*ایس جے شنکر کے ساتھ مضبوط رشتے اور تجارت پر بات چیت ، مارکو روبیو نے ہندوستان ۔ امریکہ تعلقات کی 10 اہم باتیں بتائیں*
بے حد قریب” ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے سے لے کر ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کے اچھے تال میل تک، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں متعدد مدعوں پر بات کی۔
اہم نکات اس طرح ہیں
مشکل دور کے بعد ایک اہم موڑ: روبیو نے کہا کہ جے شنکر کے ساتھ ان کے اچھے تال میل نے انہیں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کچھ نازک اور حساس مدعوں کو حل کرنے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے میں “زبردست مواقع” کا ذکر دیا۔
ایک تجارتی معاہدہ اب دسترس میں : انہوں نے کہا کہ ایک معاہدہ “بہت قریب” ہے اور “مہینوں نہیں بلکہ کچھ ہفتوں میں” ہونے کی امید ہے۔ اب صرف کچھ تکنیکی شرائط کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔ ٹیرف پر مہینوں کے تناؤ کے بعد، یہ اب تک کی سب سے مضبوط علامت ہے کہ ایک اہم پیش رفت قریب ہے۔
بھارت مخالف نفرت پر بھروسہ دلانے والی بات: انہوں نے اس تصور کو مسترد کر دیا کہ امریکہ میں بھارت مخالف جذبات “بہت زیادہ یا گہرے” ہیں۔ انہوں نے اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ لیڈروں کو کبھی بھی اس طرح کی نفرت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔
Quadپھر سے ٹریک پر: انہوں نے سال کے اختتام سے پہلے لیڈروں کے سربراہی اجلاس کی تصدیق کی جو کہ ستمبر 2024 کے بعد پہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے “مضبوط نتائج” حاصل ہوں گے نہ کہ صرف “اچھی سماجی ملاقات” بن کر رہ جائے گی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بطور وزیر خارجہ ان کا پہلا کام کواڈ میٹنگ میں شرکت کرنا تھا۔
بھارت ایک ترجیحی شراکت دار: انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ، امریکہ کی طرف سے “اب بھی معقول توجہ نہیں دی جارہی ہے۔” انہوں نے متواتر دوروں کا حوالہ دیا، بشمول ان کے اپنے، اٹارنی جنرل، کامرس سیکرٹری، اور امریکی قانون سازوں کے وفد کے دورے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود پھر سے ہندوستان کا دورہ کرنا چاہیں گے۔
روسی تیل پر تفہیم: انہوں نے ہندوستان کو کوئی نصیحت نہیں کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پابندیاں روس کے علاوہ دیگر ممالک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ٹرمپ نے گھریلو تنقید کے باوجود نئے ٹیرف لگانے سے گریز کیا، یہ کہتے ہوئے، “میں سمجھتا ہوں کہ تناؤ موجود ہے۔”
ہندوستان کے اپنے مفادات کا احترام: انہوں نے تسلیم کیا کہ ہندوستان " اپنے لئے جو صحیح ہے وہ کرے گا اور اس کے لئے لڑے گا۔" انہوں نے امریکہ بھارت تعلقات کو ایک ایسے دوست اور اتحادی کے طور پر بیان کیا جن میں “بہت کچھ مشترک” ہے اور وہ اپنے اختلافات پر قابو پا سکتے ہیں۔
جے شنکر کے ساتھ ذاتی تعلق: انہوں نے انہیں “جئے” کہہ کر مخاطب کیا، ان کے ساتھ “بہت اچھے تعلقات” کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ کم از کم ایک درجن بار ملے ہیں اور “ہمیشہ ملنے کا وقت نکال ہی لیتے ہیں۔”
توانائی کے شعبہ میں نئی شراکت: ہندوستان کو توانائی کی فراہمی کے ذرائع کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے، انہوں نے (Western Hemisphere)سے تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی — جس میں وینزویلا کا خام تیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے امریکی ریفائننگ کی صلاحیت میں سرمایہ کاری کے لیے ریلائنس کی بھی تعریف کی اور اسے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔
ہندوستانی ملاحوں کے لیے تعزیت: انھوں نے تسلیم کیا کہ بحری جہازوں پر ایرانی حملوں میں “کئی ہندوستانی ملاح” مارے گئے ہیں ۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی مؤقف میں ہندوستان کے نقصانات کو اہم مدعہ بنایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ “ہر رات” بحری جہازوں کی حفاظت کرتا ہے۔
*امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان*
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب نفرت پر مبنی جرائم کی بات آتی ہے تو امریکی انتظامیہ نہ تو ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور نہ ہی ان کونظر انداز کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی بہانہ بناتی ہے۔
جب ان سے الینوئس میں ایک ہندو مندر پر حملہ کرنے کی سازش اور نسلی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا، “بدقسمتی سے ایسا صرف امریکہ میں نہیں ہوتا، ایسی چیزیں دنیا بھر کے ہر معاشرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے- کبھی جہالت، کبھی نفرت۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے حملے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔“کچھ حملے دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔امریکہ بھی اس سے اچھوت نہیں ہے۔
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان
مارکو روبیو کہتے ہیں، “…سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی اکثریت واضح طور پر تسلیم کرتی ہے کہ ایسی چیزیں کتنی غلط ہیں…”
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : October 20, 2026, 11:13 pm IST
Published by : H.W. Karim
امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان
ADVERTISEMENT
متعلقہ ویڈیو
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی
Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب نفرت پر مبنی جرائم کی بات آتی ہے تو امریکی انتظامیہ نہ تو ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور نہ ہی ان کونظر انداز کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی بہانہ بناتی ہے۔
جب ان سے الینوئس میں ایک ہندو مندر پر حملہ کرنے کی سازش اور نسلی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا، “بدقسمتی سے ایسا صرف امریکہ میں نہیں ہوتا، ایسی چیزیں دنیا بھر کے ہر معاشرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے- کبھی جہالت، کبھی نفرت۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے حملے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔“کچھ حملے دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔امریکہ بھی اس سے اچھوت نہیں ہے۔
ADVERTISEMENT
متعلقہ خبریں
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
"ایس جے شنکر کے ساتھ ہمارا تال میل بہت اچھا ہے، مارکو روبیو کا بیان
ایس جے شنکر کے ساتھ مضبوط رشتے اور تجارت پر بات چیت: مارکو روبیو
ایران بنیاد پرست شیعہ علماء کے کنٹرول میں ہے: مارکو روبیو نے ایران کو کیا خبردار
انہوں نے کہا، “مجھے نہیں لگتا، اور نہ ہی میں نے کبھی محسوس کیا ہے کہ امریکہ میں ہندوستان مخالف جذبات وسیع یا گہرے ہیں۔ لیکن، کسی بھی بڑے اور پیچیدہ معاشرے کی طرح، ہمارے ملک میں بھی کچھ لوگ ہیں - افسوس کی بات ہے کہ - جو بے وقوف، ، جاہل، یا نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ تاہم، مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ ہماری کمیونٹیز اس طرح کے واقعے کے ہونے پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے آس پاس کی دوسری کمیونٹیز بھی جو متحد ہو کر اس طرح کے واقعات کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔
" انہوں نے کہا، “مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب وسکونسن میں سکھ کمیونٹی کے ساتھ ایک خوفناک واقعہ پیش آیا تھا، اور کس طرح پوری کمیونٹی نے ان کی حمایت میں ریلی نکالی تھی، تو یہ چیزیں ہوتی ہیں، امریکہ میں یہودی (antisemitism)مخالفت بڑھی ہے، ہم نے اسے بھی دیکھا ہے، یہ بہت تشویشناک ہے۔ اس لیے، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر ہم توجہ دیتے ہیں اور مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ملک کا بڑا حصہ واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ یہ چیزیں کتنی غلط ہیں ۔ ساتھ ہی ہم میں سے جو لوگ ذمہ دار عہدوں پر ہیں وہ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرتے جو اس طرح کے واقعات کی حوصلہ افزائی۔ انہیں صحیح ٹھہرایا جائے یا ان کی ان دیکھی کی جائے ۔
*کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب*
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ سربراہی اجلاس رواں سال کے آخر میں منعقد ہونے کا امکان ہے، حالانکہ ابھی تک اس کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : October 20, 2026, 11:01 pm IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
ADVERTISEMENT
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ سربراہی اجلاس رواں سال کے آخر میں منعقد ہونے کا امکان ہے، حالانکہ ابھی تک اس کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔
نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر اِن چیف راہل جوشی کو ایک خصوصی انٹرویو میں جب کواڈ سربراہی اجلاس اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ ہندوستان کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا کہ ’’ہماری امید ہے کہ کواڈ سربراہی اجلاس اس سال کے اختتام سے پہلے منعقد ہو جائے گا۔ اب اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ہم یہ اجلاس کریں گے۔ یہ اجلاس منیلا میں آسیان کانفرنس کے موقع پر منعقد ہوگا۔ ابھی ہمارے پاس کوئی مخصوص تاریخ نہیں ہے، لیکن یہ اجلاس ضرور ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کواڈ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ’’پرجوش‘‘ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اس گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اس کے بعد سے اب تک ہماری سات یا آٹھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ جی 20 کے موقع پر اٹلانٹا میں ہماری ایک اور ملاقات ہونے والی ہے، اور ہم چند ہفتوں بعد یہاں آسیان کے موقع پر ہونے والے رہنماؤں کی سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کے منتظر ہیں۔‘‘ تاہم، انہوں نے واضح طور پر ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ ہندوستان کا ذکر نہیں کیا۔
کواڈ سربراہی اجلاس کی میزبانی اصل میں 2025 میں ہندوستان کو کرنی تھی، لیکن اس میں تاخیر ہو چکی ہے اور چاروں رکن ممالک اب تک سالانہ اجلاس منعقد نہیں کر سکے ہیں۔ کواڈ کا آخری سربراہی اجلاس 21 ستمبر 2024 کو امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن کی میزبانی میں ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں منعقد ہوا تھا۔
ہند بحرالکاہل خطے میں سلامتی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کے درمیان کواڈ کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایران تنازع اور عالمی تجارتی راستوں پر جاری کشیدگی کے پس منظر میں اس سال اس گروپ کی بات چیت کو مزید جغرافیائی و سیاسی اہمیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
تاہم، ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت نے کئی طریقوں سے کواڈ کو متاثر کیا ہے۔ ان میں اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی کشیدگی، ٹیرف کے معاملے پر اختلافات، اسٹریٹجک خودمختاری سے متعلق اختلافِ رائے اور لین دین پر مبنی نتائج پر زیادہ توجہ شامل ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر ٹرمپ کی طرف سے ہندوستانی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔