Sunday, 18 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*



*یوروپ کا ایک اور ملک سلگ اٹھا، سڑکوں پر اترے ہزاروں لوگ، جانئے کیوں؟*


لزبن: پرتگال میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، آسمان چھوتے کرایوں اور گھر خریدنے میں پیش آنے والی مشکلات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لزبن، پورٹو اور کوئمبرا سمیت کئی شہروں میں لوگوں نے حکومت سے عام شہریوں کے لیے سستے اور قابل استطاعت مکانات کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ رہائش کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث عام خاندانوں کے لیے شہروں میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت لزبن میں بڑی تعداد میں لوگ شہر کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے خیمے لگا کر احتجاج کیا اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے فنڈز پر سخت ضابطے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ بڑے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث مکانات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عام لوگوں کی پہنچ سے گھر دور ہوتے جا رہے ہیں۔

پولیس کی کارروائی سے ناراض لوگ
احتجاج کے دوران پورٹو میں جمعرات کی علی الصبح کی گئی پولیس کارروائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق، رہائش کے حق کے لیے احتجاج کرنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں 37 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ اس کے بعد مظاہرین نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ مزید شدت سے کیا۔

غربت کے حوالے سے صدر نے تشویش ظاہر کی
پرتگال کے صدر انتونیو جوزے سیگورو نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں غربت کو قسمت سمجھ کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کی ویب سائٹ پر جاری پیغام کے مطابق، ملک میں اب بھی تقریباً 16 لاکھ 60 ہزار افراد کو غربت کے خطرے کا سامنا ہے۔ تاہم، 2015 کے بعد پہلی مرتبہ یہ تعداد 20 لاکھ سے کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کمزور طبقات کو ضروری سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر زور دیا۔


یورپ کے دیگر ممالک میں بھی احتجاج
پرتگال میں ہورہے مظاہرے یورپ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہائش کے بحران کے خلاف جاری وسیع تر احتجاج کا حصہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں بیلجیم، اٹلی، اسپین اور فرانس میں بھی لوگوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق، ہفتے کے روز ملک بھر میں ہوئے مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔ وہیں اٹلی میں وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت کے خلاف طلبہ، اساتذہ اور ٹریڈ یونینوں نے احتجاج کیا۔




*تیل ٹینکروں پر حملوں سے لرزا خلیجی خطہ، سعودی عرب کے پاس پھر نشانہ بنا جہاز*


مغربی ایشیا کے سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اب سعودی عرب کے الجبیل علاقے سے تقریباً 68 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ کئے جانے کی خبر سامنے آرہی ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہوئے اس حملہ میں جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور انہیں وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سمندر میں آلودگی کا بھی کوئی اثر سامنے نہیں آیا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب آبنائے ہرمز اور دیگر سمندری علاقوں میں ہندوستانی ملاحوں والے جہازوں پر بھی حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستے سربانند سونووال نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ دو الگ الگ واقعات میں شامل جہازوں پر سوار تمام 24 ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔


آبنائے ہرمز سے رومانیہ تک جہازوں کو بنایا گیا نشانہ
مرکزی وزیر سربانند سونووال کے مطابق، 16 اکتوبر کو خام تیل لے جانے والے ٹینکر MT ST 3 پر آبنائے ہرمز میں پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس جہاز پر 15 ہندوستانی ملاح سوار تھے۔ وہیں، 14 اکتوبر کو کیمیکل ٹینکر YARA J کو رومانیہ کے سولینا اینکریج کے قریب ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر نو ہندوستانی ملاح موجود تھے


سونووال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بتایا کہ دونوں جہازوں پر سوار تمام 24 ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔ کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ہندوستانی حکام جہازوں کا انتظام کرنے والی کمپنیوں کے رابطے میں ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔



*امریکہ نے کیا اعتراف، راتوں رات تیل اور گیس خریداری کا متبادل بدلنا آسان نہیں، روبیو نے بتائی روس پر ٹرمپ ک یوٹرن کی وجہ*


نئی دہلی : امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اس سال دوسری بار ہندوستان آرہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے، جب ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں ٹیرف، روس سے تیل کی خریداری اور تجارت سے متعلق کئی اہم مسائل موجود ہیں۔ دورے سے ٹھیک پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے سے متعلق دفعات میں چھوٹ دی ہے۔ اس سے ہندوستان کو بھی راحت ملی ہے۔ ہندوستان کے دورے سے پہلے روبیو نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے دوسرے متبادل کی طرف رخ کیا ہے، لیکن روس سے تیل کی خریداری اچانک بند کرنا آسان نہیں ہے۔


روبیو نے تسلیم کیا کہ ہندوستان امریکہ کا ایک اہم اتحادی اور شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان تمام حالات کا جائزہ لینے اور درست فیصلہ کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ روبیو نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران امریکہ پہلے بھی روسی تیل پر 60 دن کی چھوٹ دے چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کا تیل کسی نہ کسی راستے سے عالمی بازار میں پہنچنا ہی تھا، سوال یہ تھا کہ اس تیل کا کتنا حصہ امریکہ کو حاصل ہوتا۔

ہندوستان پر ٹیرف اور روس پر پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لیں گے ٹرمپ
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ روس پر عائد پابندیوں کا معاملہ صرف روس تک محدود نہیں ہے۔ اس میں ہندوستان جیسے کئی ممالک پر لگائے گئے ٹیرف بھی شامل ہیں۔ روبیو کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل پر 60 دن کی چھوٹ کا استعمال ان فیصلوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کیا ہے۔ امریکہ یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ روس پر پابندیاں اور دوسرے ممالک پر ٹیرف لگانے سے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ امریکی معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ روبیو نے کہا کہ جب یہ بل منظور کیا گیا تھا، تبھی یہ سمجھ تھی کہ دنیا میں بیک وقت کئی واقعات پیش آرہے ہیں۔ ایسے میں ان فیصلوں کے نتائج کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔

ہندوستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
امریکہ کا یہ بیان اشارہ دیتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان پر ٹیرف اور روس سے تیل کی خریداری سے متعلق فیصلوں کے وسیع تر اقتصادی اثرات کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ اگلے 60 دنوں میں اس جائزے سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ امریکہ اپنی پابندیوں اور ٹیرف کی پالیسی کے حوالے سے آگے کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

20 اکتوبر کو ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے
20 اکتوبر کو ممبئی میں مارکو روبیو اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان دو طرفہ بات چیت ہوگی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک کے وسیع تر اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور نئی ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دورے کا ایک بڑا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی معاہدے پر بات چیت کو آگے بڑھانا بھی ہے۔ وزیر خارجہ جے شنکر پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ معاہدے پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے، حالانکہ کچھ مسائل پر اتفاق رائے ہونا ابھی باقی ہے۔

روبیو گجرات کے جام نگر میں ریفائنری کمپلیکس کا بھی دورہ کریں گے۔ وہیں، وزیر اعظم نریندر مودی کے دسمبر میں امریکہ جانے کے امکان کو دیکھتے ہوئے اس دورے کے نتائج پر خاص نظر رہے گی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا روبیو کا یہ دورہ تجارتی معاہدے کی راہ آسان کرے گا اور ہندوستان-امریکہ تعلقات میں حالیہ کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے گا؟

🛑*سیف نیوز بلاگر*

*یوروپ کا ایک اور ملک سلگ اٹھا، سڑکوں پر اترے ہزاروں لوگ، جانئے کیوں؟* لزبن: پرتگال میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، آسمان چھوتے کرایوں ا...