Monday, 29 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*



صدر ٹرمپ، نیتن یاہو غزہ امن معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے
توقع ہے کہ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران غزہ میں رکے ہوئے جنگ بندی عمل میں پیش رفت پر زور دیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق اس ملاقات میں لبنان میں حزب اللہ اور ایران سے متعلق اسرائیل کے خدشات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
نیتن یاہو نے اس ماہ کہا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے کے لیے عبوری حکمرانی اور ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد اسرائیلی رہنما سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات سے متعلق تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔ توقع ہے کہ نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے مار-اے-لاگو بیچ کلب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے نے 22 دسمبر کو کہا تھا کہ بات چیت میں غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے ساتھ ساتھ ایران اور لبنان پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
واشنگٹن نے تینوں محاذوں پر جنگ بندی میں ثالثی کی، لیکن اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے مخالفین جنگ میں کمزور ہونے کے بعد دوبارہ اپنی قوت بحال کر سکتے ہیں۔
غزہ جنگ بندی منصوبے کے اگلے اقدامات
اکتوبر میں تمام فریقوں نے صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے تحت اسرائیل کو غزہ سے انخلا کرنا ہے، حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہیں اور علاقے میں حکمرانی کا کردار ترک کرنا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے میں تجویز کردہ عبوری انتظامیہ ، جس میں ’بورڈ آف پیس‘ اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک ادارہ شامل ہے، جلد قائم کی جائے تاکہ غزہ کی حکمرانی سنبھالی جا سکے۔
تاہم اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں، اور اگلے مرحلے میں درکار زیادہ مشکل اقدامات کو قبول کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔
 حماس، جس نے اسلحہ ترک کرنے سے انکار کیا ہے اور آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات واپس نہیں کیں، دوبارہ اپنا کنٹرول مضبوط کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج تقریباً نصف علاقے میں بدستور موجود ہے۔
اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ اگر حماس نے پُرامن طور پر اسلحہ نہیں چھوڑا تو وہ اسے مجبور کرنے کے لیے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے گا۔
اگرچہ لڑائی میں کمی آئی ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اکتوبر میں جنگ بندی کے باضابطہ آغاز کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
لبنان میں جنگ بندی بھی آزمائش کا شکار
لبنان میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی، جو نومبر 2024 میں طے پائی تھی، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد جاری لڑائی کے خاتمے کا سبب بنی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ گروہ حزب اللہ کو اسلحہ چھوڑنا تھا، جس کا آغاز اسرائیل کے قریب دریا کے جنوب میں واقع علاقوں سے ہونا تھا۔
لبنان کا کہنا ہے کہ وہ سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے ہدف کے قریب ہے، تاہم یہ گروہ ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کی مزاحمت کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ پیش رفت جزوی اور سست ہے، اور وہ لبنان میں تقریباً روزانہ حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ حزب اللہ کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہیں۔















پاکستان کو ہندوستان کامنہ توڑجواب : اقلیتوں سے متعلق پاکستان کاالزام مسترد کہا ’’تمہارا اپنا ریکارڈ نہایت خراب ہے‘‘
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی سے چھپا ہوا نہیں
وزارتِ خارجہ (MEA) نے پیر کے روز پاکستان کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں کے مبینہ استحصال سے متعلق دیے گئے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے پاکستان کا اپنا ریکارڈ اس قدر خراب ہے کہ اسے کسی دوسرے ملک پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے رندھیر جیسوال نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے ان الزامات کو رد کیا جن میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ مظالم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بیانات ایک ایسے ملک کی جانب سے آ رہے ہیں جس کا اقلیتوں کے حوالے سے بدترین اور افسوسناک ریکارڈ پوری دنیا کے سامنے ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا منظم اور سنگین استحصال ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور محض الزامات یا الزام تراشی کے ذریعے اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا :
’’ہم ایسے ملک کے بیانات کو مسترد کرتے ہیں جس کا اقلیتوں کے حوالے سے ریکارڈ نہایت ابتر ہے۔ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتیں منظم اور ہولناک مظالم کا شکار رہی ہیں، جو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ انگلی اٹھانے سے یہ سچ چھپ نہیں سکتا۔‘‘یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت میں اقلیتوں کے مبینہ استحصال پر تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے ان واقعات کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

تاہم، پاکستان خود طویل عرصے سے اپنی سخت اور متنازعہ توہینِ مذہب قوانین کے باعث عالمی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ خاص طور پر دفعہ 295**-C** کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں غیر واضح زبان اور انتہائی سخت سزاؤں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ ان قوانین کا سب سے زیادہ نشانہ مذہبی اقلیتیں، خصوصاً عیسائی، اور ہندو بنے ہیں، جنہیں اکثر جھوٹے الزامات، سماجی دباؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔











ریٹائرمنٹ ہوم میں لگی آگ ، آرام کررہے 16 بزرگوں کی موت ، آگ لگنے کی وجہ نہیں ہوسکی معلوم
انڈونیشیا کے شہر مناڈو میں ریٹائرمنٹ ہوم کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی پولیس کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے 16 افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی سولاویسی صوبے کے دارالحکومت مناڈو میں واقع ویرادھا دمائی ریٹائرمنٹ ہوم میں اتوار کی رات اچانک لگی آگے نے لوگوں کا سب کچھ چھین لیا ۔ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز پہنچے تاہم اس وقت تک پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی میڈیا کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ آگ میں پھنسے بزرگ افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس افسر المسیاہ پی حسیبوان نے بتایا کہ رات گئے آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ مناڈو فائر ڈپارٹمنٹ کے چیف جمی روٹینسولو نے بتایا کہ تین معمر افراد جھلس گئے، جب کہ 12 دیگر افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آگ اس وقت لگی جب بزرگ رات کے کھانے کے بعد اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ متعدد مرنے والوں کی لاشیں ان کے کمروں سے ملی ہیں۔ واقعہ سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔

ژنہوا نے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں کو مناڈو سٹی ریجنل ہسپتال اور پرماتا بنڈا ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ حسیبوان نے کہا کہ پولیس کی فرانزک ٹیمیں جائے واردات کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ واقعات کی ترتیب اور آگ لگنے کی ابتدائی وجہ معلوم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ واقعے کے عینی شاہدین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...