Wednesday, 23 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی کے شالیمار باغ میں 30 سال پرانی مسجد اور مکانات پر چلا بلڈوزر، امام بولے- قرآن تک نکالنے کی نہیں دی مہلت*
نئی دہلی : دارالحکومت دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں میکس اسپتال روڈ کی توسیع کے تحت دیر رات انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کی بڑی کارروائی کی۔ اس دوران مدینہ مسجد اور اس کے آس پاس بنے کئی مکانات سمیت سڑک پر موجود مبینہ غیر قانونی قبضے ہٹا دیے گئے۔ کارروائی کے دوران موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔مدینہ مسجد کے خلاف کارروائی کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اے آئی ایم آئی ایم کے دہلی ریاستی صدر شعیب جمائی رات تقریباً 11:30 بجے شالیمار باغ پہنچے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔

مسجد سے قرآن نکالنے تک کی مہلت نہیں دی گئی: امام

شعیب جمائی نے کہا کہ شالیمار گاؤں میں مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا، اس کے باوجود رات کے اندھیرے میں علاقے کی تمام لائٹس بند کرکے بلڈوزر سے کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے امام اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے اندر سے قرآن پاک اور دیگرمذہبی کتابیں نکالنے تک کا وقت نہیں دیا گیا۔ شعیب جمائی نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں لوگوں کو اطلاع دیے بغیر رات کے اندھیرے میں اس طرح کی کارروائی قابل مذمت ہے۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔امام نے انتظامیہ کے دعوے پر اٹھائے سوال

مدینہ مسجد کے امام ظریف الرحمن نے انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو غیر قانونی قرار دیے جانے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ شالیمار میں تقریباً ہر گھر جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) کی بنیاد پر بنا ہوا ہے اور پورا علاقہ اسی دستاویز کے سہارے آباد ہوا ہے، لیکن صرف مسجد کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔امام نے اسے امتیازی رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا اور تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے تھے۔نوٹس کے ایک دن بعد میونسپل کارپوریشن کی کارروائیامام ظریف الرحمن کے مطابق عدالت میں معاملہ پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو نوٹس بھیجا تھا۔ میونسپل کارپوریشن نے انہیں سماعت کے لیے بلایا، جہاں مسجد سے متعلق تمام دستاویزات اور اپنا موقف پیش کیا گیا۔ان کے مطابق سماعت کے اگلے ہی دن میونسپل کارپوریشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مسجد کو 15 دن کے اندر خود ہٹانے یا بلدیاتی کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ عدالت گئے، جہاں انہیں صرف گراؤنڈ فلور کے لیے حکمِ امتناع ملا، جب کہ اوپری منزلوں کے لیے کوئی راحت نہیں ملی۔

شالیمار باغ میں بھاری سکیورٹی، سوربھ بھاردواج بھی پہنچے

کارروائی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ احتجاج یا کشیدگی سے نمٹنے کے لیے پورے شالیمار باغ علاقے میں بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی۔ دہلی پولیس کے ساتھ نیم فوجی دستوں کی کئی ٹکڑیاں بھی حساس علاقوں میں تعینات رہیں۔بلڈوزر کارروائی کے بعد دہلی کی سیاست بھی گرم ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج دیر رات موقع پر پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور انتظامیہ کی اچانک کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آمریت قرار دیا۔








*🛑گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت*
نئی دہلی : ملک کی سب سے بڑی سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی نے اپنے معروف برانڈ ’گولڈ فلیک‘ سگریٹ کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ کمپنی نے ’گولڈ فلیک پریمیم‘ اور اس سے جڑے دیگر ویریئنٹس کے دام بڑھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت یعنی ایم آر پی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔قیمتوں میں اضافے کے بعد اب 10 سگریٹ والے پیکٹ کے لیے صارفین کو پہلے کے مقابلے زیادہ رقم خرچ کرنی ہوگی۔ گولڈ فلیک پریمیم کے 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 125 روپے سے بڑھ کر 135 روپے ہوگئی ہے۔رواں سال گولڈ فلیک پریمیم کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 17.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے جون میں بھی اس برانڈ کی قیمت میں 8.7 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، جب 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 115 روپے سے بڑھا کر 125 روپے کردی گئی تھی۔

گولڈ فلیک پریمیم کی نئی قیمت کیا ہے؟

10 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت 135 روپے ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے اسی پیکٹ کی قیمت 125 روپے تھی۔

ستمبر میں قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

جون میں قیمت 115 روپے سے بڑھ کر 125 روپے ہوئی تھی۔

دونوں اضافوں کے بعد رواں سال قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 17.4 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

کیوں بڑھ رہی ہیں سگریٹ کی قیمتیں؟

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا ٹیکس نظام بتایا جا رہا ہے۔ یکم فروری 2026 سے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر 40 فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ اضافی ایکسائز ڈیوٹی کا نیا نظام نافذ کیا گیا۔ تاہم اضافی محصول کی شرح سگریٹ کی لمبائی اور فلٹر سمیت مختلف زمروں کی بنیاد پر الگ الگ ہے۔اس کے بعد سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے مختلف برانڈز کی قیمتوں میں کئی زمروں میں تبدیلی کی ہے۔ اب قیمتوں میں اس اضافے کا اثر صارفین کی جیب پر بھی نظر آ رہا ہے۔

آئی ٹی سی کے دیگر سگریٹ برانڈز بھی ہوئے مہنگے

آئی ٹی سی نے صرف گولڈ فلیک پریمیم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا، بلکہ ستمبر کے آغاز میں کمپنی کے کچھ دیگر برانڈز کے دام بھی بڑھائے گئے ہیں۔’کلاسک کنیکٹ‘ کے 20 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 390 روپے سے بڑھ کر 428 روپے ہوگئی ہے۔ وہیں ’گولڈ فلیک سپر اسٹار‘ کے 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 79 روپے سے بڑھ کر 89 روپے ہوگئی ہے۔اس طرح کلاسک کنیکٹ کی قیمت میں تقریباً 9.74 فیصد جبکہ گولڈ فلیک سپر اسٹار کی قیمت میں تقریباً 12.66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یوں 2026 میں آئی ٹی سی کے مختلف سگریٹ برانڈز کی قیمتوں میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔








*🛑عمران مسعود بمقابلہ اقرا حسن، 2027 انتخابات سے پہلے مغربی یوپی میں مسلم سیاست کے دو بڑے چہروں کی لفظی جنگ تیز*
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کو لے کر جاری سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کے درمیان مغربی اتر پردیش کے دو نمایاں مسلم سیاسی چہرے عمران مسعود اور اقرا حسن بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ یہ معاملہ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور کیرانہ سے ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے درمیان سیاسی بیان بازی کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

عمران مسعود کا سیٹوں کی تقسیم جلد طے کرنے پر زور

سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود مسلسل سماج وادی پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ اکھلیش یادو کی مسلم سیاست پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ عمران مسعود کا کہنا ہے کہ اتحاد کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہونا ہے، اسے جلد حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تاخیر سے نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس کے بغیر بی جے پی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ عمران مسعود نے یہ مؤقف بھی ظاہر کیا کہ اگر اکھلیش یادو اتحاد میں بڑا دل نہیں دکھاتے تو کانگریس اکیلے انتخابی میدان میں اترنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے اپنے ضلع کی نشستوں پر کسی رعایت سے بھی انکار کیا ہے۔ ان کے اس موقف کو کانگریس کی اس حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تحت پارٹی مغربی اتر پردیش اور مسلم اکثریتی نشستوں پر سیٹوں کی تقسیم میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔

ایس پی نے اقرا حسن کو جواب دینے کے لیے آگے کیا

عمران مسعود کے بیانات کے جواب میں ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ اتر پردیش میں اگر کوئی لیڈر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اکھلیش یادو ہیں۔ اقرا حسن نے کانگریس کی انتخابی پوزیشن پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اپنے دم پر اکیلے انتخابات لڑتی ہے تو وہ کچھ نہیں کر پائے گی۔ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد کے حوالے سے اقرا حسن نے کہا کہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو بہتر ہے، ورنہ اس کا نقصان کانگریس کو ہوگا، سماج وادی پارٹی کو نہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست میں دونوں جماعتوں کے تعلقات اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

عمران مسعود اور اقرا حسن آمنے سامنے کیوں؟

عمران مسعود اور اقرا حسن دونوں مغربی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے نمایاں مسلم سیاسی خاندانوں سے آتے ہیں۔ ان کے درمیان جاری بیان بازی کو ایس پی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم اور سیاسی اثر و رسوخ کو لے کر جاری اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی یوپی میں مسلم ووٹروں کے درمیان دونوں جماعتوں کی سیاسی رسائی بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ اقرا حسن کو عمران مسعود کے بیانات کا جواب دینے کے لیے سامنے لانے کو ایس پی کی جانب سے اپنی سیاسی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیٹوں کی تقسیم پر ایس پی اور کانگریس میں کشمکش

اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ایس پی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ سیٹ شیئرنگ ہے۔ عمران مسعود چاہتے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم جلد طے ہو تاکہ پارٹی انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھا سکے۔ دوسری جانب ایس پی اپنے تنظیمی اور زمینی سیاسی حساب کتاب کے مطابق سیٹوں کی تقسیم پر بات آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور بیانات میں سیاسی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔ عمران مسعود اور اقرا حسن کے درمیان حالیہ بیان بازی کو اسی وسیع تر سیاسی اختلاف کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2027 کے انتخابات کے لیے اتحاد کی حتمی شکل، سیٹوں کی تقسیم اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی سمجھوتے سے متعلق مزید فیصلے ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔



*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’بھاگ سکتے ہو، بچ نہیں سکتے...‘ کشمیر میں لشکر طیبہ کو بڑا جھٹکا، آپریشن اشدر میں پاکستانی کمانڈر یاسر ڈھیر* جمو...