Monday, 27 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑حزب اللہ کی حمایت میں کھل کر آئے خامنہ ای ، ایران نے ٹرمپ کے سامنے رکھی نئی شرط ، پھنس گیا اسرائیل*
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ایران نے اپنی اہم ترین شرط کو عام کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد اسی صورت میں رکھی جا سکتی ہے جب اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کر دے اور پیچھے ہٹ جائے۔ یہ خبر اسرائیل کے لیے ایک نیا درد سر بن سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری کردہ ایک بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور اسرائیلی فوجی کارروائی کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے کے لیے پہلی اور اہم شرائط ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بغیر امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ
خامنہ ای نے اپنے بیان میں ایران کی طرف سے حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ اور جنوبی لبنان کے عوام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی حمایت کو ایک اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ خامنہ ای کا بیان اسرائیل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر خامنہ ای برقرار رہے تو ٹرمپ اسرائیل پر ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔پہلے بھی سامنے آچکی تھی یہ مانگ
اطلاعات کے مطابق جون میں امریکہ ور ایران کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران تہران نے لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور حملوں کو روکنے کو اہم شرط قرار دیا تھا ۔ تاہم آبنائے ہرمز پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھنے کے بعد یہ پیشرفت آگے بڑھنے میں ناکام رہی تھی۔

لبنان معاہدے پر بھی تنازعہ برقرار
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی کے تحت ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا، جس میں اسرائیلی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم، اس نے کوئی مخصوص ٹائم فریم فراہم نہیں کیا۔ مزید برآں، اسرائیلی انخلاء کا تعلق حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے کرنے سے تھا، ایک شرط جسے ایران اور حزب اللہ نے قبول نہیں کیا۔

زمینی صورتحال بدستور کشیدہ
لبنانی فوج کا الزام ہے کہ اسرائیلی افواج معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر عمل درآمد کو روک رہی ہیں اور مقررہ علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ لبنانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور گولہ باری جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل پر ہزاروں کی تعداد میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس تنازعے میں لبنان میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیل نے بھی اپنے فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔










*🛑اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پیش، جانئے کتنا سخت ہے یہ بل؟*
نئی دہلی : حکومت نے پیر کو سوالات لیک ہونے اور امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال سے متعلق جرائم کے خلاف سخت دفعات والا بل لوک سبھا میں پیش کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے ایوان میں اپوزیشن اراکین کے ہنگامے کے درمیان عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پیش کیا۔ اپوزیشن اراکین دہلی میں 20 جولائی کو مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کی کارروائی پر جواب دہی طے کرنے اور وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے۔

اسی دوران اپوزیشن کی نعرے بازی اور ہنگامہ جاری رہا۔ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن اراکین سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر بولنے کے لیے آپ (اپوزیشن اراکین) کو مناسب وقت دیا جائے گا۔ ایوان کی جتنی رضامندی ہوگی، اتنا وقت اس بل پر بحث کے لیے دیا جائے گا۔ میری درخواست ہے کہ اس اہم بل پر ایوان کا تعاون کریں اور بحث کریں۔انہوں نے اپوزیشن اراکین سے کہا کہ آپ کئی دنوں سے اس موضوع پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آج اس پر بحث ہو رہی ہے۔ بل کے علاوہ آپ جو بھی تجاویز دیں گے، حکومت یقینی طور پر ان تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہی جمہوریت ہے، جہاں سب کی رائے اور خیالات سامنے آئیں۔ جمہوریت کے اس عمل میں میری ایوان سے توقع ہے کہ نعرے بازی اور تختیاں دکھانے کے بجائے بحث کریں۔ اسپیکر اوم برلا کی بار بار درخواست کے باوجود اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ جاری رکھا۔ اس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

10 سال تک کی جیل اور 10 کروڑ روپے تک کا جرمانہ
لوک سبھا اراکین کو تقسیم کی گئی بل کی کاپی کے مطابق، امتحانات میں سوالات لیک کرنے یا غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے والے افراد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ عوامی امتحان (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 میں ترمیم سے متعلق اس بل میں منظم جرائم کے لیے کم از کم سات سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

دو ماہ میں مکمل کرنی ہوگی جانچ
مجوزہ ترامیم کے تحت تمام تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنی ہوں گی۔ بل میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو فوری عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ عدالتیں چارج شیٹ داخل کیے جانے کے تین ماہ کے اندر مقدمے کی کارروائی مکمل کریں گی۔نیٹ پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر کیے گئے احتجاج اور اس کے بعد وزیر تعلیم کے عہدے سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے بعد حکومت یہ بل لے کر آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحان کے نظام میں اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔











*🛑اسدالدین اویسی سے یوپی میں اتحاد کرے گی سماجوادی پارٹی؟ اکھلیش یادو کا کیا ہے پلان؟ کانگریس نے اے آئی ایم آئی ایم کو دیا بڑا مشورہ*
نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی الیکشن سے متعلق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈراسدالدین اویسی نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی-کانگریس جہاں ان پربی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگا رہی ہیں تووہیں اب اس موضوع پرسماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادوکا بھی ردعمل آیا ہے۔

ایم آئی ایم آئی ایم کے لیڈراسدالدین اویسی کی پیشکش سے متعلق جب سماجوادی پارٹی کے صدراکھلیش یادوسے سوال کیا گیا توانہوں نے اس پربہت محتاط ہوکرجواب دیا ہے۔ اکھلیش یادونے اویسی کے سوال پرکہا کہ ’’یوپی میں ابھی الیکشن دورہیں۔ ابھی لوک سبھا میں ہم سب لوگ ایک ساتھ ہیں۔‘‘

اویسی کی پیشکش پرسماجوادی پارٹی ایم پی نے دیا بڑا بیان

وہیں دوسری طرف، گھوسی سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راجیورائے نے کہا کہ اسدالدین اویسی کو بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جیسے جیسے الیکشن آئے گا، ان سے بہت ساری باتیں کہلوائی جائیں گی اوروہ بہت ساری باتیں کہیں گے۔‘‘

انڈیا الائنس میں سماجوادی پارٹی کی اتحادی کانگریس کی طرف سے بھی یوپی میں اے آئی ایم آئی ایم سے اتحاد سے متعلق سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان سریندرراجپوت نے کہا- ’’اسدالدین اویسی صاحب ماتھے (پیشانی) پربندوق لگاکراتحاد نہیں ہوتا ہے۔ آپ صرف اور صرف مسلمانوں کی بات کرتے ہیں اور بی جے پی صرف اورصرف ہندووں کی بات کرتی ہے، دونوں ہی پارٹیاں ملک سے غداری جیسا کام کرتی ہیں، کیونکہ دونوں ہندوستانیوں کی بات نہیں کرتی ہیں۔‘‘

کانگریس نے بی جے پی سے اتحاد کا دیا مشورہ

کانگریس ترجمان نے کہا کہ اتحاد جولوگ یہاں کی عوام کوہندوستانی سمجھتے ہیں۔ ہندو-مسلمان نہیں سمجھتے، ان کا ہوتا ہے، جس طرح سے آپ اکھلیش یادواورکانگریس کے خلاف دھمکی آمیزالفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اس دھمکی آمیززبان کے بعد کہتے ہیں کہ ہمیں اتحاد کرنا ہے، وہ کسی بھی پارٹی کوقبول نہیں ہے۔ آپ جائیے، بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلیجئے۔ قابل ذکرہے کہ اسدالدین اویسی نے گزشتہ 10 دنوں میں دوسری بارسماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی کھلی پیشکش کی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی ہدف ہے بی جے پی کو یوپی کے اقتدارسے روکنا۔ ہم اس کے لئے پوری طرح تیارہیں اوریہ آپسی بات چیت کے لئے بالکل صحیح وقت ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑کیرالہ میں امیبک میننگوئنسفلائٹس نے 41 لوگوں کی لی جان، نظر آئیں یہ علامات تو ڈاکٹر سے فوری کریں رجوع* کوزی کوڈ ...