*موجودہ آزمائشی حالات اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں*
مورخہ،17،جولائی 2026ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مالیگاؤں کی مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!
1)آسمہ مسجد(نزد اسٹار ہوٹل)بارہ پچاس
مفتی ارشد جمال ملی
2)نذیریہ مسجد(رونق آباد)ایک بجے
مولانا کامران حسَّان انصاری
3)نئی مسجد(اسلام پورہ)ایک بجے
مولانا ریحان رئیس ندوی
4)نئی مسجد (بیل باغ)ایک پانچ
مولوی سعود ندوی
5)مسجد محسنہ( نعمت باغ )بارہ پچاس
مفتی محمد فرقان خالد قاسمی
6)حمیدیہ مسجد (بڑا قبرستان) بارہ پچاس
مولانا نہال احمد قاسمی
7)مسجد ناصرہ مبارک ( ہارون انصاری نگر )بارہ پینتیس
ارشد ملک رحمانی
8)مسجدِ شعبان ( شعبان پورا )ایک پانچ
ارشد ملک رحمانی
9)محمّدی مسجد (سردارنگر)بارہ پچاس
قاری وقّاص انجم انوریؔ
10)سلامت اللہ مسجد(رحمت آباد) ایک بجے
حافظ شاداب اختر عرفانیؔ
11)مسجد حوّاعلیہاالسلام(بخاری باغ)ایک پانچ
جناب محمد زید انجینئر
12)مسجد حمید النیادی (نیااسلامپورہ)بارہ پچاس
مولانا عمرفاروق سلطان
13)مسجد اسماعیل(رمضان پورہ)بارہ پچاس
مولوی عبدالعزیز ندوی
14)مسجد امیر حمزہ(مدنی نگر)ایک پانچ
مفتی محمّد فیصل کفلیتوی
15)مسجد بسم اللہ حجن (داؤد سیٹھ کمپاؤنڈ)ساڑھے بارہ بجے
مفتی محمد اُسامہ انوری
16)مسجد مولانا اسحاق (نیا بس اسٹینڈ)بارہ تیس
مفتی عبدالمالک کفلیتوی
17)مسجد ابوبکر صدیق(ابوبکر صدیق نگر)ایک بجے
مولانا مجاہد الاسلام ملی
18)ہلال مسجد (ہلال پورہ)بارہ بیس
مولانا عبدالوحید ندوی قاسمی
19)مسجد آصفہ ابراہیم (مالدہ شیوار)ایک بجے
مفتی محمد اسلم جامعی
20)مسجد رابعہ عبدالغفور (مسلم پورہ)ایک بیس
قاری نعیم الرحمن پریاگی
21)مسجدِ تقویٰ ( پوار واڑی ) ایک پانچ
مفتی محمد فیضان ندوی
22)مسجد باغ گلاب(گلاب پارک)بارہ چالیس
مفتی سالک
23)جامع مسجد (گیارہ ہزار کالونی)ایک بجے
مفتی محمد محسن عبدالشکور اشاعتی جامعی
24)مسجد حجن زیب النساء (باغ محمود)ایک بجے
مولانا عتیق احمد جمالی
25)نظامیہ مسجد (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
مولوی محمد سعد
26)یعقوب مسجد (نزد زری والا پیٹرول پمپ )ساڑھے بارہ
مولانا محمد عمران کفلیتوی
27)مسجد انوار نبوی (نور باغ) ساڑھے بارہ بجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی
28)مسجد چشمہ گلاب (پوارواڑی) سوابجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی
29)مسجد عمر یوسف (گلشیر نگر) بارہ تیس
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
30) مسجد کوہ نور (یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے
مفتی محمد عامر عثمانی
31) جونی مسجد (اسلام پورہ) بارہ پچاس
مفتی محمد عامر یاسین ملی
32) مسجد زینب حجن (گلشن زینب) ایک بجے
مولانا علاؤالدین ندوی
33) مسجد توکل آزاد نگر (آزاد نگر)دو بجے
مولانا علاؤالدین ندوی
34) مسجد مولانا محمد الیاس (عباس نگر) ایک پانچ
مفتی ابوذر قاسمی
35) مسجد ابوذر غفاری (نورانی نگر ) ایک بجے
قاری عبدالجلیل جلیلی
36) مسجد باغ فردوس (سلیم نگر)ایک بجے
حافظ مزمل ملی
37) مسجد خدیجۃ الکبریٰ (شاہ پلاٹ) ایک پانچ
مفتی محمد علی ملی
38) مسجد عبدالرحمن بن عوف(رحمٰن پورہ) ایک بجے
مولانا سعد انوری
39) محمدیہ مسجد (کمہارباڑہ)
ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی
40) مسجد قمر النساء(نورنگ کالونی) ساڑھے بارہ بجے
مولوی محمد ابوذر کاشفی
41) مسجد حضرت عبداللہ بن مسعود (نیا بس اسٹینڈ) بارہ پچیس
مفتی محمد خالد شاہد ملی
42) مسجد نظامیہ (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
مفتی محمد خالد شاہد ملی
*برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔*
*جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں*
*(رابطہ کے لیے: مفتی محمد عامر یاسین ملی)*
8446393682
ڈاکٹر مبین نذیر : سنجیدہ ظرافت نگار
ڈاکٹر مبین نذیر سر ہمہ و صف شخصیت کے مالک ہیں ۔ درس و تدریس کے ساتھ مسلسل ادبی تحریکات میں متحرک رہتے ہیں ۔ بذلہ سنج مگر متین ۔ بھر پور وسائل کے باوجود سادگی اُن کا مزاج ۔ بااخلاق، دیندار، سلجھی طبیعت کے مالک-
تحریروں میں سادہ مگر گہری سوچ و فکر ۔ سارے عوامل ان کی نگارشات کو منفرد انداز عطا کرتے ہیں ۔ملنسار، مخلص، مفکر، فیاض، درد مند دل، انسانیت نواز شخصیت کے مالک ہیں ۔گل افشانیاں نظر سے گزری۔ دوران مطالعہ شگفتگی کا معاملہ رہا۔ اس مجموعہ میں پھلجھڑیاں، تبسّم، قہقہے، زندہ دلی، ہنسی، طنز و مزاح، کا حسین امتزاج ہے؛ جو اس کتاب کو بہتر بناتا ہے ۔ فی زمانہ ظریفانہ ادب معمولی سکوت کا شکار ہے۔ امید ہے کہ گل افشانیاں اس سکوت کو توڑے گی۔ وہیں مقامی ظریفانہ ادب میں ایک اساس ثابت ہوگی۔ بھائی مبین نذیر سر کو بہت مبارکباد، نیک خواہشات دعائیں اور امید کہ۔۔۔۔لکھتے رہیں گے ۔۔۔۔ جنوں کی حکایت خونچکاں
احقر، خاکسار و خیراندیش
منصور اکبر سیف نیوز
سولہ جولائی 2026 جمعرات بھری مراد شب سات بجے
امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ایران کے متعدد اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تناؤ کے باعث خلیجی ممالک میں بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
ہوائی اڈوں، ریلوے اور پلوں کو نقصان
رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایران کے ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بعض پل، ریلوے تنصیبات اور ایک ہوائی اڈہ بھی شامل ہیں۔ جنوبی ایران کے کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بندر عباس اور ایرانشہر میں حملوں کی اطلاعات
ذرائع کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایرانشہر ایئرپورٹ اور بندر عباس کے قریب ریلوے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ بعض مقامی رپورٹس میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
بحرین میں ایئر ریڈ سائرن
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے بحرین میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق سکھیر ایئربیس پر تعینات بعض فوجی اثاثوں کو ڈرون اور میزائل حملوں میں نقصان پہنچا، تاہم امریکا اور بحرین کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرن بجا دیے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی
آبنائے ہرمز کے اطراف بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے قریب بھی حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی قیمتوں پر اثرات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
جنوبی ایران میں بجلی کا نظام متاثر
ایران کی وزارت توانائی کے مطابق جنوبی علاقوں میں بجلی کے بعض نظام متاثر ہوئے ہیں اور بحالی کا کام جاری ہے۔ حکام نے عوام سے بجلی کا محتاط استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
عالمی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔