Sunday, 28 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




مہاجرین سے متعلق ٹرمپ نے بنایا خوفناک منصوبہ، بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر قید کیے جائیں گے مہاجرین
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کی اقتدار پر واپسی کے بعد دراندازوں کے خلاف مسلسل سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں یہی مہاجرین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کے خلاف ٹرمپ ایسا قدم اٹھانے جا رہے ہیں جو نہ صرف غیر انسانی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ چاروں طرف اس پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اب مہاجرین کو ایک ایسے ’جہنم‘ میں دھکیلنے کی تیاری میں ہیں جس کے چاروں جانب صرف سمندر ہی سمندر ہے۔ دراصل ٹرمپ اب دراندازوں کو ہزاروں میل دور، سمندر کے عین درمیان واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر بھیجنے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے والے مہاجرین کو پلاؤ بھیجا جائے گا اور صرف وہیں مہاجرین کو پناہ دی جا سکے گی۔
پلاؤ کہاں ہے؟

پلاؤ جزیرہ بحرالکاہل کے عین درمیان، فلپائن کے جنوب مشرق اور پاپوا نیو گنی کے شمال میں واقع ایک چھوٹا سا جزائر پر مشتمل ملک ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے چھوٹی ریاست رہوڈ آئی لینڈ سے بھی کئی گنا چھوٹا ہے۔ پلاؤ ایک جمہوریہ ہے، جس کی کل آبادی تقریباً 18 ہزار کے قریب ہے۔ یہاں مہاجرین کو جزیرے کے تقریباً 180 مربع میل کے علاقے میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

آخری سانس تک جہنم میں رہیں گے مہاجرین

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ حکومت نے مہاجرین کو پلاؤ بھیجنے کے لیے وہاں کی انتظامیہ سے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پلاؤ کو ان مہاجرین کو رکھنے کے بدلے امریکہ کی جانب سے 75 ملین ڈالر کی مدد دی جائے گی۔ امریکہ نے اس رقم میں سے 7.5 ملین ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کر دی ہے۔ یہی نہیں، امریکہ میں ٹرمپ مہاجرین کے خلاف آخری سانس تک سختی برتنے کی تیاری میں ہیں۔ ٹرمپ حکومت امریکہ میں 7 بڑے ویئرہاؤس خریدنے جا رہی ہے، جہاں ایک ساتھ 80 ہزار سے زائد مہاجرین کو رکھا جائے گا۔









جی میل کا ’میل ایڈریس کی تبدیلی‘ کا نیا فیچر، ’ڈیٹا ضائع نہیں ہو گا‘
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل صارفین کے لیے ایک بڑی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے تحت اب صارفین اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں۔
گوگل کی اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر جاری ایک اپڈیٹ کے مطابق جی میل ایڈریس بدلنے کے لیے صارفین کو نئی میل کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ان کا ڈیٹا ضائع ہو گا۔یہ سہولت خاص طور پر اُن صارفین کے لیے خوشخبری ہو سکتی ہے جو آج بھی ایسے ناموں والے ای میل ایڈریس استعمال کرنے پر مجبور ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ای میل ایڈریس تبدیل کرنے سے متعلق یہ نئی ہدایات فی الحال گوگل کی سپورٹ ویب سائٹ کے صرف ہندی ورژن پر نظر آ رہی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز انڈیا یا پھر ہندی بولنے والے ممالک سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم سپورٹ پیج کے مطابق یہ سہولت بتدریج تمام صارفین کو فراہم کی جائے گی تاہم عالمی سطح پر اس کے نفاذ میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
ابھی تک گوگل کے انگلش سپورٹ پیج پر پرانی معلومات ہی موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر جی میل ایڈریس تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب گوگل نے اس حوالے سے کوئی فوری طور پر نہیں بتایا کہ کن خطوں میں یہ فیچر پہلے متعارف کرایا جائے گا۔
اس نئی اپڈیٹ کے تحت جو صارف اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کرے گا اس کا پرانا ایڈریس بطور متبادل برقرار رہے گا۔ یعنی پرانے ایڈریس پر آنے والی تمام ای میلز نئے ان باکس میں موصول ہوتی رہیں گی اور پرانا ایڈریس گوگل کی مختلف سروسز جیسے ڈرائیو، میپس اور یوٹیوب میں سائن اِن کے لیے بھی کام کرتا رہے گا۔اس سے قبل نیا جی میل ایڈریس حاصل کرنے کے لیے صارفین کو نیا اکاؤنٹ بنانا پڑتا تھا اور پھر دستی طور پر ڈیٹا منتقل کرنا ہوتا تھا جو نہ صرف مشکل بلکہ کئی تھرڈ پارٹی ایپس کے ساتھ مسائل کا باعث بھی بنتا تھا۔
گوگل کے مطابق ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف کا موجودہ ڈیٹا، بشمول تصاویر، پیغامات اور ای میلز، مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔ اس کے علاوہ صارف کسی بھی وقت پرانے ای میل ایڈریس کو دوبارہ استعمال بھی کر سکے گا۔
دوسری جانب اس اپڈیٹ کے ساتھ کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، مثال کے طور پر ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف اگلے 12 ماہ تک کوئی نیا جی میل ایڈریس نہیں بنا سکے گا اور نیا منتخب کیا گیا ایڈریس حذف بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
گوگل نے اس تبدیلی کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی تاہم اطلاعات کے مطابق اس فیچر کا انکشاف سب سے پہلے ’یوزر فورمز‘ اور ٹیکنالوجی کمیونٹیز میں ہوا۔











ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے: میر تقی میر - Mir Taqi Mir
حیدرآباد: میر تقی میر کا شمار اردو کے ان شعراء میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اردو شاعری کا آغاز کیا۔ ان سے پہلے اکثر شعراء فارسی میں اپنا کلام پیش کیا کرتے تھے۔ تاہم میر تقی میر نے اپنا کلام اردو زبان میں پیش کرنا بہتر سمجھا اور 6 دیوانوں پر مشتمل اپنا کلام اردو کے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ گئے۔

ان کی شاعری میں غم کا احساس زیادہ نظر آتا ہے۔ ہو بھی کیوں نہ آخر انہوں نے دہلی کو اپنی آنکھوں سے لٹتے ہوئے دیکھا، قتل و غارت غری دیکھی، شہر کو اجڑتے ہوئے دیکھا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں غم کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ میر تقی میر کی عظمت اس بات سے بھی لگائی جا سکتی ہے کہ انہیں خدائے سخن کہا جاتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ انہیں آج بھلا دیا گیا ہے۔

میر تقی میر کی عظمت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ جب ایک مراٹھی زبان کے شاعر کو گیان پیٹھ آوارڈ سے نوازا گیا تو اس دوران انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ فرینچ اور انگریزی زبان کے شاعروں کو کیوں پڑھتے ہیں جب کہ ہمارے پاس تو میر تقی میر موجود ہیں۔

میر تقی میر کی پیدائش سنہ 1723 میں آگرا میں ہوئی تھی جب کہ ان کی وفات 20 ستمبر سنہ 1810 میں لکھنؤ میں ہوئی۔ انہوں نے کم و بیش 18 ہزار اشعار کہے ہیں۔ ان کی شاعری کا انداز ان اشعار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی مشہور زمانہ غزل 'ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے' ملاحظہ فرمائیں...

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

جن کی خاطر کی استخواں شکنی

سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے

نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں

ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے

آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں

ان دنوں تم بہت شریر ہوئے

اپنے روتے ہی روتے صحرا کے

گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے

ایسی ہستی عدم میں داخل ہے

نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے

ایک دم تھی نمود بود اپنی

یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے

یعنی مانند صبح دنیا میں

ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے

مت مل اہل دول کے لڑکوں سے

میرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...