Friday, 24 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار*
بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک اسپیکرہی قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اسپیکرحافظ الدین احمد نے بتایا کہ محمد شہاب الدین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسمانی اورذہنی طورپر صدرجیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہے، اسی لئے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے اعلان کے بعد سے تعطل برقرارہے اوریہی استعفیٰ کی سب سے بڑی وجہ رہی۔

مقامی اخبارپرتھم آلوکے مطابق، بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت صدر دستخط شدہ خط کے ذریعہ اسپیکرکواستعفیٰ پیش کرسکتے ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 54 کے مطابق اگرصدرکا عہدہ خالی ہوجائے یا وہ بیماری، غیرحاضری یا کسی اوروجہ سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں تونئے صدرکے انتخاب تک اسپیکرہی صدرکے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 123(2) کے مطابق، صدرکے انتقال، استعفیٰ یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں 90 دن کے اندرنئے صدرکا انتخاب ضروری ہے۔ آرٹیکل 48(1) کے مطابق صدرکا انتخاب پارلیمنٹ کے اراکین کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں بی این پی کو اکثریت

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پارٹی کا امیدوارہی ملک کا اگلا صدر منتخب ہوگا۔ گزشتہ کئی دنوں سے بی این پی کی اعلیٰ قیادت میں اس بات پرغورجاری تھا کہ محمد شہاب الدین کے بعد صدرکے عہدے کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے۔ گزشتہ چند روز سے محمد شہاب الدین کے ممکنہ استعفیٰ کی خبریں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ ذہنی طورپراستعفیٰ دینے کے لیے تیارتھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کوبنگ بھون کے سینئرحکام سے ملاقات کے دوران اپنے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔2023 میں صدر بنے تھے محمد شہاب الدین

محمد شہاب الدین نے 24 اپریل 2023 کوعوامی لیگ کی حکومت کے دورمیں بنگلہ دیش کے 22ویں صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ ان کی آئینی مدت اپریل 2028 تک تھی، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے تقریباً ڈھائی سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ جولائی 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے ہی محمد شہاب الدین کے صدرکے عہدے پربرقراررہنے سے متعلق سیاسی بحث جاری تھی۔ بعد ازاں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئی تھیں۔ اب ان کے استعفیٰ کے بعد ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پرتبدیلی کی راہ ہموارہوگئی ہے۔









*🛑تین ریاستوں میں زبردست ووٹنگ، 5بجے تک آسام میں 84.42 فیصد، کیرلا میں 75.01 فیصد اورپڈوچیری میں 86.92 فیصد ووٹنگ*
کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس طرح سے تینوں ریاستوں میں کافی اچھی ووٹنگ ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں رائے دہندگان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔

اس سے قبل، دوپہرایک بجے کے اعدادوشمار کے مطابق، آسام میں 59.63 فیصد، کیرالہ میں 49.70 فیصد اور پڈوچیری میں 56.83 فیصد ووٹنگ ہوئی،صبح 11 بجے تک آسام میں 38.57 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریں اثنا، کیرالہ میں صبح 11 بجے تک 33.13 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پڈوچیری میں 36.90 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صبح 9 بجے تک ووٹنگ کے رجحانات کی بات کریں تو آسام میں تقریباً 18 فیصد، کیرالہ میں 16.23 فیصد، اور پڈوچیری میں 17.41 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کیرالہ، آسام اورپڈوچیری اسمبلی انتخابات میں کئی نئی پہل شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں پڈوچیری میں جاری ووٹنگ کے دوران ایک پولنگ مرکزپرروبوٹ “نیلا” لوگوں کی توجہ کا مرکزبن گیا ہے۔ ووٹنگ مرکزپرووٹرزکی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے، جہاں وی اوسی گورنمنٹ اسکول میں ووٹ ڈالنے آنے والے ووٹرزکا استقبال روبوٹ “نیلا” کررہا ہے۔ یہ ایک ایونٹ بیسڈ روبوٹ ہے، جسے شادیوں، سرکاری تقریبات اورانتخابات جیسے مختلف پروگراموں کے لیے بک کیا جاتا ہے۔ روبوٹ “نیلا” میں کئی جدید خصوصیات شامل ہیں، جن میں وائس فیچربھی موجود ہے، جس کی مدد سے یہ خود بات چیت بھی کرسکتا ہے اورووٹرزکوخوش آمدید کہتا ہے۔

آسام، کیرالہ اورمرکزکے زیرانتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ صبح 7 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اورشفاف اورپرامن انتخابات کویقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طورپر296 نشستوں پر1995 امیدوارمیدان میں ہیں، جہاں این ڈی اے، انڈیا اتحاد اورلیفٹ محاذ کی سیاسی طاقت کا امتحان ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ آج کرناٹک کی دونشستوں، ناگالینڈ کی ایک نشست اورتری پورہ کی ایک نشست پرضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ جبکہ گوا میں بھی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہونا تھا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ ہائی کورٹ نے وہاں ہونے والے ضمنی انتخاب پر روک لگا دی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق آسام کی 126 نشستوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے 31,940 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاست کے 35 اضلاع میں پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حساس پولنگ مراکز پر خصوصی نگرانی کے لیے مائیکرو آبزرورز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں جماعت اوراپوزیشن کے درمیان ہے اورلاکھوں ووٹرزپولنگ مراکزپر پہنچ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کررہے ہیں۔

دوسری جانب، کیرلا کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پرایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے، جہاں 883 امیدوارمیدان میں ہیں۔ ریاست کے تقریباً 2.71 کروڑ ووٹر آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کررہا ہے، جبکہ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی امید میں ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب پڈوچیری میں 9.50 لاکھ ووٹرز آج 294 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے کریں گے۔ تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کو شفاف اورپرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔











*🛑دار چینی کا پانی لگاتار 30 دن پینے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیں ماہرین کیا کہتے ہیں*
دار چینی کو شامل کرنے سے ٹماٹر چاول، پلاؤ، مسالہ دار سالن، اور نان ویجیٹیرین جیسے پکوانوں کے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر، کیلشیم، پوٹاشیم اور کیروٹین کے ساتھ ساتھ وٹامن اے، بی، اور کے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ دار چینی اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات بھی رکھتی ہے۔ تو آئیے 30 دن تک روزانہ دارچینی کا پانی پینے کے فوائد کو جانیں۔

بلڈ شوگر کنٹرول:

ماہرین کا کہنا ہے کہ دار چینی بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسولین کے کام کو بہتر بنانے، ورزش کے دوران گلوکوز کی سطح کو کم کرنے اور کھانے کے بعد خون میں شوگر میں اچانک اضافے کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔ ریسرچ گیٹ کے مطابق، دار چینی کا استعمال انسولین کے اثرات کو بڑھانے یا سیلولر گلوکوز میٹابولزم کو بڑھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں منسلک تھراپی کے طور پر بھی انتہائی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

بہتر ہاضمہ:

دار چینی روایتی طور پر ہاضمے کے مسائل کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپھارہ، بدہضمی اور تیزابیت جیسے مسائل سے نجات دلاتا ہے۔ نتیجتاً روزانہ دار چینی کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ScienceDirect کے مطابق، دار چینی میٹابولک سنڈروم اور عمر سے متعلق دماغی امراض پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

وزن پر قابو:

دار چینی کا پانی باقاعدگی سے پینا وزن میں فوری کمی کا باعث نہیں بنتا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ توانائی کی سطح کو بڑھاتا ہے اور بھوک کو دبانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، متوازن غذا اور ورزش کے ساتھ دار چینی کا استعمال وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دار چینی کے سپلیمنٹس لینے سے BMI اور جسمانی وزن میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات:

دار چینی میں پولیفینول شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ اور سوزش کو کم کرتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال دائمی بیماریوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔کولیسٹرول کنٹرول:

ماہرین کا خیال ہے کہ دار چینی نہ صرف برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے بلکہ اچھے کولیسٹرول کو بھی بڑھاتی ہے۔

بالآخر 30 دنوں تک دار چینی کا پانی پینے سے کچھ ہلکے فوائد مل سکتے ہیں، جیسے کہ خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنا، ہاضمہ کو بہتر بنانا، اور میٹابولزم کو بڑھانا۔ تاہم، یہ راتوں رات وزن میں کمی یا آپ کی صحت میں زبردست تبدیلیوں کا باعث نہیں بنے گا۔ اسے ہمیشہ اعتدال میں کھائیں، اور اگر آپ کو اپنی صحت پر اس کے اثرات کے بارے میں کوئی تشویش ہے تو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے سے مشورہ کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار* بنگلہ ...