*ایران نے ’میزائل مین‘ کو بنایا وزیر دفاع، آتے ہی امریکہ کو دے ڈالی بڑی دھمکی، آبنائے ہرمز میں 7 دنوں میں 14 جہازوں حملہ*
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنا نیا وزیر دفاع مقرر کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری ملتے ہی مہرداد اخلاقی کتابچی نے امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں پہلے کے مقابلے میں کافی مضبوط ہو چکی ہیں۔ کتابچی میزائل کے ماہر ہیں۔ اسی دوران ایران کے اطراف سمندری کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقوں میں ایک ہفتے کے اندر تقریباً 14 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔ ایران نے اگلے سال اپنا مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ بھاری لڑاکا طیارہ اڑانے کا بھی اعلان کیا ہے
Back
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
Facebook
Whatsapp
Telegram
Twitter
INSTALL APP
ایران نے ’میزائل مین‘ کو بنایا وزیر دفاع، آتے ہی امریکہ کو دے ڈالی بڑی دھمکی، آبنائے ہرمز میں 7 دنوں میں 14 جہازوں حملہ
عہدہ سنبھالنے کے بعد مہرداد اخلاقی کتابچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی اور غلط قدم اٹھایا تو ایران کی جانب سے بڑا اور حیران کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کے علاقائی اور عالمی نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہوگی۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : October 19, 2026, 11:36 am IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
ایران نے ’میزائل مین‘ کو بنایا وزیر دفاع، آتے ہی امریکہ کو دے ڈالی بڑی دھمکی، آبنائے ہرمز میں 7 دنوں میں 14 جہازوں حملہ
ADVERTISEMENT
متعلقہ ویڈیو
Israel Houthi War: حوثیوں نے میزائل اور ڈرون سے اسرائیل پر حملہ کیا
Israel Houthi War: حوثیوں نے میزائل اور ڈرون سے اسرائیل پر حملہ کیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کا حکم
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کا حکم
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے
Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے
Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان
Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان
Middle East War: ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سر درد بنا ایران
Middle East War: ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سر درد بنا ایران
Israel Houthi War: حوثیوں نے میزائل اور ڈرون سے اسرائیل پر حملہ کیا
Israel Houthi War: حوثیوں نے میزائل اور ڈرون سے اسرائیل پر حملہ کیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کا حکم
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کا حکم
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے
Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنا نیا وزیر دفاع مقرر کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری ملتے ہی مہرداد اخلاقی کتابچی نے امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں پہلے کے مقابلے میں کافی مضبوط ہو چکی ہیں۔ کتابچی میزائل کے ماہر ہیں۔ اسی دوران ایران کے اطراف سمندری کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقوں میں ایک ہفتے کے اندر تقریباً 14 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔ ایران نے اگلے سال اپنا مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ بھاری لڑاکا طیارہ اڑانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ADVERTISEMENT
نئے وزیر دفاع نے سنبھالی کمان، امریکہ کو دی وارننگ
متعلقہ خبریں
ایرانی طیارہ کے اندر بیٹھے تھے مسافر، استنبول ایئرپورٹ پر ہوگیا ضبط، ہائی ولٹیج ڈراما
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف ٹرمپ کی چال ناکام ، روس اور چین بنے ڈھال
ایران اور عمان کے درمیان ہوا ایسا معاہدہ، ہندوستان کی لگ گئی لاٹری، ہرمز کی پریشانی ختم
ہندوستان آکر دو ’دشمنوں‘ نے کیسے ملایا ہاتھ؟ ایران–یو اے ای کے درمیان برکس میں ہوا کرشمہ
ایران کی پارلیمنٹ نے مہرداد اخلاقی کتابچی کو نیا وزیر دفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ جاری بیان کے مطابق، ووٹنگ میں مجموعی طور پر 277 ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے 237 ووٹ ان کی حمایت میں اور 15 مخالفت میں تھے۔ کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز نہیں کیا۔
کتابچی نے بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصرزادہ کی جگہ لی ہے۔ ناصرزادہ کی فروری میں جنگ کے آغاز کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد صدر مسعود پیزشکیان نے بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد کتابچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی اور غلط قدم اٹھایا تو ایران کی جانب سے بڑا اور حیران کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کے علاقائی اور عالمی نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہوگی۔
ایران کے نئے وزیر دفاع میزائل کے ماہر ہیں
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، کتابچی دفاعی صنعت کے ایک تجربہ کار عہدیدار ہیں۔ وہ ایران کی ایرو اسپیس انڈسٹریز آرگنائزیشن اور ڈیفنس انڈسٹریز آرگنائزیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے میزائل ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق کاموں کی نگرانی کی۔
تاہم، ان کا نام بین الاقوامی پابندیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں ان کے مبینہ کردار کی وجہ سے ان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اقوام متحدہ نے 2007 میں شہید باقری انڈسٹریل گروپ سے تعلقات کی وجہ سے انہیں اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ گروپ ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ترقی سے وابستہ ہے۔ ایران کے نئے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ملک نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا ہے۔
اگلے سال مقامی لڑاکا طیارہ اڑانے کا اعلان
اس کے علاوہ، ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا بھاری لڑاکا طیارہ اگلے سال پہلی پرواز کرے گا اور اسے مکمل طور پر ملک کے اندر ہی تیار کیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی پیداوار کو مسلسل فروغ دینے پر زور دے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایک ہفتے کے دوران 14 جہاز نشانے پر
دوسری جانب، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقوں میں جہازوں پر حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق، اتوار کی صبح یمن اور متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب دو جہازوں پر حملے ہوئے۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز ایران کی سیکورٹی فورسز نے تین جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔ ان میں سے دو جہاز آبنائے ہرمز کے اندر یا اس کے آس پاس سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی زد میں آئے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 8 سے 14 اکتوبر کے درمیان تقریباً 14 جہازوں پر حملے ہوئے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد ایک ہفتے کے دوران حملوں کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی گئی ہے۔ صرف 11 اکتوبر کو کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یکم مارچ سے اب تک سمندری سلامتی سے متعلق واقعات کی تعداد بڑھ کر 149 ہو گئی ہے۔ اسی دوران، 8 سے 14 اکتوبر کے درمیان آبنائے ہرمز سے صرف 42 جہاز گزرے، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے یہ تعداد 60 تھی۔
*ہمیں دہشت گرد کہا، جموں و کشمیر نمبر کی بس گھسنے سے روکنے کی بھی دھمکی دی‘، کرنال میں پتھراؤ پر مسافرین کا چھلکا درد*
اس روٹ پر جموں و کشمیر نمبر پلیٹ والی بس کو گھسنے ہی نہیں دیں گے۔“ یہ کہنا ہے اس بس میں سوار ایک مسافر کا، جس پر ہریانہ کے کرنال میں اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کشمیر کے مسافروں کو دہشت گرد تک کہا گیا۔ کرنال کے ایک ڈھابے پر پارکنگ کے معمولی تنازعے میں ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ پورا منظر ہی ہارر فلم میں تبدیل ہو گیا۔ دہلی سے سری نگر جا رہی سلیپر بس پر اچانک اینٹوں اور پتھروں کی موسلادھار بارش ہونے لگی، شیشے چکناچور ہو گئے اور اڑتے ہوئے شیشوں سے بے قصور مسافر خون سے لت پت ہو گئے۔ نفرت کے اس ماحول اور گالی گلوچ نے مسافروں کے دلوں میں دہشت بٹھا دی ہے۔ اب اس معاملے پر سیاست گرم ہے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی پوری طرح ایکشن موڈ میں آ چکے ہیں۔ آخر پارکنگ کے ایک تنازعے نے اتنی خطرناک شکل کیسے اختیار کر لی؟ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔
رپورٹس کے مطابق، سارا تنازعہ کرنال-کروکشیتر کے نیلوکھیڑی علاقے میں ’ڈیوائن اسٹار‘ ڈھابے کے قریب پارکنگ میں گاڑی ہٹانے کو لے کر شروع ہوا تھا۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ کچھ لوگوں نے گالی گلوچ شروع کر دی۔ مسافروں کا الزام ہے کہ حملہ آور نشے میں تھے اور انہوں نے حد پار کرتے ہوئے ڈرائیور اور مسافروں کو دہشت گرد تک کہہ ڈالا۔ ماحول اس وقت پوری طرح کشیدہ ہو گیا جب 4 سے 5 لوگوں نے بس پر تابڑ توڑ اینٹیں برسانا شروع کر دیں۔ بس کے اندر شیشوں کے ٹکڑے اڑنے لگے اور چیخ و پکار مچ گئی۔
جے کے نمبر والی بسوں کو گھسنے نہیں دیں گے
بس ڈرائیور وقار چودھری نے بتایا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ کھلے عام دھمکی بھی دی کہ اس روٹ پر جموں و کشمیر نمبر والی کوئی بس نہیں چلنے دی جائے گی۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو فریقوں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ ایک مخصوص برادری اور علاقے کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش تھی۔ کشمیری مسافروں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم ملک کا برابر کا حصہ ہیں اور اس طرح کی حرکتوں کے ذریعے پورے سماج کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
سیاسی ہلچل اور پولیس کی کارروائی
اس واقعے کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی بڑے رہنماؤں نے گہری تشویش ظاہر کی ہے اور ہریانہ پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معاملہ پارکنگ کو لے کر ہوئے تنازعے اور دونوں فریقوں کے شراب پینے سے جڑا معلوم ہوتا ہے۔
فی الحال بھوٹانا پولیس اسٹیشن کی ٹیم معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور دو لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ مسافروں نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ ایسے نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ملک میں کوئی بھی شخص کہیں بھی محفوظ طریقے سے سفر کر سکے۔
*مغربی بنگال: چورباگان حادثہ میں 19 افراد کی موت، 25 لاکھ روپے معاوضہ اور نوکری کا اعلان، آج سبھی سرکاری پروگرام رد*
مغربی بنگال کے شمالی کولکاتہ میں واقع چورباگان درگا پوجا پنڈال میں ہفتے کی رات بھگدڑ مچنے سے کم از کم 19 لوگوں کی موت ہوگئی، جبکہ 25 دیگر زخمی ہوگئے۔ بتایا جارہا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں کو علاج کے لیے کولکاتہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری اور ریاست کے وزیر صحت شردوت مکھرجی اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ مغربی بنگال حکومت نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو 25-25 لاکھ روپے کی مالی امداد اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے چورباگان درگا پوجا کے منتظمین، نجی سیکورٹی گارڈز اور ڈیوٹی پر تعینات ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ وہیں، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی کولکاتہ کے درگا پنڈال میں مچی بھگدڑ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
کی موت اور 25 زخمی
کولکاتہ کے چورباگان سروجنین درگا پوجا میں بھگدڑ کے واقعے پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے کہا کہ ’’یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ بارش ہورہی تھی۔ 17 لوگوں کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ بعد میں مزید 2 لوگوں کی موت ہوگئی۔ 25 افراد زخمی ہیں، 24 خطرے سے باہر ہیں، جبکہ ایک کی حالت نازک ہے۔ حکومت کی جانب سے ہم کام کررہے ہیں۔ معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔ میں نے 13 متاثرہ خاندانوں سے بات کی ہے۔ حکومت ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ 18 اکتوبر 2026 ہمارے جتنے بھی پروگرام تھے، ہم نے انہیں منسوخ کردیا ہے۔‘‘
مرنے والوں کے لواحقین کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان
وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے بتایا کہ مہلوکین کے خاندانوں کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ اور خاندان کے ایک فرد کو ملازمت دی جائے گی۔ زخمیوں کے علاج کا پورا خرچ حکومت اٹھائے گی۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ ہم رات بھر کام کررہے ہیں اور ہم نے معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے 13 افراد مجھ سے ملے اور انہوں نے حکومت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔‘‘
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے مزید بتایا کہ تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پوری ریاست کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی درخواست کروں گا۔ اس کمیٹی میں ایس ٹی ایف اور فارینزک ٹیمیں شامل ہوں گی۔ سی ایم سوویندو نے بتایا کہ ہم اسی کے مطابق جانچ کرائیں گے۔‘‘
کولکاتہ پولیس نے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے
کولکاتہ پولیس نے چورباگان حادثے کے متاثرین کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں، تاکہ انہیں درست اور صحیح معلومات فراہم کی جاسکیں۔ کولکاتہ پولیس نے مدد کی ضرورت والے لوگوں کے لیے یہ ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں: 8003455678 اور 03322141310۔ ان فون نمبروں پر کال کرکے اپنے عزیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
پی ایم مودی نے کیا کہا؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے کولکاتہ میں بھگدڑ کے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ شیئر کرکے کہا کہ ’’کولکاتہ میں بھگدڑ کا واقعہ افسوسناک ہے۔ میں سوگوار خاندانوں کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ مغربی بنگال حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کررہی ہے۔‘‘
امت شاہ نے مغربی بنگال میں اپنے تمام پروگرام ملتوی کردیے
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتہ میں بھگدڑ کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ شیئر کرکے کہا کہ ’’چورباگان درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ کے بعد کئی لوگوں کی موت کی انتہائی افسوسناک خبر ابھی ملی ہے۔ اس سلسلے میں میں نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری سے بات کی ہے۔ اس دردناک حادثے میں جان گنوانے والے لوگوں کی روح کے سکون کے لیے دعا کرتا ہوں اور سوگوار خاندانوں کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ انتظامیہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کررہی ہے۔ میں مغربی بنگال میں اپنے تمام طے شدہ پروگرام ملتوی کررہا ہوں، تاکہ اسپتال جاکر زخمیوں سے ملاقات کرسکوں۔ ماں درگا سے دعا ہے کہ تمام زخمی جلد از جلد صحت یاب ہوں۔‘‘
راہل گاندھی نے دکھ کا اظہار کیا
لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کولکاتہ حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’کولکاتہ کے چورباگان پوجا پنڈال میں بھگدڑ کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ اس حادثے میں کئی لوگوں کی جان جانے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مرنے والوں کے اہل خانہ کے تئیں میری گہری تعزیت ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ انتظامیہ سے اپیل ہے کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہتر علاج فراہم کیا جائے اور اس حادثے کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو، تاکہ مستقبل میں ایسی المناک صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ میں کانگریس کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ راحت رسانی کے کاموں میں ہر ممکن مدد کریں۔‘‘
حادثہ کیسے ہوا؟
وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے بتایا کہ بارش بھی حادثے کی ایک وجہ رہی ہے۔ پوجا کمیٹی کے انتظامات میں بھی کچھ خامیاں تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان تمام وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے جو کچھ ہوا، اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کولکاتہ پولیس کی اے آر ایس (ARS) ٹیم کھنگال رہی ہے۔ جس کی بھی لاپروائی سامنے آئے گی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پوری ریاست میں تقریباً 58,000 مقامات پر درگا پوجا ہورہی ہے۔ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، اس کے لیے جو بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں، ان پر بھی ہم کارروائی کررہے ہیں۔
مقامی لوگوں نے کیا کہا؟
مقامی لوگوں کے مطابق، اس سانحے کے پیچھے کئی وجوہات نظر آئیں۔ ان میں تنگ گلیاں، جشن میں شامل لوگوں کو سنبھالنے کے لیے رضاکاروں کی مبینہ طور پر کم تعداد، بارش کے باعث لوگوں کا پنڈال میں داخل ہونے کے لیے جلد بازی کرنا اور مبینہ طور پر کیا گیا وہ اعلان شامل ہے، جس میں ہجوم کو قابو میں نہ کیے جانے کی صورت میں پنڈال کے منہدم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
علاقے میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ رضاکاروں میں زیادہ تر مقامی نوجوان تھے، جنہیں ہجوم کو سنبھالنے کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔ خاتون اور علاقے کے کئی دیگر لوگوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہاں احتیاطی تدبیر کے طور پر کوئی ایمبولینس تعینات تھی۔