Tuesday, 6 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*


*اننت امبانی نے ملک میں کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود میں تبدیلی کیلئے قومی پہل کا کیا آغاز*

عالمی یومِ حیوانات کے موقع پر ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم سماجی کارکن اننت ایم امبانی نے ’چیمپئنز آف کیئر‘ کے نام سے ونتارا کی ایک نئی پہل کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عملی اور پائیدار حل کے ذریعے کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اس پہل کے تحت ہندوستان کی 50 سے زائد جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے، جو کمیونٹی کے کتوں، بلیوں اور بڑے جانوروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کی جانب سے ویٹرنری اسپتال کی خدمات، موبائل ریسکیو اور ویٹرنری سہولیات کے ساتھ ساتھ جانوروں کی طویل مدتی نگہداشت بھی فراہم کی جاتی ہے

اننت امبانی نے ملک میں کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود میں تبدیلی کیلئے قومی پہل کا کیا آغاز
’چیمپئنز آف کیئر‘ کے تحت ملک بھر کی 50 سے زائد جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے، جس کا مقصد جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی مدد کے ذریعے کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔



اننت امبانی نے ملک میں کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود میں تبدیلی کیلئے قومی پہل کا کیا آغاز

نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو
نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو

اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی منگنی تقریب میں لگا ستاروں کا تانتا، دیکھئے ویڈیو
اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی منگنی تقریب میں لگا ستاروں کا تانتا، دیکھئے ویڈیو

Anant ambani visit Dwarkadhish temple: اننت امبانی نے دوارکادھیش مندر کا دورہ کیا
Anant ambani visit Dwarkadhish temple: اننت امبانی نے دوارکادھیش مندر کا دورہ کیا

ٰVideo:نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو
ٰVideo:نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو

اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی منگنی تقریب میں لگا ستاروں کا تانتا، دیکھئے ویڈیو
اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی منگنی تقریب میں لگا ستاروں کا تانتا، دیکھئے ویڈیو

Anant ambani visit Dwarkadhish temple: اننت امبانی نے دوارکادھیش مندر کا دورہ کیا
Anant ambani visit Dwarkadhish temple: اننت امبانی نے دوارکادھیش مندر کا دورہ کیا

ٰVideo:نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو
ٰVideo:نیتاامبانی وارانسی پہنچ گئیں، بابا وشوناتھ کو بیٹے اننت کی شادی کی دی دعو

جام نگر (گجرات): عالمی یومِ حیوانات کے موقع پر ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم سماجی کارکن اننت ایم امبانی نے ’چیمپئنز آف کیئر‘ کے نام سے ونتارا کی ایک نئی پہل کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عملی اور پائیدار حل کے ذریعے کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اس پہل کے تحت ہندوستان کی 50 سے زائد جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے، جو کمیونٹی کے کتوں، بلیوں اور بڑے جانوروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کی جانب سے ویٹرنری اسپتال کی خدمات، موبائل ریسکیو اور ویٹرنری سہولیات کے ساتھ ساتھ جانوروں کی طویل مدتی نگہداشت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں
’مجھے آندھرا کا بیٹا سمجھیں‘: اننت امبانی نے ریلائنس کی مکمل حمایت کا یقین دلایا
لال باغچا راجا کے چرنوں میں مکیش امبانی نے جھکایا سر
ونتارا کا عالمی وژن: انڈونیشیا کی حیرت انگیز حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مشن کا آغاز
ونتاراکی پہل سے بنی میں لوٹی رونق،یوم آزادی پر20کالے ہرنوں کودوبارہ ملاان کا ’قدرتی مسکن‘
ADVERTISEMENT

چیمپئنز آف کیئر کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ہر کمیونٹی جانور دیکھ بھال، تحفظ اور عزت کا حق دار ہے۔ اس میں سڑکوں پر رہنے والے کتے اور بلیاں، لاوارث اور کام کرنے والے جانور، جیسے مویشی، گدھے اور گھوڑے، نیز وہ جانور بھی شامل ہیں جنہیں زخمی ہونے، لاوارث چھوڑے جانے یا غفلت کے بعد ریسکیو کیا گیا ہو۔

ایسے بہت سے جانوروں کو ویٹرنری علاج، پناہ گاہ، خوراک اور طویل مدتی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہیں کمیونٹی کے کتوں اور بلیوں کے لیے ذمہ دارانہ آبادی کنٹرول بھی ضروری ہے، جس میں جانوروں کی افزائشِ نسل پر قابو پانے کے پروگرام شامل ہیں۔

اس پروگرام میں اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا (AWBI) کے آٹھ ارکان نے بھی شرکت کی۔ AWBI ملک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے قائم قانونی مشاورتی ادارہ ہے۔ اس پہل کے ذریعے اندازہ ہے کہ ملک بھر میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ جانوروں تک رسائی حاصل کی جا سکے گی اور انہیں ویٹرنری علاج، ریسکیو، پناہ، خوراک اور طویل مدتی نگہداشت سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔

اس موقع پر اننت امبانی نے کہا کہ ہر روز بے شمار لوگ خاموشی سے ضرورت مند جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اکثر ان کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں اور ان کے کام کو بہت کم پذیرائی ملتی ہے، لیکن ان کے دلوں میں بے پناہ ہمدردی ہوتی ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مہربانی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور ہر زندگی دیکھ بھال، تحفظ اور عزت کی مستحق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیمپئنز آف کیئر کے ذریعے ہم اس کام میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے، کمیونٹی جانوروں کے لیے دستیاب دیکھ بھال کو مضبوط بنانے اور ایک زیادہ ہمدرد ہندوستان کی تعمیر میں مدد کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارے لیے ’ہر زندگی اہم ہے‘ کا حقیقی مطلب یہی ہے۔

وہیں AWBI کے سابق چیئرمین اور موجودہ رکن ایس پی گپتا نے کہا کہ میں اننت امبانی جی کے وژن اور قیادت کی دل سے قدر کرتا ہوں، جنہوں نے چیمپئنز آف کیئر کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں دنیا بھر کا سفر کر چکا ہوں، لیکن بہت کم ایسے جانوروں کی دیکھ بھال کےانہوں نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ ان کی ذاتی کوشش نے متاثر کیا کہ انہوں نے تنظیموں کی بات سنی، زمینی سطح پر درپیش ان کے مسائل کو سمجھا اور ان کے لیے عملی اور پائیدار حل پیش کیے۔ ان تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر وہ نہ صرف ان کی لگن کو تسلیم کر رہے ہیں بلکہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ان کی اجتماعی صلاحیت کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ یہ پہل ملک بھر میں کمیونٹی جانوروں کے لیے ایک زیادہ ہمدرد مستقبل کی جانب ایک بامعنی قدم ہے۔

مفاہمت نامہ پر دستخط
ونتارا میں منعقد ہونے والی دو روزہ میٹنگ کا مقصد محض ایک رسمی اجلاس تک محدود نہیں تھا۔ پہلے روز وفود نے ونتارا کا براہِ راست دورہ کیا اور دیکھا کہ خصوصی سہولیات، نظام اور طریقۂ کار کے ذریعے ہمدردی کو عملی نگہداشت میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔ وفود نے ریسکیو کیے گئے ہاتھیوں اور بڑے گوشت خور جانوروں، جن میں شیر، ببر شیر اور تیندوے شامل ہیں، کی دیکھ بھال کے لیے مختص سہولیات کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایسے قدرتی ماحول کا بھی مشاہدہ کیا جہاں بائسن، زیبرا اور ہرن کی مختلف اقسام جیسے آزادانہ نقل و حرکت کرنے والے سبزی خور جانوروں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

اس دورے کے دوران وفود کو یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ معیاری خوراک، ویٹرنری نگہداشت، رہائش، سرگرمیوں اور پوری زندگی کی دیکھ بھال کس طرح مل کر جانوروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتی ہے۔ ان میں سے بہت سے اصول کمیونٹی جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے بھی یکساں طور پر اہم ہیں۔ مراکز دیکھے ہیں جہاں جانوروں کے لیے اتنی جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی دستیاب ہوں اور نگہداشت کا معیار اس سطح کا ہو جس کی ہم انسانوں کے لیے خواہش رکھتے ہیں۔


دوسرے روز توجہ باہمی رابطے، مکالمے اور تعاون پر مرکوز رہی۔ شریک تنظیموں نے اپنے تجربات شیئر کیے، مشترکہ چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور ان شعبوں کی نشاندہی کی جہاں انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ تمام شرکا نے مل کر علم، مہارت، صلاحیتوں اور وسائل کے تبادلے کے ذریعے حل تلاش کرنے پر غور کیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ باہمی تعاون جانوروں کی دیکھ بھال کے دوران درپیش بہت سے مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس پروگرام کا ایک اہم سنگِ میل ونتارا اور تمام شریک جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط تھا۔ اس کے ذریعے کمیونٹی جانوروں کی فلاح و بہبود کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے مشترکہ عزم کو باضابطہ شکل دی گئی۔ اس مفاہمت کے تحت تعاون، علم کے تبادلے، صلاحیتوں میں اضافے اور عملی مدد کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تنظیمیں زمینی سطح پر درپیش ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ طور پر حل تلاش کر سکیں گی۔

پروگرام کے اختتام کے قریب ہر شریک تنظیم کو اننت امبانی کے دستخط والا تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔ ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے جانوروں کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کے لیے ان تنظیموں کی لگن اور ان کی مسلسل محنت کو سراہا گیا۔

*فام 6 میں تبدیلی کس نے کی؟ چیف جسٹس سوریہ کانت کا بڑا تبصرہ، الیکشن کمیشن کو ملی SIR والی وارننگ*


نئی دہلی : پہلی بار ووٹر بننے کے لیے استعمال ہونے والے فام-6 میں تبدیلی پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فام-6 میں کسی بھی تبدیلی کو منظوری نہیں دی ہے۔ CJI نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہ دیکھا جائے گا کہ آخر یہ تبدیلی کس نے کی تھی؟ سپریم کورٹ میں پیر کو CJI کی سربراہی والی تین رکنی بنچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران عرضی گزاروں کی جانب سے دلیل دی گئی کہ الیکشن کمیشن نے آن لائن پورٹل پر فام-6 میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں، جنہیں قانونی منظوری حاصل نہیں تھی۔

فام-6 میں کیا تبدیلی کی گئی تھی؟
فام-6 نئے ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے بھرا جاتا ہے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نے دلیل دی کہ دہلی میں SIR کے دوران فام-6 میں دو نئی شرائط شامل کی گئی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تبدیل شدہ فارمز کی بنیاد پر ہی نئے ووٹروں کو نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

عرضی گزاروں کے مطابق فام میں پہلی بار جو نیا سیکشن جوڑا گیا، اس میں درخواست گزار کے والدین سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھیں۔ خاص طور پر یہ بتانے کے لیے کہا گیا تھا کہ آیا والدین گزشتہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ میں شامل تھے یا نہیں۔ وکیل کے مطابق انہیں بھی ایک نوٹس موصول ہوا تھا۔ اب اسی فام کی بنیاد پر نئے ووٹروں کو فہرست میں شامل نہیں کیا جا رہا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کے تحت مقررہ فام-6 میں سرکاری طور پر کوئی ترمیم نہیں کی گئی تھی۔ تنازع اس بات کو لے کر ہے کہ جب سرکاری طور پر کوئی ترمیم نہیں ہوئی تو آن لائن پورٹل پر کس بنیاد پر تبدیلی کی گئی۔

CJI نے کہا: ہم دیکھیں گے تبدیلی کس نے کی؟
سماعت کے دوران سینئر وکیل مینکا گرو سوامی کی دلیل پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا کہ فام-6 میں کی گئی کسی بھی تبدیلی کو سپریم کورٹ نے منظوری نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا گیا تھا یا نہیں۔ اگر غیر قانونی طریقے سے تبدیلی کی گئی ہے تو یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اسے کس نے کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات
یہ معاملہ وکیل شیلندر منی ترپاٹھی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی سے متعلق ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ڈائریکٹر جنرل، آئی ٹی کے ساتھ مل کر جولائی 2026 میں ECINET پورٹل پر فام-6 میں تبدیلی کی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے اسے غیر مجاز اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم واپس لینے کی اپیل کی تھی۔ اس کے باوجود یہ فام پورٹل پر دستیاب رہا۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، عرضی میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں کے لیے قانونی طور پر مقرر فام-6 میں رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 میں ترمیم کیے بغیر غیر قانونی تبدیلی کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں متعلقہ شخص کی انفرادی فوجداری ذمہ داری بھی طے کی جا سکتی ہے۔


*پی ایف کلیم مسترد ہوگیا؟ ان 5 بڑی غلطیوں کی وجہ سے اٹک سکتا ہے آپ کا پیسہ*


پی ایف کی رقم ضرورت کے وقت بڑی مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ ملازمت تبدیل کرنے، علاج، شادی، گھر خریدنے یا دیگر ضروری اخراجات کے لیے ملازمین EPFO کے قوانین کے تحت اپنے PF سے رقم نکال سکتے ہیں۔ اب زیادہ تر لوگ اس کے لیے آن لائن کلیم کرتے ہیں، جس سے یہ عمل آسان ہو گیا ہے۔ لیکن درخواست دینے کے بعد اگر کلیم مسترد ہو جائے تو پریشانی بڑھ جاتی ہے۔

کئی بار کلیم مسترد ہونے کی وجہ کوئی بڑی غلطی نہیں، بلکہ ریکارڈ میں موجود کسی معمولی معلومات کا غلط ہونا ہوتا ہے۔ آدھار، UAN، بینک اکاؤنٹ اور KYC سے متعلق معلومات میں فرق ہونے کی صورت میں تصدیق کا عمل رک سکتا ہے۔ اسی طرح ملازمت سے متعلق معلومات اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بھی دشواری پیش آ سکتی ہے۔ ایسے میں دوبارہ کلیم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پچھلی درخواست آخر کس وجہ سے مسترد ہوئی تھی۔

آدھار، UAN اور بینک کی معلومات میں فرق
PF کلیم کے دوران آپ کی شناخت سے متعلق معلومات کا مختلف ریکارڈ سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اگر UAN میں درج نام یا تاریخ پیدائش آدھار سے مختلف ہے تو کلیم میں پریشانی آ سکتی ہے۔ بینک اکاؤنٹ میں درج نام مختلف ہونے کی صورت میں بھی تصدیق کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے کلیم کرنے سے پہلے آدھار اور UAN میں نام، تاریخ پیدائش جیسی معلومات ضرور چیک کر لیں۔ اگر کسی قسم کا فرق ہے تو پہلے ریکارڈ درست کروانا بہتر ہے۔

بینک اکاؤنٹ میں غلطی یا اکاؤنٹ بند ہونا
PF کی رقم اسی بینک اکاؤنٹ میں بھیجی جاتی ہے جو EPFO کے ریکارڈ میں درج اور تصدیق شدہ ہو۔ اگر بینک اکاؤنٹ نمبر یا IFSC غلط ہے یا EPFO میں درج اکاؤنٹ بند ہو چکا ہے تو رقم منتقل نہیں ہو سکے گی۔ ایسی صورت میں بینک کی درست اور فعال تفصیلات EPFO کے ریکارڈ میں اپ ڈیٹ کرانا ضروری ہے۔ بینک سے متعلق معلومات میں غلطی ہونے کی صورت میں صرف دوبارہ کلیم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

KYC اور ملازمت سے متعلق ریکارڈ نامکمل ہونا
آدھار، PAN اور بینک جیسی ضروری KYC معلومات مکمل یا تصدیق شدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی کلیم رک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کی جانب سے PF ریکارڈ میں درج ملازمت شروع کرنے کی تاریخ یا ملازمت چھوڑنے کی تاریخ میں غلطی ہونے پر بھی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر Date of Exit اپ ڈیٹ نہ ہونے کی صورت میں کچھ PF کلیمز میں پریشانی آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پہلے آجر یا متعلقہ ریکارڈ کو درست کروانا ضروری ہو سکتا ہے۔

غلط کلیم یا اہلیت کی شرائط پوری نہ ہونا
PF سے رقم نکالنے کے مختلف قوانین ہیں اور ہر طرح کی رقم نکالنے کے لیے الگ شرائط ہو سکتی ہیں۔ درخواست دیتے وقت غلط کلیم ٹائپ یا غلط وجہ منتخب کرنے پر درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ملازم متعلقہ رقم نکالنے کے لیے ضروری اہلیت پوری نہیں کرتا یا مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہوتیں تو بھی کلیم منظور نہیں ہوگا۔ اس لیے درخواست دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جس مقصد کے لیے PF کی رقم نکالی جا رہی ہے، اس کے لیے آپ قوانین کے مطابق اہل ہیں یا نہیں۔

کلیم مسترد ہونے کی وجہ معلوم نہ ہونا
اس کے علاوہ اگر پہلے سے کوئی PF کلیم زیرِ کارروائی ہے یا پرانے PF اکاؤنٹ سے متعلق ٹرانسفر مکمل نہیں ہوا ہے تو نئی درخواست بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بلاوجہ دوسرا کلیم کرنے کی بجائے پہلے پرانی درخواست کی صورتحال چیک کرنا بہتر ہے۔

اگر آپ کا PF کلیم مسترد ہو گیا ہے تو سب سے پہلے EPFO پورٹل پر جاکر اس کا اسٹیٹس اور مسترد کیے جانے کی وجہ دیکھیں۔ وجہ معلوم ہونے کے بعد ہی متعلقہ ریکارڈ میں ضروری اصلاح کریں۔ اس کے بعد دوبارہ درخواست دینے سے کلیم کے دوبارہ رکنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

🛑*سیف نیوز بلاگر*

*آبنائے ہرمز نہیں کھلا تو تیل کیلئے ترس جائے گی دنیا ... سعودی ارامکو کے سی ای او نے کیوں کہی یہ بات* نئی دہلی : سعودی آرامکو ک...