واقعات کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

تاہم، پاکستان خود طویل عرصے سے اپنی سخت اور متنازعہ توہینِ مذہب قوانین کے باعث عالمی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ خاص طور پر دفعہ 295**-C** کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں غیر واضح زبان اور انتہائی سخت سزاؤں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ ان قوانین کا سب سے زیادہ نشانہ مذہبی اقلیتیں، خصوصاً عیسائی، اور ہندو بنے ہیں، جنہیں اکثر جھوٹے الزامات، سماجی دباؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔











ریٹائرمنٹ ہوم میں لگی آگ ، آرام کررہے 16 بزرگوں کی موت ، آگ لگنے کی وجہ نہیں ہوسکی معلوم
انڈونیشیا کے شہر مناڈو میں ریٹائرمنٹ ہوم کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی پولیس کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے 16 افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی سولاویسی صوبے کے دارالحکومت مناڈو میں واقع ویرادھا دمائی ریٹائرمنٹ ہوم میں اتوار کی رات اچانک لگی آگے نے لوگوں کا سب کچھ چھین لیا ۔ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز پہنچے تاہم اس وقت تک پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی میڈیا کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ آگ میں پھنسے بزرگ افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس افسر المسیاہ پی حسیبوان نے بتایا کہ رات گئے آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ مناڈو فائر ڈپارٹمنٹ کے چیف جمی روٹینسولو نے بتایا کہ تین معمر افراد جھلس گئے، جب کہ 12 دیگر افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آگ اس وقت لگی جب بزرگ رات کے کھانے کے بعد اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ متعدد مرنے والوں کی لاشیں ان کے کمروں سے ملی ہیں۔ واقعہ سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔

ژنہوا نے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں کو مناڈو سٹی ریجنل ہسپتال اور پرماتا بنڈا ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ حسیبوان نے کہا کہ پولیس کی فرانزک ٹیمیں جائے واردات کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ واقعات کی ترتیب اور آگ لگنے کی ابتدائی وجہ معلوم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ واقعے کے عینی شاہدین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

Sunday, 28 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




مہاجرین سے متعلق ٹرمپ نے بنایا خوفناک منصوبہ، بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر قید کیے جائیں گے مہاجرین
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کی اقتدار پر واپسی کے بعد دراندازوں کے خلاف مسلسل سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں یہی مہاجرین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کے خلاف ٹرمپ ایسا قدم اٹھانے جا رہے ہیں جو نہ صرف غیر انسانی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ چاروں طرف اس پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اب مہاجرین کو ایک ایسے ’جہنم‘ میں دھکیلنے کی تیاری میں ہیں جس کے چاروں جانب صرف سمندر ہی سمندر ہے۔ دراصل ٹرمپ اب دراندازوں کو ہزاروں میل دور، سمندر کے عین درمیان واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر بھیجنے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے والے مہاجرین کو پلاؤ بھیجا جائے گا اور صرف وہیں مہاجرین کو پناہ دی جا سکے گی۔
پلاؤ کہاں ہے؟

پلاؤ جزیرہ بحرالکاہل کے عین درمیان، فلپائن کے جنوب مشرق اور پاپوا نیو گنی کے شمال میں واقع ایک چھوٹا سا جزائر پر مشتمل ملک ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے چھوٹی ریاست رہوڈ آئی لینڈ سے بھی کئی گنا چھوٹا ہے۔ پلاؤ ایک جمہوریہ ہے، جس کی کل آبادی تقریباً 18 ہزار کے قریب ہے۔ یہاں مہاجرین کو جزیرے کے تقریباً 180 مربع میل کے علاقے میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

آخری سانس تک جہنم میں رہیں گے مہاجرین

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ حکومت نے مہاجرین کو پلاؤ بھیجنے کے لیے وہاں کی انتظامیہ سے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پلاؤ کو ان مہاجرین کو رکھنے کے بدلے امریکہ کی جانب سے 75 ملین ڈالر کی مدد دی جائے گی۔ امریکہ نے اس رقم میں سے 7.5 ملین ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کر دی ہے۔ یہی نہیں، امریکہ میں ٹرمپ مہاجرین کے خلاف آخری سانس تک سختی برتنے کی تیاری میں ہیں۔ ٹرمپ حکومت امریکہ میں 7 بڑے ویئرہاؤس خریدنے جا رہی ہے، جہاں ایک ساتھ 80 ہزار سے زائد مہاجرین کو رکھا جائے گا۔









جی میل کا ’میل ایڈریس کی تبدیلی‘ کا نیا فیچر، ’ڈیٹا ضائع نہیں ہو گا‘
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل صارفین کے لیے ایک بڑی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے تحت اب صارفین اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں۔
گوگل کی اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر جاری ایک اپڈیٹ کے مطابق جی میل ایڈریس بدلنے کے لیے صارفین کو نئی میل کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ان کا ڈیٹا ضائع ہو گا۔یہ سہولت خاص طور پر اُن صارفین کے لیے خوشخبری ہو سکتی ہے جو آج بھی ایسے ناموں والے ای میل ایڈریس استعمال کرنے پر مجبور ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ای میل ایڈریس تبدیل کرنے سے متعلق یہ نئی ہدایات فی الحال گوگل کی سپورٹ ویب سائٹ کے صرف ہندی ورژن پر نظر آ رہی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز انڈیا یا پھر ہندی بولنے والے ممالک سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم سپورٹ پیج کے مطابق یہ سہولت بتدریج تمام صارفین کو فراہم کی جائے گی تاہم عالمی سطح پر اس کے نفاذ میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
ابھی تک گوگل کے انگلش سپورٹ پیج پر پرانی معلومات ہی موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر جی میل ایڈریس تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب گوگل نے اس حوالے سے کوئی فوری طور پر نہیں بتایا کہ کن خطوں میں یہ فیچر پہلے متعارف کرایا جائے گا۔
اس نئی اپڈیٹ کے تحت جو صارف اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کرے گا اس کا پرانا ایڈریس بطور متبادل برقرار رہے گا۔ یعنی پرانے ایڈریس پر آنے والی تمام ای میلز نئے ان باکس میں موصول ہوتی رہیں گی اور پرانا ایڈریس گوگل کی مختلف سروسز جیسے ڈرائیو، میپس اور یوٹیوب میں سائن اِن کے لیے بھی کام کرتا رہے گا۔اس سے قبل نیا جی میل ایڈریس حاصل کرنے کے لیے صارفین کو نیا اکاؤنٹ بنانا پڑتا تھا اور پھر دستی طور پر ڈیٹا منتقل کرنا ہوتا تھا جو نہ صرف مشکل بلکہ کئی تھرڈ پارٹی ایپس کے ساتھ مسائل کا باعث بھی بنتا تھا۔
گوگل کے مطابق ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف کا موجودہ ڈیٹا، بشمول تصاویر، پیغامات اور ای میلز، مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔ اس کے علاوہ صارف کسی بھی وقت پرانے ای میل ایڈریس کو دوبارہ استعمال بھی کر سکے گا۔
دوسری جانب اس اپڈیٹ کے ساتھ کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، مثال کے طور پر ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف اگلے 12 ماہ تک کوئی نیا جی میل ایڈریس نہیں بنا سکے گا اور نیا منتخب کیا گیا ایڈریس حذف بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
گوگل نے اس تبدیلی کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی تاہم اطلاعات کے مطابق اس فیچر کا انکشاف سب سے پہلے ’یوزر فورمز‘ اور ٹیکنالوجی کمیونٹیز میں ہوا۔











ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے: میر تقی میر - Mir Taqi Mir
حیدرآباد: میر تقی میر کا شمار اردو کے ان شعراء میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اردو شاعری کا آغاز کیا۔ ان سے پہلے اکثر شعراء فارسی میں اپنا کلام پیش کیا کرتے تھے۔ تاہم میر تقی میر نے اپنا کلام اردو زبان میں پیش کرنا بہتر سمجھا اور 6 دیوانوں پر مشتمل اپنا کلام اردو کے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ گئے۔

ان کی شاعری میں غم کا احساس زیادہ نظر آتا ہے۔ ہو بھی کیوں نہ آخر انہوں نے دہلی کو اپنی آنکھوں سے لٹتے ہوئے دیکھا، قتل و غارت غری دیکھی، شہر کو اجڑتے ہوئے دیکھا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں غم کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ میر تقی میر کی عظمت اس بات سے بھی لگائی جا سکتی ہے کہ انہیں خدائے سخن کہا جاتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ انہیں آج بھلا دیا گیا ہے۔

میر تقی میر کی عظمت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ جب ایک مراٹھی زبان کے شاعر کو گیان پیٹھ آوارڈ سے نوازا گیا تو اس دوران انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ فرینچ اور انگریزی زبان کے شاعروں کو کیوں پڑھتے ہیں جب کہ ہمارے پاس تو میر تقی میر موجود ہیں۔

میر تقی میر کی پیدائش سنہ 1723 میں آگرا میں ہوئی تھی جب کہ ان کی وفات 20 ستمبر سنہ 1810 میں لکھنؤ میں ہوئی۔ انہوں نے کم و بیش 18 ہزار اشعار کہے ہیں۔ ان کی شاعری کا انداز ان اشعار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی مشہور زمانہ غزل 'ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے' ملاحظہ فرمائیں...

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

جن کی خاطر کی استخواں شکنی

سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے

نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں

ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے

آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں

ان دنوں تم بہت شریر ہوئے

اپنے روتے ہی روتے صحرا کے

گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے

ایسی ہستی عدم میں داخل ہے

نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے

ایک دم تھی نمود بود اپنی

یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے

یعنی مانند صبح دنیا میں

ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے

مت مل اہل دول کے لڑکوں سے

میرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے

*🔴سیف نیوز بلاگر*





پاکستانی کھلاڑی نے لہرا دیا ترنگا، پہنی بھارت کی جرسی، وائرل ہوتے ہی لگی پابندی!
کراچی: پاکستان کے معروف انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی عبید اللہ راجپوت پر رواں ماہ کے شروع میں بحرین میں ہونے والے ایک نجی ٹورنامنٹ میں بھارتی ٹیم کے لیے کھیلنے پر قومی فیڈریشن نے غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ پاکستان کبڈی فیڈریشن (پی کے ایف) نے ہفتے کے روز ایک ہنگامی اجلاس کے بعد پابندی عائد کی، جس میں یہ بتاتے ہوئے کہ راجپوت نے مطلوبہ این او سی حاصل کیے بغیر بیرون ملک ٹورنامنٹ کھیلا۔

پی کے ایف کے سیکریٹری رانا سرور نے کہا کہ راجپوت کو ڈسپلنری کمیٹی میں اپیل کرنے کا حق ہے۔ سرور نے کہا کہ فیڈریشن نے اس حقیقت کو سنجیدگی سے لیا کہ راجپوت نے بغیر این او سی کے نہ صرف بیرون ملک سفر کیا بلکہ ہندوستانی ٹیم کے لئے بھی کھیلا، اس کی جرسی پہنی اور میچ جیتنے کے بعد ہندوستانی پرچم بھی لپیٹ دیا۔ راجپوت نے تاہم کہا کہ یہ سب ایک غلط فہمی تھی اور انہیں کبھی نہیں بتایا گیا کہ وہ جس ٹیم کے لیے کھیلے گا وہ ہندوستان ہوگی۔ اس کے باوجود وہ NOC قوانین کی خلاف ورزی کا مجرم ہے۔عبید اللہ راجپوت نے بھارتی پرچم لہرایا
راجپوت کی مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب ان کی بھارتی جرسی پہنے اور بھارتی پرچم لہرانے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ سرور نے بتایا کہ دیگر کھلاڑیوں پر بغیر این او سی کے ٹورنامنٹ کھیلنے پر پابندی اور جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ راجپوت نے پہلے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بحرین میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا اور وہ ایک پرائیویٹ ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔انہوں نے کہا، “مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیم کا نام ہندوستانی ٹیم ہے، اور میں نے منتظمین سے کہا تھا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کا نام استعمال نہ کریں۔ ہندوستان اور پاکستان کے کھلاڑی اس سے پہلے بھی نجی ٹورنامنٹس میں ایک ساتھ کھیل چکے ہیں، لیکن کبھی ہندوستان یا پاکستان کے ناموں سے نہیں کھیلے گئے”۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ مجھے ہندوستانی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے دکھایا گیا جس کا میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔












بنگلہ دیش:سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی حالت تشویش ناک، طارق رحمان نے اسپتال پہنچ کرعیادت کی
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، خالدہ ضیا نہایت ہی نازک مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ ان کی علاج کے لیے بنائے گئے یڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹر زیڈ حسین کا کہنا ہے کہ، اُن کی حالت میں بہتری نہیں آئی ہے۔ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور وہ نہایت نازک مرحلے سے گزررہی ہیں۔ اُن کے بیٹے طارق رحمان دیر رات استپال پہنچے اور تقریباً دو گھنٹوں تک وہاں رہے۔
بیتی شب میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں کہا کہ،سابق وزیراعظم خالدہ ضیا 23 نومبر سے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اب سے ان کی حالت میں کوئی واضح بہتری نہیں آئی ہے۔انہیں پہلے سی سی یو میں رکھا گیا تھا بعد میں طبی پیچیدگیوں کے بعد انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کیا گیا۔ڈاکٹرزیڈ حسین کے مطابق ، خالدہ ضیا کے علاج کے لیے بنے بورڈمیں مقامی اور غیر ملکی ماہرین شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے باقاعدہ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ بی این پی نے خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ اس حالت میں انھیں علاج کے لیے بیرون ملک لے جانا مناسب نہیں۔

خالدہ ضیا طویل عرصے سے متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں ذیابیطس، گردوں، دل اور پھیپھڑوں سے متعلق پیچیدگیاں شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے فرزند طارق رحمان 17 سال کی جلاوطنی کے بعد لندن سے ڈھاکہ پہنچے۔ کیونکہ خالدہ ضیاخرابی صحت کے سبب گزشتہ کچھ برسوں سے سرگرم سیاست سے دور ہیں۔بنگلہ دیش میں آئندہ سال فروری میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔اس صورت میں پارٹی،طارق رحمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔طارق رحمان بی این پی کےکارگزار چیئرمین ہیں اور ان سے موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کو بڑی اُمید ہیں۔












بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے قتل پر امریکی رکن کانگریس برہم، دیپو داس کے لنچنگ پر کھل کر بولے، لندن میں احتجاجی مظاہرے
واشنگٹن: بنگلہ دیش میں ایک ہندو ٹیکسٹائل ورکر دیپو چندر داس کے بہیمانہ قتل نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس پر کئی ممالک سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ ہندوستان کے محکمہ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کی اور نیپال میں اسی طرح کے واقعات کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ اب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی حالیہ مذہبی تشدد کی مذمت کی ہے۔ ایک بااثر امریکی سینیٹر نے دیپو چندر داس کی ہجومی تشدد کو ہولناک قرار دیا ہے۔بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، ایک امریکی ترجمان نے آئی اے این ایس کو بتایا، “امریکہ مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی، پرامن اجتماع اور انجمن کی سخت مذمت کرتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ امریکہ مذہبی تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے۔ مزید برآں، ہم بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی طرف سے تمام کمیونٹیز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
امریکی سینیٹر رو کھنہ نے کہا کہ ‘خوفناک’
امریکی سینیٹرز نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر رو کھنہ نے اس قتل کو ہولناک قرار دیتے ہوئے مذہبی منافرت کی سخت ترین مذمت پر زور دیا۔ کھنہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، ’’بنگلہ دیش میں 27 سالہ ہندو ٹیکسٹائل ورکر دیپو چندر داس کا قتل ہولناک ہے، اور میری تعزیت اور دعائیں دیپو کے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں نفرت اور تعصب کی ان گھناؤنی کارروائیوں کی سختی سے مذمت کرنی چاہیے اور ان کے خلاف بولنا چاہیے۔دیپو داس کو کیوں قتل کیا گیا؟
بنگلہ دیش کے بھلوکا سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسٹائل ورکر دیپو چندر داس کو 18 دسمبر کو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا، اسے گھسیٹ کر باہر لے جایا گیا، حملہ کیا گیا، مارا پیٹا گیا، اور جلا دیا گیا۔ وہاں موجود پولیس بھی کچھ نہ کر سکی اور اس واقعہ نے بنگلہ دیش کی صورتحال کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ اس قتل نے ملک کے سیاسی بحران کے بعد بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کی حالت زار پر جانچ میں اضافہ کر دیا ہے۔ وکالت کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادریوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کئی علاقوں میں ہجومی تشدد، توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کے واقعات کا حوالہ دیا ہے۔

لندن میں احتجاج، خالصتانیوں کی دراندازی
اس واقعے پر لندن میں ہندو گروپوں نے احتجاج بھی کیا۔ ہفتے کے روز لندن میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر ایک پرامن احتجاج اس وقت درہم برہم ہو گیا جب خالصتان کے حامی عناصر نے احتجاج میں گھس لیا۔ یہ احتجاج دیپو داس کے قتل اور وہاں کے انتہا پسند عناصر کی طرف سے ہندو برادری پر ظلم و ستم کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ یہ واقعہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی پلے بک کی عکاسی کرتا ہے جو اس طرح کے مظاہروں سے توجہ ہٹانے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا واحد مقصد بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے خلاف آواز اٹھانا تھا، لیکن بیرونی اداکاروں کی مداخلت نے تناؤ کا ماحول پیدا کیا۔

Saturday, 27 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





آسام میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ شائع، 4.80 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے
گوہاٹی: آسام میں انتخابی ماحول زور پکڑنے لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہفتہ 27 دسمبر کو ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع کیا۔ اس عمل میں 478,992 فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کی شناخت کی گئی اور مناسب تصدیق کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔ حکام کے مطابق، مسودہ فہرست میں ریاست بھر میں کل 25,202,775 ووٹرز شامل ہیں، جن میں 12,572,583 مرد ووٹر، 12,628,662 خواتین ووٹرز اور 379 ووٹر "دیگر" زمرہ میں شامل ہیں۔

آسام میں نئے سال کے شروع میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی میں گھر گھر ووٹروں کی تصدیق اور مسودہ ووٹر لسٹ کی تیاری شامل تھی، جس میں 478,992 ووٹروں کے ناموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

مسودہ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد، ووٹر اب 22 جنوری 2026 تک دعوے اور اعتراضات دائر کر سکتے ہیں۔ نئے ووٹرز کو شامل کرنے، نام، عمر اور پتہ جیسی ذاتی معلومات میں ترمیم کرنے یا نام حذف کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ الیکشن حکام نے بتایا کہ تمام دعوؤں اور اعتراضات پر کارروائی کے بعد حتمی ووٹر لسٹ 10 فروری 2026 کو شائع کی جائے گی۔

2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے ایک حصے کے طور پر ہفتہ کو آسام کے لیے ایک مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی گئی تھی، جس سے ووٹرز کو اپنی معلومات کی تصدیق اور اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ووٹرز کو تفصیلات چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا

رائے دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل کسی بھی غلطی سے بچنے کے لیے ڈرافٹ رول میں اپنی تفصیلات چیک کریں۔ مسودہ ووٹر لسٹ آسام کے چیف الیکٹورل آفیسر کی سرکاری ویب سائٹ cecassam.nic.in پر دستیاب ہے۔

آسام میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی 22 نومبر کو شروع ہوئی۔ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او) 20 دسمبر تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کی۔ آسام میں اسمبلی کی کل 126 نشستیں ہیں۔ خصوصی نظر ثانی شروع ہونے سے پہلے، ریاست میں ووٹروں کی کل تعداد 25.2 ملین سے زیادہ تھی۔











اجیت پوارکے ساتھ میٹنگ میں نہیں بنی بات، چچا-بھتیجے رہیں گے الگ، شرد پوارکی این سی پی واپس مہا وکاس اگھاڑی کے پاس لوٹی
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارکے ساتھ بات نہیں بنی توشرد پوارکی این سی پی واپس مہا وکاس اگھاڑی کے پاس لوٹ آئی ہے۔ میٹنگ میں سیٹوں کی تقسیم اورانتخابی نشان سے متعلق اجیت پوارکے ساتھ تنازعہ کے بعد شرد پوارکی این سی پی نے مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ دوبارہ میٹنگ کی۔ پنے کے شانتائی ہوٹل میں کانگریس، ادھوٹھاکرے کی شیوسینا اورشرد پوارکی این سی پی کی مشترکہ میٹنگ ہورہی ہے۔ اس میٹنگ میں شرد پوارکی این سی پی کے وشال تانبے، انکش کاکڑے، منالی بھلارے، اشونی کدم اورایم ایل اے باپوصاحب پٹھارے موجود ہیں۔ جبکہ کانگریس سے اروند شندے، ابھے چھاجیڑ، رمیش باگوے موجود ہیں۔ وہیں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے وسنت مورے، گجانن تھرکڈے اورسنجے مورے موجود ہیں۔

دراصل، جمعہ کے روزدوپہرشرد پوارکی این سی پی اوراجیت پوارکے درمیان میٹنگ ہوئی۔ ایسی اطلاع ہے کہ اس میٹنگ میں اجیت پوارکی این سی پی نے شرد پوارکی پارٹی کو صرف 35 سیٹیں دینے کی تجویزرکھی۔ اجیت پوارکی پارٹی نے ان 35 سیٹوں پر’گھڑی‘ کے نشان پرالیکشن لڑنے کی شرط بھی رکھی تھی۔ چونکہ یہ دونوں تجویزشرد پوارکی این سی پی کومنظورنہیں تھا، اس لئے انہوں نے فوراً اس میٹنگ سے واک آوٹ کردیا اورآج مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ میٹنگ شروع کردی ہے۔

این سی پی (ایس پی) لیڈرسے کی تھی ملاقات

بی ایم سی الیکشن سے پہلے مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارنے جمعہ کے روزپمپری-چنچوڑمیں این سی پی (ایس پی) لیڈراعظم پانسرے سے ملاقات کی تھی۔ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پانسرے نے کہا کہ این سی پی (ایس پی) اجیت پوارکے گروپ کے ساتھ میٹنگ کرنا چاہتی ہے۔ اجیت پوارمجھ سے بہت وقت بعد ملنے آئے۔ ہم نے اہم موضوعات پرکوئی تبادلہ خیال کیا۔ ہم (این سی پی-ایس پی کے درمیان) اتحاد کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجیت پوارنے بات چیت میں مجھ سے کہا کہ اس سے متعلق جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ یہ این سی پی (ایس پی) رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کے ممکنہ اتحاد کا اشارہ دینے کے کچھ دنوں بعد ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی اجیت پوارسے بات چیت کی اورپارٹی کے سینئرلیڈران نے ایک دوسرے سے بات کی۔ اگلے ماہ میونسپل کارپوریشن الیکشن کے لئے 15 جنوری کوووٹنگ ہوئی ہے اورنتائج 16 جنوری کوسامنے آئیں گے۔ اس لئے الگ الگ پارٹیاں الگ الگ اتحاد بنانے سے متعلق کام کررہی ہیں۔













پشاور میں سکندر اعظم کے دور کی ورکشاپ دریافت
پاکستان میں بدھ مت دور کے آثار قدیمہ تو بہت دریافت ہوئے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انڈو گریک یعنی یونانی دور کے آثار پشاور میں دریافت ہوئے ہیں۔ ان آثار میں لوہے کی ورکشاپس یا لوہاروں کی بھٹیاں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ آثار قدیمہ کوئی 2200 سال قدیم ہیں جو چار سو سال پر محیط تین بڑے ادوار سے ہیں۔

حیران کن طور پر یہ دریافت خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی جدید اور بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں ہوئی ہے۔ ماضی میں ہندوستان سے پاکستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشا تک تجارت کا ایک بڑا راستہ پشاور سے طورخم کا راستہ تھا اور یہ ورکشاپس اسی راستے کے قریب دریافت ہوئی ہیں ۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی کے پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ حیات آباد کی جدید آبادی کے بیچوں بیچ یہ بہت بڑی دریافت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انھیں ایسا لگا کہ یہ بھی بدھ مت کے ہی کوئی آثار قدیمہ ہیں لیکن کھدائی کے دوران انھیں جو سکے اور برتن ملے، ان پر کندہ کیے گئے نشانات سے معلوم ہوا کے یہ یونانی دور کے آثار ہیں۔پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ یہاں لوہا پگھلانے والی بھٹیاں اور پھر لوہے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جگہیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ اس مقام پر ایک نہیں بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی ورکشاپس دریافت ہوئی ہیں جو ساتھ ساتھ ہی واقع ہیں۔

ان ورکشاپس کے ساتھ کچن اور کچھ برتن بھی ملے ہیں جن پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

یہ دریافت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ماہرین کے مطابق یہاں سے ملنے والی اشیاء سے لگتا ہے کہ چونکہ اسی راستے سے افغانستان، وسط ایشیاء، ایران اور یونان سے قافلے آئے اور یہاں جنگیں لڑی گئیں اور یہاں ہی انھوں نے حکومتیں کی ہیں اس لیے اس جگہ سے تین مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں۔ان میں وسط ایشیائی، یونانی اور کوشان دور کے آثار پائے جاتے ہیں اور یہ انتہائی نادر آثار ہیں جن پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ کوشان وہ لوگ تھے جو ایران کے راستے ہندوستان اور اس علاقے میں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق اگرچہ اس علاقے میں سنہ 2007 میں بھی کھدائی کی گئی تھی جب نکاسی آب کے لیے یہاں نالا بنایا جا رہا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2017 میں کچھ لوگ یونیورسٹی میں ان کے دفتر آئے اور کچھ سکے اور برتن دکھائے کہ یہ انھیں حیات آباد میں کھدائی کے دوران ملے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس پر کام شروع کر دیا گیا تھا اور ابتدا میں تو ایسا لگا جیسے صوبے کے دیگر علاقوں میں بدھ مت کے آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں یہ بھی ویسے ہی ہے لیکن کھدائی کے دوران ایسے آثار دریافت ہوئے ہیں جو کوئی 2200 سال قدیم ہیں اور اس دور کے ہیں جب یونان سے حملہ آور یہاں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق جس مقام سے یہ آثار دریافت ہوئے ہیں ادھر سے دائیں جانب کچھ گڑھی کی جانب مزید آثار ہو سکتے ہیں جبکہ بیشتر آثار جدید عمارات کی وجہ سے ختم ہو چکے ہوں گے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...