Sunday, 12 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


 
ایئر اٹیک کے دور میں بھارت کی بڑی جیت DRDO کا نیا سسٹم تیار
اکیسویں صدی میں جنگ کے طریقے بدل چکے ہیں۔ اس سے قبل، فوج نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا، جس میں فضائیہ اور بحریہ معاون افواج کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اب صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ فوج ایک معاون قوت بن گئی ہے، اور فضائیہ اور بحریہ نے اپنے کردار کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ اس کی مثال اسرائیل ایران اور روس یوکرین کے تنازعات سے دی جا سکتی ہے۔ بالاکوٹ فضائی حملے سے لے کر آپریشن سندور تک ایئر فورس نے جس بے مثال حوصلے کے ساتھ آپریشن کیا، اس سے فضائیہ کی طاقت اور کردار آسانی سے ظاہر ہوتا ہے۔

اب اس کا ایک اور پہلو بھی ہے: ممکنہ فضائی حملوں سے خود کو بچانے کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ بھارت بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ S-400 میزائل سسٹم کی کئی بلین ڈالر کی خریداری اور تعیناتی اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ دیسی آکاش میزائل سسٹم نے آپریشن سندور کے دوران اپنی افادیت ثابت کی۔ بھارت اب سدرشن چکرا ایئر ڈیفنس سسٹم تیار کرنے پر کام کر رہا ہے، جو ملک پر کسی بھی فضائی حملے کو ناکام بنا دے گا۔ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) نے اس سمت میں ایک اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔ DRDO نے آکاش میزائل سسٹم (Akash-NG) کے ایک نئے ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سے فائر کیے جانے والے میزائل ریڈارز کے لیے ناقابل شناخت ہوں گے، جس سے وہ پلک جھپکتے ہی اپنے اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ جلد ہی آپریشنل ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کی مقامی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانے والی ایک بڑی کامیابی میں، DRDO نے جون 2025 میں چاندی پور، اڈیشہ میں مربوط ٹیسٹ رینج (ITR) میں اگلی نسل کے آکاش-NG زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے صارف ٹرائلز کو کامیابی سے مکمل کیا۔ ڈرون، ریڈار کی روشنی کے بغیر، صرف الیکٹرو آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم (EOTS) کے استعمال سے۔ یہ ٹیسٹ (جس کی تفصیلات DRDO کے اکتوبر 2025 کے نیوز لیٹر میں شائع ہوئی تھیں) نے ہندوستانی دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کا نشان لگایا۔

ریڈار کے بغیر اسٹیلتھ آپریشنز اس بار، آکاش-این جی نے EOTS کے ذریعے ہدف کی شناخت اور رہنمائی دونوں حاصل کیے۔ اس نے کسی بھی فعال ریڈار سگنل کا استعمال نہیں کیا، دشمن کے ریڈار وارننگ ریسیورز (RWRs) کے ذریعے پتہ لگانے کے امکان کو عملی طور پر ختم کر دیا۔ یہ “غیر فعال رہنمائی موڈ” ہندوستان کو جنگی حالات میں فائدہ دیتا ہے جہاں تابکاری مخالف میزائل (ARMs) ایک خطرہ ہیں۔ ٹیسٹ میں، آکاش-این جی نے پہلے انٹیگریٹڈ ایئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (IACCS) سے ابتدائی ہدف کی معلومات حاصل کیں اور پھر خود بخود EOTS کے ذریعے ٹریکنگ اور انٹرسیپشن کے عمل کو مکمل کیا۔ چاندی پور کے ساحل پر کیے گئے اس ٹیسٹ میں، میزائل نے لائن آف ویژن (LOS) کے اندر انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔

میزائل نے مستحکم رہنمائی کو برقرار رکھا اور براہ راست تیز رفتار بنشی ڈرون کو نشانہ بنایا (ایک قابل عمل فضائی خطرے کی نقل)۔ ٹیسٹ کے بعد حاصل ہونے والے ٹیلی میٹری ڈیٹا نے تصدیق کی کہ میزائل اور EOTS دونوں نے کم سے کم غلطی کے ساتھ ٹریک کیا اور ہدف پر کلین ہٹ ریکارڈ کیا۔ یہ نظام ڈرون کے ساتھ ساتھ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹیسٹ کے نتائج نے ظاہر کیا کہ EOTS مختلف حالات میں روایتی ریڈار سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ آکاش-این جی سے فائر کیے گئے میزائلوں کا ریڈار کے لیے پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ تابکاری پر انحصار نہیں کرتا۔ ریڈار سسٹم تابکاری کی بنیاد پر کسی چیز کا پتہ لگاتا ہے اور اسے روکتا ہے۔

سے لیس آکاش- سسٹم اب 45 کلومیٹر تک کے اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بھارت کے Atmanirbhar Bharat پہل کے تحت دیسی دفاعی نظام کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر فعال رہنمائی ٹیکنالوجی مستقبل کے UAV swarms یا اسٹیلتھ ہوائی جہاز کے خطرات کا مقابلہ کرنے میں انتہائی موثر ثابت ہوگی۔ ڈی آر ڈی او کے مطابق، ای او ٹی ایس نہ صرف راڈار پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ میزائل سسٹم کو دشمن کی نگرانی اور الیکٹرانک حملوں سے بھی بچاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے ہندوستان کا فضائی دفاعی نظام نہ صرف زیادہ خاموش بلکہ زیادہ اسمارٹ اور خطرناک بھی ہو گیا ہے۔
حادثہ بنا خوش قسمتی! معمولی ایکسیڈنٹ سے برآمد ہوا کروڑوں کا خزانہ، جانئے پورا معاملہ
6 ستمبر کو، شام 6:30 بجے کے قریب، تین نقاب پوش افراد کرناٹک کے وجے پورہ ضلع کے چڈچن قصبے میں ایس بی آئی کی ایک شاخ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ملازمین کو یرغمال بنایا اور تقریباً 1 کروڑ روپے نقد اور 20 کلو سونا لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے چوروں کی بھر پور تلاش کی لیکن ان کا سراغ نہ مل سکا۔ انہوں نے ساری امیدیں چھوڑ دی تھیں، لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آئیے آپ کو پوری کہانی سناتے ہیں۔

چوری شدہ سونے کی مارکیٹ میں قیمت 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ اس میں شامل کل رقم 21 کروڑ روپے تھی۔ کیس میں ایک اہم موڑ 21 ستمبر کو آیا۔ مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے ہلجنتی گاؤں میں ایک شخص کی وین کو معمولی حادثہ پیش آیا۔ مقامی لوگوں کا ایک ہجوم وہاں جمع ہوگیا۔ تاہم ڈرائیور نے اچانک پستول نکالا اور لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہوگیا۔
833 گرام سونا برآمد
تاہم اس نے گاڑی چھوڑ دی۔ جب پولیس پہنچی تو انہوں نے سونے کے تقریباً 21 پیکٹ برآمد کیے، جن کی کل تعداد تقریباً 833 گرام تھی۔ ان کے پاس ایک لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی بھی ملی۔ اس کا مطلب تھا کہ پولیس کو کوئی کوشش نہیں کرنی پڑی۔ سونا خود ہی ان کے پاس آیا۔

1.5 کلو سونا اور 44.25 لاکھ روپے برآمد
اگرچہ پولیس نے سونا اور رقم برآمد کر لی لیکن چور ابھی تک فرار تھے۔ پولیس نے پورے علاقے میں تلاشی شروع کی، کار کے مالک لوگوں کو پکڑنے کا عزم کیا۔ دو دن کی تلاش کے بعد، ایک اور اہم پیش رفت ہوئی: ایک تھیلی جس میں 6.54 کلو سونا اور تقریباً 41 لاکھ روپے نقد تھے، ایک بند مکان کی چھت سے برآمد ہوا۔ بیگ میں 6.54 کلو سونا اور تقریباً 41 لاکھ روپے نقد تھے۔ پولیس نے اسی گاؤں کے ایک شخص کو بھی گرفتار کیا جو کار میں سونا اور نقدی لے کر فرار ہوگیا تھا۔ اس کے پاس سے 1.5 کلو سونا اور 44.25 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔

تمام ملزمان گرفتار
پولیس کے پاس اب ملزمان کے نام ہیں: راکیش کمار ساہنی، راجکمار پاسوان، اور رکشک کمار۔ سبھی کی عمریں 21-22 سال کے لگ بھگ ہیں۔ چوتھا ملزم مہاراشٹر کا رہنے والا ہے جو پوری ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے۔ وہ بار بار بینک کا دورہ کرنے کے لیے گیا تھا اور سولاپور ضلع سے ایک کار بھی چوری کی تھی، جس کا استعمال ڈکیتی میں کیا گیا تھا۔ باقی تین مشتبہ افراد کو پولیس نے سمستی پور، بہار سے گرفتار کیا تھا، جبکہ چوتھے کو 7 اکتوبر کو مہاراشٹر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گڑ اور چنے ایک ساتھ کھانے سے جسم کو حیرت انگیز فائدے ملے گے
گڑ اور چنے کا استعمال صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
گڑ اور چنے میں بہت سے غذائی اجزاء ہوتے ہیں جو جسم کے لیے ضروری ہیں۔

ایسی صورتحال میں آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ روزانہ گڑ کے ساتھ چنے کھانے کے کیا فوائد ہوتے ہیں۔
چنے کو روزانہ گڑ کے ساتھ کھانے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے

چنے کو گڑ کے ساتھ کھانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
چنے کو گڑ کے ساتھ کھانے سے ہاضمے کے مسائل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

گڑ اور چنے کا استعمال جسم میں خون کی کمی کو دور کرنے میں فائدہ مند ہے۔
اس کے علاوہ گڑ اور چنے کا استعمال بڑھتے ہوئے وزن کو کم کرنے میں مددگار

Saturday, 11 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*,


مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے طالب علم یش ساوالے کا ریاستی اسپورٹس مقابلے میں انتخاب

مالیگاؤں ( پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سو سائٹی (منصورہ ) کے زیر اہتمام جاری مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (MMANTC) کیلئے یہ خوشی و مسرت کا مقام ہے کہ فرسٹ ایئر انجینئرنگ کے طالب علم یش راجندر ساوالے نے ناسک ضلعی اسپورٹس مقابلے 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔یہ مقابلہ 8 تا 9 اکتوبر 2025 کو محکمۂ کھیل، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی (SPPU) کے زیرِ اہتمام مینا تائی ٹھاکرے انڈور اسٹیڈیم، ناسک میں منعقد ہوا تھا۔

انجینئرنگ ڈگری سال اول کے طالب علم یش ساوالے نے 5000 میٹر دوڑ میں پہلا مقام اور 3000 میٹر (اسٹیپل چیس) میں دوسرا مقام حاصل کیا۔ اس شاندار کامیابی کے نتیجے میں انھیں ریاستی سطح کے اسپورٹس مقابلے 2025 کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو جلد پونے شہر میں منعقد ہوگا۔

اس کامیابی میں فزیکل ڈائریکٹر پروفیسر یونس خان، اسپورٹس کوآرڈینیٹر فہد بلال، اور این ایس ایس آفیسر ڈاکٹر ساجد نعیم کی رہنمائی و تعاون شامل رہا۔ اسی طرح ایڈمن ڈیپارٹمنٹ نے رجسٹریشن اور تکنیکی امور میں انتھک محنت کرکے طالب علم کے ضلعی اسپورٹس مقابلے میں شرکت کو یقینی بنایا۔

اس موقع پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے معزز سیکریٹری جناب راشد ارشد مختار صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ اسپورٹس میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ اور نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔نیز ادارے کا نام ضلع، ریاست اور ملک بھر میں روشن کر رہے ہیں۔ ادارہ طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔

اسی طرح ادارے کے معزز چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب اور معزز سیکریٹری جناب راشد ارشد مختار صاحب نے طالب علم کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وہیں ڈگری کالج پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد، ڈپلومہ کالج پرنسپل ڈاکٹر یعقوب انصاری، ڈین اکیڈمکس ڈاکٹر سلمان بیگ، ڈین ریسرچ ڈاکٹر نوید حسین، ڈین آئی کیو اے سی ڈاکٹر فہد اقبال، ڈین ایڈمیشن ڈاکٹر دلاور حسین اور دیگر اساتذہ نے بھی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ٹیرف پرامریکہ اورچین آمنے سامنے،ٹرمپ کے 100فیصد ٹیرف پرچین کارعمل، کہا دھمکی دینا چھوڑے امریکہ

امریکہ اور چین کے بیچ تجارتی جنگ ایک بار پھر شدت اختیارتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ، یکم نومبر سے سبھی چینی مصنوعات پر 100 فیصد اضافی ٹیرف عائدکیے جائیں گے۔ اس سے امریکی مارکیٹ میں چینی مصنوعات پر ٹیکس کی کل شرح تقریباً 130 فیصد ہو جائے گی، جو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

چین نے اس اقدام کو غیر منصفانہ اور دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا ہے۔ چین کی وزارت تجارت نے کہا کہ زیادہ ٹیرف کی دھمکی دینا چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم تجارتی جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس سے خوفزدہ بھی نہیں ہیں۔

ٹرمپ کا چین پرالزام
صدر ٹرمپ نے چین پر انتہائی جارحانہ اور دشمنانہ تجارتی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین نے حال ہی میں نایاب زمینی معدنیات کی برآمد پر پابندیاں لگا کر امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

جواب میں، ٹرمپ انتظامیہ نے اہم سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی پر برآمدی کنٹرول نافذ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
دھمکی نہ دے امریکہ
چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے 100 فیصدٹیرف عائد کیے تو عالمی تجارتی نظام تباہ ہو جائے گا۔ چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ، اس اقدام سے عالمی سپلائی چین پر شدید اثر پڑے گا۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن امریکہ کو دھمکیوں کی زبان چھوڑنی ہوگی۔
جاری کی پہلی فہرست ، کشن گنج، پورنیہ ، کٹیہار، دربھنگہ سمیت کئی اضلاع میں امیدوار اتارنے کا فیصلہ

پٹنہ: بہار کے انتخابی موسم کے دوران این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے لئے سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے کا ابھی تک سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے حلیفوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر رسہ کشی جاری ہے۔

ان سب کے دمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اپنی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔اے آئی ایم آئی ایم نے کشن گنج، پورنیہ ، کٹیہار ، دربھنگہ سمیت کئی اضلاع میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہار اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اخترالایمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان اسمبلی حلقوں کی فہرست جاری کی۔ جہاں سے ان کی پارٹی انتخابات میں اپنی قسمت آزمائے گی۔ اخترالایمان نے جن اسمبلی حلقوں سے ان کی پارٹی مقابلہ کرے گی اس کی تفصیلات بتائیں۔ اے آئی ایم آئی ایم نے 32 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اخترالایمان نے کہا کہ امیدواروں کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے سیمانچل کے اسمبلی حلقوں پر خاص توجہ مرکوز کی ہے جس کا امکان پہلے سے ہی تھا۔ اخترالایمان نے جن اضلاع میں امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ان کی تفصیلات بتائیں، جو اس طرح ہیں۔
ضلع کشن گنج: بہادر گنج، ٹھاکر گنج، کوچدھامن، اور کشن گنج اسمبلی حلقے

ضلع پورنیہ: امرو، بیسی، اور قصبہ اسمبلی حلقے

ضلع کٹیہار: بلرام پور، پران پور، منیہری، براری، اور کدوا اسمبلی حلقے

ضلع ارریہ: جوکیہاٹ اور ارریہ اسمبلی حلقے

ضلع گیا: شیرگھاٹی اور بیلہ اسمبلی حلقے۔
ضلع موتیہاری: ڈھاکہ اور نرکٹیہ اسمبلی حلقے
ضلع نوادہ: نوادہ سٹی اسمبلی حلقہ
ضلع جموئی: سکندرا اسمبلی حلقہ
ضلع بھاگلپور: بھاگلپور اور ناتھ نگر اسمبلی حلقے
ضلع سیوان: سیوان اسمبلی حلقہ
ضلع دربھنگہ: جالے، کیوٹی، دربھنگہ دیہی، اور گوڑہ بورام اسمبلی حلقے
ضلع سمستی پور: کلیان پور اسمبلی حلقہ
ضلع سیتامڑھی: باجپٹی اسمبلی حلقہ
ضلع مدھوبنی: بسفی اسمبلی حلقہ
ضلع ویشالی: مہوا اسمبلی حلقہ
ضلع گوپال گنج: گوپال گنج اسمبلی حلقہ

*🔴سیف نیوز بلاگر*


علمی تربیتی پروگرام 


بتاریخ 19اکتوبر بروز اتوار بعد نماز عشاء مسجد اہل حدیث جعفر نگر میں 21سال تا چالیس سال کی عمر کے احباب کےلیے ماہانہ علمی وتربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے' اس پروگرام میں اہل علم کے علمی دروس ہونگے 
شرکت کے لیے محمدی مسجد ، مسجد خیلیل فیضی ، مسجد مصطفی نیا اسلام پورہ ، مسجد اہل حدیث جعفر نگر کے امام یا موذن کے پاس اپنے ناموں کا اندراج 50روپے فیس کے ساتھ کرواکر داخلہ پاس حاصل کریں ۔
نوٹ ،، شرکاء کےلیے طعام کا نظم رہے گا  
(7620435420رابطہ نمبر)

_تربیتی پروگرام براے طالبات_
مورخہ 23اکتوبر بروز جمعرات صبح دس سے بارہ بجے تک نووہیں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی طالبات کےلیے ماہانہ تربیتی پروگرام منعقد ہوگا ان شا اللہ 
جعفرنگر مسجد کے امام یا موذن کےپاس سرپرست حضرات اپنی بچیوں کے نام پچاس روپے مع فیس کے درج کروائیں 
جزاکم اللہ خیرا
رابطے کےلیے 7620435420
غزہ میں امن بحال ہوا ، تو اسرائیل نے کھول دیا دوسرا محاذ، اس ملک پر کیا فضائی حملہ
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔ امن معاہدے کے بعد غزہ کے رہائشی اپنے تباہ شدہ گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے۔ اس درمیان اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں فضائی حملہ کیا۔ فوج نے کہا کہ حملوں میں حزب اللہ دہشت گرد تنظیم کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں “دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے استعمال ہونے والے انجینئرنگ آلات” کو ذخیرہ کیا گیا تھا۔ IDF نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، “فوج نے شمالی کمان کی قیادت میں فضائی حملے کیے”۔ حزب اللہ کے پاس ہدف بنائے گئے مقامات پر انجینئرنگ کے اوزار تھے جو جنوبی لبنان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
فوج نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنانی شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور انہیں “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یہ سرگرمی اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ فوج نے واضح طور پر کہا کہ وہ “اسرائیل کی حفاظت کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رکھے گی۔” یہ حملہ لبنان کے ضلع سیڈون کے گاؤں النضریہ میں ہوا۔ حزب اللہ سے وابستہ چینل المنار ٹی وی نے فوٹیج جاری کی جس میں ایک زوردار دھماکہ اور نارنجی دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ فضائی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔


لبنان نے کیا کہا؟
اطلاعات کے مطابق حملے میں بلڈوزر اور کھدائی کرنے والوں کی نمائش کی جگہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بھاری مشینری رکھی گئی تھی۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنوبی لبنان کو ایک بار پھر اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملہ شہری تنصیبات پر کیا گیا، جسے کسی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔” لبنان کی وزارت صحت نے بھی حملے میں ایک شخص کے ہلاک اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

لبنان میں 32 گرفتاریاں
اس حملے سے ٹھیک پہلے لبنان میں 32 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر حزب اللہ سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کرنے کا الزام ہے جس کی وجہ سے کچھ حملے ہوئے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں کے درمیان دو ماہ تک کھلی جنگ بھی ہوئی تھی جس میں اسرائیل نے حزب اللہ کے کئی سینئر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا تھا
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی 

براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل تفصیل
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما وہ آخری موجودہ امریکی صدر تھے جنہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ 2009 میں صرف آٹھ ماہ صدارت سنبھالنے کے بعد، نوبل کمیٹی نے انہیں ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط کرنے اور قوموں کے درمیان تعاون کے لیے غیر معمولی کوششوں‘‘ پر یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی
Why Barack Obama Won the Nobel Peace Prize in 2009 براک اوباما کو 2009 میں نوبل امن انعام بین الاقوامی سفارت کاری، ایٹمی تخفیف، انسانی حقوق اور عالمی تعاون کے فروغ پر دیا گیا، جسے امید کی علامت قرار دیا گیا۔
اشتہار

Last Updated : October 10, 2025, 6:32 pm IST
Published by : MM Sayeed
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی
اشتہار

متعلقہ ویڈیو
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا
Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی
Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی

Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا
Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Why Barack Obama Won the Nobel Peace Prize in 2009 – The Story Behind His Surprising Win

براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل تفصیل
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما وہ آخری موجودہ امریکی صدر تھے جنہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ 2009 میں صرف آٹھ ماہ صدارت سنبھالنے کے بعد، نوبل کمیٹی نے انہیں ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط کرنے اور قوموں کے درمیان تعاون کے لیے غیر معمولی کوششوں‘‘ پر یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا۔

متعلقہ خبریں
ظلم کے خلاف آواز بنی کورینا مچادو، نوبیل امن انعام جیتا، جانئے کون ہیں یہ کورینا ماچاڈو
امن کےنوبل انعام کے لئے منبتخب ماریاکورینامیچادو‘کون ہے ؟
María Corina Machado امن کے نوبل انعام کے لئے منتخب
Nobel Peace Prize 2025: نوبل امن انعام کا اعلان آج، کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام ملے گا؟
یہ فیصلہ اُس وقت آیا جب دنیا میں اوباما کے انتخاب کو ایک نئی اُمید کے طور پر دیکھا جا رہا تھا ، ایک ایسے امریکی رہنما کے طور پر جو جنگوں کے بجائے مکالمے اور امن کو ترجیح دے گا۔

ٹرمپ کا ردعمل : ’’اوباما نے کچھ نہیں کیا‘‘
حالیہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ نوبل انعام کے اصل مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف آٹھ ماہ میں ’’8جنگیں روکی ہیں‘‘، جبکہ اوباما کو صدارت کے چند ہی مہینوں بعد نوبل انعام مل گیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک بیان میں طنزیہ لہجے میں کہا :

’’اوباما نے کچھ نہیں کیا، پھر بھی اسے نوبل انعام دے دیا گیا۔ وہ تو خود نہیں جانتا تھا کہ اسے کیوں ملا۔ میں نے جنگیں روکی ہیں، بے شمار جانیں بچائی ہیں، مگر بہرحال نوبل کمیٹی جو چاہے کرے۔‘‘
یہ بیان اُس وقت دیا گیا جب 2025 کا نوبل امن انعام وینزولا کی جمہوریت پسند رہنما ماریا کورینا میچادو کو دیا گیا

نوبل کمیٹی نے اوباما کو کیوں منتخب کیا؟
نوبل کمیٹی نے اپنے سرکاری اعلامیے میں کہا کہ اوباما کو ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری اور اقوام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی غیر معمولی کوششوں‘‘ کے اعتراف میں نوازا گیا۔
مزید یہ کہ انہیں ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کے وژن کے لیے ان کی حمایت پر بھی سراہا گیا۔

نوبل کمیٹی کے مطابق :

’’انتخاب سے پہلے ہی اوباما نے مختلف قوموں، مذاہب، اور سیاسی نظریات کے درمیان مکالمے اور تعاون کی وکالت کی تھی۔ صدر بننے کے بعد، انہوں نے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کی ، ایسی بنیاد پر جو باہمی مفادات، سمجھ اور احترام پر مبنی ہو۔‘‘
انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا منصوبہ بھی شروع کیا۔

انسانی حقوق، ماحولیات، اور عالمی تعاون کا پیغام

نوبل انعام کی ویب سائٹ کے مطابق، صدارت کے پہلے سال میں اوباما نے انسانی حقوق، جمہوریت، اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا :

’’اوباما نے عالمی سطح پر اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا ، ان کے الفاظ میں : ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری ادا کریں تاکہ عالمی چیلنجوں کا مشترکہ حل نکالا جا سکے۔’‘

اوباما کا ردعمل : ’’یہ ایک اعزاز سے زیادہ ذمہ داری ہے‘‘
نوبل امن انعام ملنے پر براک اوباما نے کہا کہ وہ ’’حیران اور نہایت عاجز‘‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسے اپنی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’’عمل کی پکار‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ عالمی چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس میں مختصر خطاب کے دوران اوباما نے کہا :

’’میں اس انعام کو اپنی کامیابی نہیں سمجھتا، بلکہ یہ ان اہداف کی پہچان ہے جو میں نے امریکہ اور دنیا کے لیے طے کیے ہیں۔‘‘
 ایک علامتی فیصلہ یا امید کی کرن؟

2009 میں اوباما کو دیا گیا نوبل امن انعام اُس وقت دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ بہت سے ناقدین نے اسے قبل از وقت قرار دیا، کیونکہ اوباما نے اس وقت تک کسی بڑی امن کامیابی کو حاصل نہیں کیا تھا۔ تاہم، ان کے حامیوں کے مطابق نوبل کمیٹی نے انہیں ’’امید کی علامت‘‘ اور ’’نئے عالمی طرزِ سیاست‘‘ کے طور پر تسلیم کیا۔

اوباما کے نوبل انعام نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر قیادت صرف طاقت نہیں بلکہ سفارت کاری، مکالمے، اور احترام سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

براک اوباما کو نوبل امن انعام ان کی امن پر مبنی خارجہ پالیسی، ایٹمی تخفیف کے عزم، انسانی حقوق کے فروغ، اور عالمی سفارت کاری کو نئی سمت دینے کے لیے دیا گیا۔ ان کا انعام ایک امید کی علامت بن گیا ، کہ ایک طاقتور ملک کا صدر بھی امن اور مکالمے کو فوقیت دے سکتا ہے

*🔴سیف نیوز بلاگر*

بھائی آپ چلے جائیے... آخر افغانستان کے وزیر خارجہ سے کیوں بولے مولانا ارشد مدنی ؟

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی دیوبند میں دارالعلوم لائبریری پہنچے۔ ان کی آمد پر کیمپس میں ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ بھیڑ کی وجہ سے سیکورٹی اہلکاروں کو جدوجہد کرنا پڑی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان متقی نے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کی۔ اس دوران کچھ ایسا ہوا کہ ارشد مدنی افغان وزیر سے کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بھائی آپ چلے جائیں۔ آئیے سب جانتے ہیں…

مولانا امیر خان متقی چھ روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو کابل سے دہلی پہنچے۔ وہ اسلامی تعلیم کے ایک بڑے مرکز دارالعلوم کی دیوبند پہنچے۔ ایک قابل ذکر مشاہدہ یہ تھا کہ کسی خاتون صحافی کو دارالعلوم کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس سے قبل دہلی میں ان کے پروگرام میں خواتین صحافیوں کو بھی جانے سے منع کیا گیا تھا۔
مولانا ارشد مدنی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا، “افغان وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں، میں نے ان سے کہا کہ ہمارا تعلق صرف ماہرین تعلیم سے نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی آزادی میں آپ کے تعاون کی تاریخ کے بارے میں بھی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں یہاں کے سرکردہ اسکالرز نے جو کردار ادا کیا، اس کی جھلک افغان سرزمین میں بھی تھی۔”

مدنی نے مزید بتایا کہ ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کے بارے میں امیر خان متقی نے کہا کہ اس دور میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی بات چیت کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور دارالعلوم کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

جب ہندوستان اور افغانستان میں مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں سوال کیا گیا تو مولانا ارشد مدنی نے واضح کیا کہ اس میں کوئی سیاسی بحث نہیں ہوئی۔ گفتگو صرف مذہبی مسائل تک محدود تھی۔ دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے یہ تاثر تھا کہ یہاں سرگرم دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں لیکن اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغانستان سے کوئی امداد بھارت نہیں پہنچ رہی۔

خطاب کی منسوخی کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ دارالعلوم میں زیر تعلیم افغان طلباء سے بات چیت ہوئی تھی لیکن ان کے ساتھ موجود وزارت کے اہلکار جلد روانہ ہونے پر اصرار کر رہے تھے جس پر ہم نے ان سے کہا کہ بھائی آپ چلے جائیں

لاہور میں ٹی ایل پی احتجاج میں شدت:ٖ سعد رضوی نے 11 کارکنان کی ہلاکت کا الزام پولیس پر لگایا

لاہور میں فسادات : ٹی ایل پی سربراہ کا الزام ۔۔ پنجاب پولیس نے 11 کارکن مار دیے
تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کے کم از کم 11 کارکن لاہور میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، یہ الزام جمعہ کو ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی نے عائد کیا۔ رضوی نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران شیلنگ سے دو درجن سے زائد پارٹی کارکن زخمی ہوئے اور متعدد زخمیوں کو طبی امداد سے بھی محروم رکھا گیا۔

پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے رضوی نے پوچھا، ’’کس کے کہنے پر گولی چلا رہے ہو؟‘‘ (یہ الفاظ ان کے شاگردوں اور کارکنان کے سامنے دہرائے گئے)۔

ٹی ایل پی کے احتجاجات نے بڑے ترسیلی راستے اور مواصلاتی نظام متاثر کیے۔ لاہور-اسلام آباد-پشاور موٹروے بندر ہے، جبکہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی عملاً لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔
اسی دوران پنجاب پولیس نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی بیوی، والدہ اور بچوں کو حراست میں لے لیا۔

یہ تصادم اس کے بعد بھڑکا جب ٹی ایل پی نے مجوزہ غزہ ڈیل کے خلاف مارچ کا اعلان کیاتھا، جماعت کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیل مغربی طاقتوں بشمول امریکہ کی حمایت یافتہ ہے۔ ٹی ایل پی نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد وہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کریں، جسے وہ ’’غزہ کے ساتھ معاہدہ کے خلاف فیصلہ کن احتجاج‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب سینئر ٹی ایل پی رہنما نعیم چٹھا کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔ لاہور میں کئی دیگر نمایاں رہنماؤں اور مقامی شخصیات کو بھی پکڑا گیا، جس پر پارٹی نے دارالحکومت میں ایک بڑا دھرنادینے کا اعلان کر دیا ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب اور دیگر صوبوں سے ہزاروں لوگ شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ماں نے چار معصوم بچوں کے ساتھ زہر کھا کر کی خود کشی ، پانچوں کی موت سے علاقہ سوگوار! پولیس کررہی ہے تفتیش

شہر سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد نے زہریلی چیز کھا کر خودکشی کر لی۔ ماں نے اپنے چار معصوم بچوں سمیت یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ یہ واقعہ سیکر کے پلواس روڈ پر واقع انیرودھ ریذیڈنسی میں پیش آیا، جہاں کرن نامی خاتون نے اپنے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سمیت اپنی جان لے لی۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح جب گھر کا دروازہ کافی دیر تک نہیں کھلا تو مکینوں کو شک ہوا۔ پڑوسیوں نے آواز دی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ دروازہ توڑا تو اندر کا منظر ہیبت ناک تھا۔ پانچوں بے ہوش پائے گئے۔ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی۔ صدر پولیس اسٹیشن انچارج اندراج مارودیا اپنی ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔
زہریلی چیز کھا کر خودکشی،تفتیش جاری
پولیس کے مطابق تمام افراد نے زہریلی چیز کھا کر خودکشی کی۔ جائے وقوعہ سے زہریلی چیز کا پیکٹ برآمد ہوا ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ خودکشی کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں تاہم ابتدائی تحقیقات میں معاشی تنگدستی اور گھریلو ناچاقی اس کی وجہ بتائی جارہی ہے۔

علاقے میں خاموشی چھائی، پولیس کررہی ہے تفتیش
واقعے کے بعد پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ محلہ کے لوگ صدمے میں ہے ۔ لوگوں کا یقین نہیں آرہا ہے کہ بظاہر خوشحال نظر آنے والا خاندان اس طرح کے انتہائی قدم اٹھاسکتا ہے۔ بچے قریبی اسکول میں پڑھتے تھے اور پڑوسیوں کے مطابق کرن بہت پرسکون خاتون تھیں۔ پولیس فی الحال رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ خودکشی کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سوگ اور خاموشی کی فضا ءچھا گئی ہے۔ لوگ صدمہ میں ہیں۔

ہوٹل کی میز پر گم ہوتا مستقبلمفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی خادم التدریس والافتاء الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں 8446974711شہر کی گلیوں میں ذرا سا دھیان دیں تو اسکول کا یونیفارم پہنے کئی بچے نظر آئیں گے، لیکن کتابیں ان کے ہاتھوں میں نہیں ہوتیں—کپ چائے کے، یا موبائل فون کے۔ وہ اسکول کے بجائے ہوٹلوں کی میزوں پر بیٹھے ہوتے ہیں، جہاں وقت نہیں گزرتا، وقت برباد ہوتا ہے۔یہ وہ نسل ہے جس کے کندھوں پر کل کا مستقبل ہے، مگر آج وہ غفلت کی چائے میں اپنے خواب بھگو رہی ہے۔ نہ اساتذہ کا خوف، نہ والدین کی فکر، نہ تعلیم کی کشش—بس دوستوں کی محفل، قہقہوں کی گونج، اور موبائل کی چمک۔ان کے چہروں پر بے فکری ہے، مگر دراصل یہی بے فکری ان کے مستقبل کو چاٹ رہی ہے۔یہ بچے جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج اپنی بنیاد ہی کھو چکے ہیں۔ علم کی جگہ غفلت، اور محنت کی جگہ سہل پسندی نے لے لی ہے۔ اسکول کے بعد کا وقت اب مطالعے یا کھیل کے میدان میں نہیں گزرتا، بلکہ گلی کوچوں، چائے خانوں، اور موبائل کی اسکرینوں پر بہہ جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ بگاڑ کہاں سے شروع ہوا؟ اس کا جواب ہمیں معاشرتی غفلت کے ہر گوشے میں ملتا ہے۔ والدین اپنی مصروفیات میں گم ہیں، اساتذہ کا تعلق شاگردوں سے رسمی ہو چکا ہے، اور تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا رہ گیا ہے، انسان بننا نہیں۔ جب تربیت ختم ہوتی ہے تو آزادی بدمعاشی بن جاتی ہے، اور یہی آج کے بچے کا حال ہے۔چائے خانہ اس کے لیے تفریح گاہ ہے، لیکن درحقیقت وہیں اس کا وقت، صلاحیت، اور مستقبل برباد ہو رہا ہے۔ وہاں کے قہقہے وقتی ہیں، مگر ان کی قیمت عمر بھر کی ناکامی ہے۔ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ صرف اسکول بھیج دینا تعلیم نہیں، بلکہ دل سے جوڑنا تعلیم ہے۔بچوں کے اندر مقصدِ زندگی پیدا کرنا، ان کے خوابوں کو سمت دینا، اور ان کے دوستوں کے دائرے پر نظر رکھنا والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو ہوٹل کی میز سے اٹھا کر کتاب کی میز تک نہ پہنچایا، تو آنے والا کل انہی میزوں پر ہماری قوم کے زوال کی کہانی سنائے گا۔بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھوٹ رہا ہے، ان کے ذہنوں سے خواب روٹھ رہے ہیں۔ تعلیم کی قدر دلوں سے نکل چکی ہے کیونکہ اسکول صرف نصاب سکھا رہا ہے، کردار نہیں۔جہاں تربیت کا چراغ بجھ جائے، وہاں ہوٹل کی میز علم کے تخت کی جگہ لے لیتی ہے۔والدین اور اساتذہ دونوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر ان بچوں کو اسکول کی بجائے ہوٹل کیوں اچھا لگتا ہے؟ کہیں نصاب ان کے ذوق سے میل نہیں کھاتا؟ یا ہم نے ان کے دلوں سے علم کا احترام چھین لیا ہے؟ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان بچوں کو محبت اور مقصد دونوں دیں۔ ان کے لیے کھیل، مطالعہ اور ہنر کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ والدین ان کے اوقات کی نگرانی کریں، اساتذہ ان کے دل جیتیں۔اگر ہم نے یہ ذمہ داری نہ نبھائی تو یاد رکھیے، کل کے انجینئر، ڈاکٹر اور عالم نہیں ملیں گے — بس ہوٹل کے پرانے گلاس اور خالی کپ باقی رہ جائیں گے۔یاد رکھیں ۔۔۔۔ "قوموں کا زوال وہاں سے شروع ہوتا ہے، جہاں علم کا شوق چائے کے کپ میں ڈوب جائے۔"اگر ہم نے آج اپنے بچوں کو ہوٹل کی میز سے اٹھا کر کتاب کی میز تک نہ بٹھایا، تو کل انہی میزوں پر ہماری قوم کے زوال کی کہانیاں لکھی جائیں گی۔قومیں وہی بچتی ہیں جو اپنے بچوں کا وقت بچاتی ہیں — کیونکہ وقت ہی مستقبل ہے۔razamarkazi@gmail.com________🔴"بَھاگ مَتی"عمران جمیل مالیگاؤں، ضلع ناسک ، مہاراشٹر۔ انڈیا******************"امّاں ای ہم سے نہ ہوے"..بھاگمتی نے اپنا میلا کچیلا گھاگرا کمر میں اُڑس کر منہ بناتے ہوئے کہا...دھونکنی کے پاس گھنٹوں کالے دھوئیں اور تیز بو کے درمیان بیٹھے رہنے سے اُسکا دماغ بھی انگارے پر رکھے تانبے کی طرح تپ رہا تھا...گردن کے پاس سے کمر تک رنگین کترنوں سے سلی گئی کانچلی اُس پر ٹنکی چمکیلی ٹکلیاں اور موتی کام پھیکے پڑنے بعد بھی کپڑے پر ایسے جمے ہوئے تھے جیسے وہ اُس کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے ہوں..بھاگمتی کے مرجھاے جواب سے اماں ٹھٹک گئیں.. بھٹّی کی تپن سے جھلستا ان کا گورارنگ گرم لوہے کی طرح انگارہ ہوگیا...امّاں کی بھرائی آواز جب کانوں میں پڑتی تو ڈھولک کی تھاپ پر الاو کے گرد رقص کرتی آوازوں کے لوک گیت یاد آجاتے امّاں نے دنیا دیکھی تھی کچھ سوچتے ہی اُن کی آنکھوں سے شرارے پھوٹ پڑے..بھاگمتی امّاں سے نظریں چار نہیں کرسکی اُسمیں ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ اپنے جواب کو پھر سے دوہرا سکے...ٹھاکروں نے چمیلی سے بیاہ ہوتا دیکھ چھوٹے مالک اور چمیلی کو حویلی کے صدر دروازے پر جھولتا ڈال دیا تھا تاکہ قصبے کے لوگ کچھ دن اُس جوڑے کو بےجان لٹکتا دیکھ سکیں آخر اُن کی مریادا کی بات جو تھی اُنہیں گاڈیا برادری کی کسی لڑکی کا حویلی کی ٹھاکرائن بننے کا خواب بالکل بھی نہ بھایا اُس رات جس نے بھی اپنے سینے میں دل کو محسوس کرنا چاہا چمیلی اور چھوٹے مالک کو لوہے کے ہک سے اُتارنا چاہا تو اُن کا بھی وہی انجام ہوا جس انجام سے چمیلی اور چھوٹے مالک اپنے پیروں سے ہمیشہ کے لئے زمین کھو بیٹھے تھے...بھاگمتی کو ہڈیوں میں اُترتی سرد رات کے وہ لمحے اب بھی یاد ہیں جب امّاں نے دلدوز چیخوں کے ساتھ جس میں ایک دہشت کی للکار تھی چمیلی کی رسی کو تیز چھرے سے کاٹا اُسے چھاتی سے چمٹاے بجلی کی طرح گرجی تھی اُس دن امّاں کی چینخ سے کچھ وقت تک اُسے کچھ بھی سنائی نہ دیا اُسے لگا کہ وہ ریت کے دریا میں اکیلی کھڑی ہے اور ریتیلے غبار کے جھکّڑوں سے اُسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے..امّاں کی چینخ کی گونج کے ساتھ ہی زبان نکالی ہوئی وحشتناک آنکھوں سے دیکھتی ہوئی ماتا کے سیکڑوں روپ اُسے اُس دن اماں کےآس پاس ہی محسوس ہوے...لمبے تڑنگے، مونچھوں پر تاو دیتے، انگارہ برساتی آنکھوں والے رائفل سے نشانہ سادھے ہوئے ٹھاکر بھی اُس ٹھٹھرتی رات کو بوکھلائے ہوئے میمنے لگے..رائفل کی جگہ اُنکے ہاتھوں میں اُسے پشکر میلے کا تنتنا دکھائی پڑ رہا تھا..دوڑتے بھاگتے ملازم دُم دباے کتّوں کی سی حرکت کرتے نظر آرہے تھے..نہ جانے کیا بات تھی امّاں کی آواز میں وہ کبھی لجاجت سے بھی پکارتیں تو اُس میں بھی ہلکی سی دہاڑ کی جھلک صاف محسوس ہوتی.... امّاں مسکراتی تو تھیں لیکن اُنکی چمکتی آنکھیں ویسی ہی سپاٹ نظر آتیں مانو کوئی بڑا سا محل اپنے مکینوں کے بناء اُجاڑ کھنڈر ہوگیا ہو...امّاں کی چبھتی نظروں کو اپنے وجود میں گڑتا دیکھ بھاگمتی کو لگا کہ اُس کے بیزاری بھرے روّیے میں اُس کا دخل نہیں تھا..اُسے وہم سا ہونے لگا کہ شاید اُس نےسوتے میں کچھ بڑبڑا دیا ہو..وہ زنانہ حصے کے پاس مٹکوں کے ڈھیر کے ایک جانب بُت بنی گنگ سی بیٹھی رہی.. زنانہ حصے کو رنگین پتھروں اور چمکیلی ٹکلیوں سے ٹانکے گئے پردے سے بانٹا گیا تھا..تیرتھ یاترا پر گئے بسواس کمار کے رکھے گئے مٹکوں سے اُن پر کی گئی گلکاریوں سے اُسے انسیت سی ہوگئی تھی اکثر وہ اُن مٹکوں پر بناے گئے پھولوں کے سنگ خود کو تتلی جیسا اڑتا ہوا دیکھتی پھر کہیں سے کوئی کالا بھونرا آجاتا اُسکے نازک پر زخمی ہوجاتے اور وہ چونک پڑتی....آج بھی امّاں کی نظروں کی تپش سے بچنے کے لئے وہ مٹکوں کی آڑ میں سمٹ کر بیٹھ گئی...نظر پھر پھولوں پر جا پڑی بھونرے کا خیال آتے ہی اُسے اپنے نازک پر چھلے ہوئے محسوس ہونے لگے...مَٹ میلے گھاگرے کا بڑا سا حصہ اسکے پیچ و تاب کھاتے گورے ہاتھوں سے مسلا جارہا تھا..دھونکنی بجھی ہوئی تھی پھر بھی اُس نے اپنے ماتھے کے ٹھنڈے قطروں کو زمین پر مٹی میں جذب ہوتے دیکھا.. چھن کی آواز سے وہ بیٹھے بیٹھے چونک پڑی..وہ سوچنے لگی کہ اُس کے ہاتھوں میں تو تیز دھار کی چھریاں بھی نہیں تھیں ناہی پاس میں رکھی پانی سے بھری کوئی ناند تھی ...پھر یہ چھن کی آواز کیسی؟؟ .. ٹھیک ہے امّاں وہ منمنائ...لیکن وہاں اماں موجود ہوتیں تو تو سنتیں...مٹی کو گھورتے اُسکی نظریں ایک جگہ مرکوز ہوگئیں ریت سے چھوٹے چھوٹے دائرے بڑے ہوتے گئے اور اُسکے چہرے پر چھانے لگے... وہ وہیں بْت بنی بیٹھی رہ گئ.."تھارے ہاتھوں میں ای لال چوڑیاں خوب جچے گی" حویلی کی جاگیر کے ایک کنارے دور ٹیکری کی اوٹ میں اُسکے زانووں پر سر کھے مانو پرتاپ سنگھ نے اپنی گمبھیر آواز میں اُس سے کہا..بھاگمتی مانو سنگھ کی شرارت بھری نظروں کی تپش کو اپنے اندر اُترتا محسوس کررہی تھی وہ من ہی من میں اپنے اندر کی عورت کے وجود کو سکیڑنے لگی..سرسراتی ہوا کے خوشگوار جھونکوں سے اُسکے گھنگریالے اخروٹی رنگت کے بال رخساروں پر اٹھکیلیاں کررہے تھے..مچلتے دل کو سنبھالتے ہوے وہ بول اُٹھی "دیکھ مانو یہ سب عسکیہ باتیں جانے دے پہلے یہ تو بتا کہ ہم سادی کیسے کرپا ویں گے حویلی کے لوگ تو...!" بھاگمتی اپنی بات پوری بھی نہیں کرپائ تھی کہ مانو نے تڑپ کر اُسکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا رخساروں سے شرارت کرتی لٹوں کو ہٹاتے ہوئے وہ فوراً اُٹھ بیٹھا، پاس پڑے خنجر کو اُٹھا کر پٹکے میں اُڑَس لیا، کاندھے تک جھولتے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا چرمی جوتوں میں اپنے پیروں کو ڈالا اور بھاگمتی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ایک سمت چل پڑا... مانو کے ایسے پُراعتما برتاو سے وہ ہمیشہ کھل اُٹھتی...اسکی لوویں سرخ ہوجاتیں.. دل بے نام سی خوشیوں سے بھر اُٹھتا.. چند برس پہلے بھاگمتی کا باپ چترنجن اپنے قبیلے کی بقا کے لئے ٹھاکروں سے بےجگری سے لڑتے ہوئے مارا گیا تھا..لڑائی کے تیسرے دن پَو پھٹتے ہی سورج آگ اگلنے لگا تھا.. ریتیلی زمین اپنی تپن سے ڈھیٹ بنی تنہا لڑتے چترنجن کی گرمی سے لوہا لے رہی تھی..اَن گنت لاشوں کے ڈھیر پر مسکراتے ہوئے چترنجن نے اپنے پران دئیے...خون آلود دھول مٹی کے ساتھ قبیلے کے نازک ارمانوں کی چتا بھی ٹھاکروں کے غیض و غضب میں بھسم ہوتی گئی...اُس دن کچھ بھی تو نہ بچا تھا قبیلے میں، ہر طرف خون ہی خون، انسانی جسموں کے چیتھڑے،گھروں کے برتن ، اوزار اور اُنکی عزتیں بکھری پڑی تھیں..پامالی کا جاں گسل احساس گاڈیا قبیلے کی روح میں چھانے لگا..وہ امّاں ہی تو تھیں جنکے حوصلوں اور رعب دار برتاو سے قبیلے کی مرتی روح میں پھر سے جان پڑتی گئی..ریتیلی زمین پر رات کے الاو روشن ہونے لگے، رات رانیاں لہک لہک کر گیت گانے لگیں..اُسے آج بھی یاد ہے جیسے یہ کل کی بات ہو امّاں نے بہت سمجھایا لیکن چمیلی اب سب سمجھانے بجھانے کے مرحلوں سے آگے بڑھ چکی تھی دیویندر پرتاپ سنگھ اُسکی کل کائنات بن چکا تھا.. پھر ہڈیوں میں خون جما دینے والی وہ رات بھی آئی جب حویلی کے صدر دروازے سے اماں چنگھاڑتے ہوئے چمیلی کی لاش کو اپنے سینے سے چمٹا کر گھر لائ تھیں...بھاگمتی سب بھول جانا چاہتی تھی..بچپن سے ان سارے بھید بھاو سے وہ اوب چکی تھی.." کیا ہم لوہاروں کے کوئی سپنے نہیں..؟" " کیا ہم چاندی کی تھال میں پروسے گئے کھانے کبھی نہیں کھا سکتے؟" پھر اپنے قدموں سے زمین کھسک جانے کے خیال سے وہ فوراً اپنے سر کو جھٹکتی..چمیلی کا مسکراتا دمکتا چہرہ اسکی کھنکتی ہوئی ہنسی کی مسحور کن بازگشت سے وہ اکثر خیالوں کی اُن تہوں تک جاپہنچتی جہاں بھید بھاو کے زخموں کو مندمل کرنے میں چمیلی اور اُسکے بچپن کی خوبصورت یادیں تھیں..وہ دھونکنی کے پیٹ میں سانس بھرتے بھرتے اپنے کچے گھر کے دالان سے حویلی کے اونچے درو ویوار کو،مہنگی لکڑیوں سے بنے دروازوں،اُن دروازوں کے اوپر رنگین کانچ کے ٹکڑوں سے جَڑے محرابوں کو دیکھتی پھر کچھ سوچ کر دل ہی دل میں مسکرا دیتی اُس کی مسکراہٹ کے پیچھے تمتماتے جذبوں کی کسی کو بھنک نہیں تھی.."ایسے گھور گھور کر زمین میں چھید کرے گی کیا" .. امّاں کی کرخت آواز اچانک اُسکے کانوں سے ٹکرائی دائرے چھوٹے ہوتے ہوئے نکتہ بن کر زمین میں کہیں مدغم ہوگئے....چمیلی کی یادیں کبھی ریت گھڑی کے خالی ہوتے حصے کی طرح لگتی جیسے ہی اُسے یہ محسوس ہوتا اُسے لگتا کہ پھولوں کے رنگ اُڑ چکے ہیں وہی پھول جنہیں چند گَملوں میں کبھی چمیلی نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا...وہ فوراً لپک کر ریت گھڑی کو اُلٹا رکھ کر یادوں کو پھر سے کشید کرنے لگتی.. آج کے دن کا اُسے بے صبری سے انتظار تھا اُسے آج ٹیکری کے پیچھے مانو پرتاپ سے ملنا تھا.. آج صبح سے اُسے موسم بہت بھلا لگ رہا تھا... آسمان میں اُڑتے پرندوں کی چہکار میں اُسے مدھم گیت کی لے سنائی دے رہی تھی.. پھر امّاں کی چتاونی بھی جیسے ہی یاد آئی اُسکے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی.. "نہیں نہیں اب اور انتظار نہیں" .حویلی کی شادی میں وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ خوب جم کر ناچی تھی وہاں کی عورتوں کی سنہری ساڑیاں، اُنکے مہنگے رنگین زیورات سے اُس دن نظریں ہٹتی نہ تھی..ریتیلے قصبے میں یوں تو ہریالی بَس نام کی تھی لیکن حویلی کے لمبے صحن میں ہریالی سے سایے بنے ہوئے تھے.وہاں کے قیمتی فانوس،، رنگین جگ مگ کرتے جھومر،، سرخ دبیز قالین اور طرح طرح کے کھانے اُسکی نظروں سے ہٹتے نہ تھے.."آخر یہ سورج کب ڈھلے گا..".. "جو بھی ہو مجھے آج جانا ہی ہے.. اب اور انتظار نہیں ہوتا.."وہ بدبدائ ...امّاں کے سونے والے حصے پراُس نے اُچٹتی نگاہ ڈالی دل زوروں سے دھک دھک کئے جارہا تھا امّاں چلم سے شغل کرکے ہلکے بدن کے ساتھ آسمان کی سیرپر جاچکی تھیں ..وہ لپک کر اُٹھی ٹھنڈے پانی کے کئی چھپاکے منہ پر تیزی سے مارے،، کپڑوں پر نظر دوڑائی،، شیشے پر نظریں گاڑے بالوں کو کس کر باندھا.. کاجل کی گاڑھی لیکر آنکھوں کے گرد پھیرا،،،نازک زنجیر سے بندھے رنگین پتھروں سے جَڑے ہوئے چھوٹے سے گولے کو مانگ سے گذار کر ماتھے پر لٹکایا،، دونوں ہاتھوں کی بیچ کی انگلیوں سے سنہری زنجیر سے بندھے "ہاتھ پھول" کو پہنا،،،، چمکتے "باجو بند" کو بازو میں کسا،،بیچ کی انگلی میں آئینوں سے جَڑی آرسی پہنی،، ماتھے اور ٹھڈّی پر پکے رنگ سے کچھ نقطے بناے.. سورج زردی مائل ہوکر پہاڑیوں کے پیچھے چھپنے کی تیاریوں میں تھا..ریشمی کپڑے، آرام و آسائش مہنگے زیور اُسکے خیالوں میں پھر گھومنے لگے ان خیالوں سے سر جھٹک کر ملگجی روشنی میں وہ تیز قدموں سے چلتی گئی...اُس کی سرمئی آنکھوں میں عجیب سا عزم جھلک رہا تھا ٹھنڈے پسینے کے قطروں کے سنگ اُسکے چہرے پر ایک میٹھی سی مسکراہٹ رقصاں تھی...مانو کے پاس پہنچ کر ہی اُسکی سانسوں کا طوفان تھما..آسمان سیاہ ہوچکا تھا...تارے پوری آب وتاب سے چمک رہے تھے...اب رخصت کا وقت تھا مانو کو اُس نے اپنے سینے سے کس کر جکڑ رکھا تھا ایک بیخودی تھی یا کوئی باولا پن...دور الاو کے گرد رقص میں ڈوبیں رات رانیوں کے گیت تیز بہت تیز ہوتے جارہے تھے..مانو اچانک اُس کے بازووں میں جھول گیا..بھاگمتی نے بہت سکون سے اسے خود سے الگ کیا مانو کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا وہ دھڑام سے گرا اور ساکت ہوگیا.._______🔴☂️غزل ابرار مجیبخواب اُترے تو سہی خواب کی دیوار تلےجسم خوابیدہ رہیں ساعتِ اسرار تلےبے سبب خوف کا ماحول بنا رکھا ہےاک ذرا آگ چھپا رکھی ہے دستار تلےشاہ سُرخی کے تلے کامنی بالا ہے غضبمٹتی جاتی ہے خبر روغنِ اخبار تلےگلبدن قوسِ قزح پھینک کے بیمار ہُوارنگ سجتے تھے بہت صورتِ انکار تلےمسندِ وقت پہ خاموش رگِ تارِ نظرقید خانے کا تلاطم سرِ دربار تلے_______🔴غزلچاک سے آدھا ادھورا ہی اتارا گیا میںاور پھر گردشِ دوراں سے گزارا گیا میںمیرے دونوں ہی طرف دوست کھڑے تھے میرےیعنی میداں میں بہت گھیر کے مارا گیا میںجن خلاؤں سے ہوا ئیں بھی گزرتی نہیں ہیں ان خلاؤں سے کئی بار گزارا گیا میں مجھ سے مسجد میں بھی چھوٹی کہاں میری دنیاکب عبادت کے لیے سارے کا سارا گیا میں رانجھا کہتا تھا کوئی، کہتا تھا کوئی مجنوںبارہا اور ہی ناموں سے پکارا گیا میںباہر اک بار جو نکلا تو بھٹکتا ہی رہاپھر پلٹ کر کہاں اپنے میں دوبارہ گیا میںراجیش ریڈیग़ज़लचाक से आधा-अधूरा ही उतारा गया मैं और फिर गर्दिश-ए-दौराँ से गुज़ारा गया मैं मेरे दोनों ही तरफ़ दोस्त खड़े थे मेरेयानी मैदाँ में बहुत घेरके मारा गया मैं जिन ख़लाओं से हवाएँ भी गुज़रती नहीं हैंउन ख़लाओं से कई बार गुज़ारा गया मैं मुझसे मस्जिद में भी छूटी कहाँ मेरी दुनियाकब इबादत के लिए सारे का सारा गया मैं राँझा कहता था कोई, कहता था कोई मजनूँबारहा और ही नामों से पुकारा गया मैं बाहर इक बार जो निकला तो भटकता ही रहाफिर पलट कर कहाँ अपने में दुबारा गया मैं - राजेश रेड्डी

*🔴سیف نیوز بلاگر*

ٹی ٹی پی کا پاکستان پر زور دار حملہ، پولیس ٹریننگ سکول پر حملے میں 7 فوجی ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک طاقتور حملہ کیا جس میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ رات کے اندھیرے میں ہونے والے اس حملے میں دہشت گردوں نے پہلے خود کش دھماکہ کیا اور پھر بھاری ہتھیاروں سے پولیس ٹریننگ اسکول میں گھس گئے۔ تاہم وہاں موجود سیکورٹی فورسز نے تمام دہشت گردوں کو مار گرایا۔

درحقیقت، جمعہ کی رات ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سکول میں ایک طاقتور دہشت گرد حملہ ہوا۔ حملہ آوروں نے پہلے خود کش دھماکہ کیا اور پھر بھاری ہتھیاروں سے سکول میں گھس گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی
حملے کے وقت 200 پولیس اہلکار موجود تھے
جواب میں پولیس اہلکاروں نے حملے کو روکنے کی کوشش کی اور کئی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس حافظ محمد عدنان نے بتایا کہ تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ حملے کے وقت تقریباً 200 پولیس اہلکار اور ٹرینی اسکول میں موجود تھے اور انہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔

سات پولیس اہلکار ہلاک اور 13 زخمی
حملے میں سات پولیس اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹراما سینٹر نے تمام زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج کی سہولت فراہم کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کو دہشت گردوں کی جانب سے بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس نے بہادری سے دہشت گردوں کے خطرناک عزائم کو ناکام بنا دیا۔

آرمی ایکشن اور دیگر واقعات
حملے سے قبل پاک فوج نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس آپریشن میں میجر سبطین حیدر شہید ہو گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے میجر سبطین اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔

دہشت گردی کے خلاف نئے اقدامات
پاک فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے نئے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی اور مجرمانہ نیٹ ورکس نے ہوا دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان کے تمام 14 نکات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں، اور موجودہ حکومت نے اسے “اعظمِ استحقاق” کے نام سے دوبارہ شروع کیا ہے۔

بڑھتا ہوا تشدد 2025 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان میں تشدد میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک کے کل تشدد اور ہلاکتوں میں اکیلے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخواہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جو کہ کل تشدد اور اموات کا 71 فیصد ہے۔
اکھلیش یادو کا فیس بک اکاؤنٹ معطل، سماج وادی پارٹی نے جمہوریت پر حملہ قرار دیا

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو کا آفیشل فیس بک اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے، جس سے سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے، جب کہ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ معطلی میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کارروائی رہنما اصول کے مطابق کی گئی جو ملکی قانون کے تحت ہر شہری پر لاگو ہوتے ہیں۔ حکومتی ذریعہ نے بتایا کہ اس کے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ نے کمیونٹی کے رہنما اصول کی خلاف ورزی کی، اور فیس بک نے قواعد کے مطابق کارروائی کی۔
اکھلیش کا فیس بک اکاؤنٹ، جس کے 80 لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے، اب ناقابل رسائی ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے اپوزیشن کی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ پارٹی کے ترجمان فخر الحسن چاند نے ٹویٹر پر لکھا، “ملک کی تیسری سب سے بڑی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے فیس بک اکاؤنٹ کو معطل کرنا جمہوریت پر حملہ ہے۔ بی جے پی نے غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔” تاہم، ایس پی ایم ایل اے پوجا شکلا نے کہا، “فیس بک نے بغیر وارننگ کے اکاؤنٹ کو معطل کر دیا ہے۔” یہ لاکھوں کی آواز کو دبانے کی سازش ہے۔

ایس پی کا الزام ہے کہ معطلی بی جے پی کے کہنے پر کی گئی۔ پارٹی نے کہا کہ اکھلیش نے حال ہی میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی کی بی جے پی کی تعریف پر سوال اٹھایا تھا، جس کے نتیجے میں “اندرونی ملی بھگت” کے دعوے سامنے آئے۔ اس سے پہلے ایس پی نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا تھا۔ اکاؤنٹ کی معطلی سے ایس پی کارکنوں میں غصہ پھیل گیا۔ پارٹی نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیتے ہوئے فیس بک کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

سرکاری ذرائع نے واضح طور پر ایس پی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ معطلی میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ معطلی فیس بک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والی ایک پوسٹ کی وجہ سے کی گئی۔ ذریعہ نے کہا، “یہ درمیانی رہنما خطوط کے تحت ایک کارروائی ہے، جو ہر شہری پر لاگو ہوتی ہے۔ حکومت نے مداخلت نہیں کی۔” فیس بک نے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن ایس پی کا دعویٰ ہے کہ اکاؤنٹ بغیر وارننگ کے بند کر دیا گیا تھا۔
39 کاٹیج، 17 ٹن شہد، سونا اور نقدی: مدھیہ پردیش کے انجینئر جی پی مہرا کی کرپشن کی حیران کن سلطنت

کاٹیج، 17 ٹن شہد، سونا اور نقدی : مدھیہ پردیش کے ریٹائرڈ انجینئر کی کرپشن کی چونکا دینے والی سلطنت
مدھیہ پردیش لوک ایکتہ کی ٹیم نے ایک ریٹائرڈ سرکاری انجینئر کے خلاف ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے پورے ریاستی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) کے ریٹائرڈ چیف انجینئر جی پی مہرا کے گھروں، فارم ہاؤس اور کاروباری اداروں پر جمعرات کی صبح بیک وقت چھاپے مارے گئے ، اور نتیجہ ایک ’’خزانے‘‘ جیسا نکلا۔


چھاپوں میں برآمد ہونے والی حیران کن دولت
ابتدائی انوینٹری کے مطابق جی پی مہرا کے اثاثوں سے مجموعی طور پر 36.04 لاکھ روپے نقد، 2.649 کلو سونا، 5.523 کلو چاندی، متعدد فکسڈ ڈپازٹس، انشورنس پالیسیاں، شیئر دستاویزات، لگژری گاڑیاں اور جائیدادیں برآمد ہوئیں۔

چھاپے بھوپال اور نرمداپورم میں چار مختلف مقامات پر ایک ساتھ کیے گئے۔ کارروائی کی قیادت چار ڈی ایس پی رینک افسران نے کی، جنہوں نے صبح سویرے جی پی مہرا کے گھروں اور فارم ہاؤس پر دھاوا بولا۔

17 ٹن شہد اور 39 کاٹیج : کرپشن کا عجیب و غریب نمونہ
سب سے چونکا دینے والا انکشاف سیّنی گاؤں میں واقع مہرا کے فارم ہاؤس سے ہوا، جہاں ٹیم کو ایک ’’عجیب و غریب سلطنت‘‘ ملی۔ 17 ٹن شہد کے ذخیرے کے ساتھ ساتھ 39 کاٹیج (جن میں سے 32 زیرِ تعمیر اور 7 مکمل بنے ہوئے تھے)، ایک مچھلیوں کا تالاب، گاؤشالہ، مندر، اور لگژری گاڑیاں موجود تھیں۔

یہ فارم ہاؤس کسی چھوٹے ریزورٹ سے کم نہ تھا۔ وہاں موجود سہولیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریٹائرڈ انجینئر نے دیہی علاقے میں بھی ایک خود کفیل، عیش و عشرت سے بھرپور زندگی کے لیے تمام انتظامات کر رکھے تھے۔

لگژری گاڑیاں اور خاندانی کاروبار کے ثبوت
چھاپوں کے دوران برآمد ہونے والی لگژری گاڑیوں میں فورڈ اینڈیور، اسکوڈا سلاویا، کیا سونیٹ، اور ماروتی سیاز شامل تھیں ۔ اور دلچسپ بات یہ کہ یہ تمام گاڑیاں مہرا کے اہلِ خانہ کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔

لوک ایکتہ ٹیم نے گووندپورا انڈسٹریل ایریا میں واقع KT Industries پر بھی چھاپہ مارا، جو مبینہ طور پر مہرا کے خاندانی کاروبار کا فرنٹ ادارہ تھا۔ وہاں سے 1.25 لاکھ روپے نقدی، مشینری، خام مال اور شراکت داری کے دستاویزات برآمد ہوئے، جن سے پتہ چلا کہ کمپنی میں مہرا کے قریبی رشتہ دار شریک تھے

بھوپال کے گھروں سے لاکھوں روپے اور قیمتی زیورات برآمد
مہرا کے مانی پورم کالونی والے گھر سے 8.79 لاکھ روپے نقدی، تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کے زیورات، اور 56 لاکھ روپے کے فکسڈ ڈپازٹس برآمد ہوئے۔
دوسری جانب ان کے اوپل ریجنسی کمپلیکس میں واقع عالیشان فلیٹ سے 26 لاکھ روپے نقدی، 2.6 کلو سونا (تقریباً 3.05 کروڑ روپے مالیت) اور 5.5 کلو چاندی برآمد ہوئی۔

ریاست میں ہلچل : لوک ایکتہ کی بڑی کارروائی
لوک ایکتہ کے افسران کے مطابق ابھی اثاثوں کی مکمل ویلیوایشن جاری ہے، لیکن ابتدائی اندازے کے مطابق یہ مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
تحقیقات کا دائرہ اب بینامی سرمایہ کاری تک بڑھا دیا گیا ہے، اور فارنسک ٹیمیں دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈز کی جانچ کر رہی ہیں۔

یہ کیس مدھیہ پردیش کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے بدعنوانی اسکینڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین میں اس انکشاف نے خوف اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ ایک ریٹائرڈ انجینئر کی تنخواہ سے اس سطح کی دولت جمع ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

جی پی مہرا کیس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کرپشن کا جال کس حد تک گہرا اور منظم ہے۔ لوک ایکتہ کی ٹیم کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن جو کچھ اب تک برآمد ہوا ہے، وہ خود ایک ’’خزانہ‘‘ ہے ، 39 کاٹیج، 17 ٹن شہد، سونا، چاندی، لگژری کاریں اور کروڑوں روپے کی جائیداد

*🔴سیف نیوز بلاگر*

افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کومدعو نہ کرنے پرتنازع:ہندوستانی وزارت خارجہ کی وضاحت

یہ وضاحت اس کے بعد سامنے آئی جب کچھ خاتون صحافیوں اور حزبِ اختلاف کے ایک حصے نے پریس کانفرنس کے دوران خواتین صحافیوں کی عدم شرکت پر سوال اٹھایا۔ NDTV کے مطابق خاتون صحافیوں نے اس معاملے کو سفارت خانے میں موجود سکیورٹی عملے کے سامنے بھی اٹھایا۔

انڈیا ٹوڈے کی اینکر گیتا موہن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’خاتون صحافیوں کو افغانستان، طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ ناقابلِ قبول۔‘‘

صحافی نینامیما باسو نے بھی سخت الفاظ میں سوال اٹھایا اور لکھا کہ ’’بھارت کی حکومت کی آنکھوں کے سامنے، دارالحکومت کے دل میں، افغان وزیرِ خارجہ متقی نے پریس کانفرنس کی، جس میں جان بوجھ کر کسی خاتون صحافی کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ کس نے نمائندگی کی اس کھلم کھلا بے اعتنائی کی منظوری دی؟‘‘

طالبان نے کئی ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے ہیں اور چین اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ جولائی میں روس طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ پھر بھی طالبان کی حکومت عالمی سطح پر نسبتاً تنہا رہی ہے، خاص طور پر خواتین پر عائد پابندیوں کی وجہ سے۔

بھارت نے جمعہ کو افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپ گریڈ کیا ۔ سفارتی اعتبار سے تقویت دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ بھارت کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ طالبان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان انتظامیہ نئی دہلی میں بھی سفارت کار بھیجے گا۔

سیاستدانوں اور حزبِ اختلاف کے ترجمانوں نے بھی خاتون صحافیوں کو باہر رکھنے پر متقی پر تنقید کی۔ کانگریس کی ترجمان شمع محمد نے لکھا ’’ وہ ہمیں ہمارے ملک پر شرائط کیسے عائد کر سکتے ہیں ۔ اور وہ بھی ہماری ہی سرزمین پر ،اور خواتین کے خلاف اپنا امتیازی ایجنڈا کیسے تھوپ سکتے ہیں؟‘‘

ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئِترا نے کہا کہ مرد صحافیوں کو ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پریس کانفرنس چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ X (سابقہ ٹویٹر) پر موئِترا نے سخت انداز میں سوال کیا کہ حکومت نے طالبان کے نمائندے کو خواتین صحافیوں کومدوع نہ کرنے کی اجازت کیسے دی، جبکہ انہیں پورا پروٹوکول فراہم کیا گیا تھا۔ موئِترا نے لکھا ’’ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس کی اجازت کیسے دی؟ اور ہمارے کمزور اور بزدل مرد صحافی ہال میں کیوں رہے؟‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل انعام نہ ملنے پر شی جن پنگ پر نکالاغصہ، چین پر 100 فیصد ٹیرف عائد!

ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کا نوبل انعام نہ ملنے پر چین پر اپنا غصہ نکالا ہے۔ جی ہاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 100 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت یا ملاقاتوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ چینی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف کا اطلاق یکم نومبر 2025 سے ہوگا۔

اس سے قبل چین نے نایاب زمینی معدنیات کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ چین کے اس فیصلے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر چین نے نایاب زمینوں کے حوالے سے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو امریکا چینی اشیا پر ’بھاری ٹیرف‘ عائد کر دے گا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے 100فیصد ٹیرف لگا دیا۔ ٹرمپ کے مطابق چین کا یہ اقدام صرف مارکیٹ اور پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان چین کو ہوگا۔

ٹرمپ نے 100 فیصد ٹیرف عائد کردیئے
ڈونالڈ ٹرمپ نے TruthSocial پر کہا، “چین کے اس بے مثال اقدام کو دیکھتے ہوئے، امریکہ چین پر 100 فیصد محصولات عائد کرے گا، اس کے علاوہ چین کی طرف سے اس وقت عائد کردہ کسی بھی محصول کے علاوہ۔ یہ یکم نومبر سے لاگو ہو گا۔” یہ ٹرمپ کی پچھلی پوسٹ کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے چین کی پابندیوں کو انتہائی معاندانہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چین کو “دنیا کو قید میں رکھنے” کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اب ٹرمپ-جن پنگ ملاقات نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے آخر میں جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے اپنے منصوبوں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے دو ہفتوں میں جنوبی کوریا میں ہونے والے ایپک سربراہی اجلاس میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنی تھی لیکن اب مجھے ایسا کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیرف بہت بھاری ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
چین نے کیا فیصلہ کر لیا؟
درحقیقت، چین نایاب زمینی معدنیات کا دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔ یہ مواد الیکٹرانکس، دفاع اور سبز توانائی جیسی صنعتوں کے لیے اہم ہیں۔ چین نے اس حوالے سے نیا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے نئے ضوابط کے مطابق اب نایاب زمین یا ان سے بنی کسی بھی مصنوعات کو برآمد کرنے سے پہلے خصوصی منظوری درکار ہوگی
بھول جائیے دوا-گولی، سردیوں میں سردی-کھانسی اور بخار سے بچائے گا یہ کھٹا پھل، صرف 5 روپے میں ملیں گے معجزاتی فائدے

سردیوں کے موسم میں سنترے کھانے سے قوت مدافعت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ہیلتھ لائن کی رپورٹ کے مطابق سنترے میں وٹامن سی، پوٹاشیم، کولین، وٹامن اے، فائبر، فولک ایسڈ، وٹامن بی سمیت کئی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ اس سے نزلہ، کھانسی اور بخار کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ سنترے میں اینٹی وائرل اور جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں

سنترا دماغ کے لیے ایک وردان سمجھا جا سکتا ہے۔ ڈچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ ہفتے میں چار سے آٹھ گلاس سنترا جوس پیتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہفتے میں تین بار ایک گلاس اورنج جوس پینا بھی فالج کا خطرہ 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سنترا میں پائے جانے والے فلیوونائڈز یادداشت کو بڑھاتے ہیں اور الزائمر کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں

سنترا کھانے سے آپ کی آنکھوں کو لمبی عمر تک صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی کم ہونے لگتی ہے لیکن کھانے پینے کی اچھی عادات سے اس کیفیت کو روکا جا سکتا ہے۔ سنترے کھانے سے آنکھوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر سنترا کو خوراک میں شامل کیا جائے تو میکولر ڈیجنریشن نامی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ میکولر ڈیجنریشن کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی کم ہونے لگتی ہے اور اندھے پن کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

وٹامن سی کی بھرپور مقدار کی وجہ سے سنترا جلد کے لیے بھی ایک علاج سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری جلد کو جوان رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ دراصل، وٹامن سی کولیجن کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو زخموں کو بھرنے اور جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ 2007 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ وٹامن سی سے بھرپور غذا کھاتے ہیں ان کی جلد پر جھریاں کم پڑتی ہیں۔ سنترا جلد کو جوان اور چمکدار رکھنے میں فائدہ مند ہے

دل کی صحت کو برقرار رکھنے میں معجزانہ ثابت ہوتا ہے۔ بہت سے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ سنترا کا جوس پینا ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے اور دل کی صحت مضبوط ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنترا کے جوس کا طویل عرصے تک استعمال جسم میں برے کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جبکہ اچھے کولیسٹرول کی مقدار کو بڑھاتا ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...