*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_*
*تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن*
*محمد عارف نوری*
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں)*
8208152800
*____________________________*
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
*آج ہمارے گھروں میں "ارتداد، خودکشی، نشہ، غلط محبت اور دھوکے" کی خبریں عام ہو چکی ہیں۔*
*ہماری معصوم بیٹیاں سوشل میڈیا اور غلط صحبت کا شکار ہو رہی ہیں۔*
*یہ صرف خبر نہیں، یہ ہر ماں باپ کا درد ہے۔*
*اسی درد کو مٹانے کے لیے مالیگاؤں کے مخلص سوشل ورکروں و دیگر تنظیموں نے مل کر ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔*
*_ایک خصوصی اصلاحی پروگرام برائے خواتین_*
*"گمراہی سے ہدایت کی طرف"*
*ان موضوعات پر کُھل کر بات ہوگی ارتداد ایمان کمزور کیوں ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کیسے کریں؟خودکشی و ڈپریشن مایوسی کا اسلامی علاج کیا ہے؟ عشق، محبت اور دھوکا ہماری بیٹیاں کس جال میں پھنس رہی ہیں؟ نشہ اور جرائم ایک غلطی پوری نسل تباہ کر دیتی ہے بد اخلاقی و بے حیائی اسلامی تہذیب کی طرف واپسی سوشل میڈیا کے فتنے موبائل ہمارا دوست یا دشمن؟ و دیگر سماجی برائیوں پر محترمہ نازیہ تسکین آپا مشہور داعیہ اور دیگر عالمہ آپا بھی خطاب فرمائیں گی۔*
*پروگرام کی مکمل تفصیل:*
*تاریخ : 12 جولائی 2026 بروز اتوار وقت : دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک مقام : اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ، مالیگاؤں، صرف خواتین کے لیے*
*اس پروگرام کی تائید و تائید و حمایت کردہ :*
*حفاظت گروپ مالیگاؤں (محمد عارف نوری صاحب)*
*بزمِ خلوص (صدر آزاد انور صاحب)*
*مجددی فاؤنڈیشن( صدر مولانا عبدالرشید مجددی صاحب)*
*آخر میں ہماری مؤدبانہ گزارش:*
*یہ پروگرام کسی ایک کا نہیں، پورے مالیگاؤں شہر کا ہے اپنی بہن، بیٹی، بھانجی ، بھتیجی سب کو لے کر آئیں ہو سکتا ہے آپ کا ایک قدم کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچا لے*
مسلسل 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے ’کینسر کا خطرہ‘، جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ہی نشست میں آدھے گھنٹے (30 منٹ) سے زیادہ بیٹھنا کینسر کے باعث موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے 10 برس کے دوران 90 ہزار سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ جاگتے ہوئے ایک ہی دورانیے میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا یا لیٹے رہنا کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 30 منٹ تک غیرمتحرک یا بیٹھے رہنے کے دوران اگر جسمانی سرگرمی انجام دی جائے تو یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنا صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے چاہے یہ چہل قدمی دفتر کے اندر ہی کیوں نہ کی جائے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فریڈرک ہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا خاص طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جُڑا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر نصف گھنٹے بعد مختصر چہل قدمی کی طرح کی سادہ سرگرمی کینسر کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صحت کے حوالے سے موجودہ رہنما اصول زیادہ تر درمیانی یا شدید ورزش پر زور دیتے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہلکی پھلکی حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئندہ طبی آزمائشیں ہمیں عمومی ہدایات سے آگے بڑھنے اور ہر فرد کے لیے مخصوص حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی تاکہ بیٹھنے کے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔‘
یہ نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں روزمرہ کی بنیاد پر طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ طویل وقت تک بیٹھے یا لیٹے رہنا پہلے ہی دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے، لیکن محققین کے مطابق اس بات پر کم توجہ دی گئی ہے کہ یہ غیر متحرک وقت کس انداز میں جمع ہوتا ہے اور آیا اس کا بھی صحت پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مفید سرگرمیوں میں آہستہ چلنا اور گھریلو کام کاج وغیرہ شامل ہیں۔تحقیقی ٹیم نے برطانیہ کے ایک بڑے طبی ڈیٹا پروجیکٹ کے 90 ہزار سے زائد شرکا کے ایسے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا جو پہننے کے قابل آلات کے ذریعے جمع کیے گئے تھے، اور ان کا اوسطاً 12 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک غیرمتحرک رہنا کینسر کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر سے موت کا خطرہ دس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ روزانہ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے وقت کو کپڑے استری کرنے یا برتن دھونے کی طرح کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کرنے سے موت کا خطرہ بارہ فیصد کم ہوا۔
اسی طرح روزانہ 30 منٹ تک غیرمتحرک رہنے کی بجائے درمیانی درجے کی جسمانی سرگرمی جیسے معمول کی رفتار سے چہل قدمی کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوا۔ جبکہ روزانہ پانچ منٹ غیرمتحرک رہنے اور پھر پانچ منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی انجام دینے پر یہ خطرہ 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم اس تحقیق کی کچھ حدود بھی تھیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ مشاہداتی مطالعہ تھا اور اس میں شماریاتی تجزیہ کیا گیا، اس لیے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ماہرِ شماریات پروفیسر کیون مک کانوی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ہیں مگر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
شام کے دارالحکومت دمشق میں سلسلہ واردھماکے، فرانسیسی صدرمیکرون کے ہوٹل کے باہرگرا بم
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کویکے بعد دیگرے 2 دھماکوں سے شہرلرزاٹھا۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب فرانس کے صدرایمینوئل میکرون شام کے دورے پرموجود تھے اورصدراحمد الشرع سے ملاقات کے لئے صدارتی محل پہنچ رہے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق، میکرون کے صدارتی محل روانہ ہونے کے فوراً بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک دھماکہ اس ہوٹل کے قریب بھی ہوا، جہاں فرانسیسی صدرقیام پذیرہیں۔ شامی میڈیا کے مطابق، دونوں دھماکے دمشق کے مرکزی علاقے میں ہوئے، جس کے بعد آگ کے شعلے اوردھوئیں کے گھنے بادل آسمان میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔
فرانسیسی صدارتی دفترنے بتایا کہ صدرایمینوئل میکرون مکمل طورپرمحفوظ ہیں اورانہوں نے دھماکوں کی آوازبھی نہیں سنی۔ دھماکوں کے باوجود انہوں نے شام کے صدراحمد الشرع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔ حکام کے مطابق، ان دھماکوں میں کم ازکم 18 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 4 پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ یہ دھماکے دمشق کے مصروف علاقوں، نیشنل میوزیم آف دمشق اوروزارتِ سیاحت کے قریب پیش آئے۔
صدارتی قافلے کے گزرنے کے فوراً بعد دھماکہ
رپورٹ کے مطابق پہلا دھماکہ میکرون کے قافلے کے صدارتی محل روانہ ہونے کے چند ہی لمحوں بعد ہوا۔ دھماکے کے بعد ایک کوڑے دان سے آگ اوردھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس کے چند میٹرکے فاصلے پردوسرا دھماکہ بھی ہوا، جوجائے وقوع پرکھڑی ایک ایمبولینس کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً دودرجن افراد موجود تھے۔
چند روزقبل بھی کیفے میں ہوا تھا دھماکہ
واضح رہے کہ 2 جولائی کوبھی دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تازہ دھماکوں نے ایک بارپھردارالحکومت کی سکیورٹی پرسوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ شام کے صدراحمد الشرع 2024 میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدارمیں آئے تھے اورملک میں امن واستحکام بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حالانکہ پہلے سے بم دھماکوں میں کافی کمی آئی ہے، لیکن ایک ہفتے کے اندر دو بار دھماکہ ہونے سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔