Saturday, 27 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





آسام میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ شائع، 4.80 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے
گوہاٹی: آسام میں انتخابی ماحول زور پکڑنے لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہفتہ 27 دسمبر کو ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع کیا۔ اس عمل میں 478,992 فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کی شناخت کی گئی اور مناسب تصدیق کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔ حکام کے مطابق، مسودہ فہرست میں ریاست بھر میں کل 25,202,775 ووٹرز شامل ہیں، جن میں 12,572,583 مرد ووٹر، 12,628,662 خواتین ووٹرز اور 379 ووٹر "دیگر" زمرہ میں شامل ہیں۔

آسام میں نئے سال کے شروع میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی میں گھر گھر ووٹروں کی تصدیق اور مسودہ ووٹر لسٹ کی تیاری شامل تھی، جس میں 478,992 ووٹروں کے ناموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

مسودہ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد، ووٹر اب 22 جنوری 2026 تک دعوے اور اعتراضات دائر کر سکتے ہیں۔ نئے ووٹرز کو شامل کرنے، نام، عمر اور پتہ جیسی ذاتی معلومات میں ترمیم کرنے یا نام حذف کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ الیکشن حکام نے بتایا کہ تمام دعوؤں اور اعتراضات پر کارروائی کے بعد حتمی ووٹر لسٹ 10 فروری 2026 کو شائع کی جائے گی۔

2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے ایک حصے کے طور پر ہفتہ کو آسام کے لیے ایک مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی گئی تھی، جس سے ووٹرز کو اپنی معلومات کی تصدیق اور اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ووٹرز کو تفصیلات چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا

رائے دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل کسی بھی غلطی سے بچنے کے لیے ڈرافٹ رول میں اپنی تفصیلات چیک کریں۔ مسودہ ووٹر لسٹ آسام کے چیف الیکٹورل آفیسر کی سرکاری ویب سائٹ cecassam.nic.in پر دستیاب ہے۔

آسام میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی 22 نومبر کو شروع ہوئی۔ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او) 20 دسمبر تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کی۔ آسام میں اسمبلی کی کل 126 نشستیں ہیں۔ خصوصی نظر ثانی شروع ہونے سے پہلے، ریاست میں ووٹروں کی کل تعداد 25.2 ملین سے زیادہ تھی۔











اجیت پوارکے ساتھ میٹنگ میں نہیں بنی بات، چچا-بھتیجے رہیں گے الگ، شرد پوارکی این سی پی واپس مہا وکاس اگھاڑی کے پاس لوٹی
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارکے ساتھ بات نہیں بنی توشرد پوارکی این سی پی واپس مہا وکاس اگھاڑی کے پاس لوٹ آئی ہے۔ میٹنگ میں سیٹوں کی تقسیم اورانتخابی نشان سے متعلق اجیت پوارکے ساتھ تنازعہ کے بعد شرد پوارکی این سی پی نے مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ دوبارہ میٹنگ کی۔ پنے کے شانتائی ہوٹل میں کانگریس، ادھوٹھاکرے کی شیوسینا اورشرد پوارکی این سی پی کی مشترکہ میٹنگ ہورہی ہے۔ اس میٹنگ میں شرد پوارکی این سی پی کے وشال تانبے، انکش کاکڑے، منالی بھلارے، اشونی کدم اورایم ایل اے باپوصاحب پٹھارے موجود ہیں۔ جبکہ کانگریس سے اروند شندے، ابھے چھاجیڑ، رمیش باگوے موجود ہیں۔ وہیں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے وسنت مورے، گجانن تھرکڈے اورسنجے مورے موجود ہیں۔

دراصل، جمعہ کے روزدوپہرشرد پوارکی این سی پی اوراجیت پوارکے درمیان میٹنگ ہوئی۔ ایسی اطلاع ہے کہ اس میٹنگ میں اجیت پوارکی این سی پی نے شرد پوارکی پارٹی کو صرف 35 سیٹیں دینے کی تجویزرکھی۔ اجیت پوارکی پارٹی نے ان 35 سیٹوں پر’گھڑی‘ کے نشان پرالیکشن لڑنے کی شرط بھی رکھی تھی۔ چونکہ یہ دونوں تجویزشرد پوارکی این سی پی کومنظورنہیں تھا، اس لئے انہوں نے فوراً اس میٹنگ سے واک آوٹ کردیا اورآج مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ میٹنگ شروع کردی ہے۔

این سی پی (ایس پی) لیڈرسے کی تھی ملاقات

بی ایم سی الیکشن سے پہلے مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارنے جمعہ کے روزپمپری-چنچوڑمیں این سی پی (ایس پی) لیڈراعظم پانسرے سے ملاقات کی تھی۔ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پانسرے نے کہا کہ این سی پی (ایس پی) اجیت پوارکے گروپ کے ساتھ میٹنگ کرنا چاہتی ہے۔ اجیت پوارمجھ سے بہت وقت بعد ملنے آئے۔ ہم نے اہم موضوعات پرکوئی تبادلہ خیال کیا۔ ہم (این سی پی-ایس پی کے درمیان) اتحاد کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجیت پوارنے بات چیت میں مجھ سے کہا کہ اس سے متعلق جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ یہ این سی پی (ایس پی) رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کے ممکنہ اتحاد کا اشارہ دینے کے کچھ دنوں بعد ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی اجیت پوارسے بات چیت کی اورپارٹی کے سینئرلیڈران نے ایک دوسرے سے بات کی۔ اگلے ماہ میونسپل کارپوریشن الیکشن کے لئے 15 جنوری کوووٹنگ ہوئی ہے اورنتائج 16 جنوری کوسامنے آئیں گے۔ اس لئے الگ الگ پارٹیاں الگ الگ اتحاد بنانے سے متعلق کام کررہی ہیں۔













پشاور میں سکندر اعظم کے دور کی ورکشاپ دریافت
پاکستان میں بدھ مت دور کے آثار قدیمہ تو بہت دریافت ہوئے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انڈو گریک یعنی یونانی دور کے آثار پشاور میں دریافت ہوئے ہیں۔ ان آثار میں لوہے کی ورکشاپس یا لوہاروں کی بھٹیاں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ آثار قدیمہ کوئی 2200 سال قدیم ہیں جو چار سو سال پر محیط تین بڑے ادوار سے ہیں۔

حیران کن طور پر یہ دریافت خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی جدید اور بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں ہوئی ہے۔ ماضی میں ہندوستان سے پاکستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشا تک تجارت کا ایک بڑا راستہ پشاور سے طورخم کا راستہ تھا اور یہ ورکشاپس اسی راستے کے قریب دریافت ہوئی ہیں ۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی کے پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ حیات آباد کی جدید آبادی کے بیچوں بیچ یہ بہت بڑی دریافت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انھیں ایسا لگا کہ یہ بھی بدھ مت کے ہی کوئی آثار قدیمہ ہیں لیکن کھدائی کے دوران انھیں جو سکے اور برتن ملے، ان پر کندہ کیے گئے نشانات سے معلوم ہوا کے یہ یونانی دور کے آثار ہیں۔پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ یہاں لوہا پگھلانے والی بھٹیاں اور پھر لوہے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جگہیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ اس مقام پر ایک نہیں بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی ورکشاپس دریافت ہوئی ہیں جو ساتھ ساتھ ہی واقع ہیں۔

ان ورکشاپس کے ساتھ کچن اور کچھ برتن بھی ملے ہیں جن پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

یہ دریافت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ماہرین کے مطابق یہاں سے ملنے والی اشیاء سے لگتا ہے کہ چونکہ اسی راستے سے افغانستان، وسط ایشیاء، ایران اور یونان سے قافلے آئے اور یہاں جنگیں لڑی گئیں اور یہاں ہی انھوں نے حکومتیں کی ہیں اس لیے اس جگہ سے تین مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں۔ان میں وسط ایشیائی، یونانی اور کوشان دور کے آثار پائے جاتے ہیں اور یہ انتہائی نادر آثار ہیں جن پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ کوشان وہ لوگ تھے جو ایران کے راستے ہندوستان اور اس علاقے میں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق اگرچہ اس علاقے میں سنہ 2007 میں بھی کھدائی کی گئی تھی جب نکاسی آب کے لیے یہاں نالا بنایا جا رہا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2017 میں کچھ لوگ یونیورسٹی میں ان کے دفتر آئے اور کچھ سکے اور برتن دکھائے کہ یہ انھیں حیات آباد میں کھدائی کے دوران ملے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس پر کام شروع کر دیا گیا تھا اور ابتدا میں تو ایسا لگا جیسے صوبے کے دیگر علاقوں میں بدھ مت کے آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں یہ بھی ویسے ہی ہے لیکن کھدائی کے دوران ایسے آثار دریافت ہوئے ہیں جو کوئی 2200 سال قدیم ہیں اور اس دور کے ہیں جب یونان سے حملہ آور یہاں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق جس مقام سے یہ آثار دریافت ہوئے ہیں ادھر سے دائیں جانب کچھ گڑھی کی جانب مزید آثار ہو سکتے ہیں جبکہ بیشتر آثار جدید عمارات کی وجہ سے ختم ہو چکے ہوں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...