Saturday, 12 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ہندوستان – چین کے درمیان براہ راست فلائٹ شروع، وزیراعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے بنا ماحول، 6 سال بعد فضائی خدمات بحال*
ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز نے دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 6 سال کے طویل وقفے کے بعد براہِ راست پروازوں کی سروس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان پہنچنے سے محض چند گھنٹے قبل براہِ راست پروازوں کی بحالی کی یہ خبر سامنے آئی ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز کے اس اقدام کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اسے ہندوستان اور چین کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ برکس سمٹ-2026 میں شرکت کے لیے ہندوستان آ رہے شی جن پنگ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے شام 5:45 بجے ملاقات متوقع ہے۔ اس دو طرفہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہونے کا امکان ہے۔

چائنا سدرن ایئرلائنز نے ہفتہ، 12 ستمبر 2026 کو اعلان کیا کہ وہ 21 ستمبر سے گوانگژو-نئی دہلی روٹ پر باقاعدہ مسافر پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔ ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق، یہ فضائی سروس تقریباً 6 سال کے وقفے کے بعد بحال کی جا رہی ہے۔ ایئرلائن نے کہا ہے کہ سروس بحال ہونے کے بعد وہ جنوبی ایشیا میں 8 راؤنڈ ٹرپ روٹس پر ہر ہفتے 100 سے زائد پروازیں چلائے گی۔چینی فضائی کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اپریل میں ایئر چائنا نے بیجنگ-دہلی کے درمیان براہِ راست پرواز سروس دوبارہ شروع کی تھی۔ یہ کسی چینی ایئرلائن کی جانب سے ہندوستان کے لیے بحال کی جانے والی دوسری براہِ راست فضائی سروس تھی۔ اس سے پہلے چائنا ایسٹرن ایئرلائنز نے 18 اپریل سے کنمنگ-کولکاتہ کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں۔

کولکاتہ-شنگھائی کے درمیان براہِ راست پرواز
ہندوستانی ایئرلائن انڈیگو نے بھی 30 مارچ کو کولکاتہ اور شنگھائی کے درمیان روزانہ نان اسٹاپ پرواز سروس شروع کی تھی۔ اس اقدام سے ہندوستان اور چین کے درمیان فضائی رابطے کو مزید تقویت ملی۔ انڈیگو اس سے قبل کولکاتہ-گوانگژو پرواز سروس بھی بحال کر چکی ہے، جبکہ بعد میں دہلی سے چین کے لیے بھی پروازوں کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں کووڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد ڈوکلام اور گلوان تعطل کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں آئی کشیدگی کا بھی فضائی رابطے پر اثر پڑا تھا۔ تاہم اب دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ بہتری کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو عوامی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات
اس دوران چینی صدر شی جن پنگ ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے نئی دہلی کے لیے روانہ ہو گئے۔ ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ ہفتہ ہی کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے۔

شی جن پنگ کے وفد میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کی مستقل کمیٹی کے رکن اور مرکزی دفتر کے ڈائریکٹر کائی چی کے علاوہ چینی وزیر خارجہ اور پولٹ بیورو کے رکن وانگ یی بھی شامل ہیں۔

گلوبل ساؤتھ کو فروغ دینے پر زور
ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس کے دوران گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانے سے متعلق تجاویز کو خصوصی اہمیت دے سکتے ہیں۔ برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اقتصادی اور پالیسی تعاون و ہم آہنگی کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔برکس کے ایجنڈے میں ترقی، مالیات، ٹیکنالوجی، تجارت اور عوام کے درمیان روابط سمیت متعدد اہم امور شامل ہیں۔ ایسے میں شی جن پنگ کا ہندوستان کا دورہ اور ہندوستان-چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








*🛑اب کیا کرنے جا رہے ہیں سونم وانگچک؟ ابھجیت دیپکے بھی ساتھ، کیا بڑا اعلان*
نئی دہلی :لداخ میں سونم وانگچک کی جانب سے 19 ستمبر سے ہونے والی پیدل یاترا کے اعلان پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو جاری کرکے تمام لوگوں، خاص طور پر ’کاکروچوں‘ سے اس مہم کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ اب سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دیپکے نے ایکس پر سونم وانگچک کی ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’لداخ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘ سونم وانگچک نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ لداخ کے مستقبل اور جمہوری نظام سے متعلق حکومت اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ نمائندہ وفد کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 ماہ بعد ہونے والی میٹنگ میں بھی مجوزہ جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی تحریری مسودہ پیش نہیں کیا گیا۔سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لداخ میں جمہوری ڈھانچے کا مطالبہ

سونم وانگچک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نمائندہ وفد کا بنیادی مطالبہ لداخ میں جلد از جلد جمہوری طریقے سے منتخب اسمبلی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آگے انتخابات کرانے اور جمہوری اداروں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر مل کر لداخ کے لیے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ سونم وانگچک کے مطابق وفد نے حکومت سے یقین دہانی مانگی تھی کہ جب تک لداخ میں جمہوری ڈھانچہ قائم نہیں ہو جاتا، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے لداخ کی شکل ہی تبدیل ہو جائے۔

’لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا ہوگی‘

سونم وانگچک نے اعلان کیا کہ 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا نکالی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر حکومت کی جانب سے یقین دہانی مل جاتی ہے تو اس یاترا کو شہیدوں کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک بڑے مارچ کی شکل دی جائے گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اسے احتجاج میں تبدیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ لداخ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سونم وانگچک نے مزید کہا کہ اس کے لیے پورے ہندوستان سے حمایت کی ضرورت ہے اور لداخ کو عوام کی حمایت درکار ہے۔








*🛑گلوکوما اور موتیا بن بینائی سے محرومی کی وجہ بن سکتے ہیں*
حیدرآباد: عام طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں آنکھوں سے متعلق مسائل زیادہ دیکھے جاتے تھے، لیکن آج کل ہر عمر کے افراد آنکھوں کی مختلف پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گلوکوما اور موتیا جیسی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں آنکھوں کی سنگین بیماریاں ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص مکمل طور پر اپنی بینائی سے محروم ہو سکتا ہے۔

اگرچہ گلوکوما اور موتیا بظاہر ایک جیسے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق دونوں بیماریوں میں کافی فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت معائنہ اور مناسب علاج کے ذریعے آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ آئیے، اس خبر میں ان دونوں بیماریوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

گلوکوما کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق، گلوکوما آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے، جس کی علامات آسانی سے ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگوں میں اس بیماری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس وقت تک ان کی بینائی کافی متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوکوما کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ بتدریج بینائی کو ختم کرتا ہے اور مستقل اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسے آنکھوں کا خاموش قاتل یا خاموشی سے بینائی چھیننے والا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گلوکوما موتیا سے مختلف بیماری ہے، گلوکوما بنیادی طور پر آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتا ہے، جو آنکھ سے دماغ تک بصری معلومات پہنچانے کا کام کرتی ہے۔

گلوکوما کی وجوہات

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں:

ہائی بلڈ پریشر

سگریٹ نوشی

کیفین کا استعمال

آنکھ کے ڈرینیج اینگل کو نقصان پہنچنا

آنکھ میں چوٹ لگنا

عمر میں اضافہ

جینیاتی عوامل

گلوکوما کی علامات

گلوکوما کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ابتدائی مرحلے میں آنکھوں کے سامنے دھندلے دھبے بننے لگتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ دھبے پیری فیرل وژن یعنی آس پاس کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جن افراد کی آنکھوں کے اندر دباؤ یعنی انٹرا اوکیولر پریشر زیادہ ہوتا ہے، انہیں صبح کے وقت سر درد یا دھندلی نظر کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بیماری کی حالت سنگین ہونے پر کچھ علامات واضح طور پر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

آنکھوں میں شدید درد

آنکھوں کا سرخ ہونا

دھندلی نظر

سر درد

متلی

قے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متلی اور قے جیسی علامات کے ساتھ آنکھوں میں تکلیف ہو تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔

گلوکوما کا علاج

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی جتنی جلد تشخیص ہو جائے اور علاج شروع کیا جائے، اتنا ہی بینائی کو محفوظ رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی مستقل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ آنکھوں کا معمول کا معائنہ کروانا فائدہ مند ہے۔

گلوکوما کا خطرہ کن افراد کو زیادہ ہوتا ہے؟

40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں گلوکوما کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن افراد کے خاندان میں گلوکوما کی ہسٹری رہی ہو، جن کی آنکھوں کا دباؤ یا بلڈ پریشر زیادہ ہو یا جو ذیابیطس میں مبتلا ہوں، ان میں بھی گلوکوما کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹیرائڈز استعمال کرنے والے افراد، آنکھوں میں چوٹ لگنے کی ہسٹری رکھنے والے افراد، مائیگرین، خون کی خراب گردش، دیگر صحت کے مسائل، مایوپیا یعنی دور کی نظر کمزور ہونے یا ہائپروپیا (Hyperopia) یعنی قریب کی نظر کمزور ہونے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

موتیا بن کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق موتیا بن بھی اندھے پن کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر آنکھ کے لینس کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم ماہرینِ چشم کے مطابق اگر موتیا کی بروقت تشخیص ہو جائے تو معمول کی سرجری کے ذریعے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت اور مناسب علاج سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات کافی زیادہ رہتے ہیں۔

موتیا کی وجوہات

موتیا مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جن میں:

گلوکوما

ذیابیطس

گردوں کی بیماری

آنکھوں میں چوٹ

سگریٹ نوشی

آنکھ کے اندر سوزش

بعض اقسام کی ادویات

آنکھوں میں انفیکشن

موتیا کی علامات اور پیچیدگیاں

موتیا ہونے کی صورت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

ایک چیز کا دو نظر آنا

گاڑی چلانے میں دشواری

آنکھ کی پتلی میں دھندلا پن

دھندلی نظر

رات کے وقت کم نظر آنا

کم روشنی میں پڑھنے میں دشواری

آنکھ میں سفیدی نظر آنا

بھنوؤں کا غیر ارادی طور پر پھڑکنا

موتیا کا علاج

ماہرینِ صحت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موتیا کی تشخیص اور علاج کرانے سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ تاہم، اگر موتیا زیادہ بڑھ جائے تو سرجری نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔ سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ موتیا کی بروقت تشخیص کی جائے اور بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب علاج کروایا جائے، تاکہ بینائی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ہندوستان – چین کے درمیان براہ راست فلائٹ شروع، وزیراعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے بنا ماحول، 6 سال بعد فضائی خدمات...