Monday, 29 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ابو عبیدہ اور دیگر سینئر رہنما شہید،حماس کے مسلح ونگ نے کی تصدیق
فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ اور اس وقت کے غزہ چیف محمد سنوار رواں سال کے آغاز میں اسرائیل کی جنگ کے دوران شہیدہو گئے تھے۔القسام بریگیڈز کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ رفح بریگیڈ کے سربراہ محمدشعبانہ، اور تنظیم کے دو دیگر سینئر رہنما حکام العیسیٰ اور رائد سعد بھی شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے محمد سنوار کو شہید کر دیا ہے، جو سابق حماس سربراہ یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے تین ماہ بعد اسرائیل نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ابو عبیدہ کو بھی شہید کردیا ہے۔ حماس نے اس بیان میں واضح کیا کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکہلوت تھا۔

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ابو عبیدہ غزہ میں حماس کی ایک اہم اور نمایاں آواز سمجھے جاتے تھے۔ وہ میدانِ جنگ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے، خصوصاً اس مختصر جنگ بندی کے دوران جسے اسرائیل نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

محمد سنوار اور ابو عبیدہ ان حماس رہنماؤں میں تازہ ترین ہیں ،جن کی ہلاکت کی اسرائیل نے گزشتہ دو برسوں میں تصدیق کی ہے۔ اس فہرست میں حماس کے کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما شامل ہیں، جن میں سابق سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار، عسکری کمانڈر محمد ضیف (جو 1990 کی دہائی میں القسام بریگیڈز کے بانیوں میں شامل تھے)، اور سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ بھی شامل ہیں، جنہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید کیا گیا تھا۔











جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیش کی ’جین زی‘ پارٹی کے اندر پھوٹ پڑ گئی
بنگلہ دیش کی نئی سیاسی جماعت ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ کو اگلے عام انتخابات سے قبل اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کو احتجاجی تحریک سے ختم کرنے کا باعث بننے والی جنریشن زی کی سیاسی پارٹی کے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نے اس کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
گزشتہ برس 2024 میں احتجاجی تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کے کم از کم 30 رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور مخالفت کی۔اس اتحاد کا اعلان اتوار کو کیا گیا تھا جس کے بعد نیشنل سٹیزن پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے احتجاجا استعفے بھی دے دیے۔
بنگلہ دیش کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اور ملک میں اگلے سال 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔
انتخابی اتحاد سے قبل کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پہلے نمبر پر تھی۔
اوپینیئن پولز کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔
ڈھاکہ کے ایک ماہر تعلیم ایچ ایم ناظم العالم نے اس حوالے سے کہا کہ ’نئی پارٹی نے خود کو روایتی طاقت کے ڈھانچے کے متبادل کے طور پر نوجوان قیادت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پیش کیا۔ یہ شناخت اب شدید دباؤ میں ہے۔‘
ناظم العالم کے مطابق ’نوجوانوں کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں صرف اس وجہ سے نہیں ٹوٹتیں کہ وہ الیکشن ہار جاتی ہیں، وہ اس وقت ٹوٹ جاتی ہیں جب وہ واضح اور اندرونی اتحاد کھو بیٹھتی ہیں۔‘’بڑے اتحاد کے لیے انتخابی اتحاد‘
نئی پارٹی کی تشکیل رواں سال کے آغاز میں احتجاجی تحریک میں شامل رہنماؤں نے کی تھی۔ تحریک نے اگست 2024 میں طویل عرصے سے وزیراعظم کے طور پر موجود شیخ حسینہ واجد کو بے دخل کر کے انہیں انڈیا فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔‘
نیشنل سٹیزن پارٹی میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں پیدا ہوئے اور جن کو جنریشن زی یا ’جین زی‘ پکارا جاتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قوم کو دہائیوں کی اقربا پروری اور حسینہ کی عوامی لیگ اور بی این پی کے تسلط سے نجات دلانا ہے۔
حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی کے باعث ووٹ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔
جماعت اسلامی اپنی حریف دونوں جماعتوں سے بہت پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ سنہ 2013 کے بعد سے پابندی کے باعث اُس نے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اُن کے 32 سالہ رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد جماعت کو اگلے الیکشن میں دیگر پارٹیوں کے ہم پلہ رکھنے کے لیے انتخابی اتحاد ضروری تھا۔
ان کے مطابق بعض قوتیں انتخابی عمل کو تشدد کے ذریعے ’ڈیل ری‘ کرنا چاہتی ہیں ایسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔
’ہم نے جس ڈکٹیٹرشپ کو اقتدار سے ہٹایا وہ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ایک بڑے اتحاد کے لیے ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پارٹی کے اندر اکثریتی فیصلہ تھا لیکن اس کی ممکنہ طور پر کچھ مخالفت ہوگی اور ایسے لوگ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔‘















خواتین میں دل کی بیماری کی غیرمعمولی علامات کون سی ہیں؟
دل کی بیماری دنیا بھر میں موت کی بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2022 میں قلبی امراض سے تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ اموات ہوئیں، جو کل اموات کا 32 فیصد ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بیماری مردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں 6 کروڑ سے زائد خواتین کسی نہ کسی قسم کی دل کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ یہ خواتین میں موت کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔
خواتین میں علامات مردوں سے مختلف ہوتی ہیں، اس لیے انہیں پہچاننا ضروری ہے۔ یہاں 6 غیر معمولی علامات بیان کی جا رہی ہیں۔1. بلا وجہ تھکن
مسلسل تھکن جو آرام کے بعد بھی ختم نہ ہو، دل کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ دل کے پٹھوں میں خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور عام طور پر بڑے دل کے دورے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔
2. جبڑے یا گردن میں درد
جبڑے، گردن یا کندھوں میں درد کو اکثر دانتوں یا تناؤ کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ دل پر دباؤ کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر دباؤ یا جسمانی مشقت کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔
3. سانس لینے میں دشواری
اچانک سانس پھولنا، خاص طور پر لیٹنے پر یا بغیر مشقت کے، دل کی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور ای سی جی کروا کر فوری علاج ضروری ہے۔
4. متلی یا بدہضمی
بار بار متلی، قے یا معدے کی خرابی دل کی بیماری سے جڑی ہو سکتی ہے۔ یہ دل کے کمزور پمپنگ سے خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
5. ہاتھوں یا ٹانگوں میں سوجن
ٹخنوں یا پیروں میں سوجن، جسے اوڈیما کہا جاتا ہے، دل کی کمزور پمپنگ سے پانی جمع ہونے کی علامت ہے۔ یہ دن کے آخر میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
6. غیر معمولی پسینہ یا چکر آنا
اچانک ٹھنڈے پسینے آنا یا چکر آنا دل کی بیماری کی نشانی ہو سکتی ہے، کیونکہ خون کا دباؤ کم ہونے سے دماغ متاثر ہوتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...