محفلِ طنز و مزاح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مورخہ 6 مٸ 25ٕ بروزمنگل شب دس بجکر دس منٹ پراسکس لاٸبریری کے زیرِ انتظام زندہ دلانِ مالیگاٶں اور مالیگاٶں آرٹس وکلچرل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے محفل طنز و مزاح کی صدارت محترم لیٸق انور صاحب نے فرماٸ۔جبکہ نظامت کے فراٸض رضوان ربانی انجام دے رھے تھے۔ابتدإ میں محترم سراج دلار صاحب نے اسٹارٹر میں دلچسپ ادبی چٹکلے پیش کۓ نیز موصوف نے ہی تبرکاً نامور محقق ونقاد،شاعر و ادیب مرحوم الیاس صدیقی صاحب کے فن وشخصیت پر بڑے دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی۔
ھزل گوٸ میں طنز و مزاح کے کہنہ مشق شاعر محترم مشتاق یوسفی نے اپنے مزاحیہ کلام سے سماں باندھ دیا۔آصف سبحانی نے”دگانہ“ کے عنوان سے اپنا انشاٸیہ پیش کیا۔جبکہ نۓ ابھرتے طنزو مزاح نگار مومن آصف ھارون بی اے نے اپنا دلچسپ طنزو مزاح سے بھرپور مضمون” بس کرو پھپّھا“ پیش کرکے محفل کو زعفران زار کر دیا۔اور خوب دادوتحسین بٹوری۔بعدہٗ ڈاکٹر سعید فارانی صاحب نےمنتظمینِ محفل اور قلمکاروں کی حوصلہ افزاٸ کی۔ صدر تقریب لٸیق انور صاحب نے بھی بڑے پر مغز انداز میں منتظمین کی ستاٸش کی اور پروگرام کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ آخر میں عبدالماجد کے شکریہ کے ساتھ اس قہقہہ بردوش اور کامیاب پروگرام کا اختتام ہوا۔
*رشتہ ازدواج سے منسلک نئے جوڑوں کے لیے ایسا ہوسکتا ہے؟*
✍🏻 *حافظ محمد غفــــــران اشرفی*
*(جنرل سکریٹری سنّی جمعیة العوام)*
📱 *[7020961779 /Malegaon]*
نوجوانوں کے نکاح کے بعد کسمسائے ہوئے حالات اور گھر کے بزرگ سرپرستوں کے مزاج کی کڑواہٹ نیز معاشرہ کے لوگوں کی تنگ ذہنیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا شادیوں میں دعوت ولیمہ اور دعوت طعام کرنا ضروری ہے؟کھانے کی دعوت نا کرتے ہوئے ان روپیوں سے نئے رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے جوڑوں کا حسب ضرورت رہائش کا انتظام کردیں تو ہمارے لیے معاشرہ میں کیا دقت پیش آئے گی؟جب کہ نکاح کے بعد دعوت ولیمہ سنت ہے وہ بھی حسب حیثیت یعنی صاحب خانہ کی جتنی مالی حیثیت ہو وہ اتنے ہی لوگوں کی دعوت کرے چادر سے زیادہ پاوں پسارنے یعنی سود پر قرض لینے یا کسی کے سامنے بیٹا بیٹی کی شادی کے انتظامات کے لیے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں۔محض رضائے الہی کی خاطر اور اپنی دینی و معاشرتی ذمہ داری جان کر لوگوں کی اطلاع کی غرض سے سادگی کے ساتھ نکاح کردیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کھانے پر صٙرف ہونے والا پیسہ بچ جائے تاکہ ان باقی پیسوں سے نئے جوڑے کے لیے ہم حالات کی مناسبت سے کمرہ تیار کرسکیں۔سادگی کے ساتھ بغیر کھانے والے نکاح کے سلسلے میں ایک روایت درج کی جاتی ہے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: اَعْلِنُوْا ہٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوْہٗ فِیْ الْمَسَاجِدِ یعنی نکاح کا اعلان کرو، اسے مساجدمیں منعقد کرو۔(ترمذی،ج2،ص347،حديث:1091) حضرت مفتی احمدیار خان علیہ الرحمہ اس کے تحت فرماتے ہیں: فقہا فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تاکہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہوجائے نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کے لئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزوں ہے۔(مراٰۃالمناجیح،ج 5،ص39)یہاں جس اہم عنوان پر آپ قارئین کی توجہ مبذول کرانا ہے وہ نکاح کے بعد نو بیاہتا کی نئی ازدواجی زندگی سے متعلق ہے۔نکاح ہونے کے بعد اکثر نو بیاہتا جوڑوں کو جو مسائل در پیش ہوتے ہیں ان میں سے ایک چیز کا تذکرہ کرتا ہوں اور فیصلہ معاشرہ کے آپ جیسے سنجیدہ سرپرست حضرات کی تجربہ شدہ زندگی پر چھوڑتا ہوں۔
یہ دور نوجوانوں کے جذبات اور نفسانی خواہشات کو صنف نازک کی عریاں تصاویر کے ذریعہ ہیجان دلانے والا دور ہے۔خاص طور پر سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعہ اس دور کا نوجوان بہت جلد نکاح کے لیے جسمانی و نفسانی دونوں اعتبار سے تیار ہوجاتا ہے۔اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ جلد یا بدیر ان کا نکاح ہوجاتا ہے۔مگر دوسرے شہروں کی بنسبت ہمارے شہر میں جوائنٹ فیمیلی کا رواج ہے یعنی ایک ہی چھت کے نیچے کئی کئی فیمیلی گزر بسر کرتی ہے اور ہر کسی کے غسل کے لیے حمام(باتھ روم)ایک ہی ہوتا ہے۔اس جوائنٹ فیمیلی والے گھر میں نو بیاہتا جوڑے کی نفسیات اور ان کے ذاتی معاملات جو میاں بیوی کے درمیان ہوتے ہیں کچھ لوگوں کو چاہ کر بھی خواہشات کو دبالینا پڑتا ہے۔اور بہت سے نئے جوڑے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی نفسانی خواہشات کو دبا نہیں پاتے اور جوانی کے جذبات میں مباشرت کے مراحل سے گزر تو جاتے ہیں پھر جب مرحلہ غسل کا ہوتا ہے تو بے چارے شرم کے مارے غسل نہیں کرتے کہ اگر آدھی رات کے وقت یا پھر دن طلوع ہونے کے بعد میاں بیوی دونوں ایک ہی دن میں غسل کریں گے تو گھر میں بڑے لوگ ہیں وہ کیا بولیں گے اور چھوٹے افراد ہیں وہ کیا سوچیں گے۔اس لیے رشتہ ازدواج سے منسلک اکثر نئے جوڑے کئی کئی دن تک اسی ناپاکی کی حالت میں گزار دیتے ہیں۔جس سے ان کے اپنے جسم پر ناپاکی کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ساتھ ہی نمازوں کے قضا ہونے اور ناپاکی میں رہنے کی وجہ سے جو گناہ ہوتا ہے وہ الگ ہے۔
یہ بات تحریر کرنے کا میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر معاشرہ کے سنجیدہ سرپرست حضرات نکاح کے بعد کم و بیش لاکھوں روپئے یا تو واہ واہی بٹورنے کے لیے یا پھر دوسروں کا خیال کرتے ہوئے کھانے پر جو خرچ کرتے ہیں اگر ان کو بچالیں اور صرف گھر کے قریبی رشتے داروں کو بلا کر مختصر سا کھانا کردیں تو شاید گھر میں نئے جوڑے کے لیے حسب ضرورت ان کی نفسانی خواہشات اور شرمیلے مزاج کو سامنے رکھ کر اُن بچی ہوئی رقم سے رہائش کا الگ سے انتظام ہوجائے گا۔اس طرح سے وہ لوگ مکمل اپنی خوش حال زندگی بسر کرسکیں گے۔اور وہ طمانیت و سکون ان کے چہرہ پر نظر آئے گا جو کہ والدین اپنی اولاد کے چہرہ پر نکاح کے بعد دیکھنا چاہتے ہیں۔
سرکاری سطح پر بیرون ملک مفت روزگار
سعودی عرب میں بن لادن کمپنی کے توسط سے یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی کے زیر اہتمام جنٹریٹر جے سی بی ارتھ موور مشین ہیوی کرین آپریٹر مکینک ڈیزل و آٹو میکنک ویلڈر ہیلپر جیسے نوکریوں کا مفت سنہری موقع یونیورسٹی کے ذریعے قلیل مدتی تربیتی کیمپ لگے گا کامیاب ہونے والوں کو مزید ٹریننگ دے کر اطمینان بخش طریقے سے مفت ملازمت ملے گی تنخواہ 80 ہزار سے ایک لاکھ ہوگی تمام کاغذات یونیورسٹی سرکاری سطح پر تیار کرے گی مالیگاؤں میں ان تمام ویکینسیز کے اہل بے شمار افراد ہیں لہذا ایسے افراد اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں اس تعلق سے ایک اہم میٹنگ بروز جمعہ شام پانچ بجے تاؤ پردیسی کی آفس سنگمیشور مین روڈ پر ایک اہم۔میٹنگ کا انعقاد کیا جارہا ہے متعلقہ افراد ضرور شرکت کریں اور ناموں کا اندراج کرائیں اس طرح کی اپیل شیخ عتیق سر نے کی ہے