*کیا مڈ ٹرم الیکشن میں ہار مان چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ؟ ووٹنگ ہوئی بھی نہیں اور ویٹو کی کرنے لگے بات، آخر کیوں*
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 24 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، لیکن اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، ان سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں ان انتخابات سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ انتخابات سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اگلے سیاسی اقدامات کے حوالے سے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو وہ ان کے قانون سازی سے متعلق فیصلوں کو روکنے کے لیے صدر کے ویٹو کے اختیار کا استعمال کریں گے۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کے اب تک کے کاموں کو اپوزیشن پارٹی کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دیں گے۔
ٹرمپ نے یہ بات نیویارک پوسٹ کی صحافی مرانڈا ڈیوائن کے پوڈکاسٹ ’پوڈ فورس ون‘ میں گفتگو کے دوران کہی۔ بات چیت کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ اب میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کو اپنے کام کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ٹرمپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ انتخابات ان کے حق میں نہیں بھی جا سکتے ہیں۔
’ڈیموکریٹس جیت بھی گئے تو ویٹو کر دوں گا‘
ٹرمپ کے مطابق اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے، تب بھی وہ اپنی حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے راستے تلاش کریں گے۔ اس کے لیے وہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں شروع میں دونوں پارٹیوں کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس اپنے منصوبوں سے متعلق تجاویز صدر کے پاس بھیجیں گے اور ٹرمپ انہیں ویٹو کر دیں گے۔ تاہم، ٹرمپ کا خیال ہے کہ مسلسل ایک دو ماہ تک ایسا ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ بات چیت کے لیے آگے آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی کا عمل رکے رہنے سے دونوں فریقوں کا وقت ضائع ہوگا۔ ایسے میں بالآخر سمجھوتے اور بات چیت کا راستہ نکل سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہو۔
3 نومبر کو ہوں گے وسط مدتی انتخابات
امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج سے طے ہوگا کہ ٹرمپ کی صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں کانگریس کا کنٹرول کس پارٹی کے پاس رہے گا۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس کے پاس ڈیموکریٹس کی 214 نشستوں کے مقابلے میں 218 نشستیں ہیں، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز 47 کے مقابلے میں 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج ٹرمپ کی سیاسی طاقت اور آنے والے وقت میں ان کی حکومت کے فیصلوں کو کافی حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔
ریپبلکنز پر ڈیموکریٹس کیوں پڑ رہے ہیں بھاری؟
اب سوال یہ ہے کہ اکثریت میں رہنے والی ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس سے خوف کیوں محسوس ہو رہا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ماحول بنا ہوا ہے، جس کا ڈیموکریٹس کو بھرپور فائدہ مل رہا ہے۔ ایران جنگ میں امریکہ کو ہوئے نقصان کو لے کر عوام ناراض ہیں اور ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل آ رہی گراوٹ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ماحول مکمل طور پر ریپبلکن پارٹی کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن جس طرح سابق صدر براک اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں میدان میں اترے، اس نے ماحول بدل دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی ہر ناکامی کو انتخابی مسئلہ بنایا اور خاص طور پر ایران جنگ کے حوالے سے ان کا جم کر مذاق اڑایا۔
ٹرمپ کی کون کون سی پالیسیاں پڑ رہی ہیں الٹی؟
اگر یہ بات کریں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کون سی پالیسیاں اقتدار میں آنے کے محض ڈیڑھ سال کے اندر اتنی غلط ثابت ہوئیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کے خلاف ماحول بن گیا، تو ان کا جائزہ اس طرح لیا جا سکتا ہے:
ایران پر بغیر سوچے سمجھے حملہ: ایران پر حملہ کرنے اور آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خود امریکہ میں بھی مہنگائی اس وقت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔
دوستانہ ممالک سے تعلقات خراب کرنا: کینیڈا، کیوبا، برازیل اور ہندوستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا، جو امریکہ کی روایتی خارجہ پالیسی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی وجہ سے امریکی تجارت سے لے کر اسٹریٹجک سطح تک تبدیلیاں آئی ہیں۔
روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ: روس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر سخت ٹیرف اور پابندیاں لگانے کی دھمکیوں اور بعد میں اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹنے جیسی پالیسیوں نے سفارتی سطح پر مسلسل الجھن کی صورتِ حال پیدا کی ہے۔
درآمدی اشیا پر بھاری ٹیرف : ٹرمپ کی جانب سے درآمد کی جانے والی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی پالیسیوں پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی ہے۔ ناقدین نے ہی نہیں بلکہ عدالتی معاملات میں بھی ان پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی شراکت داروں کے ساتھ کشیدگی اور ملک کے اندر مہنگائی بڑھنے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔
*یوروپ میں Gen-Z کا غصہ پھوٹا، فرانس سے جرمنی تک مظاہرے، پولیس پر حملے اور لوٹ مار*
فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہفتے کے روز ہوئے بڑے پیمانے کے مظاہروں کے دوران گزشتہ دو ہفتوں کے اختتام پر ہونے والے احتجاج کے مقابلے میں تشدد کے واقعات کم رہے، جس سے حکام نے راحت کی سانس لی۔ تاہم، پیر کے روز اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد مزید مظاہرے ہونے کا خدشہ ہے۔ اس دوران جرمنی میں ہفتے کے روز ملک گیر مظاہروں کے بعد کچھ شہروں میں تشدد بھڑک اٹھا اور شرپسندوں نے پولیس پر حملے کرنے کے ساتھ دکانوں میں لوٹ مار بھی کی
یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہفتے کے روز لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔ کچھ مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے، تاہم زیادہ تر مقامات پر مظاہرے پُرامن رہے۔ پولیس نے بتایا کہ پیرس کے مشرقی حصے میں ہفتے کے روز مارچ ختم ہونے کے بعد بلوائیوں نے پولیس اہلکاروں پر پیٹرول بم پھینکے، جس سے تین افسران زخمی ہو گئے اور ایک کار میں آگ لگ گئی۔ شہر میں ایفل ٹاور کے سامنے واقع ایک سیاحتی مقام پر نقاب پوش افراد کے گروہوں نے پولیس اہلکاروں پر پٹاخے پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی
تاہم، اس بار 17 اور 24 اکتوبر کو ہوئے مظاہروں کے مقابلے میں تشدد کم رہا۔ گزشتہ 17 اکتوبر کو مظاہرے کے دوران میونسپل کارپوریشن کی ایک عمارت میں آگ لگا دی گئی تھی اور 2,000 سے زائد دکانوں میں لوٹ مار کی گئی تھی۔ پیرس اور مارسی کی پولیس نے بتایا کہ کچھ دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
جرمنی میں ہفتے کے روز ایک لاکھ سے زائد افراد نے پُرامن مظاہرے کیے۔ ان میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ مظاہرین نے حکومت سے تعلیم، رہائش اور ماحولیاتی تحفظ پر زیادہ رقم خرچ کرنے کے ساتھ روزمرہ زندگی کو مزید سستا اور قابلِ برداشت بنانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، کچھ شہروں میں رات کے وقت مظاہرے پُرتشدد ہو گئے۔
فرینکفرٹ میں مظاہرے کے بعد بلوائیوں نے شہر کے مرکزی علاقے میں پولیس پر حملہ کیا اور دکانوں میں لوٹ مار کی۔ اس دوران کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جبکہ 30 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے شہر کے مرکزی علاقے میں ایک حصے کی ناکہ بندی کر دی، جس کے بعد اتوار کی علی الصباح تک صورتِ حال پُرامن ہو گئی۔
فرینکفرٹ صوبہ ہیسے میں واقع ہے۔ صوبہ ہیسے کے گورنر بورس رائن نے کہا کہ ’’میں فرینکفرٹ میں پیش آئے پُرتشدد واقعات سے صدمے میں ہوں۔ اس کے ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔‘
ہفتے کی رات کولون میں بھی تشدد بھڑک اٹھا، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھاروں کا استعمال کیا۔ برلن میں مظاہرین نے پولیس پر بوتلوں اور آتش بازی میں استعمال ہونے والے سامان سے حملہ کیا۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کا اہتمام کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ’جن زی ریگلٹ‘ نے انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کا کسی بھی قسم کے تشدد یا مظاہروں میں شامل نہ ہونے والے دیگر گروہوں اور افراد کی پُرتشدد سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں سستے مکانات کی فراہمی کے مطالبے کو لے کر ہونے والے مظاہروں کے بعد انسدادِ فسادات پولیس نے رات کے وقت ایک چوک پر جمع مظاہرین کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے ہٹا دیا۔
ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کا قرض پر شہر ہر مکتب فکر ،ہر مسالک کے نامور شہرت یافتہ علماء کرام آخر اس پر خاموش کیوں ؟
از 🖊️ محمد آصف بنداس
9273019740
لمحہ فکریہ ! سماج و معاشرے میں جوا ، نشہ ،زنا، سود بیاذ کا لین دین حتی کے ہر برائی پر خطاب کرنے والے ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام آخر کیوں ورلڈ بینک سے 1000 ہزار کروڑ قرض جیسی ناسور نحوست پر خاموش کیوں ؟ کیوں ؟ کیوں ہے؟
کیا اسکا بوجھ ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام کی جیب پر نہیں ہوگا کیا؟ صرف عام عوام پر ہوگا اس لئے آپکی زبان بند ہے؟
مالیگاوءں کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 1100 کروڑ ہوچکا تو پھر کیوں شہر کی ترقی کے نام پر ورلڈ بینک سے قرض کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ اس نحوست ، لعنت پر شہرت یافتہ علماء کرام آخر کب لب کشائی کرینگے؟
شہر مالیگاوءں کی ترقی کے نام پر آج موجودہ کارپوریشن پر براجمان برسراقتدار ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کا قرض جو لائے ہیں یا لایا جایا جارہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ معاشرے میں آج ہر جمعہ ہر روز کہیں نہ کہیں شہرت یافتہ علماء کرام بالخصوص تاریخ کا معزز مطالعہ رکھنے والے " مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب اس سود بیاذ کی نحوست و لعنت پر خطاب کررہے ہیں ۔ دیگر مکتب ہر مسالک علماء کرام ہیں تو عوام کو اس سے بچنے کے لئے خطاب کررہے ہیں ۔ حتی کے ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام سود بیاذ کی نحوست پر خطاب کررہے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہیکہ آخر کا شہر کے آج کے برسراقتدار کے ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کے قرض لینے پر ان نامور شہرت یافتہ علماء کرام کیوں چپ ہیں کیوں ایک حوالہ بتانے کو تیار نہیں؟ گذشتہ ہفتہ ایک عالم ایک مفتی جو کہ پہلے حافظ عالم مفتی ہیں اور بعد میں شہر کے ایم ایل اے مگر یہ سود بیاذ کی نحوست کے خلاف سینکڑوں ہمدرد کو لیکر روڈ پر اتر کر جگہ جگہ احتجاج کئے مگر کیا آپ جیسے ہر مکتب فکر علماء روڈ پر آکر انکا ساتھ دئے۔ کیا احتجاج کئے جس طرح کے سرکاری نت نئے قانون کے خلاف جلسہ و احتجاج کرتے آئے۔ کیوں نہیں اس سود بیاذ کی نحوست پر روڈ پر آئے۔ اگر مولانا عمرین صاحب سمیت ، ہر دیگر اور ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء اگر اس خطرناک نحوست پر چپ ہیں تو عام عوام یہ سمجھے گی کہ یہ بوجھ ہمارے جیب پر مستقبل میں ٹیکس کے اضافے کی شکل میں آئے گا تو ہر مکتب فکر علماء کرام کے جیب پر بھی یہ بوجھ آئے گا۔ یعنی عام عوام اس نحوست کا سود ادا کرینگے تو ہر مکتب ہر مسالک کے علماء بھی ادا کرینگے۔ اگر انکے لئے اب یہ نحوست سود بیاذ جائز ہوتا ہے تو عام عوام کے لئے بھی جائز ہوگا۔ اگر انکا منہ بند ہے تو مطلب صاف ہیکہ انکے ساتھ عام عوام بھی سود بیاذ کا لین دین کرسکتی ہے۔ ہم اور سارے شہریان لین دین کرسکتی ہے۔
آخری میں پھر یہی سوال ہیکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر برائی جیسے مدعے پر اور سود بیاذ کی نحوست پر خطاب کرتے ہیں تو اس ہزار کروڑ ورلڈ بینک سے لئے جانے والے قرض پر منہ بند رہنا سود بیاذ سب کے لئے جائز ہوگیا ہم نے یہی سمجھنا آپ لوگوں کو جائز ہوگیا ہے تو اب عام عوام بھی اب سود بیاذ کا لین دین کرسکتی ہے۔