Saturday, 3 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*


*آبنائے ہرمز میں پھر بھڑکی آگ، ٹینکر پر میزائل حملہ، 5 ہندوستانی بھی تھے سوار، دوست نے بڑھایا مدد کا ہاتھ*

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جو آگ بھڑک رہی ہے، اسے ابھی تک ٹھنڈا ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ادوار میں امن مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن اس خطے میں اب بھی امن اور استحکام کوسوں دور ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں اور ٹینکروں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کویت کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر ہندوستانی شہری بھی سوار تھے۔ میزائل حملے میں اس ٹینکر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، جہاز پر سوار تمام 5 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ ہندوستان کے دوست عمان نے اس ریسکیو آپریشن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نئی دہلی نے اس کے لیے مسقط کا شکریہ ادا کیا ہے۔

عمان کے دارالحکومت مسقط میں موجود ہندوستانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرکے اس واقعے کی معلومات دی ہیں۔ سفارتخانے نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹائل حملے کی زد میں آنے والے کویت کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی کاظمہ-3 (Kuwait-Flagged Tanker MT Kazimah III) پر سوار 5 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ ہندوستانی مشن نے ہفتے کے روز مربوط کوششوں کے ذریعے ان تمام ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت ساحل تک پہنچایا۔ مشن نے اس آپریشن میں تعاون کے لیے عمان کے حکام کا شکریہ ادا کیا اور ان کی مسلسل مدد کو سراہا۔ تاہم، ٹینکر پر ہونے والے حملے کے حالات اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں فوری طور پر تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو لے کر تشویش برقرار ہے۔
کویت کا خام تیل کا ٹینکر ٹوگو جا رہا تھا
اطلاعات کے مطابق، آبنائے ہرمز میں کویت کے پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ایم ٹی کاظمہ-3 پر میزائل سے حملہ کیا گیا۔ اس جہاز پر سوار پانچ ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکال کر ساحل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ہندوستانی مشن نے ریسکیو آپریشن میں رابطہ کاری کی اور مدد کے لیے عمان کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ٹینکر ٹوگو کے لومے بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔ خلیج فارس اور دیگر اہم بحری راستوں پر سیکورٹی خطرات بڑھنے کے درمیان ہندوستان اپنے بحری اہلکاروں کی سلامتی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسی محتاط نگرانی کے نتیجے میں 5 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچایا جا سکا۔

12 کارگو جہازوں پر 163 ہندوستانی ملاح
اس سے قبل منگل کے روز وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ اس خطے میں چلنے والے کمرشیل جہازوں پر 4,500 سے زیادہ ہندوستانی ملاح سوار تھے۔ ان میں سے 12 فعال کارگو جہازوں پر 163 ہندوستانی ملاح تعینات تھے۔ ان 12 جہازوں میں 6 ہندوستانی پرچم والے اور 6 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل تھے، جو ہندوستان کے لیے سامان لے جا رہے تھے۔

جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ’’فی الحال خلیج فارس میں ہمارے 6 ہندوستانی پرچم والے کمرشیل جہاز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 6 غیر ملکی پرچم والے جہاز بھی ہیں، جو ہندوستان کے لیے سامان لے جا رہے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 12 جہاز ہیں۔ ان جہازوں پر تقریباً 163 ہندوستانی ملاح سوار ہیں


*پاکستان سے حوالہ کے ذریعہ فنڈنگ: یاسین ملک سمیت 7 کے خلاف چلے گا منی لانڈرنگ کا کیس، عدالت نے دیا حکم*

جموں و کشمیر میں علاحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے لیے سرحد پار سے ہونے والی غیر قانونی فنڈنگ کے معاملے میں پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی این آئی اے عدالت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے علیادگی پسند رہنما یاسین ملک سمیت سات ملزمان کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت الزامات عائد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق، ان ملزمان پر پاکستانی حکمرانوں اور خفیہ اداروں سے حوالہ کے خفیہ راستوں کے ذریعے بھاری رقم حاصل کرنے کا سنگین الزام ہے۔

خصوصی این آئی اے جج پرشانت شرما نے معاملے میں پیش کیے گئے دستاویزی اور فرانزک شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے مانا کہ ملزمین کے خلاف منی لانڈرنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔

یاسین ملک کے علاوہ جن دیگر اہم ملزمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ان میں کشمیری تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی، انجینئر رشید (عبدالرشید شیخ)، شبیر احمد شاہ، نول کشور کپور، مسرت عالم بھٹ اور ٹرائسن فارمز اینڈ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

جج نے اپنے حکم میں کیا کہا؟
خصوصی جج نے 30 ستمبر کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ ابتدائی طور پر ریکارڈ پر ایسے کافی شواہد موجود ہیں، جن سے تمام سات ملزمان—ظہور احمد شاہ وٹالی، نول کشور کپور، ایم/ایس ٹرائسن فارمز اینڈ کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم اور عبدالرشید شیخ—کے خلاف مضبوط شبہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا، ان ملزمین پر پی ایم ایل اے کی دفعہ 3 کے تحت جرم کا الزام عائد کیا جانا چاہئے، جس کے لیے پی ایم ایل اے کی دفعہ 4 کے تحت سزا کا التزام ہے

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ مقررہ جرائم سے 8,94,87,639 روپے کی جرم سے حاصل شدہ آمدنی (Proceeds of Crime) ہوئی تھی۔ الزام ہے کہ ملزمین نے مختلف طریقوں سے یہ رقم حاصل کی، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی، ٹرانسفر کی، چھپائی، اپنے پاس رکھی، حاصل کی اور/یا استعمال کی


*جموں و کشمیر: سرینگر میں 4 روزہ ورکشاپ، خواتین کو خود انحصار بنانے کی پہل*

سری نگر: نیشنل سپورٹیو سپرویژن فریم ورک (NSSF)، زون-3 پر چار روزہ علاقائی ورکشاپ سری نگر میں جاری ہے۔ اس میں خواتین کی قیادت والے کمیونٹی اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کی پائیداری کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ DAY-NRLM کے تحت جموں و کشمیر رورل لائیولی ہڈ مشن (JKRLM) کی میزبانی میں منعقدہ اس ورکشاپ میں NRLM کے افسران اور شریک ریاستوں کے اسٹیٹ رورل لائیولی ہڈ مشنز کے نمائندے اکٹھے ہوئے ہیں۔ وزارت دیہی ترقی میں جوائنٹ سکریٹری امت شکلا نے ورچوئل (آن لائن) طریقے سے تقریب کا افتتاح کیا۔ انہوں نے ادارہ جاتی سطح سے پختگی (maturity) کی طرف بڑھنے پر زور دیا اور 2031 تک مختلف بلاکس میں 5000 خود انحصار سواولمبی کلسٹر لیول فیڈریشنز (CLFs) قائم کرنے کا سنگِ میل مقرر کیا۔

دیہی روزگار کے لیے ڈپٹی سکریٹری ڈاکٹر مونیکا بی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ CLFs کو خود کفیل اکائیوں میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان گروپس کو مسلسل بیرونی مدد پر انحصار کرنے کے بجائے آزادانہ طور پر قیادت تیار کرنی چاہیے اور وسائل کو متحرک کرنا چاہیے۔ DAY-NRLM کے ڈپٹی ڈائریکٹر رمن وادھوا نے ‘SHE LIFE’ پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے CLFs کی صلاحیت پر بات کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کے نچلی سطح کے نیٹ ورکس قومی پالیسیوں کو مربوط کمیونٹی اقدامات میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے JKRLM کی مشن ڈائریکٹر ڈاکٹر شبھرا شرما نے کہا کہ یہ ورکشاپ اجتماعی سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور NSSF کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد معاون نگرانی کے ذریعے کلسٹر لیول فیڈریشنز (CLFs) کو مضبوط بنانا ہے، جس میں حکمرانی، انسانی وسائل، مالی خود انحصاری، اراکین کے نتائج اور سماجی ایجنسی (social agency) پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، تاکہ انہیں خود مختار اور خود انحصار اداروں میں تبدیل ہونے کے قابل بنایا جا سکے۔ افتتاحی سیشن میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں خواتین کو بااختیار بنانے، انٹرپرینیورشپ اور پائیدار روزگار کے شعبوں میں JKRLM کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔

چار روزہ ورکشاپ میں DAY-NRLM کے قومی سطح کے ماہرین کے تکنیکی سیشنز شامل ہوں گے جن میں SHGs (سیلف ہیلپ گروپس)، ولیج آرگنائزیشنز، پروڈیوسر گروپس، FPOs، سرکاری محکموں، مقامی منڈیوں اور کمیونٹیز کے درمیان مربوط اور پائیدار انداز میں روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ افتتاحی تقریب میں جے کے آر ایل ایم (JKRLM) کی مشن ڈائریکٹر ڈاکٹر شبھرا شرما، لداخ رورل لائیولی ہڈ مشن کے مشن ڈائریکٹر سید سجاد قادری، نیشنل مشن مینیجر ڈاکٹر جوئی بھٹاچاریہ، نیشنل پروگرام مینیجر انشومن سنگھ، جے کے آر ایل ایم (کشمیر) کے ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر سید نصیر، اور این ایم ایم یو (NMMU) سے محترمہ انیتا، محمود حسن اور پنکج سویال نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ، جموں و کشمیر، لداخ، پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ سمیت چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے شرکاء بھی اس ورکشاپ میں حصہ لے رہے ہیں

🛑*سیف نیوز بلاگر*

*آبنائے ہرمز میں پھر بھڑکی آگ، ٹینکر پر میزائل حملہ، 5 ہندوستانی بھی تھے سوار، دوست نے بڑھایا مدد کا ہاتھ* ایران جنگ شروع ہونے...