Friday, 24 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے ذمہ داران نے NEET 2026 کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی*


مالیگاؤں: مورخہ 20 جولائی 2026 بروز پیر بعد نماز مغرب مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار چیئرمین جناب حسین اختر صاحب اور سی ای او ڈاکٹر سید شعیب ہاشمی صاحب نے شہر مالیگاؤں میں NEET 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علم حافظ عمرین عبداللہ مبین احمد کی حوصلہ افزائی کی۔

اکیڈمی کے ذمہ داران سینئر صحافی عبدالحلیم صدیقی اور سلیم خان سر پیلا پھیٹا کی رہنمائی میں اپنے احباب کے ہمراہ ڈاکٹر مبین نذیر کی رہائش گاہ "گلشن عائشہ" پہنچے۔ وہاں انہوں نے حافظ عمرین عبداللہ کو اس ممتاز کامیابی پر مبارکباد دی اور اپنے مفید مشوروں کے ساتھ دعاؤں سے بھی نوازا۔

اس پروقار تقریب کے انعقاد میں محمد آمین اور حافظ محمد یاسین صاحبان کی خصوصی کاوشیں شامل تھیں۔











*🛑ندی میں سیلابی کیفیت الرٹ*
از قلم *شعیب احمد محمدی*

_1. *جان کی حفاظت اسلام کی اولین تعلیم*_  
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا:  
_"ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة"_  
_"اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو"_ _سورہ البقرہ: 195_

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جان بہت قیمتی ہے۔ پانی کا بہاؤ، سیلاب، ندی کا تیز دھارا یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔ احتیاط کرنا، الرٹ پر عمل کرنا یہ بھی عبادت ہے۔  
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: _" تداوی (پرہیز) اور احتیاط کرو"_۔ لہٰذا انتظامیہ کی بات ماننا، بچوں کو ندی سے دور رکھنا یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

_2. *ذمہ دار شہری بنیں*_  
جب بھی ڈیم یا ندی سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو سب سے زیادہ خطرہ بچوں، نوجوانوں اور غریب محنت کشوں کو ہوتا ہے جو روزی کے لیے کنارے جاتے ہیں۔  

_آج چھٹی کا دن ہے۔ والدین اپنے لخت جگر چھوٹے بچوں کی پوری نگرانی کریں۔_  
_*خاص تنبیہ*: آج جمعہ کا دن ہے اپنے بیٹے اور بہو کو تنبیہ کریں کہ آپکا بیٹا بہو کو میکے پہنچانے سے پہلے "پانی دکھانے" ندی کے کنارے ہرگز نہ لے جائیں۔ کیونکہ ایک لمحے کی غفلت پورے گھر پر بھاری پڑ سکتی ہے۔_

_ہمارا فرض ہے:_
_1. اپنے گھر، محلے میں سب کو خبر دیں_
_2. کسی کو سیلفی یا ویڈیو بنانے کے لیے ندی کے قریب نہ جانے دیں_  
_3. بزرگوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں_
_4. اگر کوئی پھنس جائے تو فوراً 112 یا مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں_

_ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے۔_

_3. *ایک لمحے کی لاپرواہی*، پوری زندگی کا غم_
  
_*اے میرے مالیگاؤں کے بھائیو*!_  
پانی دیکھنے کا شوق، ایک تصویر، ایک ریل بنانے کا جنون... یہ چند سیکنڈ کی خوشی کسی ماں کی گود اجاڑ سکتی ہے۔  
کتنے گھر ایسے اجڑے ہیں جو صرف _"دیکھنے"_ گئے تھے۔ مگر حادثے کا شکار بن گئے ۔

_یاد رکھیں:_  
_ندی کا سکون دھوکہ ہے۔ اوپر سے پانی کم لگتا ہے لیکن اندر بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔_

_دعا:_  
_اللہ تعالی ہمارے شہر مالیگاؤں، ہمارے گھروں، ہماری ماؤں، بہنوں، بچوں سب کی حفاظت فرمائے۔_  
_*اللہ ہمیں قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین*۔_

_احتیاط کریں، محفوظ رہیں، دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں_

*نوٹ: اپنے موبائل کے ہر واٹسپ گروپ میں شئیر کریں نوازش ہوگی*











*🛑جنتر منتر پر طلباء پر لاٹھی چارج معاملے میں پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت، چیف جسٹس کریں گے سنوائی*
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر اب سخت موقف اختیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کی پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے یہ مسئلہ سی جے آئی کے سامنے اٹھایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور اس کے پاس ڈائری نمبر بھی ملا ہے۔ انہوں نے پولیس پر طلباء کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا الزام لگایا۔ سینئر وکیل نے عدالت سے فوری مداخلت کرنے کی استدعا کی۔ ان کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم پیر کو کیس کی سماعت کریں گے۔

CJI نے کیوں کی میڈیا کی سرزنش ؟
اس سے قبل چیف جسٹس سوریہ کانت نے میڈیا کی کچھ جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔ میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سی جے آئی نے کھلی عدالت میں واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی رٹ پٹیشن دائر نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کو صرف ایک خط بھیجا گیا تھا۔ سی جے آئی نے کہا، “یہ مکمل طور پر غلط ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ صبح 10 بجے تک، عدالت میں کیس کا ایک صفحہ بھی داخل نہیں ہوا تھا۔”

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا غیر ذمہ دارانہ خبریں چلا رہا ہے۔ یہ خط ایڈوکیٹ نریندر مشرا نے بھیجا ہے۔ انہوں نے NEET UG 2026 پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔ خط میں سپریم کورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وکیل کی درخواست پر سپریم کورٹ کے بینچ نے ابتدا میں مداخلت سے انکار کیوں کیا؟
اس ہفتے کے شروع میں ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔ انہوں نے طلباء کے خلاف پولیس کی بربریت کا الزام لگایا اور فوری سماعت کا مطالبہ کیاتھا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ وکیل نے NEET امتحان سے متعلق طلباء کے احتجاج اور پولیس کی کارروائی کے ویڈیوز کا حوالہ دیا۔

بنچ میں شامل جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہن نے واضح طور پر کہا کہ انہیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور عدالت کے پاس انہیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے فوری طور پر کیس کی سماعت سے صاف انکار کر دیا۔ تاہم اب درخواست دائر کر دی گئی ہے، عدالت پیر کو کیس کی سماعت کرے گی۔

پی ایم کی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن کے ہنگامے پر سینکڑوں وکلاء کا سپریم کورٹ سے مطالبہ ؟
جنتر منتر پر طلباء کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد سیاست گرم ہو گئی ہے۔ 21 جولائی کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سمیت کئی لیڈروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ملک بھر سے سینکڑوں وکلاء نے اب چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ہائی سیکورٹی والے علاقوں میں غیر مجاز مظاہروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ انتہائی حساس علاقہ ہے اور وہاں اس طرح کے احتجاج سے سیکورٹی اور امن و امان پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ وکلاء نے سپریم کورٹ سے معاملے کی تحقیقات کرنے اور سخت ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار* بنگلہ ...