*🛑مشترکہ خطاب جمعہ نمبر299عنوان : موجودہ آزمائشی حالات اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں*
*مورخہ،24،جولائی 2026ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مالیگاؤں کی مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!*
1)آسمہ مسجد(نزد اسٹار ہوٹل)بارہ پچاس
مولانا علاءالدین ندوی
2)نظامیہ مسجد (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
حافظ شاداب اختر عرفانیؔ
3) مسجد زینب حجن(گلشن زینب)ایک بجے
مولانا مفتی عبدالمالک کفلیتوی
4)یوسفیہ مسجد (ہزار کھولی)ایک بجے
مولانا مجاہد الاسلام ملی
5)محمّدی مسجد (سردارنگر)بارہ پچاس
قاری وقّاص انجم انوریؔ
6)نذیریہ مسجد (رونق آباد) بارہ پچاس
مولانا عبدالوحید ندوی قاسمی
7)مسجد اشرف بی (باغِ حاجی یاسین)ایک بجے
مفتی فیصل ملک عثمانی ملّی
8)یعقوب مسجد (نزد زری والا پیٹرول پمپ )ساڑھے بارہ
مولانا محمد عمران کفلیتوی
9)مسجد زہرہ عبد الصمد (اکبر پورہ )ایک بجے
ارشد ملک رحمانی
10)مسجد اسماعیل رمضان پورہ بارہ پچاس
حافظ و ڈاکٹر احمد طلحہ عثمانی
11)مسجد الصادق الامین (دیانہ)ایک پانچ
مولوی عبدالعزیز ندوی
12)مسجد محسنہ( نعمت باغ )بارہ پچاس
مفتی محمد فرقان خالد قاسمی
13)نٸی مسجد (اسلامپورہ )ایک بجے
مولانا عمر فاروق سلطان
14)مسجد عکرمہ (ہنگلاج نگر) ایک بجے
مولانا ریحان رئیس ندوی
15)مسجد امیر حمزہ(مدنی نگر)ایک بجے
جناب محمد زید انجینئر
16)مسجد ہاجرہ (محفوظ کالونی)ایک پانچ
مفتی محمّد فیصل کفلیتوی
17)مسجد ام مختار( ہزار کھولی) بارہ پچاس
مولانا اسجد کمال ندوی
18)مسجد ناصرہ مبارک(سرسید نگر) بارہ تیس
مولوی محمد سعد
19)مسجد اسماعیل (درے گاؤں)ایک بجے
مفتی محمد علی ملی
20)مسجد زیتون محمد صادق (زیتون پورہ)بارہ پچاس
مفتی محمد عامر یاسین ملی
21)مسجد عبداللہ بن مسعود(نیا بس اسٹینڈ)بارہ تیس
مفتی ابوذر بیتی
22)مسجد مریم حجن (رمضانپورہ) بارہ پچاس
مفتی محمدمدثرملی سیفی
23)مسجد ھلال (ھلال پورہ )بارہ تیس
مفتی محمد محسن عبدالشکور اشاعتی جامعی
24)جامع مسجد (گیارہ ہزار کالونی) ایک بجے
مولانا عادل اشاعتی
25)مسجد امینیہ (آزاد نگر)ایک دس
مفتی ارشد جمال ملی
26)مسجد ابراہیم دم(داتارنگر) بارہ پچاس
مولانا جمال ناصر ایوبی
27)مسجد باغ گلاب(گلاب پارک)بارہ چالیس
مفتی عبدالمحسن قاسمی
28)مسجد شعبان (شعبان پورہ)ایک پانچ
مفتی محمد اسحاق ملی
29)مسجد انوارِ مصطفیٰ (ہزار کھولی)ایک بجے
مفتی عبدالرحیم ملی
30)مسجد سعیدہ حجن (عبداللّٰہ نگر)بارہ پچیس
ارشد ملک رحمانی
31)نورانی مسجد مرکز (مالیگاؤں)ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی
32)جونی مسجد (اسلام پورہ)ایک بجے
مولانا محمد یاسین ندوی
33)مسجد عثمان زکریا (ثنا انکلیو) بارہ پچاس
مفتی محمد اُسامہ انوری
34)مسجد آسمہ مرتضیٰ (پوارواڑی) بارہ پچاس
مولانا نہال احمد قاسمی
35)الفلاح مسجد (پیپل نیر)ایک بجے
حافظ مبین احمد
36)مسجد ارقم (مہاڈا پلاٹ) بارہ پینتالیس
مفتی محمد خالد شاہد ملی
37)مسجد بسم اللہ حجن (گلشن آباد)بارہ تیس
مولوی عبداللہ
38)مسجد عمر یوسف (گلشیر نگر) بارہ تیس
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
39) مسجد کوہ نور (یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے
مفتی محمد عامر عثمانی
40) مسجد عبدالرحمن بن عوف (رحمٰن پورہ) ایک بجے
حافظ ریحان فردوسی
41) مسجد مولانا محمدالیاس (عباس نگر) ایک دس
قاری مصدق احمد تجویدی
42) رابعہ مسجد (باغ محفوظ)
ساڑھے بارہ بجے سے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی
43) مسجد چشمۂ گلاب ( پوارواڑی) سوا بجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی
44) مسجد رابعہ عبدالغفور(مسلم پورہ)
ایک بیس
قاری نعیم الرحمن پریاگی
برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔
جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں
*🛑ہائے یہ جان لیوا روڈ تیری بدقسمتی ہے اور اس سے گذرنے والی عوام کی سخت آزمائش*
گولڈن نگر بلیو برڈ سائزنگ سے رضاپورہ کیفی سوئٹ کارنر تک کا یہ روڈ تقریبا" سال بھر پہلے پرشاسک راج میں کانکریٹ طرز پر تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا منظور ہوا تھا۔ مگر انڈر گراونڈ ڈرینج ہونے بعد آج 8 مہینہ گذر چکا اور یہ روڈ کی حالت بد سے بدتر ہوتے جارہی ہے ۔ 1 کروڑ کا فنڈ اللہ بہتر جانے کہاں گیا؟ دوبارہ خبروں کے مطابق معلوم ہوا کہ پھر سے 2 کروڑ سے کا فنڈ منظور ہوا ، اب سوال یہ ہیکہ شب برات گذر گئی ،ماہ رمضان المبارک کا مہینہ گذر گیا، عیدالفطر ، عیدالالضحی ، محرم گذر گیا ہر تہوار پر سننے میں آرہا تھا کہ تہوار بعد یہ روڈ کا کام چالو ہوگا۔ مگر اب تو سرکار مدینہ سرور کائنات حضور ﷺ کی جشن ولادت 12ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور جلوس عیدمیلاالنبی رضا مسجد سے نکل کر اس روڈ سے بھی گذرتا ہے۔ کیا اب بھی یہ روڈ کی بدقسمتی ہی رہے گی کہ روڈ کی حالت اسی طرح سے بدتر رہے۔ اور اس روڈ سے گذرنے والی عوام کے لئے یہ سخت آزمائش ہی رہے گی۔ ذرا سوچو کہ اس روڈ سے روزآنہ اسکولی طلبہ و طالبات اور دینی مداراس کے بچے بچیاں اور معلم معلمات کیسے اس روڈ سے گذرتے ہونگے۔ کیا شہر کے تمام سیاسی قائدین کا ضمیر اب بھی اس روڈ کی حالت دیکھ کر جھجھوڑتا نہیں کہ اس روڈ کی پختہ تعمیر کی جائے۔ گولڈن نگر کی عوام اور بالخصوص اسکول و مداراس کے طلبا و طالبات شہر کے تمام سیاسی قائدین اور آس پاس کے وارڈ کے ہر نمائندوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ذرا اس روڈ کے ایسے خطرناک منظر میں آپ لوگ اچھے اور صاف ستھرے کپڑوں میں اس روڈ سے چل کر بتائیں اور اسکولی و مدارس کے بچوں جیسا پیدل چل کر بتائیں۔ شائد ہوسکتا ہیکہ آپ کا ضمیر آپکو جھجھوڑ کر رکھ دے۔
خدارا ایکبار تمام سیاسی لیڈران اس روڈ کے منظر کو خود سفر کرکے دیکھیں اور جلد از جلد اس روڈ کی تعمیر کریں
*🛑برقعہ: اور فیشن*
*دینی، اخلاقی، سماجی اور فکری پہلو*
*از قلم شعیب احمد محمدی 9284434542*
*1. دینی پہلو*
اسلام میں عورت کے لیے پردے کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں دیا ہے۔
*اللہ تعالی کا حکم:*
وقل للمؤمنات يغضضن من ابصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن
سورہ النور: 31
*ترجمہ:* اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔ اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔
*برقعہ پردے کی ایک مکمل شکل ہے*
اس کا مقصد عورت کے جسم اور زینت کو غیر محرم کی نظر سے بچانا ہے۔
برقعہ کوئی رواج نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔
*صحابیات کا فوری عمل:*
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اللہ رحم کرے انصار کی عورتوں پر۔ جب ولیضربن بخمرهن نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے موٹے کپڑوں اور چادروں کے کنارے پھاڑے اور ان سے اپنے سر اور چہرے ڈھانپ لیے۔ گویا ان کے سروں پر کالے کوے بیٹھے ہوں
صحیح بخاری
*دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت کی عزت اس کے پردے میں ہے*
برقعہ عورت کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور تقوی کی علامت ہے۔
*2. اخلاقی پہلو*
برقعہ حیا کا لباس ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
برقعہ پہننے والی عورت معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ میری عزت، میرا وقار، میرا کردار سب سے اہم ہے۔
یہ لباس فحاشی، بے حیائی اور نظر بازی کو روکتا ہے۔ جب عورت پردے میں نکلے گی تو معاشرے میں پاکیزگی اور شرم و حیا کا ماحول بنے گا۔
برقعہ مردوں کو بھی اخلاق سکھاتا ہے کہ وہ عورت کو صرف اس کی ذات اور علم سے پہچانیں، اس کے جسم سے نہیں۔
*3. آج کے فیشن ایبل برقعے: دعوتِ نظارہ یا پردہ؟*
آج فیس بک، انسٹاگرام اور مارکیٹ میں جو برقعے نظر آتے ہیں وہ برقعہ کم اور ڈیزائنر گاؤن زیادہ لگتے ہیں۔
*کیا ہو رہا ہے؟*
*1. نقش و نگار، پھول بوٹے، نگ اور چمکدار اسٹون:* برقعہ جو نظر سے بچانے کے لیے تھا، خود نظروں کا مرکز بن گیا ہے۔
*2. ٹائٹ اور فٹنگ برقعے:* جسم کی ساخت واضح کرنے والے برقعے۔ ایسا برقعہ جسے دیکھ کر نا دیکھنے والا بھی ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔
*3. حد ہوگئی بے شرمی کی*
آج معاشرہ میں روزآنہ ماں ، بہنوں ، پہنے جانے والے لباس اتنی فٹ اور تنگ نہیں ہوتے جتنا کہ اب برقعہ ٹائٹ اور فٹنگ میں ہوتا ہے۔ گویا کہ عام لباس میں خواتین کے جسم کا ابھار فٹنگ میں نا ہونے کی وجہ سے اتنا ظاہر نہیں ہوتا جتنا کہ آج برقعہ پہن کر بے ہودگی کا تماشا دنیا کو دکھایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ چہرے کی نقاب کی پٹی اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے کہ ان کے سینے کا ابھار بالکل واضح دکھتا ہے اور جب کسی عالم، یا داڑھی ٹوپی والے کو یہ خواتین دیکھتی ہیں تو اپنی بے شرمی کو چھپانے کے لیے وہ اس چھوٹی سی پٹی سے اپنا سینہ چھپانے کے لیے نیچے کھینچتی ہیں مگر ناکام رہتی ہیں اللہ کی پناہ
*شعر*
تم شرم و حیا ڈھونڈ رہی ہو میری بہنوں
وہ فاطمۃ الزھراء کے دوپٹے میں ملے گی
*نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا برقعہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر عمل نہیں رہا، بلکہ دعوتِ نظارہ بن گیا ہے۔*
*اصل برقعہ کیا تھا؟*
صحابیات رضی اللہ عنہا کا برقعہ سادہ، ڈھیلا ڈھالا تھا۔ مقصد صرف ایک تھا - خود کو چھپانا۔
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا: عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے۔
*غیرت مند مردوں سے ایک اپیل*
او غیرت مند مسلمان بھائی!
اللہ کے واسطے اپنی بیوی، بہن، ماں کو سمجھائیں:
بیٹی! بہن! تم محمد ﷺ کی امت ہو۔ تم فاطمہ الزہراء کی بیٹیاں ہو۔ سادہ برقعہ پہنو، ڈھیلا برقعہ پہنو، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔
خدارا ایساتنگ اور فٹنگ والا برقعہ شوہر اپنی بیوی کو بھائی اپنی بہن کو پہننے سے روکیں جسے دیکھ کر نواجوان طبقہ بیہودہ فقرے کہتے ہیں کہ دیکھ کیا م۔!!!!
*حل کیا ہے؟*
*1. سادگی اپنائیں:* کالا، ڈھیلا، بغیر ڈیزائن والا برقعہ۔
*2. نیت ٹھیک کریں:* برقعہ لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں، اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے۔
*3. گھر کے سربراہ کا کردار:* مرد گھر کا نگہبان ہے۔
*سبق:*
برقعہ صرف کپڑا نہیں، یہ اللہ کی رضا، حیا کا تاج اور مومن عورت کی پہچان ہے۔
*اللہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سچا پردہ نصیب فرمائے*
اور ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین