آپریشن سندور: پونچھ میں پاکستانی گولہ باری میں فوجی شہید، ہریانہ کا رہنے والا تھا فوجی جوان
جموں: ہندوستانی فوج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں 'آپریشن سندور' کے تحت میزائل حملے کرکے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔ اس سے مایوس ہو کر پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پونچھ میں فائرنگ کی۔ پاکستانی فوجیوں کی گولہ باری میں بھارتی فوج کا ایک سپاہی شہید ہوگیا۔ حالانکہ صبح کے وقت وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ بہت کوشش کے باوجود اسے بچایا نہیں جا سکا۔
ہندوستانی فوج نے دی جانکاری
پاکستانی فوجیوں کی گولہ باری میں ہریانہ کے پلوال ضلع کا رہنے والا لانس نائک دنیش کمار زخمی ہوگیا۔ زخمی فوجی کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ہندوستانی فوج نے اس واقعہ کی جانکاری دی۔ شہید فوجی ہریانہ کے ضلع پلوال کا رہنے والا تھا۔ شہید کا جسد خاکی جمعرات کو ان کے آبائی گاؤں پلوال روانہ کیا جائے گا۔ جہاں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ایل او سی کے قریب پاکستانی گولہ باری
آپریشن سندور کی وجہ سے پریشان پاکستانی فوج نے بارہمولہ اور کپواڑہ کے آگے کے دیہاتوں کے علاوہ جموں کے علاقے پونچھ اور راجوری پر گولہ باری اور مارٹر حملے شروع کیے۔ جس میں 12 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔
آپ کو بتا دیں کہ 22 اپریل 2025 کو جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے جواب میں بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا۔
شہید کا جسد خاکی جمعرات کو ان کے آبائی گاؤں پلوال روانہ کیا جائے گا، جہاں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
سرحدی دیہات خالی کرا لیے گئےہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، جموں اور کشمیر کے سانبا ضلع میں ضلع انتظامیہ نے بدھ کی شام کو سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے، کھائی کے علاقے سے آگے کے تمام سرحدی دیہات کو خالی کرا لیا۔ انتظامیہ نے شام 4 بجے کے قریب ایک اعلان کیا اور گاؤں والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صبح کی دھوپ کس بیماری کا بہترین علاج ہے؟ تحقیق میں اہم انکشاف
جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کیلیے صبح کی دھوپ سے بہتر کوئی قدرتی ذریعہ نہیں، لیکن اس کے مزید فوائد بھی ہیں لیکن کیا آپ ان سے واقف ہیں؟
زیرنظر مضمون میں صبح کی دھوپ اور اس کے زبردست فوائد اور اسے حاصل کرنے کے طریقوں سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے، جس پر عمل کرکے آپ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
ہر شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وٹامن ڈی ہمارے جسم کے لیے ضروری ہے اور اس وٹامن کے حصول کا بہترین ذریعہ سورج ہے اگر صبح سویرے کی پہلی دھوپ میں ٹہلا جائے تو یہ سب سے بہترین ذریعہ ہے، لیکن آج کی تیز رفتار زندگی میں لوگوں کو صبح کی دھوپ میں ٹہلنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا اور یہ بات ہمارے جسم پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔اس حوالے سے بھارتی ڈاکٹر دیویا گپتا کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھتا ہے، وزن کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے، اعصابی نظام کے لیے بھی کافی مفید ہے اور دماغی الجھن سے نجات دلاتا ہے۔
جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت سورج کی 20 منٹ کی روشنی لینا بہتر ہے، صبح کی دھوپ لینے سے آپ خود کو الرٹ اور تازہ دم محسوس کریں گے۔
اکثر لوگوں کو نیند پوری کرکے صبح جاگنے کے باوجود بے چینی، تھکاوٹ اور غنودگی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے؟ ایسے میں اگر سورج کی شعاعوں کا سامنا کیا جائے تو اس سے آپ کا موڈ بھی ٹھیک ہوگا اور آپ اپنے اندر توانائی بھی محسوس کریں گے۔وٹامن ڈی سے ہمارے جسم کو پہنچنے والے بہت سے فوائد میں سے ایک ہماری ہڈیوں کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے، چونکہ وٹامن ڈی ہماری آنتوں کے خلیوں میں جمع ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے کیلشیم کی مقدار کو بہتر طریقے سے جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیاں صحت مند اور مضبوط ہوتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق سورج سے حاصل ہونے والا وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم اور فاسفیٹ کے ہاضمے کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے جو کہ ہڈیوں، دانتوں اور پٹھوں کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں مزید مدد کرتا ہے۔
آئی فون صارفین کیلئے بڑی خبر : ایپل نے نئی حکمت عملی اختیار کرلی
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنے آئی فون صارفین کو متوجہ کرنے کیلیے نئے آئی فونز کو متعارف کرانے کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کررہی ہے۔
آئی فون متعارف کرانے کا روایتی انداز اب پرانا ہوجائے گا کیونکہ ایپل کمپنی آئندہ سال 2026سے آئی فونز کو دو مرحلوں میں متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے 2026 سے نئے آئی فونز متعارف کرانے کے سلسلے کو 2 مراحل میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔کمپنی کے اس اقدام کا مقصد آئی فون صارفین کی آسانی کے ساتھ مارکیٹ میں اپنا تسلسل قائم رکھنا، منافع کو متوازن کرنا اور جغرافیائی انحصار کو کم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 سیریز کے ماڈلز کو 2 مراحل میں متعارف کرایا جائے گا اور ہر مرحلے کے درمیان 6 ماہ کا وقفہ ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے پہلے آئی فون 18 سیریز کے پرو ماڈلز کو معمول کے مطابق ستمبر میں متعارف کرایا جائے گا جبکہ سستے آئی فون 18 ماڈلز 2027 کے موسم بہار میں پیش کئے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ پرو ماڈلز کے ساتھ 2026 میں ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو بھی متعارف کرایا جاسکتا ہے۔اسی طرح ایپل کی جانب سے رواں سال سب سے پتلے آئی فون 17 ایئر کو بھی متعارف کرایا جائے گا۔نئی رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے آئی فون 17 ایئر کے نئے ماڈل کو 2026 میں بھی پیش کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ کمپنی سستے آئی فونز کی پروڈکشن بھارت منتقل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ چین پر انحصار کم ہو سکے اور امریکی ٹیرف کے اثرات سے بچا جا سکے۔