Thursday, 9 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

امریکہ-ایران کے درمیان خطرناک جنگ پھر شروع، کویت سے بحرین تک تباہی، دوبارہ جنگ شروع ہونے کی کیا ہے وجہ؟
امریکہ اورایران کے درمیان ایک بارپھرکشیدگی شدت اختیارکرگئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مسلسل حملے اورسخت بیانات دے رہے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے، جسے بین الاقوامی سیاست کی اصطلاح میں “Coercive Diplomacy” اور “Brinkmanship” کا امتزاج قراردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے حال ہی میں ایران کے آٹھ مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین اورکویت پرحملے کئے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھرمیں تشویش پائی جا رہی ہے اورعالمی معیشت پربھی اس کے اثرات ظاہرہونے لگے ہیں۔

طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اورایران دونوں مذاکرات کی میزپرخود کوکمزوردکھانا نہیں چاہتے۔ اسی لئے وقتاً فوقتاً فوجی کارروائیاں اورسخت بیانات دے کرایک دوسرے پردباؤبڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طورپربند کردے، جبکہ ایران اپنے مؤقف پرقائم ہے اورکسی قسم کی پسپائی کے آثارنہیں دکھا رہا ہے۔

عالمی منڈیوں پراثرات

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی بڑھتے ہی عالمی تیل اورشیئربازاروں میں اتارچڑھاؤدیکھنے کوملتا ہے۔ بڑے سیاسی اورعسکری واقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد اورعالمی منڈیوں کی سمت پراثراندازہوتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ صرف بازاروں کومتاثرکرنے کے لئے نہیں ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کواپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قراردیتا رہا ہے۔ اسی لئے امریکہ کی ایران پالیسی پراسرائیلی خدشات کا اثرہونا فطری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اپنے فیصلے قومی مفادات کی بنیاد پرکرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری انتہائی مضبوط ہے۔

تیل کی قیمتوں کا معاملہ

ایران کی معیشت کا بڑا انحصارتیل کی برآمدات پرہے، اس لئے عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتیں اس کے لئے معاشی طورپرفائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں کا تعین صرف ایران نہیں بلکہ مختلف ممالک کی پیداوار، رسد اورطلب سے بھی ہوتا ہے۔ بین الاقوامی امورکے ماہرین کے مطابق امریکہ اورایران کے درمیان ماضی میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں، جب مذاکرات جاری رہنے کے باوجود کشیدگی برقراررہی۔ اس کا مقصد اپنے مؤقف کومضبوط ظاہرکرنا اورمخالف فریق کوزیادہ رعایتیں دینے پرمجبورکرنا ہوتا ہے۔ دونوں ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی داخلی سیاست میں کمزوری کا تاثرنہ جائے۔

آبنائے ہرمزاوریورینیم تنازعہ

ایران آبنائے ہرمزکواپنی اسٹریٹجک طاقت کا اہم مرکزسمجھتا ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ اوراس کے اتحادی نہیں چاہتے کہ اس اہم بحری راستے پرکسی ایک ملک کا غلبہ ہو۔ اس کے علاوہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام سے متعلق بھی کئی برسوں سے تنازعہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انتخابی ماحول کے دوران قومی سلامتی کے مسائل ہمیشہ اہمیت اختیارکرجاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی بھی صدرکے لئے مضبوط قیادت کا تاثردینا سیاسی طورپرفائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق طاقت اورامن، دونوں کا توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتی ہے۔










بہتی ندی میں بہہ گئے 3000 گیس سلینڈر، مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں لوٹنے کے لئے لگ گئی لائن، ویڈیو وائرل ہونے پر انتظامیہ نے اٹھایا بڑا قدم
مہاراشٹرکے ضلع رائے گڑھ میں مسلسل موسلادھاربارش نے معمولاتِ زندگی کوبری طرح متاثرکردیا ہے۔ ندیوں میں طغیانی اورکئی علاقوں میں شدید پانی بھرنے سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پاتال گنگا ندی میں ہزاروں ایل پی جی گیس سلینڈرتیزبہاؤکے ساتھ تیرتے ہوئے نظرآئے۔ اس منظرکی ویڈیوسوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ پین اورکھالاپورعلاقے کے قریب پیش آیا، جہاں مقامی لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کربہتے ہوئے سلینڈروں کونکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دکھائی دیئے، جس کے بعد انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔

ایچ پی سی ایل کے پلانٹ سے بہہ گئے تقریباً 3 ہزارسلینڈر

سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کے کھالاپورواقع ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ سے تقریباً 3 ہزارگیس سلنڈرسیلابی پانی میں بہہ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں کچھ سلینڈربھرے ہوئے تھے، جبکہ کچھ خالی تھے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق چاوَنے (پاتال گنگا) میں واقع مہاراشٹرانڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کے پلاٹ نمبر ای-1/7 پرموجود گودام میں شدید بارش کے باعث اچانک پانی بھرگیا۔ پانی کے بہاوکی شدت اس قدرتیزتھی کہ حفاظتی دیوارکوپارکرکے سلینڈرپاتال گنگا ندی میں بہہ گئے۔

سلینڈر نکالنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ

جیسے ہی مقامی لوگوں کودریا میں سلینڈربہنے کی اطلاع ملی، بڑی تعداد میں افراد موقع پرجمع ہوگئے۔ کئی لوگ رسّی، بانس اورلوہے کے ہک کی مدد سے پانی میں بہتے سلنڈروں کوباہر نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ بعض افراد خطرناک سیلابی بہاؤکے باوجود دریا کے قریب پہنچ گئے تاکہ بہتے ہوئے سلینڈروں پرقبضہ کرسکیں۔ سوشل میڈیا پراس واقعہ کی متعدد ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں، جنہیں دیکھ کرلوگ حیرت کا اظہارکررہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں بھاری گیس سلنڈرپانی میں کیسے بہہ سکتے ہیں۔ضلع انتظامیہ کی شہریوں سے اپیل

واقعہ کے بعد رائے گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگرکسی کودریا سے ایل پی جی سلینڈرملے ہیں تووہ انہیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے فوری طورپرمتعلقہ تحصیلدارکے دفتریا ایچ پی سی ایل کے مجازڈیلرکے حوالے کردیں۔ انتظامیہ نے خبردارکیا ہے کہ گیس سلینڈرانتہائی حساس اورآتش گیراشیا میں شامل ہیں، اس لئے انہیں گھروں میں رکھنا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ فی الحال پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اوربہہ جانے والے سلینڈروں کی بازیابی کے لئے خصوصی مہم شروع کر دی گئی ہے۔










بارش نہ روک سکی سی جے پی کا احتجاج: جنتر منتر دھرنا 20ویں دن بھی جاری، سونم وانگچک نے پارلیمنٹ مارچ کا عزم ظاہر کیا
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں مسلسل بارش کے باوجود جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا جمعرات کو 20ویں دن بھی جاری رہا۔ شدید بارش کے باوجود مظاہرین ترپالوں اور رین کوٹ کی مدد سے احتجاجی مقام پر موجود رہے اور اپنے مطالبات کے لیے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کا احتجاج کی حمایت میں غیر معینہ مدت کا انشن 12ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران بھوک ہڑتال کرنے والے طالب علم ہریکیش کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلباء کے مسائل پر ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بارش کے باوجود مظاہرین ثابت قدم ہیں

دہلی-این سی آر میں مسلسل بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور ٹریفک میں خلل پڑا ہے، لیکن اس سے جنتر منتر پر جاری احتجاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے درمیان مظاہرین صبح سے ہی احتجاجی مقام پر موجود ہیں۔ کئی احتجاجی ترپالوں کے نیچے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، جب تک حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی جدوجہد جاری رہے گی۔فاسٹ توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

سونم وانگچک نے فاسٹ کے دوران ملک بھر سے ملنے والی حمایت اور فاسٹ ختم کرنے کی اپیلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ وہ اب اپنا فاسٹ ختم کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر مضبوط محسوس کر رہے ہیں اور اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر آج کا فاسٹ ختم ہو بھی جاتا ہے تو اس سے مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلباء کو انصاف نہیں ملے گا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ لاکھوں طلباء، تعلیمی نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔ طلباء کے ساتھ سونم وانگچک نے بھی ماحولیاتی تحفظ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر سنجیدہ پالیسی فیصلے نہ کیے گئے تو لداخ کے پہاڑوں، ہمالیہ اور ہندوستان کے دریاؤں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ماحول دونوں ہی ملک کے مستقبل سے براہ راست جڑے ہوئے مسائل ہیں اور انہیں سیاسی نہیں بلکہ قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔20 جولائی کو پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کی اپیل

سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے 20 جولائی کو دہلی پہنچنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگا اور وہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہے جہاں ملک کے لیے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں اور اگر شہری پرامن طریقے سے اپنے نمائندوں تک اپنی رائے پہنچائیں تو اس معاملے پر جامع بات چیت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ صرف سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجنے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر لوگ واقعی اس تحریک اور ملک کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں تو انہیں دہلی آکر جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے حامیوں سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بڑی عوامی شرکت عوام کی آواز کو حکومت اور پارلیمنٹ تک مضبوطی سے پہنچائے گی۔

اگر میری فکر ہے تو میدان میں آؤ

وانگچک نے کہا کہ طبی طور پر اگلے چند دنوں تک صحت پر کسی سنگین اثرات کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس کے بعد ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ صحیح معنوں میں صحت مند رہنا چاہتے ہیں اور تحریک کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں محض پیغامات بھیجنے کی بجائے اس مہم میں جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے ہی تعلیم اور ماحولیات جیسے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دھرنے میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تعلیمی نظام سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے اور حکومت مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر کوئی فیصلہ نہیں لیتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک تنظیم تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک بھر کے طلباء، نوجوانوں اور باشعور شہریوں کی آواز بن چکی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی برطانیہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پاب...