Thursday, 8 May 2025

*🔴سیف نیوز اردو*

چائے پینے کے شوقین افراد کس وقت یہ مشروب پیئں؟ ڈاکٹر نے بتادیا
اکثر لوگ کھانے کے بعد چائے پینے کی عادت میں مبتلا ہیں مگر کس وقت چائے پینا انسانی صحت کےلیے بہتر رہتا ہے ڈاکٹرز نے بتادیا۔

پاکستان ایک ایسا ملک میں جہاں چائے کافی زیادہ استعمال کی جاتی ہے، ناشتے کے بعد تو لازمی اکثر خواتین و حضرات چائے پیتے ہیں بلکہ شاید چائے کے بنا ان کا ناشتہ ادھورا ہوتا ہے، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ چائے اچھی چیز ہے جب یہ شوگر فری ہو اور اسے خالی پیٹ نہ پیا جائے۔

ڈاکٹر مدیحہ حسنین نے اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چائے اچھی چیز ہے اور اسے پینا چاہیے اس میں فلیمونائیڈز ہوتے ہیں لیکن کھانے کے ساتھ یا کھانے کے فوراً بعد چائے پینا درست نہیں۔انھوں نے بتایا کہ جسم میں جو کھانا جاتا ہے، اس کھانے میں جو غذائیت اور نیوٹرینٹہ ہوتے ہیں چائے انھیں جسم میں جذب نہیں ہونے دیتی۔
ڈاکٹر مدیحہ نے کہا کہ چائے جتنی زیادہ پکی ہوتی ہے وہ اتنی بھاری ہوتی ہے، آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ناشتہ کرنے کے بعد اگر ہلکی بھوک بھی ہو تو وہ چائے پینے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔

چائے پینے کا صحیح وقت بتاتے ہوئے ڈاکٹر مدیحہ نے کہا کہ کھانے کے بعد 20 سے 50 منٹ تک رک کر چائے پیئں اور خالی پیٹ چائے نہ پیئں کیوں کہ خالی پیٹ یا بیڈ ٹی پینا ایسا ہے کہ جیسے آپ اپنے پیٹ کو جلارہے ہیں کیوں کہ چائے میں ایسڈز ہوتے ہیں۔








ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے کراچی کی پُرعزم بیٹی کا بڑا کارنامہ
گرمیوں کا طویل ہو جانا اور سردیوں کا تاخیر سے آنا یہ مسائل ماحولیاتی بحران کے ہیں، شہر میں درختوں کی کمی کے باعث ماحولیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ان بنیادی مسائل کے حل کیلیے کراچی کی پُرعزم بیٹی عروسہ خلیل نے تن تنہا شہر قائد کو سرسبز و شاداب بنانے کا بیڑا اٹھا لیا۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عروسہ خلیل نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے شہر کے موسم کو بہتر کرنا ہے تو اس کیلیے سائبان (درخت) لگانا ہوں گے۔اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کیلیے کراچی کی عروسہ خلیل نے ایک خاص مشن اپنا رکھا ہے۔ وہ بچوں میں پودے تقسیم کرکے نہ صرف انہیں سبزہ اگانے کی ترغیب دے رہی ہیں بلکہ ان میں ماحول سے محبت کا جذبہ بھی جگا رہی ہیں۔

عروسہ روزانہ درجنوں پودے لے کر شہر کے مختلف مقامات کا رخ کرتی ہیں، لیکن یہ پودے وہ فروخت نہیں کرتیں بلکہ بلا معاوضہ بچوں کو تحفے میں دیتی ہیں۔

عروسہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو کم عمری سے درخت لگانے کی عادت ڈالنا بےحد ضروری ہے۔ کراچی کی یہ باہمت خاتون عروسہ بچوں کو صرف پودے ہی نہیں دے رہی بلکہ ان کی دیکھ بھال کا طریقہ بھی سکھا رہی ہیں۔اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا آغاز
علاوہ ازیں آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی ہدایت پر ڈپلومیٹک انکلیو میں شجرکاری مہم کا آغاز، نِفٹی اسفیئر انسٹیٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائنگ کے طلبا نے شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لیا، شجر کاری مہم میں حصے لینے والے طلبا کوسیکیورٹی ڈویژن خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ایس ایس پی سیکیورٹی محمد سرفراز ورک نے شجرکاری مہم پرطلبا کے کردار کو سراہا، طلبا کو تعریفی اسناد سے نوازا، انہوں نے کہا کہ درخت پاکستان کے بدلتے موسم، ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کیلئے اہم ہیں۔








جب اقبال کو اپنے الفاظ میں تکبر محسوس ہوا….
آغا شورش اور عبدالمجید سالک اردو ادب اور صحافت کی دو ممتاز اور نہایت بلند پایہ شخصیات ہیں جنھیں شاعری، نثر، صحافت اور تقریر و خطابت میں کمال حاصل تھا۔ شورش نے سالک صاحب پر اپنی ایک تحریر میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال کا ایک واقعہ نقل کیا جو انھیں سالک مرحوم نے سنایا تھا۔

شورش لکھتے ہیں: ہر شخص کا اندازہ اس کے دوستوں سے کیا جاتا ہے۔ سالک صاحب اوائل عمر ہی سے جن لوگوں کے ساتھ رہے وہ قلم کے لیے مایۂ ناز تھے، اقبال، ابوالکلام، ظفر علی خاں، حسرت موہانی، ممتاز علی۔ جس پایہ کے لوگ تھے وہ ان کے نام اور کام سے ظاہر ہے۔ ہم سفروں میں انھیں مہر جیسا رفیق قلم ملا۔ ہم نشینوں میں چراغ حسن حسرت، مرتضی احمد میکش، احمد شاہ بخاری، محمد دین تاثیر۔ شاگردوں میں احمد ندیم قاسمی اور اولاد میں عبدالسلام خورشید۔ کیا کیا باتیں ان کے سینہ میں نہیں تھیں؟ کتنی ہی باتیں ان کے قلم سے صفحہ و کاغذ پر آگئیں، کتنی ہی لوگوں کے حافظہ میں بے تحریر پڑی ہیں اور کتنی ہی ناگفتنی ہونے کے باعث محفلوں میں اڑتی پھرتی ہیں۔ اکثر گفتنی و نا گفتنی وہ اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔شورش لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں اقبال انار کلی میں رہتے تھے، ان دنوں لاہوری دروازہ اور پرانی انار کلی میں بھی کسبیوں کے مکان تھے۔ ایک دن میں علامہ کے ہمراہ انار کلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک وہ ایک ٹکیائی کے دروازہ پر رک گئے۔ ادھیڑ عمر کی کالی کلوٹی عورت، مونڈھے پر بیٹھی حقہ سلگا رہی تھی۔ اندر گئے حقہ کا کش لگایا، اٹھنی یا روپیہ اس کے ہاتھ میں دے کر آگئے۔ میں بھونچکا رہ گیا، ڈاکٹر صاحب یہ کیا حرکت؟فرمایا، سالک صاحب، اس عورت پر نگاہ پڑی تو اس کی شکل دیکھ کر لہر سی اٹھی کہ اس کے پاس کون آتا ہوگا؟ پھر مجھے اپنے الفاظ میں تکبر محسوس ہوا۔ میں نے خیال کیا کہ آخر اس کے پہلو میں بھی دل ہوگا۔ یہی احساس مجھے اس کے پاس لے گیا کہ اپنے نفس کو سزا دے سکوں اور اس کی دل جوئی کروں۔ یہ عورت صرف پیٹ کی مار کے باعث یہاں بیٹھی ہے ورنہ اس میں جسم کے عیش کی ادنیٰ سی علامت بھی نہیں ہے۔‘‘

سالک صاحب نے علامہ اقبال کے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، عمر کی آخری تہائی میں وہ ہرچیز سے دستبردار ہوگئے تھے۔ ان کے قلب کا یہ حال تھا کہ آن واحد میں بے اختیار ہو کر رونے لگتے۔

🛑 *سیف نیوز بلاگر*

حوثی باغیوں کا پھر سعودی عرب پر حملہ، ارامکو کو بیلسٹک میزائلوں سے بنایا نشانہ، پیٹریاٹ اور تھاڈ ناکا م یمن کے حوثی باغیوں نے دع...