*جن لوگوں نے میری مخالفت کی، انہوں نے مجھے جمہوریت کی طاقت دکھائی‘: پی ایم مودی نے 25 سالہ سفر کو کیا یاد*
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز حکومت میں 25 سال مکمل کیے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے اس سیاسی سفر پر نظر ڈالی، جس کا آغاز 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے ساتھ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مخالفت کرنے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے والوں نے بھی انہیں زندگی کے اہم سبق سکھائے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے 25 سالہ عوامی زندگی کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جن لوگوں نے مجھے نیچے گرانے کی کوشش کی، انہوں نے مجھے دوبارہ اٹھنا سکھایا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی مخالفت کرنے والوں نے انہیں ہندوستان کے جمہوری نظام کی طاقت کو سمجھنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے میری مخالفت کی، انہوں نے مجھے جمہوریت کی طاقت دکھائی۔‘‘
نریندر مودی نے 2001 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا اور بعد میں 2014 میں ملک کے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار گجرات میں حلف لیا تھا تو انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس سنگ میل تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب میں نے 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا تھا، تو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی اس سنگ میل تک پہنچوں گا۔‘‘
مسلسل 25 سال کی عوامی خدمت مکمل ہونے پر وزیر اعظم مودی نے اپنے سیاسی سفر کا کریڈٹ ملک کے عوام کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج میں نے مسلسل 25 سال کی خدمت مکمل کر لی ہے۔ یہ عوام کی مسلسل دعاؤں اور حمایت کا نتیجہ ہے۔‘‘ مودی نے کہا کہ ’’میں ملک کے تمام عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں،‘‘ اور مزید کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے عوام کے سامنے سر جھکایا۔ انہوں نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں شامل تمام جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں این ڈی اے کی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اپنے سیاسی کیریئر کے دوران پیش آنے والی ناکامیوں اور چیلنجز پر نظر ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر تجربے نے انہیں کچھ نہ کچھ سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میری زندگی میں جو کچھ بھی ہوا، وہ رائیگاں نہیں گیا؛ ہر تجربے نے مجھے کچھ نہ کچھ سکھایا۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے اپنے 25 سالہ سیاسی سفر کو محض ذاتی کامیابی کی بجائے ایک بڑے مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سیاسی سفر ذاتی خواہش کی بجائے مقصد اور مشن کے احساس سے متاثر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر میں انتخابی سیاست میں نمایاں ہونا چاہتا تو میں سیاسی میدان میں بہت پہلے اتر سکتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں ذاتی امنگ کے لیے نہیں بلکہ مشن کے لیے جینے والا شخص ہوں۔‘‘
*فورا بند ہوں یہ حملے...‘، آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملہ پر ہندوستان کی دوٹوک، 11 ہندوستانی ہوئے ہیں زخمی*
نئی دہلی: وزارتِ خارجہ (MEA) نے منگل کے روز عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ پر ہوئے میزائل حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس طرح کے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، اس خطرناک حملے میں جہاز پر سوار 12 عملے کے ارکان زخمی ہوئے، جن میں 11 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں امن و سلامتی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے
وزارتِ خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، تجارتی جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ (IMO 9893204) عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا، اسی دوران ایک پروجیکٹائل آ کر جہاز سے ٹکرا گیا۔ اس جہاز پر مجموعی طور پر 19 عملے کے ارکان سوار تھے، جن میں 17 ہندوستانی شہری تھے۔ حملے کے فوراً بعد عمانی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو بحفاظت جہاز سے نکالا اور علاج کے لیے عمان کے شہر خصب پہنچایا۔ ہندوستان نے اس مشکل گھڑی میں ہندوستانی ملاحوں کی مدد کرنے پر عمان کی انتظامیہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔
ہندوستان نے گہری تشویش کیوں ظاہر کی؟
ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جانا علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ ایسے میں اس طرح کے حملوں سے بین الاقوامی تجارت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
ہندوستان نے خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت اور تجارت بحال کرنے کی پُرزور اپیل کی ہے۔
*راشن کارڈ سے 5 کلو اناج ملے گا یا 35 کلو، کونسے دستاویز ہیں ضروری، جانئے پورا عمل*
راشن کارڈ صرف سستا راشن حاصل کرنے کیلئے دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ بہت سے خاندانوں کے لیے سرکاری غذائی اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے اہل خاندانوں کو گندم، چاول اور دیگر غذائی اجناس سبسڈی پر فراہم کی جاتی ہیں۔ قومی غذائی تحفظ ایکٹ (NFSA) کے تحت اہل خاندانوں کو مقررہ ضوابط کے مطابق چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس دی جاتی ہیں۔ راشن کارڈ سے متعلق قوانین اور اہلیت ریاستی حکومت طے کرتی ہے۔
دہلی میں راشن کارڈ کا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے۔ نئے راشن کارڈ کے اجرا اور خاندان کے افراد کے نام شامل کرنے کے لیے ای-ڈسٹرکٹ پورٹل پر مئی سے درخواستیں شروع کر دی گئی تھیں۔ پرانی زیرِ التوا درخواستوں کو بھی درخواست گزاروں کے لاگ اِن میں واپس بھیج کر ضروری معلومات اور دستاویزات اپ ڈیٹ کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
راشن کارڈ کیا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں؟
راشن کارڈ کے ذریعے اہل خاندان سرکاری راشن کی دکان یعنی فیئر پرائس شاپ (Fair Price Shop) سے اپنے حصے کا اناج حاصل کر سکتے ہیں۔ NFSA کے تحت AAY (Antyodaya Anna Yojana) خاندانوں کو ہر ماہ فی خاندان 35 کلو اناج ملتا ہے۔ جبکہ پرائرٹی ہاؤس ہولڈ (PHH) کیٹیگری میں فی فرد 5 کلو اناج فراہم کرنے کا انتظام ہے۔
راشن کارڈ کو کئی مقامات پر خاندان اور رہائش سے متعلق ریکارڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، اسے ہر سرکاری سروس میں لازمی شناختی دستاویز یا پتے کے ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے، یہ متعلقہ سروس کے قوانین پر منحصر ہے۔
APL، BPL اور انتودیا کارڈ میں کیا فرق ہے؟
APL اور BPL کی اصطلاحات پرانے راشن کارڈ کی درجہ بندی میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ APL کا مطلب Above Poverty Line یعنی خطِ غربت سے اوپر، جبکہ BPL کا مطلب Below Poverty Line یعنی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ تاہم، NFSA کے تحت موجودہ قومی نظام میں بنیادی مستفیدین کی درجہ بندی AAY اور PHH کے طور پر کی جاتی ہے۔ اہل خاندانوں کی شناخت اور انتخاب کا طریقہ ریاستی حکومت طے کرتی ہے۔ AAY یعنی انتودیا اَنّ یوجنا سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں کے لیے ہے۔ ایسے خاندانوں کو ہر ماہ فی خاندان 35 کلو غذائی اجناس فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ PHH خاندانوں کو فی فرد 5 کلو اناج ملتا ہے۔
نیا راشن کارڈ کیسے بنوائیں؟
دہلی میں نیا راشن کارڈ بنانے کے لیے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ای-ڈسٹرکٹ پورٹل پر لاگ اِن یا رجسٹریشن کرکے محکمہ خوراک و رسد (Food & Supply Department) کی متعلقہ سروس کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ پورٹل پر AAY/پرائرٹی ہاؤس ہولڈ کارڈ جاری کرنے کی سروس دستیاب ہے۔
درخواست گھر بیٹھے آن لائن دی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں کو آن لائن درخواست دینے میں دشواری ہو، وہ قریبی سہولت مرکز کی مدد لے سکتے ہیں۔ درخواست جمع ہونے کے بعد محکمہ دستاویزات اور اہلیت کی جانچ کرتا ہے۔
کون سے دستاویز ضروری ہیں؟
دہلی میں نئے راشن کارڈ کے لیے آدھار کارڈ، رہائش کا ثبوت اور نیا آمدنی کا سرٹیفکیٹ اہم دستاویزات ہیں۔ خاندان کے افراد سے متعلق آدھار کی تفصیلات بھی درخواست میں فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ پرانے زیرِ التوا درخواست گزاروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ درست خاندانی آمدنی کا سرٹیفکیٹ اور ضروری دستاویزات کے ساتھ اپنی درخواست دوبارہ جمع کریں۔
رہائش کے ثبوت کے طور پر آدھار، ووٹر آئی ڈی، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ، رجسٹرڈ کرایہ نامہ، بینک پاس بک، بجلی یا پانی کا بل جیسی دستاویزات قبول کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، متعلقہ سروس کے مطابق دستاویزات کی فہرست مختلف ہو سکتی ہے۔
راشن کارڈ میں نام کیسے شامل یا حذف کریں؟
خاندان میں نیا رکن شامل ہونے پر راشن کارڈ میں اس کا نام شامل کیا جا سکتا ہے۔ دہلی کے ای-ڈسٹرکٹ پورٹل پر New Member Addition کے لیے الگ سروس دستیاب ہے۔ اسی طرح خاندان کے کسی رکن کا نام حذف کرنے کے لیے Member Deletion کی سروس بھی موجود ہے۔
نام حذف کرنے کی صورت میں وجہ کے مطابق متعلقہ دستاویز فراہم کرنا پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی رکن کی موت کی صورت میں موت سے متعلق سرٹیفکیٹ طلب کیا جا سکتا ہے۔ شادی یا خاندان کی صورتِ حال میں تبدیلی کی صورت میں بھی متعلقہ دستاویزات ضروری ہو سکتی ہیں۔
پتہ اور موبائل نمبر کیسے اپ ڈیٹ کریں؟
دہلی میں راشن کارڈ کے ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے ای-ڈسٹرکٹ پر مختلف سروسز دستیاب ہیں۔ ان میں رکن کی معلومات اپ ڈیٹ کرنا، خاندان کے سربراہ میں تبدیلی، راشن کارڈ کو دہلی کے اندر منتقل کرنا اور دیگر معلومات اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔
پتہ تبدیل ہونے کی صورت میں نیا رہائشی ثبوت فراہم کرنا پڑ سکتا ہے۔ موبائل نمبر یا دیگر معلومات اپ ڈیٹ کرتے وقت آدھار اور راشن کارڈ سے متعلق درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔ درخواست کے بعد محکمہ دستاویزات کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔
اس لیے درخواست دینے سے پہلے خاندان کے تمام افراد کے آدھار سے متعلق معلومات، آمدنی کا سرٹیفکیٹ اور پتے سے متعلق دستاویزات تیار رکھیں۔ اہلیت ریاست کے قوانین کے مطابق طے ہوتی ہے، اس لیے درخواست ہمیشہ متعلقہ ریاست کے سرکاری پورٹل کے ذریعے دینا بہتر ہے۔