پاکستان سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑے پیمانے پر اضافے کی تیاری کر رہا ہے۔ یمن کے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب میں 25 ہزار تک پاکستانی فوجی تعینات کیے جانے کا امکان زیرِ غور ہے۔ CNN-News18 سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ سیکورٹی ذرائع نے یہ انکشاف کیا۔ مجوزہ تعیناتی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ریاض کو حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، 15 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ اسلام آباد اضافی فوجی اہلکاروں اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے ذریعے مملکت کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
سعودی عرب میں 25 ہزار تک پاکستانی فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید گہرا ہونے کے ساتھ پاکستان سعودی عرب میں مجموعی طور پر 25 ہزار تک فوجی تعینات کر سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوجی معاونت صرف فوجیوں کی تعیناتی تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایئر ڈیفنس سسٹمز، راکٹ اور ڈرونز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ تیاریاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب سعودی عرب کو حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ ریاض نے حوثی گروپ پر اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد مملکت کی سیکورٹی صورتحال سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدہ ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا
سیکورٹی ذریعے نے CNN-News18 کو بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہوا، تاہم اس کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے بعد تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے 25 ستمبر کو ریاض میں ملاقات کی اور حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔
پاکستانی فوج نے بھی جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ اس کے اعلیٰ کمانڈروں نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی، مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اسلام کے مقدس مقامات کی سیکورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ریاض میں ہنگامی اجلاس، اگلے اقدامات پر ہوگی بات چیت
اگلے ہفتے ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد دفاعی معاہدہ اپنے عملی مرحلے کے مزید قریب پہنچ سکتا ہے۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان آئندہ کے اقدامات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اجلاس کی تاریخ ابھی حتمی نہیں کی گئی ہے۔
ڈار کے مطابق، چھ سے زائد ممالک اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ مکمل طور پر فعال ہونے سے پہلے نئی رکنیت کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس عمل میں ایک سال تک کا وقت لگ سکتا ہے
ایران نے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی تجویز دی
ریاض میں ہونے والے اجلاس میں مزید فوجی کارروائی کی بجائے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کے لیے ایران کی تجویز پر بھی غور کیے جانے کی توقع ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ایران نے سیاسی راستہ تلاش کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق دفاعی معاہدے کی ہنگامی میٹنگ میں اس تجویز کو کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔
ڈار نے واضح کیا کہ تہران نے کوئی باضابطہ تحریری تجویز پیش نہیں کی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ’برین اسٹارمنگ‘ قرار دیا۔ ڈار نے کہا کہ ’’کوئی تحریری یا ٹھوس پیشکش نہیں ہے۔ یہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان برین اسٹارمنگ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز پر ’’کائنیٹک ایکشن‘‘ یعنی فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر غور کیا جائے گا۔
ڈار نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ حل ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ تہران کو دفاعی معاہدے کے بارے میں بریف کر چکے ہیں اور پاکستان کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کے عزم سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔
پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو ابتدائی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک جانب اسلام آباد سعودی عرب میں بڑی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، تو دوسری جانب بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں
*پہلے طیبہ پاور اسٹیشن پر ڈرون حملہ اور اب سعودی عرب کے تیل ٹرمنل پر اٹیک، حوثیوں پر کیوں بھڑکے مسلم ممالک؟*
یمن کے حوثی باغیوں پر سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے الزامات مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے مسجدِ نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے طیبہ پاور اسٹیشن پر ڈرون حملے کا معاملہ سامنے آیا، جس پر متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور ترکیہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اب سعودی عرب کی ینبع انڈسٹریل پورٹ میں موجود سعودی آرامکو کے نارتھ ٹرمینل پر فضائی حملے اور آگ لگنے کی ابتدائی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم، اس تازہ حملے کی ابھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اسی دوران سعودی اتحاد نے جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں اور چار ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ینبع سعودی عرب کے مغربی ساحل پر بحیرۂ احمر کے کنارے واقع ایک بڑا صنعتی اور تیل برآمدی مرکز ہے۔ یہاں سے سعودی عرب دنیا کے دوسرے حصوں میں خام تیل بھیجتا ہے۔ سعودی آرامکو کا ینبع نارتھ ٹرمینل اسی کام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اس ٹرمینل سے روزانہ تقریباً 15 لاکھ بیرل خام تیل لوڈ کرنے کی صلاحیت ہے۔
اس کی ایک اور اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی تیل کے علاقوں سے خام تیل ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ینبع تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہاں سے تیل بحیرۂ احمر کے راستے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یعنی آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا سمندری راستوں میں رکاوٹ کی صورت میں ینبع سعودی عرب کے تیل کی برآمد کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اگر ٹرمینل پر حملے کی تازہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو یہ خاص طور پر اہم ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ینبع تک تیل پہنچانے والے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، لیکن اس بار براہِ راست بندرگاہ کے اندر موجود تیل ٹرمینل پر حملے کی بات کہی جا رہی ہے۔
مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے اسٹیشن پر حملہ
ینبع کی خبر سے پہلے سعودی عرب نے منگل کو مدینہ میں ایک پاور اسٹیشن پر حوثیوں کے ڈرون حملے کا الزام عائد کیا تھا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، تحقیقات اور ڈرون کے ملبے کی جانچ کے بعد اتحاد اس نتیجے پر پہنچا کہ حملے کی منصوبہ بندی حوثیوں نے کی اور اسے انجام بھی انہوں نے ہی دیا۔ یہ اسٹیشن مدینہ میں مسجدِ نبوی اور آس پاس کی دیگر شہری سہولیات کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ اتحاد کے مطابق، حملے میں ایک ٹرانسفارمر بند ہو گیا، لیکن اس کا اثر شہر کے پورے بجلی کے نظام پر نہیں پڑا۔
اس حملے کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ نشانہ مسجد کی عمارت کو نہیں، بلکہ اسے بجلی فراہم کرنے والے ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کو بنایا گیا تھا۔ حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے اسے سعودی عرب کے سابقہ الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
مسلم ممالک نے حوثیوں پر ناراضگی ظاہر کی
مدینہ کے پاور اسٹیشن پر حملے کے الزام کے بعد کئی مسلم ممالک نے سعودی عرب کی حمایت میں بیانات جاری کیے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور اردن نے اس حملے کی مذمت کی۔ ترکیہ نے بھی حملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ خلیجی تعاون کونسل یعنی GCC کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے اسٹیشن کو نشانہ بنانا کشیدگی میں سنگین اضافہ کرنے والا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کے مقدس مقامات کا تحفظ کونسل کے رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کا حصہ ہے۔
UAE نے اسے سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حوثیوں کے حملوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی۔ کویت اور اردن نے بھی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
دراصل، اس ناراضگی کی وجہ صرف ایک بجلی گھر پر حملہ نہیں ہے۔ معاملہ مدینہ کی مذہبی اہمیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی ایسی جگہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو مسجدِ نبوی جیسی مقدس جگہ کو بجلی فراہم کرتی ہے، تو اس کے اثرات سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس ہوتے ہیں۔
*مجھے آندھرا کا بیٹا سمجھیں‘: اننت امبانی نے ریلائنس کی مکمل حمایت کا یقین دلایا، نائیڈو کا رائل سیما کو عالمی فروٹ باؤل بنانے کا عزم*
آندھرا پردیش: ریلائنس انڈسٹریز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اننت امبانی نے جمعہ کو آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو سے کہا کہ وہ انہیں ’’آندھرا کا بیٹا‘‘ سمجھیں۔ انہوں نے مدناپلے میں قائم کیے جانے والے مجوزہ انڈین اسکول آف ایگریکلچر (ISA) کے لیے ریلائنس کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اننت امبانی انامیا ضلع میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیے جانے والے گلوبل ہارٹیکلچر ہب اور انڈین اسکول آف ایگریکلچر کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن، وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو، نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان اور وزیر نارا لوکیش سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔
آندھرا پردیش کے ساتھ شراکت داری کا موقع دینے پر وزیر اعلیٰ نائیڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اننت امبانی نے کہا کہ ریلائنس کو اس تاریخی زرعی منصوبے کا حصہ بننے پر فخر ہے اور کمپنی انڈین اسکول آف ایگریکلچر کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ریلائنس پر اعتماد کیا اور ہمیں اس تاریخی اقدام کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ ہمیں آندھرا پردیش کے ساتھ انڈین اسکول آف ایگریکلچر میں شراکت داری پر بہت فخر ہے اور ہم اس ادارے کو اپنی مکمل حمایت فراہم کریں گے۔ براہ کرم مجھے آندھرا کا بیٹا سمجھیں۔ میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں کہ ہم آندھرا پردیش کی ترقی میں مزید کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور ریاست کے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں۔ ہمیں ہر ممکن طریقے سے ریاست کی حمایت کرنے میں خوشی ہوگی۔‘‘
اننت امبانی کے اس بیان پر وزیر اعلیٰ نائیڈو سمیت تقریب میں موجود دیگر معززین نے تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ بعد میں نائیڈو نے کہا کہ امبانی کو ’’آندھرا پردیش کا بیٹا‘‘ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے شعبے میں اننت امبانی کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔
نائیڈو کا عزم، رائل سیما بنے گا عالمی فروٹ باؤل
وزیر اعلیٰ نائیڈو نے کہا کہ گلوبل ہارٹیکلچر ہب خشک سالی سے متاثرہ رائل سیما کی معیشت اور ترقی کی سمت بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس خطے کو عالمی ’’فروٹ باؤل‘‘ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت باغبانی، آبپاشی، فوڈ پروسیسنگ، لاجسٹکس، مارکیٹنگ اور برآمدات کو ایک مربوط نظام کے تحت فروغ دیا جائے گا
اس منصوبہ کو 10 اضلاع، 5,860 گاؤں اور 201 کلسٹرز میں نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے لیے حکومت تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ مزید 60,000 کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ حکومت باغبانی کی کاشت کے رقبے میں مزید چھ لاکھ ایکڑ کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی اور پروسیسنگ کی سہولتوں کو بھی مضبوط بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
نائیڈو نے کہا کہ ’’ہم رائل سیما میں ایک تاریخی پروگرام شروع کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس خطے کی سمت اور ترقی کے سفر کو تبدیل کرنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی حمایت سے ہم خشک سالی سے متاثرہ اس خطے کو ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ گلوبل ہارٹیکلچر ہب میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم حکومت کی جانب سے 40,000 کروڑ روپے اور نجی شعبے کے ذریعے مزید 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ 10 اضلاع کے تقریباً 5,860 گاؤں کو 201 کلسٹرز کے ذریعے ترقی دی جائے گی۔ ہم باغبانی کی کاشت میں مزید چھ لاکھ ایکڑ کا بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ رائل سیما میں عالمی فروٹ باؤل بننے کی بھرپور صلاحیت ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا اور پروسیسنگ و برآمدات کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘
زراعت اور ٹیکنالوجی پر توجہ دے گا ISA
مدناپلے میں مجوزہ انڈین اسکول آف ایگریکلچر (ISA) کو ریلائنس کی شراکت داری سے قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ ادارہ جدید زرعی تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ادارے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل زراعت، پریسیژن فارمنگ، ایگری بزنس، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے لچکدار زراعت اور جدید فارم مینجمنٹ جیسے شعبوں کو فروغ دینے کی توقع ہے۔ نائیڈو نے کہا کہ ISA زرعی شعبے کے لیے ماہر اور باصلاحیت قیادت تیار کرنے کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو کسانوں کی عملی ضروریات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔