Tuesday, 30 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





2026 میں بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کون سے ہیں؟
بچوں کی پرورش والدین کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور وہ جس ملک میں رہتے ہیں وہ بچوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
آج کے دور میں والدین صرف اچھی نوکری یا زیادہ تنخواہ ہی نہیں دیکھتے بلکہ وہ تحفظ، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔’گلوبل سٹیزن سولوشنز‘ کی رپورٹ میں ایسے ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو 2026 میں بچوں کی پرورش کے لحاظ سے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔
اس فہرست میں شمالی یورپ کے ممالک نمایاں ہیں جو عالمی معیار کی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے علاوہ پرامن ماحول بھی رکھتے ہیں۔
فن لینڈ
فہرست میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور اسے بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل پیس انڈیکس 2025 کے مطابق فن لینڈ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے۔
یہاں تعلیمی معیار او ای سی ڈی کی اوسط سے بہتر ہے، صحت کی سہولیات بہت آسان اور مفت ہیں جبکہ والدین کو 160 دن کی تنخواہ سمیت رخصت بھی دی جاتی ہے۔ ہیلسنکی اور ٹیمپیرے فیملیز کی پسندیدگی کے لحاظ سے یہاں کے مقبول شہر ہیں۔
ڈنمارک
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ڈنمارک ہے جہاں کی پالیسیاں عوامی فلاح پر مبنی ہیں۔ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی فلاح پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
والدین کو 52 ہفتے تک چھٹی ملتی ہے اور صحت کی سہولتیں ٹیکس کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈنمارک عالمی خوشی کے انڈیکس میں دوسرے نمبر پر ہے۔سویڈن
اس فہرست میں تیسرے نمبر پر سویڈن ہے جہاں تعلیم کا معیار ریاضی، سائنس اور مطالعہ میں او ای سی ڈی اوسط سے بہتر ہے۔
یہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر فراہم کی جاتی ہے اور والدین کو ہر بچے کے لیے 480 دن کی رخصت دی جاتی ہے۔ سٹاک ہوم اور گوتھن برگ خاندانوں کے پسندیدہ شہر ہیں۔
نیدر لینڈز
نیدرلینڈز کا اس فہرست میں چوتھا نمبر ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مضبوط پبلک سسٹم اور واضح امیگریشن پالیسیز فیملیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔
یہاں طلبہ ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ صحت کا نظام وسیع سہولتوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ ہائی سکلڈ مائیگرنٹ پروگرام اور یورپی یونین بلیو کارڈ کے تحت یہاں خاندان مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔ناروے
اس فہرست میں ناروے کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں بچوں کی پرورش فطرت کے قریب کی جاتی ہے۔
والدین کو طویل المدتی تنخواہ سمیت رخصت، یونیورسل ہیلتھ کیئر اور ہنرمند افراد کے لیے آسان امیگریشن راستے دستیاب ہیں۔
کینیڈا
کینیڈا خاندانوں کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔ مضبوط سرکاری تعلیمی ادارے، اعلیٰ جامعات اور قدرتی مناظر اسے ایک پرکشش ملک بناتے ہیں۔
ایکسپریس انٹری اور سٹارٹ اپ ویزا پروگرام کے ذریعے خاندان یہاں مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ
اس فہرست کے ساتویں نمبر پر نیوزی لینڈ ہے جہاں سادہ طرزِ زندگی، معاشرتی اقدار اور قدرتی ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سرکاری صحت کی سہولتیں بچوں کے لیے بہت کم لاگت میں دستیاب ہیں جبکہ سکلڈ مائیگرنٹ ویزا کے تحت خاندان ایک ساتھ منتقل بھی ہو سکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ
فہرست میں سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہے جو صاف ستھرے شہروں، معیاری تعلیم اور بہترین صحت کے نظام کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہاں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کافی پرکشش سہولتیں موجود ہیں جبکہ غیر یورپی خاندانوں کے لیے فیملی ری یونین کے واضح قوانین ہیں۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ 2026 میں وہی ممالک بچوں کی پرورش کے لیے موزوں سمجھے جا رہے ہیں جہاں ریاست والدین اور بچوں دونوں کی فلاح کو ترجیح دیتی ہے۔
















آندھرا پردیش میں ٹاٹا نگر-ارناکلم ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی، دو کوچز خاکستر، ایک مسافر ہلاک
وشاکھاپٹنم: پیر کو نصف شب کے بعد آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم سے تقریباً 66 کلومیٹر دور یلمانچلی میں ٹاٹا نگر-ارناکلم جنکشن سپر فاسٹ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں آگ لگنے کے بعد ایک بزرگ مسافر مبینہ طور پر جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ ریلوے کے ایک اہلکار نے اس بات کی جانکاری دی۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے آج صبح بتایا کہ انہیں تقریباً 12:45 بجے آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے بتایا کہ "آندھرا پردیش کے اناکا پلی ضلع میں یلمانچلی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک پیر (29 دسمبر) کی صبح سویرے ٹرین نمبر 18189 ٹاٹا نگر-ارناکلم جنکشن سپر فاسٹ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں آگ لگ گئی۔"اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ نے ٹرین کے دو ڈبوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ پی ٹی آئی نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے اس واقعے کی اطلاع دی۔ "آگ لگنے کے وقت متاثرہ کوچ میں سے ایک میں 82 اور دوسری میں 76 مسافر سوار تھے۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ مرنے والے شخص کی شناخت چندر شیکھر سندرم کے طور پر کی گئی ہے۔آگ بجھانے کے بعد دونوں تباہ شدہ ڈبوں کو ٹرین سے الگ کر دیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ تباہ شدہ کوچز میں سوار مسافروں کو ان کی منزلوں تک بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا کہ دو فرانزک ٹیمیں آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس سے قبل ساؤتھ سنٹرل ریلوے نے ابتدا میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ٹاٹا نگر-ارناکلم ایکسپریس کے کوچ نمبر B-1 اور M-2 آگ کی زد میں آگئے اور بری طرح تباہ ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی مسافر زخمی ہوا۔ ایس سی آر نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس بات کی جانکاری دی۔ پوسٹ میں لکھا کہ "ٹاٹا نگر سے ایرناکولم ٹرین میں - وجے واڑہ ڈویژن کے یلمانچلی اسٹیشن (YLM) پر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ فائر بریگیڈ موقعے پر پہنچی اور آگ بجھانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا یا کوئی زخمی نہیں ہوا۔"واضح رہے کہ ریلوے حکام نے ابھی تک کسی مسافر کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ریلوے نے جانکاری فراہم کرنے کے لیے درج ذیل ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں:

یلمانچلی - 7815909386

اناکاپلے - 7569305669

ٹونی - 7815909479

سمالکوٹ۔ 7382629990

راجمندری - 088 - 32420541; 088 - 32420543

ایلورو - 7569305268

وجے واڑہ - 0866 - 2575167

اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔















’غیرمسلح نہ ہونے پر حماس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘، ٹرمپ کی ایران کو بھی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہو جائے ورنہ اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے ایران کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل بنانے کا کام بحال کیا تو امریکہ اس پر ایک اور بڑے حملے کی حمایت کرے گا۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہمراہ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اگر وہ غیر مسلح نہیں ہوتے، جس پر انہوں نے پہلے رضامندی ظاہر کی تھی، تو ان کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے ہیں اور اگلے مرحلے کے مشکل نکات کو تسلیم کرتے نظر نہیں آ رہے۔
حماس کے غیر مسلح نہ ہونے اور کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اب بھی تقریباً نصف سے زیادہ علاقے میں اسرائیلی فوج موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے حماس پر فوری طور پر غیر مسلح نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دلیل دی کہ اسرائیل اپنی طرف سے معاہدے پر قائم ہے۔
ان کے مطابق ’حماس سنگین نتائج کو دعوت دے رہی ہے، اسے کم وقت میں غیر مسلح ہونا ہو گا۔‘
صدر ٹرمپ کھل کر اپنا وزن نیتن یاہو کی حمایت کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں جو کہ غزہ فائر بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے ہیں۔امریکی صدر کے مطابق ’مجھے اس بارے میں کوئی فکر نہیں کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، میں فکرمند ہوں کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا شاید نہیں کر رہے۔‘
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے ایران کے ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے کہا کہ وہ امریکہ کے بڑے حملے کے بعد اس کو بحال کرنے پر کام کر رہا ہے۔
’میں پڑھ رہا ہوں کہ وہ ہتھیاروں اور دوسری چیزوں کو پھر سے کھڑا کر رہے ہیں جس کے لیے وہ ان سائٹس کو استعمال نہیں کر رہے جن کو ہم نے ختم کر دیا تھا بلکہ ممکنہ طور پر مختلف سائٹس استعمال ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ یہ سب کہاں پر کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہم بی ٹو پر ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘
انہوں نے پچھلے حملے میں استعمال ہونے والے بمبار جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دونوں طرف سے 37 گھنٹے کا سفر ہے اور میں زیادہ ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتا۔‘
حالیہ مہینوں کے دوران تہران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے سے متعلق بات کرنے والے صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو غزہ کے نازک معاہدے کو آگے بڑھانے اور ایران اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی خدشات دور کرنے پر مرکوز تھی۔ایران جس نے جون کے دوران اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ لڑی، کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ اس نے ایک مہینے میں دوسری بار میزائلوں کی مشقیں کی ہیں۔
جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا تاہم اس بارے میں صدر ٹرمپ سے بات کریں گے۔
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی طرف بڑھا جائے۔
امریکی صدر نے رواں ماہ اسرائیلی صدر کو بات چیت کے لیے دعوت دی تھی کیونکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے میں عبوری حکومت کے قیام پر زور دے رہا ہے جبکہ اسرائیل ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...