Sunday, 26 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑آپ کو اپنے بالوں میں کتنی دیر تک تیل لگانا چاہیے اور کب لگانا چاہیے؟ ماہرین سے جانیں*
آلودگی اور کام سے متعلق تناؤ کی وجہ سے بالوں کا گرنا اور ٹوٹنا ان دنوں ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے بالوں میں تیل لگانے کو ان مسائل کا موثر علاج سمجھتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں رائے مختلف ہوتی ہے کہ تیل کب لگانا ہے اور اسے کب تک لگانا چاہیے۔ معروف ڈرماٹولوجسٹ اور ہیئر ٹرانسپلانٹ ماہر ڈاکٹر رام نے اس موضوع پر قیمتی رائے ٍشیئر کی ہیں، صحت مند بالوں کو یقینی بنانے کے لیے تیل لگانے کا صحیح طریقہ اور وقت بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا ہیکہ ہمارے بال پروٹین کے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں کیراٹین کہتے ہیں۔ یہ خلیات پانی کو جلدی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رام بتاتے ہیں کہ جب ہم نہاتے ہیں تو بالوں کے خلیے پانی جذب کرتے ہیں اور پھول جاتے ہیں، خشک ہونے پر اپنی معمول کی حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ بالوں کا یہ بار بار سوجن اور سکڑنا اس کی قدرتی طاقت کو کم کر دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس سے بالوں کا کمزور ہونا، ٹوٹنا یا پھٹ جانا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہر امراض جلد ڈاکٹر رام نوٹ کرتے ہیں کہ جب لوگ اکثر راتوں رات اپنے بالوں میں تیل چھوڑنے کے روایتی عمل کی پیروی کرتے ہیں، تو ڈرمیٹولوجی بتاتی ہے کہ یہ عادت اچھے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر رام کے مطابق نہانے سے پہلے تیل لگانا بالوں کی پرورش کے لیے فائدہ مند ہے۔

نہانے سے پہلے تیل کیوں لگانا چاہیے؟

نہانے سے پہلے کھوپڑی میں تیل لگانے سے حفاظتی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تیل میں پانی سے بچنے والی خصوصیات ہیں جو بالوں کے خلیوں کو ضرورت سے زیادہ پانی جذب کرنے سے روکتی ہیں۔ یہ دھونے کے دوران سوجن کو کم کرتا ہے اور بالوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔

تیل بالوں کی جڑوں کو شیمپو میں موجود کیمیکلز سے ہونے والے براہ راست نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ اس لیے دھونے سے پہلے تیل لگانے سے نہ صرف بال نرم رہتے ہیں بلکہ ان کی قدرتی ساخت کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رات بھر تیل چھوڑنے کے نقصانات

بہت سے لوگ راتوں رات اپنے بالوں پر تیل چھوڑ دیتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ یہ اضافی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل خاص طور پر تیل کی جلد والے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ کھوپڑی کے قدرتی تیل (سیبم) کے علاوہ، لگایا جانے والا تیل مالاسیزیا نامی فنگس کی افزائش کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ کوکیی انفیکشن خشکی، کھوپڑی میں خارش اور بالآخر بالوں کا زیادہ گرنا جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

آپ کو اپنے بالوں میں تیل لگانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہانے سے صرف 15 سے 30 منٹ پہلے لگانا کافی ہے۔ اس وقت کے دوران، تیل بالوں پر ایک حفاظتی تہہ بناتا ہے، نہانے کے دوران اسے پانی سے بچاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیل کو دھیرے دھیرے لگانا بہتر ہے، جڑوں سے سروں تک۔ تیل کو کھوپڑی پر لگانے کے بعد اپنی انگلیوں سے آہستہ سے مساج کرنے سے خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

ایسے بالوں پر تیل نہ لگائیں جو پہلے ہی گرنے کا شکار ہوں

اپنے بالوں کی قسم کی بنیاد پر صحیح تیل کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف تیل لگانے سے بال بڑھتے ہیں۔ مناسب غذائیت بالوں کی دیکھ بھال کی طرح ضروری ہے۔ ڈاکٹر رام کا مشورہ ہے کہ نہانے سے چند منٹ پہلے تیل لگانے اور پھر کم کیمیکل والے شیمپو سے دھونے سے بال نرم اور مضبوط ہوں گے۔ نہانے کے بعد اپنے بالوں کو رگڑنے کے بجائے نرم تولیے سے خشک کریں۔










*🛑جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں پہلی بار اناہت نے دلایا بھارت کو تاریخی گولڈ، کہا-’’مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں‘‘*
اونٹاریو: بھارت کی پہلی ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن بننے کے بعد اناہت سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں اب بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب ان کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جونیئر سرکٹ میں یہ ان کا آخری سال تھا۔ اس سے قبل مختلف ٹورنامنٹس میں کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل تک پہنچنے والی اناہت نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 2005 میں جوشنا چنپا کے بعد ورلڈ جونیئر فائنل میں پہنچنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی بنی تھیں۔ فتح کے بعد اناہت نے کہا ’’مجھے اب بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔ گزشتہ چار برسوں سے میں سیمی فائنل اور کوارٹر فائنل میں ہارتی رہی ہوں۔ جب بھی کوئی مجھ سے پوچھتا تھا تو میں ہمیشہ کہتی تھی کہ یہ ٹورنامنٹ میرے لیے کسی لعنت جیسا ہے اور میں اس ایونٹ میں کبھی اچھا نہیں کھیل پائی۔‘‘

مصر کی رقیہ سالم کو شکست دے کر جیتا عالمی خطاب

اناہت سنگھ نے مزید کہا کہ ’’یہ جونیئر کھلاڑی کے طور پر میرا آخری سال ہے اور یہ خطاب جیتنے کا میرے پاس واحد موقع تھا۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں دباؤ میں رہی تو بہت خراب کھیلوں گی۔ اس لیے میں صرف کورٹ پر اتری اور اپنے شاٹس صحیح طریقے سے کھیلنے پر توجہ دی۔ میں ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں کھیلنے کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔‘‘ گزشتہ سیزن میں سیمی فائنل تک پہنچ کر کانسے کا تمغہ جیتنے والی بھارتی کھلاڑی نے اس بار فائنل میں مصر کی دوسری سیڈ یافتہ کھلاڑی رقیہ سالم کو 11-3، 11-7، 11-9 سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ اناہت سنگھ نے بھارتی اسکواش کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

’بھارتی اسکواش کے لیے تاریخی لمحہ‘

اسکواش ریکٹس فیڈریشن آف انڈیا کے سکریٹری جنرل سائرس پونچا نے اناہت کی کامیابی کو بھارتی اسکواش کے لیے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے جیسا لمحہ قرار دیا۔ پونچا نے کہا ’’یہ بھارتی اسکواش کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اناہت میں بڑی بلندیوں کو حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ پونچا نے مزید کہا کہ ایس آر ایف آئی کے سرپرست اور انڈین اسکواش اکیڈمی کے دوراندیش بانی مرحوم این. رام چندرن ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ان کا خواب تھا کہ بھارت انفرادی مقابلوں میں عالمی چیمپئن تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈبلز میں یہ کامیابی حاصل کی تھی، لیکن سنگلز میں بھی اسی کامیابی کو دہرانا واقعی خواب کے پورا ہونے جیسا ہے۔









*🛑’’ملک جواب مانگ رہا ہے‘‘ راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال پر وزیرداخلہ امت شاہ سے کیا سوال*
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے قومی راجدھانی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر سخت سوالات کیے۔ مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد راہل گاندھی کا یہ بیان 20 جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں نکالی گئی ’سنسد چلو‘ ریلی کے دوران پولیس کارروائی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا امت شاہ نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن اور آنسو گیس سمیت ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال کی ذاتی طور پر منظوری دی تھی؟

19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ

راہل گاندھی نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کے معاملے کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر پیلیٹ لگنے کے بعد ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن، لاٹھی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ میں 19 سالہ ساحل لوچاب سے ملا۔ پیلیٹ لگنے کے بعد اس کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔ اس کا ’جرم‘ کیا تھا؟ پیپر لیک ختم کرنے اور طلبہ کے منصفانہ مستقبل کا مطالبہ کرنا۔‘‘

سادہ لباس میں موجود افراد پر بھی سوال

راہل گاندھی نے امت شاہ سے دو سوالات کرتے ہوئے کہا ’’کیا آپ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟ ملک جواب مانگ رہا ہے۔‘‘

’کس نے طلبہ کو مارنے کا حکم دیا؟‘

راہل گاندھی نے امت شاہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طلبہ کے خلاف ’’بلاامتیاز طاقت‘‘ کا استعمال کیا اور خواتین مظاہرین کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نشانہ بنا کر مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’وحشیانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘‘ راہل گاندھی نے خط میں وزیر داخلہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تعینات سکیورٹی فورسز بالآخر وزیرداخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا امت شاہ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟

’پرامن احتجاج ہر جمہوریت کے لیے ضروری‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کی شکایات کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا وحشیانہ تشدد تمام جمہوری اصولوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس سے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان اور طلبہ جواب اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی آواز سنی جائے گی۔

کئی ہفتوں سے جاری تھا طلبہ کا احتجاج

یہ معاملہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد اس احتجاج نے قومی توجہ حاصل کی تھی۔ 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مسلسل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اتوار کو پرہلاد جوشی نے مرکزی وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھال لیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑آپ کو اپنے بالوں میں کتنی دیر تک تیل لگانا چاہیے اور کب لگانا چاہیے؟ ماہرین سے جانیں* آلودگی اور کام سے متعلق تنا...