Sunday, 1 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*میرے لئے مذہب سے بڑی چیز ہندوستان کی آواز...‘ رام لیلا میدان ریلی سے راہل گاندھی کا بیان*


دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی میں راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر براہِ راست حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے انتباہی لہجے میں کہا کہ گیانیش کمار جیل جائے گا۔ انہوں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر، ہریانہ، کرناٹک سے لے کر لوک سبھا انتخابات تک بڑے پیمانے پر ووٹوں کی چوری ہوئی ہے اور ووٹر لسٹ سے نام کاٹ کر عوامی مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے۔

معاشی عدم مساوات کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی ساری دولت محض دو تین صنعت کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔ بڑے سرمایہ داروں کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض پلک جھپکتے ہی معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن جب کسی غریب مزدور کا بیٹا قرض مانگنے جاتا ہے تو اسے ذلیل کیا جاتا ہے۔ راہل نے واضح کر دیا کہ یہ لڑائی اب صرف انتخابات کی نہیں بلکہ ملک کے غریبوں کے حقوق اور جمہوریت کو بچانے کی ہے۔

راہل گاندھی نے جمہوریت اور بھائی چارے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے مذہب سے بھی بڑی چیز ہندوستان کی آواز ہے۔ انہوں نے مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے نریندر مودی ہوں، امت شاہ ہوں یا گیانیش کمار، ہم ان سے نفرت نہیں کریں گے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کریں گے۔ ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ کوئی دشمن نہیں ہوتا اور ہر کسی سے سیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

راہل نے کہا کہ ملک کے آخری شخص کی آواز کی حفاظت کرنا ہی اصل مذہب ہے، خواہ وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، خاتون ہو یا آدیواسی۔ آج پورا ملک چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اسے نفرت نہیں بلکہ بھائی چارہ چاہیے اور ’انڈیا‘ اتحاد ایسا کر کے دکھائے گا۔



*کیا ہے کرشک درگھٹنا کلیان یوجنا؟ کسانوں کو ملتی ہے 5 روپے کی مدد!، جانئے کیسے کریں اپلائی*

کھیتی باڑی کا کام جتنا محنت طلب ہے، اتنا ہی اس میں خطرہ بھی رہتا ہے۔ کبھی کھیت میں کام کرتے وقت سانپ کاٹ لیتا ہے، تو کبھی آسمانی بجلی گرنے یا مشین سے چوٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے حادثات میں اگر کسان کی جان چلی جائے یا وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے، تو پورے خاندان کے سامنے روزی روٹی کا بحران کھڑا ہو سکتا ہے۔ اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش حکومت پردھان منتری درگھٹنا کلیان یوجنا چلا رہی ہے۔ اس کے تحت حادثے میں کسان کی موت یا معذوری کی صورت میں اہل خاندانوں کو 5 لاکھ روپے تک کی مالی مدد دی جاتی ہے

بتادیں کہ اتر پردیش حکومت نے سال 2020 میں اس اسکیم کی شروعات کی تھی۔ اس کا مقصد حادثے کا شکار ہونے والے کسانوں اور ان کے خاندانوں کو مالی سہارا دینا ہے۔ اس اسکیم میں کھیت کے مالک کسانوں کے ساتھ بٹائی پر کھیتی کرنے والے اور پٹے کی زمین پر کھیتی کرنے والے اہل کسانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کن کسانوں کو ملے گا فائدہ؟
اس اسکیم کا فائدہ اتر پردیش کے 18 سے 70 سال کی عمر کے اہل کسانوں کو مل سکتا ہے۔ اس میں کھتونی میں درج زمین کے مالک، مشترکہ کھاتہ دار اور کھیتی باڑی سے اپنے خاندان کا خرچ چلانے والے افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بٹائی دار اور پٹے پر کھیتی کرنے والے کسان بھی طے شدہ شرائط کے تحت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

کتنی ملے گی مالی مدد؟
اسکیم کے تحت حادثے میں کسان کی موت ہونے پر اس کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔ وہیں، حادثے میں دونوں ہاتھ، دونوں پیر یا دونوں آنکھیں کھو دینے جیسی سنگین مستقل معذوری کی صورت میں بھی 5 لاکھ روپے تک کی امداد دینے کا انتظام ہے۔ جزوی معذوری کی صورت میں نقصان کی سنگینی اور مقررہ زمرے کے مطابق 1.25 لاکھ سے 2.5 لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔

کن حادثات میں ملے گا فائدہ؟
کھیت میں کام کرتے وقت سانپ کے کاٹنے، آسمانی بجلی گرنے، جانوروں کے حملے، زرعی مشین سے چوٹ لگنے، پانی میں ڈوبنے یا درخت سے گرنے جیسے حادثات اس اسکیم کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم، ہر معاملے میں حادثے اور اہلیت کی جانچ کی جاتی ہے۔

درخواست کیسے دیں؟
کسان یا ان کے اہل خانہ محکمۂ محصولات کے متعلقہ پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ لیکھ پال یا تحصیل دفتر سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

عام طور پر حادثے کے 45 دنوں کے اندر درخواست دینا ضروری ہوتا ہے۔

جانچ اور منظوری کے بعد امدادی رقم اہل شخص کے بینک کھاتے میں بھیج دی جاتی ہے۔

درخواست کے لیے کون سے دستاویزات درکار ہیں؟
کسانوں کو آدھار کارڈ، بینک پاس بک، کھتونی یا کھیتی باڑی سے متعلق دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔ موت کی صورت میں ضرورت کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس کے کاغذات طلب کیے جا سکتے ہیں۔ وہیں، معذوری کی صورت میں متعلقہ افسر کا سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا۔


*اپوزیشن ملک کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہاہے ، پی ایم مودی نے کہا، "ذہنی نکسلیوں" سے عوام رہیں ہوشیار*


وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی اتحاد کے دن کے موقع پر اپوزیشن پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرے لیکن بدقسمتی سے ملک میں اپوزیشن اب ’’رکاوٹ کرنے والی جماعت‘‘ بن چکی ہے۔ اپنی مایوسی سے اپوزیشن ملک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ یہ مخالفت نہیں بلکہ رکاوٹ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ آئین کو درکنار کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہم وطنوں کو متحد ہو کر ایسی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کون خفیہ طور پر بیرون ملک میٹنگ کر رہا ہے اور کون بھارت مخالف طاقتوں کی زبان بول رہا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ملک سے ’’ذہنی نکسلیوں‘‘ کا خطرہ ٹل نہیں سکا ہے۔ ملک کو ان کے خلاف ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔

نکسل ازم کی کمر ٹوٹ چکی ہے
وزیر اعظم نے نکسل ازم کے خلاف ملک کی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سردار پٹیل کے 150ویں یوم پیدائش پر ان کے چرنوں کے سامنے کھڑے ہوکر یہ عزم کیا تھا کہ جب تک ملک کو نکسل ازم اور ماؤ نواز دہشت گردی سے مکمل طور پر نجات نہیں دلادیتا وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ٹھیک ایک سال بعد آج ملک کا عزم پورا ہوا ہے۔ نکسل ازم کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں ملک کے 126 اضلاع بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثر تھے، لیکن مارچ 2026 تک ملک کا کوئی بھی ایسا ضلع نہیں ہوگا جو اب بھی نکسل ازم سے متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے تشدد اور خونریزی کا شکار یہ اضلاع اب ترقی کے دھارے کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سڑکیں پھیل رہی ہیں، موبائل نیٹ ورک پہنچ رہے ہیں، اور اسکول کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے نکسل متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو سلام پیش کیا جنہوں نے یوم اتحاد کی تقریبات میں حصہ لیا۔ انہوں نے ان بہادر سپاہیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔

سردار پٹیل نے 550 سے زیادہ ریاستوں کو متحد کیا
وزیر اعظم مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بغیر آج کے ہندوستان کا تصور کرنا مشکل ہے۔ سردار پٹیل نے ہندوستان کی موجودہ شکل کو تشکیل دیا اور، آزادی کے بعد، 550 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو متحد کیا، ملک کو ایک دھاگے میں پرو دیا۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل ہندوستان کے تنوع کو رکاوٹ نہیں بلکہ اتحاد کی حقیقی بنیاد سمجھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ملک کے جغرافیہ کو متحد کیا بلکہ جذباتی اتحاد کی بنیاد کو بھی مضبوط کیا۔ گجرات میں سومناتھ مندر کی تعمیر نو کے ذریعے، اس نے ملک کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کا آغاز بھی کیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ سومناتھ مندر کا جھنڈا 1000 سالوں سے فخر کے ساتھ لہرا رہا ہے۔

اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بدامنی کی آگ میں جل رہی ہے اور وسائل کا بحران بڑھ رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کا اتحاد ایک بہت بڑی طاقت ہے، جو ملک کو تمام طوفانوں سے نکالے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے ڈیزل اور پیٹرول کی خریداری پر بھی حدیں لگا رکھی ہیں۔ اسی طرح کے خدشات بھارت کے بارے میں بھی ظاہر کیے گئے تھے اور بھارت مخالف قوتیں بھی سرگرم ہو چکی تھیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ آزادی کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہے، کیونکہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ملک اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرتا ہے۔ تاہم، آزادی کی رہنمائی ایک جمہوریہ کرتی ہے۔ آئین اپنی حدود میں فیصلوں کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد ملک کو بحیثیت قوم ترقی کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

یوم یکجہتی عوام کی شرکت سے عوامی فخر کا جشن بن گیا
وزیراعظم نے کہا کہ اس سال قومی یکجہتی کا دن صبح کے بجائے شام کو منایا گیا۔ ایکتا نگر نے ہندوستان کے اتحاد کا ایک شاندار مظاہرہ دیکھا۔ انہوں نے نیشنل یونٹی پریڈ کو قابل ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بہادری اور حوصلے کے لیے وقف تھی۔ پریڈ اور ٹیبلوکس نے قوم کے ورثے اور امنگوں کی نمائش کی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ یوم یکجہتی اب صرف تقریبات تک محدود نہیں ہے، بلکہ عوامی شرکت کے ساتھ عوامی فخر کا جشن بن گیا ہے۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

تقریب اجراء کاروان شعور معروف تعلیمی شخصیت ڈاکٹر اسد اللہ خان کے تعلیمی و فکری مضامین پر مشتمل کتاب کارواں شعور کی تقریب اجراء 7...