*آبنائے ہرمز نہیں کھلا تو تیل کیلئے ترس جائے گی دنیا ... سعودی ارامکو کے سی ای او نے کیوں کہی یہ بات*
نئی دہلی : سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ایسے میں اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی تو عالمی توانائی کی منڈیوں کو مزید سپلائی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لندن میں منعقدہ انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ناصر نے کہا کہ معمول کے حالات میں تیل کے ذخائر مارکیٹ کو اچانک آنے والے جھٹکوں سے بچانے کا کام کرتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ ذخائر کافی کم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی نئے بحران کا اثر زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی معیشتوں کی جانب سے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ مختصر مدت کے لیے کچھ راحت ضرور دے سکتا ہے، لیکن اس سے عالمی توانائی کی منڈی میں طلب اور رسد کے بنیادی عدم توازن کا حل نہیں نکلے گا۔ ناصر کے مطابق، جب تک آبنائے ہرمز سے تیل اور ایندھن کی نقل و حرکت مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی اور مارکیٹ کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، تب تک خام تیل اور ریفائنڈ ایندھن کی منڈیوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
تیل کے ذخائر دوبارہ بھرنے میں لگ سکتے ہیں دو سال
آرامکو کے سربراہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھل جانے کے بعد بھی عالمی تیل کے ذخائر کو دوبارہ معمول کی سطح پر پہنچانے میں تقریباً دو سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ دباؤ صرف مختصر مدت تک محدود نہیں بلکہ درمیانی مدت تک بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں دنیا کی بڑی معیشتوں نے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے تقریباً 10 کروڑ بیرل ہنگامی تیل اور ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوئے علاقائی تنازع نے آبنائے ہرمز کو متاثر کیا تھا۔ اسے عالمی توانائی تجارت کا سب سے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی اور سمندری نقل و حمل کو لے کر خدشات بڑھ گئے تھے۔ تاہم، خلیجی خطے کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے برآمدات بحال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نتیجتاً خام تیل کی سپلائی تنازع سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے لگی ہے۔
سعودی آرامکو نے راس تنورہ سے برآمدات بڑھائیں
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (UAE) اور کویت نے تیل کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے اپنے ٹینکر بیڑوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ وہیں سعودی آرامکو نے راس تنورہ ٹرمینل سے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے اور حالیہ حملے کے بعد متاثر ہونے والی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کی صلاحیت بھی تقریباً 80 فیصد تک بحال کر دی ہے۔
اس کے باوجود مارکیٹ میں خطرے کا احساس برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرۂ احمر میں جاری سیکورٹی خطرات کے باعث تیل کی مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔
اسی وجہ سے بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ گزشتہ ایک ماہ سے تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس کاروبار کر رہا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اب بھی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹوں کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
*گیانیش کمار ڈرے ہوئے ہیں...‘، راہل گاندھی نے کہا: ہم ان سے ووٹ چوری پر سوال پوچھنا چاہتے ہیں*
نئی دہلی : ہندوستان کے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے دہلی میں احتجاجی مارچ نکالا۔ احتجاج کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس نے کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ دوسری جانب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پولیس کی جانب سے لگائی گئی بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور وہاں قومی پرچم لہراتے ہوئے نظر آئے۔
مظاہرے کے دوران انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کرنے کے الزامات عائد کیے۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کے لیے آئے تھے، لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوک سبھا کے ارکانِ پارلیمنٹ یہاں موجود تھے۔ ہم سی ای سی اور ان کے ماتحت افسران سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے ہمیں روک دیا۔‘‘
پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو الیکشن کمیشن کے ارکان سے ملاقات سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ ہم سی ای سی سے ملاقات کیوں نہیں کر سکتے۔ ہم جمہوری طور پر منتخب نمائندے ہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے گیانیش کمار کے طرزِ عمل پر براہِ راست سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’گیانیش کمار خوفزدہ ہیں۔ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘
’جمہوریت بچانے کے لیے یہاں کھڑا ہوں‘
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اگر سی ای سی جمہوری طور پر منتخب ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات نہیں کر سکتے تو پھر جمہوریت کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنما جمہوری اداروں کے دفاع کے لیے احتجاجی مقام پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں جمہوریت کو بچانے کے لیے یہاں کھڑا ہوں۔ تمام ارکانِ پارلیمنٹ جمہوریت کو بچانے کے لیے یہاں کھڑے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ موہن بھاگوت اور گیانیش کمار نے جمہوریت ختم کر دی ہے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی، امت شاہ اور آر ایس ایس کے سربراہ نے سی ای سی کی جانب سے کی گئی ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے ملک کو ’ہائی جیک‘ کر لیا ہے اور خبردار کیا کہ ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ذمہ دار افراد کو بالآخر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ایک بھی شخص بھاگ نہیں سکے گا۔ کوئی بھی بچ نہیں سکے گا۔ یہ ملک کے خلاف غداری ہے۔‘‘
کھٹی پھل: کھٹی پھل جیسے انگور، لیموں، اورنج وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، جو گردوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ گردے کی پتھری بھی نہیں بننے دیتا۔ آپ نیم گرم پانی میں لیموں کا رس نچوڑ لیں اور اسے خالی پیٹ پی لیں۔ یہ نظام انہضام اور پیشاب کی نالی سے زہریلے مادے اور غیر ہضم فضلہ کو ہٹانے اور صاف کرنے میں کافی حد تک مدد کرتا ہے۔