عرب اتحاد کا یمن میں اسلحہ سمگل کرنے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ فضائی حملہ
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ایک ’محدود‘ فضائی حملہ کیا ہے جس کا ہدف دو ایسے جہاز تھے جو سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی المکلا بندرگاہ میں ہتھیار لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں اتحاد ی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے باضابطہ اجازت حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’دونوں جہازوں کے عملے نے دونوں جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں تاکہ مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المھرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی حمایت کی جا سکے جس کا مقصد تنازع کو مزید ہوا دینا ہے۔ یہ جنگ بندی نافذ کرنے اور پُرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2216) 2015 کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘المالکی نے کہا کہ اتحادی افواج نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست پر کارروائی کی جس میں ’حضرموت اور المھرہ کے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کرنے کا کہا گیا تھا۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے خطرے اور کشیدگی کے پیش نظر جو امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اتحادی فضائی افواج نے آج صبح ایک محدود فوجی کارروائی کی، جس میں المکلا بندرگاہ پر دونوں جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ہتھیار اتارنے کی دستاویزی تصدیق کے بعد کی گئی اور یہ فوجی کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق کی گئی، جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ عام شہریوں اور املاک کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔‘
المالکی نے اتحاد کے اس عزم کی توثیق کی کہ وہ ’حضرموت اور المھرہ میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی فریق کو ، یمن کی قانونی حکومت اور اتحاد کی اجازت بغیر کسی بھی قسم کی عسکری مدد فراہم کرنے سے روکے گا۔ اس کا مقصد مملکت اور اتحاد کی جانب سے امن و استحکام کے حصول کی کوششوں کو کامیاب بنانا اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔‘
اتحاد کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کہلانے والے گروپ نے دسمبر کے اوائل میں وسیع پیمانے پر فوجی مہم شروع کی جس کے دوران اس نے سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع حضرموت کے علاقوں اور عمان کی سرحد سے متصل مشرقی صوبے المھرہ پر قبضہ کر لیا۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی فورسز نے شہر سیئون پر قبضہ کر لیا جس میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور صدارتی محل بھی شامل ہے۔ انہوں نے سٹریٹیجک پیٹرو مسیلا آئل فیلڈ کا بھی کنٹرول سنبھال لیا جو یمن کے باقی ماندہ تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
اس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایس ٹی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبضے والے علاقوں سے واپس جائیں اور انہیں نیشنل شیلڈ فورسز کے حوالے کریں، جو سعودی عرب کا حمایت یافتہ یونٹ ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتحاد نے خبردار کیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی عسکری حرکت کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات نے ایک بیان جاری کیا جس میں یمن میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے ذریعے جاری بیان میں یمن کے عوام کے مفادات اور ان کے امن و خوشحالی کے خواہش کی حمایت میں سعودی عرب کے مثبت کردار کی تعریف کی گئی۔
پی ایم مودی نے خالدہ ضیا کے انتقال پر کیا رنج وغم کا اظہار، قائدانہ صلاحیت کی تعریف کی
پرائم منسٹر نریندر مودی نےبنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کیے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد میں خالدہ ضیا کا کردار انتہائی اہم رہا ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔
ان کے انتقال سے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایسا خلا پید ا ہوگیا ہے جسے کبھی پُرنہیں کیا جاسکے گا۔میں پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں ۔ خدا انھیں صبرجمیل عطا کرے۔ پی ایم مودی نے بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سے 2015 میں ہوئی ملاقات کی یادیں بھی تازہ کیں۔شوہرکی قبر کے پاس خالدہ ضیا کوکیا جائیگا دفن
بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو دارالحکومت ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نگر میں واقع ضیا باغ میں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمان کی قبر کے قریب دفن کیا جاسکتا ہے۔ بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے کہا کہ خالدہ ضیاکی نماز جنازہ بدھ کو دارالحکومت کے مانک میا ایونیو میں ادا کی جا سکتی ہے۔ جنازے کی تیاریوں کے حوالے سے پارٹی اور خاندانی سطح پر بات چیت جاری ہے۔بی این پی کے آفیشل فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی معلومات کے مطابق، ان کا انتقال نماز فجر کے فوراً بعد صبح 6 بجے کے قریب ہوا۔ بی این پی کے جنرل سیکرٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے بھی ان کی موت کی تصدیق کی۔خالدہ ضیا کا انتقال:ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹروں کے مشورے پر خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو ایور کیئر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ دل اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ نمونیا میں مبتلا تھیں۔ 80 سالہ خالدہ ضیاطویل عرصے سے کئی سنگین بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ انھیں دل کی بیماری، جگر اور گردے کے مسائل، ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماری، گٹھیا اور آنکھوں کے مسائل تھے۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے 1991 میں جمہوریت کی بحالی کے دوران اقتدار سنبھلاتھا ۔انتخابا اورکاغذات نامزدگی
اگرچہ خالدہ ضیا کی حالت گزشتہ ایک ماہ کے دوران بگڑ گئی تھی لیکن انہوں نے پیر کو بوگورہ-7 حلقے کے لیے اپنا کاغذات نامزدگی داخل کیا تھا۔ پارٹی رہنماؤں نے دوپہر 3 بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر کے دفتر میں کاغذات جمع کرائے تھے۔ اتوار کو ان کے پرائیویٹ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی حالت بگڑ گئی ہے اور صحت یاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔
’خوف، بدعنوانی اور دراندازی‘ : امت شاہ نے بنگال میں انتخابی بگل بجا دیا، ممتا بنرجی کے 14 سالہ اقتدار پر شدید تنقید
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کے روز کولکاتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حکومت پر زبردست حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں گزشتہ تقریباً 15 برسوں سے ممتا بنرجی کی قیادت میں چلنے والی حکومت کا دور خوف، بدعنوانی، بدانتظامی اور غیر قانونی دراندازی سے عبارت رہا ہے۔امت شاہ نے کہا، ’’ یہ بنگال کے لیے ایک نہایت اہم وقت ہے، کیونکہ اب سے لے کر اپریل تک ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ٹی ایم سی کے گزشتہ 15 برسوں کے اقتدار میں بنگال نے خوف، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کا سامنا کیا ہے۔ غیر قانونی دراندازی نے عوام کے اندر عدم تحفظ اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی حکومت کے تحت بدعنوانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مغربی بنگال میں ترقی مکمل طور پر رک گئی ہے۔
’’ مودی جی کی جانب سے شروع کی گئی تمام فلاحی اسکیمیں یہاں ٹول سنڈیکیٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ خوف اور بدعنوانی گزشتہ 14 برسوں سے مغربی بنگال کی شناخت بن چکی ہے۔‘‘
امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ
’’ 15 اپریل 2026 کے بعد جب مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی تو ہم بنگال کی تہذیب، ثقافت اور ورثے کی بحالی کا آغاز کریں گے۔ یہ ’ بنگا بھومی‘ ہمارے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ بی جے پی کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے رکھی تھی، جو اسی سرزمین کے عظیم رہنما تھے۔‘‘
دراندازی کے معاملے پر ممتا حکومت کو نشانہ
مرکزی وزیر داخلہ نے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر ممتا بنرجی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا،
’’ یہ مغربی بنگال کی حکومت ہی ہے جو بنگلہ دیش کی سرحد پر باڑ لگانے کے لیے زمین الاٹ نہیں کر رہی۔ چیف منسٹر یہ بتائیں کہ تریپورہ، آسام، راجستھان، پنجاب، کشمیر اور گجرات میں دراندازی کیوں رک گئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی بنگال میں دراندازی آپ کی نگرانی میں ہو رہی ہے تاکہ آبادیاتی تبدیلی لائی جا سکے اور ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ آئندہ اسمبلی انتخابات دراندازی روکنے اور دراندازوں کو باہر نکالنے کے ایشو پر لڑے جائیں گے۔ بنگال کی سرحد سے ہونے والی دراندازی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔‘‘
امت شاہ نے انتخابی اعداد و شمار پیش کیے
بی جے پی کی جیت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا،
’’ 2026 میں بی جے پی مغربی بنگال میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ہمیں 17 فیصد ووٹ اور صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو 10 فیصد ووٹ اور تین سیٹیں حاصل ہوئیں۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا،
’’ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 41 فیصد ووٹ اور 18 سیٹیں ملیں۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 21 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 77 سیٹیں جیتیں۔ جو پارٹی 2016 میں صرف تین سیٹوں پر تھی، وہ پانچ سال میں 77 سیٹوں تک پہنچ گئی۔ اس دوران کانگریس صفر پر پہنچ گئی اور کمیونسٹ اتحاد ایک بھی سیٹ نہ جیت سکا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 39 فیصد ووٹ اور 12 سیٹیں حاصل کیں۔ 2026 میں بی جے پی یقینی طور پر مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی۔‘‘
مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے۔ بی جے پی ریاست میں ممتا بنرجی کی طویل حکمرانی کو بدعنوانی، تشدد اور دراندازی سے جوڑ کر عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے، جبکہ ترنمول کانگریس مرکز پر سیاسی انتقام اور ایجنسیوں کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ آنے والے انتخابات کو قومی سیاست کے لیے بھی نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔