Saturday, 2 September 2023

مہاوترن کے ساتھ ہوئے معاہدہ کی روشنی میں پاور کمپنی شہر میں لوڈ شیڈنگ نہیں کرسکتی

مالیگاؤں (راست نامہ نگار) شہر میں موجودہ لوڈ شیڈنگ/ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ کو فوری طور پر بند کیا جائے بصورت دیگر بجلی کے کمپنی کیخلاف دھرنا اندولن کیلئے مجبور نہ کیا جائے ۔
اسطرح کا مطالبہ لیکر آج سابق رکن اسمبلی و راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ضلعی صدر آصف شیخ مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی پہنچے ۔اس ضمن میں آصف شیخ نے محضر نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر پاورلوم مزدوروں کا شہر ہے اور شہر کا سب سے اہم کاروبار پاورلوم ہے ۔اس کاروبار سے متعلق دیگر کاروبار منحصر ہے ۔اور پاور لوم بجلی کی فراہمی پر جاری رہتا ہے۔
آصف شیخ نے کہا کہ شہر میں کئی ماہ سے لوڈ شیڈنگ شروع ہے۔بجلی کی آنکھ مچولی سے اس سے پاورلوم کا کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ پاورلوم مزدور /پاورلوم ویورز کے ساتھ ساتھ شہر کی لاکھوں عوام کو بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا ہے۔ مالیگاؤں شہر کا حال یہ ہے کہ اگر کارخانوں کے مالکان کے کاروبار کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے کام کا بھی بند ہو گا تو وہ بجلی کا بل ادا نہیں کر سکیں گے۔

آصف شیخ نے مکتوب میں کہا کہ مالیگاؤں شہر میں اٗس وقت بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی جب مہا وترن تھی، لیکن اب حکومت نے بجلی کی فراہمی کی ذمہ داری نجی اجارہ داری کے طور پر کلکتہ پاور کمپنی کو سونپ دی ہے۔ لیکن اگر آپ کی کمپنی بھی لوڈ شیڈنگ کرے گی تو پرائیویٹ کمپنی و ٹھیکہ دار کو تعینات کرنے کا کیا فائدہ؟ اور ہمارے علم کے مطابق ایم پی ایس ایل اور مہاوترن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

آصف شیخ رشید نے کہا کہ آپ سے گزارش ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ فوری طور پر بند کی جائے، اگر پاورلوم کا کاروبار نہیں چلے گا تو پاور لوم مزدور روزگار کیلئے پریشان رہیگا اور جب پاور لوم ہی بند رہیگا تو دوسرے چھوٹے موٹے روزگار بھی نہیں چلیں گے، مزدوروں کے ساتھ بنکر سیٹھ، دکاندار غرض کہ ہر قسم کی تجارت و کاروبار کرنے والے پریشان ہونگے تو پھر آپ کا بجلی کا بل ادا نہیں ہوسکے گا، لہٰذا بجلی کے بل کی وصولی کے حوالے سے کوئی کارروائی نہ کریں۔آصف شیخ نے کہا کہ جسے بل بھرنا ہے وہ اپنی سہولت سے بل بھر بھریں کمپنی آن پر سختی نہ کریں ۔بجلی کمپنی کے دفتر میں وفد لیکر آصف شیخ رشید کیساتھ اسلم انصاری ،شکیل بیگ ،ابراہیم سائیکل والا، ایوب خان، فاروق قریشی وغیرہ موجود تھے ۔

Friday, 1 September 2023

انڈیا اتحاد کا آئندہ اجلاس دہلی یا بھوپال میں منعقد ہو سکتا ہے

ممبئی: مودی حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن اتحاد 'انڈیا' کا تیسرا اجلاس 31 اگست اور یکم اگست کو ممبئی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 28 جماعتوں کے 60 سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی۔ دریں اثنا، 13 رہنماؤں پر مشتمل کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم کنوینر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ 'انڈیا' اتحاد 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مرکز میں 'متکبر اور بدعنوان' بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو بے دخل کر دے گا۔
کون سی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں؟
انڈیا کے اجلاس میں کوآرڈنیشن کمیٹی سمیت پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ کوآرڈنیشن کمیٹی انتخابی حکمت عملی بنانے پر کام کرے گی۔ اس کے علاوہ پبلسٹی، میڈیا، سوشل میڈیا، ریسرچ وغیرہ کے حوالے سے بھی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ تمام کمیٹیوں میں اہم جماعتوں کے قائدین کو شامل کیا گیا ہے۔
کانگریس، عام آدمی پارٹی، شیو سینا-یو بی ٹی، نیشنل کانفرنس، جے ڈی یو، آر جے ڈی، این سی پی، ڈی ایم کے، پی ڈی پی، ایس پی، ترنمول کانگریس، جے ایم ایم کے قائدین کو 13 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اگر اس میں سی پی آئی ایم کے لیڈر کو بھی شامل کیا جاتا ہے تو اس کمیٹی کے 14 ارکان ہوں گے۔

مشن سورج: آدتیہ ایل 1 کی لانچنگ میں اب چند گھنٹے باقی

ایک طرف چندریان-3 چاند کی سطح پر اپنا نصف سے زیادہ سفر ختم کر چکا ہے اور اس دوران کئی طرح کی اہم جانکاریاں بھی بھیجی ہیں، اور دوسری طرف ’آدتیہ ایل 1‘ اپنے سفر کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کی لانچنگ میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں۔ ہفتہ یعنی 2 ستمبر کی صبح تقریباً 11.50 بجے اِسرو کا مشن سورج لانچ کیا جائے گا۔ لانچنگ کی تقریباً سبھی تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔ جب ملک کا پہلا سورج مشن اپنے قابل اعتبار پی ایس ایل وی پر سوار ہو کر سورج کی طرف اپنے سفر پر شری ہری کوٹا سے روانہ ہوگا تو اِسرو کی ایک اور شاخ کے ذریعہ تیار لیکوئڈ پروپلشن سسٹم آدتیہ ایل 1 مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھائے گا۔ لیکوئڈ اپوجی موٹر انجن کا استعمال مدار میں سیٹلائٹس وغیرہ کو نصب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
دراصل لیکوئڈ پروپلشن سسٹم سنٹر (ایل پی ایس سی) اِسرو کے لانچنگ طیارہ کے لیے لیکوئڈ پروپلشن مراحل کے ڈیزائن، ڈیولپمنٹ اور ریلائزیشن کا سنٹر ہے۔ لیکوئڈ کنٹرول والو، ٹرانسڈیوسر، ویکیوم کنڈیشنز کے لیے پروپیلنٹ مینجمنٹ سسٹم اور لیکوئڈ پروپلشن سسٹم کے دیگر اہم اجزاء کا ڈیولپمنٹ بھی اس سنٹر کے دائرے میں ہے۔
ایل پی ایس سی کی سرگرمیاں اور سہولیات اس کے دو احاطوں یعنی ایل پی ایس سی، ولیامالا، تروونت پورم اور ایل پی ایس سی، بنگلورو، کرناٹک میں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایل پی ایس سی کے ذریعہ تیار لیکوئڈ اپوجی موٹر ہندوستان کی اہم خلائی حصولیابیوں میں سیٹلائٹ/خلائی طیارہ پروپیلنٹ اہم رہا ہے۔ اس نے تین چندریان اور 2014 میں مریخ مشن میں اہم کردار نبھایا تھا۔ ایل پی ایس سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے اشرف نے بتایا کہ اب ہم آدتیہ ایل 1 مشن- آدتیہ خلائی طیارہ میں بھی ایک بڑا کردار نبھاتے ہیں۔ جس میں ایل اے ایم (لیکوئڈ اپوجی موٹر) نامی ایک بہت ہی دلچسپ، کثیر جہتی تھرسٹر ہے، جو 440 نیوٹن کا تھرسٹ فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایل اے ایم آدتیہ خلائی طیارہ کو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور واقع لینگریجین مدار میں نصب کرنے میں معاون ہوگا۔

مہاراشٹر: مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران تشدد

ممبئی: مہاراشٹر کے جالنا ضلع میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے پر جاری احتجاج جمعہ کو پرتشدد ہو گیا جس میں پولیس افسران سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ضلع کی امباڈ تحصیل میں دھولے-سولاپور روڈ پر بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے دھولے-جالنا ہائی وے پر کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور بسوں کو آگ لگا دی۔ تشدد کے دوران 42 پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے آج بروز ہفتہ (2 ستمبر) نندوربار، بیڈ اور جالنا میں بند کی کال دی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے امن کی اپیل کی اور تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ خیال رہے کہ مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرین منگل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ اور این سی پی (شرد پوار) دھڑے کے لیڈر انیل دیشمکھ نے اس واقعہ پر غم کا اظہار کیا ہے۔ دیشمکھ نے اے این آئی سے کہا ’’یہ افسوسناک ہے کہ جالنا میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے پرامن مارچ پر غیر انسانی طور پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ میں اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہوں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق، ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ریاستی حکومت مراٹھا برادری کو ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ کانگریس لیڈر اشوک چوہان نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت مراٹھا ریزرویشن پر اپنا موقف واضح کرے۔ سابق وزیر اعلیٰ چوہان نے کہا کہ انتروالی سارتھی گاؤں میں پولیس نے جو لاٹھی چارج کیا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔

تلے ہوئےکھانوں کا زیادہ استعمال کن بڑی بیماریوں کا سبب

تلے ہوئے یا ڈیپ فرائی کھانا پکانے کا ایک عام طریقہ ہے جو پوری دنیا میں استعمال ہوتا ہے۔ اسے اکثر ریستوراں اور فاسٹ فوڈ چینز کھانے کی تیاری کے فوری اور سستے طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مشہور تلے ہوئے کھانوں میں مچھلی، فرنچ فرائز، چکن سٹرپس اور چیز اسٹکس شامل ہیں، حالانکہ آپ کسی بھی چیز کو ڈیپ فرائی کرسکتے ہیں۔

بہت سے لوگ تلے ہوئے کھانوں کا ذائقہ پسند کرتے ہیں۔ لیکن ان تلے ہوۓ کھانوں میں کیلوریز اور ٹرانس فیٹ زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو زیادہ کھانے سے آپ کی صحت پر کافی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس بلاگ میں باہر کے تلے ہوئے کھانے آپ کے لیے کیوں خراب ہوتے ہیں؟ اور اس کے صحت پہ کیا اثرات ہوتے ہیں؟ جانتے ہیں۔

کیا تلے ہوئے کھانے یا غذائیں کیلوریز میں زیادہ ہوتی ہیں؟
کھانا پکانے کے دیگر طریقوں کے مقابلے میں، ڈیپ فرائنگ کھانے میں بہت زیادہ کیلوریز کا اضافہ کرتی ہے۔، تلے ہوئے کھانوں کو تلنے سے پہلے عام طور پر آٹے یا میدے میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جب کھانے کو تیل میں تلا جاتا ہے، تو ان تلے ہوئے کھانوں میں پانی کم ہو جاتا ہے اور چکنائی جذب ہو جاتی ہے، جس سے ان کی کیلوریز میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ عام طور پر، تلے ہوئے کھانوں میں چربی اور کیلوریز بغیر تلے ہوئے کھانوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہیں۔

۔1 فرنچ فرائز
مثال کے طور پر، ایک چھوٹا سا سینکا ہوا آلو (100 گرام) 93 کیلوریز اور 0 گرام چکنائی پر مشتمل ہوتا ہے، جب کہ اسی مقدار (100 گرام) فرنچ فرائز میں 319 کیلوریز اور 17 گرام چکنائی ہوتی ہے۔

فرنچ فرائز
مثال کے طور پر، ایک چھوٹا سا سینکا ہوا آلو (100 گرام) 93 کیلوریز اور 0 گرام چکنائی پر مشتمل ہوتا ہے، جب کہ اسی مقدار (100 گرام) فرنچ فرائز میں 319 کیلوریز اور 17 گرام چکنائی ہوتی ہے۔
۔2 تلی ہوئی مچھلی
ایک اور مثال کے طور پر، بیکڈ فش کے 100 گرام فائل میں 105 کیلوریز اور 1 گرام چربی ہوتی ہے، جب کہ گہرے تلی ہوئی مچھلی کی اتنی ہی مقدار میں 232 کیلوریز اور 12 گرام چربی ہوتی ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، تلی ہوئی اشیاء کھاتے وقت کیلوریز میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

عبد الکلام

ابو بکر زین العابدین عبد الکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تمل ناڈو میں پیدا ہوئے اور 27 جولائی 2015ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارت کے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔
ڈاکٹر عبد الکلام کا تعلق تمل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبد الکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبد الکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے دوران بھی عبد الکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبد الکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

معروف صحافی عبدالرحمان صدیقی اپنے مالک حقیقی سے جاملے

ممبئی:۔(محمدیوسف) یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی کہ معروف صحافی عبدالرحمان صدیقی( بہ حیثیت کارگزار ایڈیٹر)اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔تقریباً چالیس برس قبل ۱۹۸۲؍ میں عبدالرحمان صدیقی ایک صحافی کی حیثیت سے ممبئی آئے اورروزنامہ ہندوستان میں قیام کیا۔ بہ حیثیت مترجم روزنامہ ہندستان سے وابستہ ہوئے اور اپنا صحافتی سفر اسی اخبار سے شروع کیا ۔ساتھ ہی ساتھ کتابوں کا ترجمہ اور دوسرے مضامین ممبئی اور ملک کے بیشتر اخبارات میں ارسال کرتے تھے۔اس کے بعد شہر کے کئی بڑے اخبار دہلی اور کانپور کے اخبارات میں کام کرتے ہوئے اپنی صحافتی زندگی کے کم و بیش ۴۵؍ برس مکمل کر رہے تھے کہ آج شام(یکم ستمبر،بروز جمعہ) سات بجے جس اخبار( روزنامہ ہندستان) سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیاتھا اسی دفتر میںاچانک ملاقات کرنے آئے تھے گویا ان کی موت انہیں لے کر آئی تھی وہ آپریٹیر کے ساتھ بیٹھ کر آرٹیکل ٹائپ کروا رہے تھے اسی وقت ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور حرکت قلب بند ہونے سے قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ مرحوم ریاض الدین کی ادارت میںانقلاب میں کچھ عرصہ تک خدمات انجام دنے کے بعد اپنے آبائی وطن کانپور چلے گئے مگر وہاں بھی خاموش نہیں بیٹھے کانپور سے نکلنے والا روزنامہ سیاست نامی اخبار میں تین برسوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دینے کے بعددوبارہ ممبئی آئے اور ممبئی کے مشہور اخبارات میں خدمات انجام دیتے رہے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ دہلی کے چلے گئے،دہلی میں چند برس گزارنے کے بعد دوبارہ ممبئی آئے اور پھر اردو ٹائمز سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔۱۴؍ برسوں تک اردو ٹائمز میں صحافتی خدمات گزارنے کے بعد جب روزنامہ ممبئی اردو نیوزجاری ہوا تو اردو ٹائمز سے وہ یہاںبہ حیثیت نیوز ایڈیٹر کام کرنے لگے۔آخری دم تک بہ حیثیت کارگزار ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔مرحوم انگریزی اور ہندی سے ارد و میں ترجمہ کرنے میں ماہر تھے۔ ان کے اس سانحہ ارتحال پر ممبئی،کانپور،دہلی کی خصوصاً صحافتی برداری میں ایک خلائ سا محسوس کیا جا رہاہے۔پسماندگان میں ان کا ایک بیٹا ضیا ئ الرحمان اور اہلیہ شامل ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ مرحوم کی مغفرت کرتے ہوئے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔
شریک غم:۔سرفراز آرزو،عزیز اعجاز،فاروق انصاری،شاہد انصاری،اعظم شہاب، یوسف رانا، سعدیہ مرچنٹ، شحیم خان، ریحان انصاری، شکیل خان،ڈاکٹر علاو الدین،داود بھائی(حنفی ہاوس)، رئیس انصاری،ایڈوکیٹ شمشیر احمد شیخ،امتیاز شیخ،فہیم انصاری،مولانا عبدالسلام خان قاسمی،صدر و اراکین اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پترکار وکاس فاونڈیشن۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل* موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں م...