Saturday, 11 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


علمی تربیتی پروگرام 


بتاریخ 19اکتوبر بروز اتوار بعد نماز عشاء مسجد اہل حدیث جعفر نگر میں 21سال تا چالیس سال کی عمر کے احباب کےلیے ماہانہ علمی وتربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے' اس پروگرام میں اہل علم کے علمی دروس ہونگے 
شرکت کے لیے محمدی مسجد ، مسجد خیلیل فیضی ، مسجد مصطفی نیا اسلام پورہ ، مسجد اہل حدیث جعفر نگر کے امام یا موذن کے پاس اپنے ناموں کا اندراج 50روپے فیس کے ساتھ کرواکر داخلہ پاس حاصل کریں ۔
نوٹ ،، شرکاء کےلیے طعام کا نظم رہے گا  
(7620435420رابطہ نمبر)

_تربیتی پروگرام براے طالبات_
مورخہ 23اکتوبر بروز جمعرات صبح دس سے بارہ بجے تک نووہیں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی طالبات کےلیے ماہانہ تربیتی پروگرام منعقد ہوگا ان شا اللہ 
جعفرنگر مسجد کے امام یا موذن کےپاس سرپرست حضرات اپنی بچیوں کے نام پچاس روپے مع فیس کے درج کروائیں 
جزاکم اللہ خیرا
رابطے کےلیے 7620435420
غزہ میں امن بحال ہوا ، تو اسرائیل نے کھول دیا دوسرا محاذ، اس ملک پر کیا فضائی حملہ
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔ امن معاہدے کے بعد غزہ کے رہائشی اپنے تباہ شدہ گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے۔ اس درمیان اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں فضائی حملہ کیا۔ فوج نے کہا کہ حملوں میں حزب اللہ دہشت گرد تنظیم کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں “دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے استعمال ہونے والے انجینئرنگ آلات” کو ذخیرہ کیا گیا تھا۔ IDF نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، “فوج نے شمالی کمان کی قیادت میں فضائی حملے کیے”۔ حزب اللہ کے پاس ہدف بنائے گئے مقامات پر انجینئرنگ کے اوزار تھے جو جنوبی لبنان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
فوج نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنانی شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور انہیں “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یہ سرگرمی اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ فوج نے واضح طور پر کہا کہ وہ “اسرائیل کی حفاظت کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رکھے گی۔” یہ حملہ لبنان کے ضلع سیڈون کے گاؤں النضریہ میں ہوا۔ حزب اللہ سے وابستہ چینل المنار ٹی وی نے فوٹیج جاری کی جس میں ایک زوردار دھماکہ اور نارنجی دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ فضائی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔


لبنان نے کیا کہا؟
اطلاعات کے مطابق حملے میں بلڈوزر اور کھدائی کرنے والوں کی نمائش کی جگہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بھاری مشینری رکھی گئی تھی۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنوبی لبنان کو ایک بار پھر اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملہ شہری تنصیبات پر کیا گیا، جسے کسی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔” لبنان کی وزارت صحت نے بھی حملے میں ایک شخص کے ہلاک اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

لبنان میں 32 گرفتاریاں
اس حملے سے ٹھیک پہلے لبنان میں 32 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر حزب اللہ سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کرنے کا الزام ہے جس کی وجہ سے کچھ حملے ہوئے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں کے درمیان دو ماہ تک کھلی جنگ بھی ہوئی تھی جس میں اسرائیل نے حزب اللہ کے کئی سینئر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا تھا
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی 

براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل تفصیل
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما وہ آخری موجودہ امریکی صدر تھے جنہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ 2009 میں صرف آٹھ ماہ صدارت سنبھالنے کے بعد، نوبل کمیٹی نے انہیں ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط کرنے اور قوموں کے درمیان تعاون کے لیے غیر معمولی کوششوں‘‘ پر یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی
Why Barack Obama Won the Nobel Peace Prize in 2009 براک اوباما کو 2009 میں نوبل امن انعام بین الاقوامی سفارت کاری، ایٹمی تخفیف، انسانی حقوق اور عالمی تعاون کے فروغ پر دیا گیا، جسے امید کی علامت قرار دیا گیا۔
اشتہار

Last Updated : October 10, 2025, 6:32 pm IST
Published by : MM Sayeed
براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل کہانی
اشتہار

متعلقہ ویڈیو
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا
Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی
Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی

Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا
Russia Ukraine War: روس نے یوکرین جنگ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Why Barack Obama Won the Nobel Peace Prize in 2009 – The Story Behind His Surprising Win

براک اوباما کو نوبل امن انعام کیوں دیا گیا؟ 2009 کے حیران کن فیصلے کی مکمل تفصیل
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما وہ آخری موجودہ امریکی صدر تھے جنہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ 2009 میں صرف آٹھ ماہ صدارت سنبھالنے کے بعد، نوبل کمیٹی نے انہیں ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط کرنے اور قوموں کے درمیان تعاون کے لیے غیر معمولی کوششوں‘‘ پر یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا۔

متعلقہ خبریں
ظلم کے خلاف آواز بنی کورینا مچادو، نوبیل امن انعام جیتا، جانئے کون ہیں یہ کورینا ماچاڈو
امن کےنوبل انعام کے لئے منبتخب ماریاکورینامیچادو‘کون ہے ؟
María Corina Machado امن کے نوبل انعام کے لئے منتخب
Nobel Peace Prize 2025: نوبل امن انعام کا اعلان آج، کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام ملے گا؟
یہ فیصلہ اُس وقت آیا جب دنیا میں اوباما کے انتخاب کو ایک نئی اُمید کے طور پر دیکھا جا رہا تھا ، ایک ایسے امریکی رہنما کے طور پر جو جنگوں کے بجائے مکالمے اور امن کو ترجیح دے گا۔

ٹرمپ کا ردعمل : ’’اوباما نے کچھ نہیں کیا‘‘
حالیہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ نوبل انعام کے اصل مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف آٹھ ماہ میں ’’8جنگیں روکی ہیں‘‘، جبکہ اوباما کو صدارت کے چند ہی مہینوں بعد نوبل انعام مل گیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک بیان میں طنزیہ لہجے میں کہا :

’’اوباما نے کچھ نہیں کیا، پھر بھی اسے نوبل انعام دے دیا گیا۔ وہ تو خود نہیں جانتا تھا کہ اسے کیوں ملا۔ میں نے جنگیں روکی ہیں، بے شمار جانیں بچائی ہیں، مگر بہرحال نوبل کمیٹی جو چاہے کرے۔‘‘
یہ بیان اُس وقت دیا گیا جب 2025 کا نوبل امن انعام وینزولا کی جمہوریت پسند رہنما ماریا کورینا میچادو کو دیا گیا

نوبل کمیٹی نے اوباما کو کیوں منتخب کیا؟
نوبل کمیٹی نے اپنے سرکاری اعلامیے میں کہا کہ اوباما کو ان کے ’’بین الاقوامی سفارت کاری اور اقوام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی غیر معمولی کوششوں‘‘ کے اعتراف میں نوازا گیا۔
مزید یہ کہ انہیں ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کے وژن کے لیے ان کی حمایت پر بھی سراہا گیا۔

نوبل کمیٹی کے مطابق :

’’انتخاب سے پہلے ہی اوباما نے مختلف قوموں، مذاہب، اور سیاسی نظریات کے درمیان مکالمے اور تعاون کی وکالت کی تھی۔ صدر بننے کے بعد، انہوں نے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کی ، ایسی بنیاد پر جو باہمی مفادات، سمجھ اور احترام پر مبنی ہو۔‘‘
انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا منصوبہ بھی شروع کیا۔

انسانی حقوق، ماحولیات، اور عالمی تعاون کا پیغام

نوبل انعام کی ویب سائٹ کے مطابق، صدارت کے پہلے سال میں اوباما نے انسانی حقوق، جمہوریت، اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا :

’’اوباما نے عالمی سطح پر اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا ، ان کے الفاظ میں : ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری ادا کریں تاکہ عالمی چیلنجوں کا مشترکہ حل نکالا جا سکے۔’‘

اوباما کا ردعمل : ’’یہ ایک اعزاز سے زیادہ ذمہ داری ہے‘‘
نوبل امن انعام ملنے پر براک اوباما نے کہا کہ وہ ’’حیران اور نہایت عاجز‘‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسے اپنی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’’عمل کی پکار‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ عالمی چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس میں مختصر خطاب کے دوران اوباما نے کہا :

’’میں اس انعام کو اپنی کامیابی نہیں سمجھتا، بلکہ یہ ان اہداف کی پہچان ہے جو میں نے امریکہ اور دنیا کے لیے طے کیے ہیں۔‘‘
 ایک علامتی فیصلہ یا امید کی کرن؟

2009 میں اوباما کو دیا گیا نوبل امن انعام اُس وقت دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ بہت سے ناقدین نے اسے قبل از وقت قرار دیا، کیونکہ اوباما نے اس وقت تک کسی بڑی امن کامیابی کو حاصل نہیں کیا تھا۔ تاہم، ان کے حامیوں کے مطابق نوبل کمیٹی نے انہیں ’’امید کی علامت‘‘ اور ’’نئے عالمی طرزِ سیاست‘‘ کے طور پر تسلیم کیا۔

اوباما کے نوبل انعام نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر قیادت صرف طاقت نہیں بلکہ سفارت کاری، مکالمے، اور احترام سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

براک اوباما کو نوبل امن انعام ان کی امن پر مبنی خارجہ پالیسی، ایٹمی تخفیف کے عزم، انسانی حقوق کے فروغ، اور عالمی سفارت کاری کو نئی سمت دینے کے لیے دیا گیا۔ ان کا انعام ایک امید کی علامت بن گیا ، کہ ایک طاقتور ملک کا صدر بھی امن اور مکالمے کو فوقیت دے سکتا ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...