Monday, 7 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی بلڈنگ حادثہ، ریکھا گپتا کا بڑا ایکشن، 5 منزلہ عمارتیں فوری سیل کرنے کا حکم، لاپرواہ افسران پر ہوگی سخت کارروائی*
نئی دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے بعد دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 12 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔ ریکھا گپتا نے موقع پر پہنچ کر متعلقہ افسران سے حادثے اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور غفلت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

عمارت کیسے منہدم ہوئی؟

وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر عمارت کے مالک کی لاپرواہی کو حادثے کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عمارت کافی پرانی تھی اور تہہ خانے میں پانی بھرنے کی وجہ سے اس کے ستون گر گئے، جس کے نتیجے میں پوری عمارت منہدم ہو گئی۔ ریکھا گپتا نے بتایا کہ حادثے کا شکار عمارت کے معاملے میں کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آس پاس موجود دیگر خطرناک عمارتوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ زدہ عمارت کے بالکل پیچھے موجود عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے اور اسے بھی فوری طور پر منہدم کیا جائے گا۔

پی جی، نرسنگ ہوم اور اسکولوں کا اسٹرکچرل آڈٹ ضروری

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تیار کر رہی ہے، جس کے تحت عوامی استعمال کی ہر عمارت، چاہے وہ پی جی، نرسنگ ہوم، اسکول یا کوئی دیگر سہولت ہو، اس کا وقتاً فوقتاً اسٹرکچرل آڈٹ اور سیفٹی سرٹیفکیشن لازمی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن عمارتوں میں ضروری حفاظتی جانچ اور سرٹیفکیشن نہیں ہوگا، وہاں عوامی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔غیر محفوظ پی جی میں کسی کو رہنے نہیں دیں گے

ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی غیر محفوظ پی جی میں رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عمارت سے نکالے گئے لوگوں کے لیے کالج ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثرہ طلبہ کے والدین سے بھی حکومت رابطے میں ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن سرکاری افسران کی نگرانی میں کمی، لاپرواہی یا دیگر غلطیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، ان کے خلاف اسی دن سخت کارروائی کی جائے گی۔

پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری سیل کرنے کا حکم

ستیہ نکیتن حادثے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کئی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ عمارت کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ ذمہ دار پائے جانے والے میونسپل کارپوریشن کے افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دہلی میں پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ آس پاس موجود پی جی اور دیگر عمارتوں کی بھی بڑے پیمانے پر جانچ کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر انہیں سیل کر دیا جائے گا۔









*🛑ٹائیفائڈ کیا ہے؟ ٹائیفائڈ میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے کریں پرہیز*
نئی دہلی : ٹائیفائڈ (Typhoid) سالمونیلا بیکٹیریا سے پھیلنے والی ایک سنگین بیماری ہے۔ ٹائیفائڈ نظامِ ہاضمہ اور خون کے بہاؤ میں بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آلودہ پانی، متاثرہ جوس یا دیگر مشروبات کے ذریعے سالمونیلا بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ٹائیفائڈ کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور مریض کو کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹائیفائڈ کن وجوہات سے ہو سکتا ہے؟ ٹائیفائڈ ہونے پر کون سی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اس دوران کن چیزوں سے پرہیز ضروری ہے اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ آئیے جانتے ہیں۔

ٹائیفائڈ کیا ہے؟

عام طور پر آلودہ پانی پینا اور متاثرہ یا باسی کھانا کھانا ٹائیفائڈ کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ٹائیفائڈ ایک متعدی بیماری ہے، اسی لیے گھر میں کسی ایک فرد کو ٹائیفائڈ ہونے کی صورت میں دیگر افراد کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ٹائیفائڈ تیز بخار سے وابستہ بیماری ہے، جو سالمونیلا ٹائیفی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا آلودہ کھانے یا پانی کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے۔

ٹائیفائڈ میں نہانے کا طریقہ

نہانے سے جسم کو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ ٹائیفائڈ کے دوران کمزوری یا تھکن محسوس ہونے کے باوجود اگر ممکن ہو تو نیم گرم پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔ اگر مریض خود اٹھ کر نہانے کے قابل نہ ہو تو اس کے جسم کی اسپونجنگ کی جا سکتی ہے۔ نہانے یا اسپونجنگ کے لیے مناسب درجہ حرارت کے پانی کا استعمال کریں۔ تیز بخار کی صورت میں جسم کو بہت زیادہ گرم رکھنے یا جان بوجھ کر پسینہ لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بخار کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علاج اور مناسب آرام ضروری ہے۔

ٹائیفائڈ میں غذا میں تبدیلی

ٹائیفائڈ کے دوران غذا کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے:

پیاز، لہسن اور تیز بو والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔مرچ، ساس، سرکہ اور بہت زیادہ مصالحے دار چیزوں سے گریز کریں۔ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو پیٹ میں گیس پیدا کرتی ہوں۔زیادہ فائبر والی غذاؤں، خصوصاً سخت یا ناقابلِ حل فائبر والی غذاؤں کے استعمال سے عارضی طور پر گریز کریں۔مکھن، گھی، پیسٹری، تلی ہوئی اشیا اور مٹھائیوں سے پرہیز کریں۔بازار میں تیار ہونے والی کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں۔بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والا کھانا نہ کھائیں۔ایک وقت میں پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا لیں۔ٹائیفائڈ کے دوران گوشت اور دیگر بھاری غیر سبزی خور غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ چائے، کافی، شراب اور سگریٹ کے استعمال سے گریز کریں۔

ٹائیفائڈ میں پھلوں کا رس اور سیال غذائیں

ٹائیفائڈ کے دوران پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ رہ سکتا ہے۔ اس لیے مریض کو وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں سیال چیزیں دینی چاہئیں۔ پانی، تازہ پھلوں کا رس اور دیگر مناسب سیال اشیا استعمال کی جا سکتی ہیں۔پانی کو اچھی طرح ابال کر پینا بہتر ہے۔ کھانا بھی صاف ستھرا اور اچھی طرح پکا ہوا استعمال کریں اور باہر کا کھانا کھانے سے گریز کریں۔ مناسب مقدار میں سیال اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کمزوری سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔اہم: ٹائیفائڈ ایک بیکٹیریا سے ہونے والا انفیکشن ہے، اس لیے صرف گھریلو تدابیر پر انحصار نہ کریں۔ تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں، خصوصاً مسلسل تیز بخار، شدید کمزوری، الٹی، پانی کی شدید کمی یا حالت بگڑنے کی صورت میں۔







*🛑امریکہ میں کارگو طیارہ رن وے سے نکلتا ہوا گاڑیوں سے جا ٹکرایا، پانچ افراد ہلاک*
امریکہ میں ایمیزون کمپنی کے ایک کارگو طیارہ کے حادثے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حادثہ اتوار کو ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب ایمیزون کا مال بردار طیارہ رن پر اتر رہا تھا تاہم وہ مطلوبہ مقام پر نہیں رک پایا اور آگے نکلتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔میامی کے فائر ڈیپارٹمںٹ کے سربراہ رے جیڈالہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ زخمیوں میں سے تین کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دو افرادکو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی لپیٹ میں چند گاڑیاں آئیں جن میں سے کچھ میں موجود افراد گاڑیوں کے اندر ہی پھنس گئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک مشکل آپریشن کے بعد دونوں پائلٹوں کو باہر نکالا گیا تاہم انہوں نے ان کی حالت میں نہیں بتایا جبکہ صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ پورٹوریکو سے دوپہر کے وقت میامی پہنچا تھا جس کے فوراً بعد آگ بجھانے والی گاڑیاں رن وے کی طرف جاتی دیکھی گئیں۔
دور سے بنی ایک ویڈیو میں نیلے اور سفید رنگ کے جہاز سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام کی جانب کہا گیا ہے کہ فی الوقت حادثے کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور وفاقی ادارہ برائے ہوا بازی این ٹی ایس بی کی تحقیقات کے بعد اس بارے میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔
آگ بجھانے والی ٹیم کے سربراہ نے اتوار کی شام کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ انجن میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایک شخص نشانہ بنانے والی گاڑیوں میں سے ایک کے نیچے پھنس گیا تھا جس کو ریسکیو اہلکاروں نے نکالا جبکہ خطرناک مواد سے نمٹنے والی خصوصی ٹیم نے محفوظ طریقے سے انجن کو بند کیا اور ایندھن کے اخراج کو بھی روکا۔
اسی طرح حادثے کے بعد این ٹی ایس بی نے بھی ایکس پر بیان جاری کیا۔
جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایمیزون کی ترجمان کیلی نینٹل نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...