Monday, 15 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*









وزیراعظم نریندر مودی پہنچے اُردن، عَمان کے دوروزہ دورے پر شاندار استقبال، دوطرفہ ملاقات میں اہم معاملوں پر ہوگا تبادلۂ خیال
عَمان: وزیراعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر آج اردن کے دارالحکومت عَمان پہنچ گئے۔ ہوائی اڈے پر اردن کے وزیراعظم ڈاکٹر جعفر حسن نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ریڈ کارپٹ پیش کیا گیا۔ یہ دورہ بھارت اور اُردن کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم مودی نے ایکس پر ٹوئیٹ کرکے خبر دی کہ وہ بحفاظت عَمان پہنچ گئے ہیں۔ ایکس پر انہوں نے لکھا: ’’عَمان میں لینڈ ہوگیا ہوں۔اردن کی ہاشمی مملکت کے وزیراعظم جناب جعفر حسن نے ہوائی اڈے پر پرتپاک استقبال کیا جس کے لیے میں شکرگزار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ ہماری اقوام کے درمیان دو طرفہ روابط کو فروغ دے گا۔شاہ عبداللہ دوم سے اعلیٰ سطحی مذاکرات

وزیراعظم مودی 15 سے 16 دسمبر تک اردن میں قیام کریں گے، جہاں وہ شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ان بات چیت میں بھارت۔اردن تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی سلامتی کے امور زیرغور آنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں انڈیا۔مڈل ایسٹ۔یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) پر بھی خاص توجہ دی جا سکتی ہے، جس کا اعلان جی-20 اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ اس اقتصادی راہداری میں بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور اسرائیل شامل ہیں، جس کا مقصد یورپ تک تجارت کو مزید آسان اور تیز بنانا ہے۔

اقتصادی و تجارتی تعلقات پر توجہ

بھارت اور اردن کے درمیان تجارتی روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارت اپنی زرعی ضروریات کے لیے اردن سے تقریباً 40 فیصد راک فاسفیٹ اور دیگر کھادوں کا خام مال درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 26 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ بھارت اس وقت اردن کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ بھارتی کمپنیاں اردن میں اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جو دونوں ممالک کے مضبوط اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

ماضی کا حوالہ اور آئندہ سفر

یہ وزیرِاعظم مودی کا سات برس بعد اردن کا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2018 میں فلسطین کے دورے کے دوران مختصر قیام کے لیے اردن آئے تھے، جہاں شاہ عبداللہ دوم نے ان کا استقبال کیا تھا۔ اردن کے بعد وزیراعظم مودی 16 دسمبر کو ایتھوپیا روانہ ہوں گے، جبکہ ان کے تین ملکی دورے کا آخری مرحلہ سلطنت عُمان ہوگا۔ یہ مکمل دورہ 15 سے 18 دسمبر تک جاری رہے گا۔

دورے سے تعلقات میں نئی مضبوطی کی امید

ماہرین کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھارت اور اردن کے درمیان اقتصادی، اسٹریٹجک اور ثقافتی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں اردن کی اہم جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر یہ دورہ علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔














مسلسل گرتا ہی جا رہا ہے روپیہ… جانئے اب ایک امریکی ڈالر کے بدلے کتنے روپے ادا کرنے ہوں گے؟
نئی دہلی: بھارتی کرنسی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس سے مالیاتی منڈیوں میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ہفتے کے پہلے کاروباری دن پیر کو انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران روپیہ 26 پیسے ٹوٹ کر 90.75 کی ریکارڈ نچلی سطح تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی روپیہ 17 پیسے کی گراوٹ کے ساتھ 90.49 پر بند ہوا تھا۔ مسلسل کمزوری نے سرمایہ کاروں اور درآمد کنندگان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں پیر کے روز روپیہ 90.53 پر کھلا، مگر کاروبار بڑھنے کے ساتھ ہی اس میں مزید دباؤ دیکھنے کو ملا اور یہ دن کے دوران 90.75 تک پھسل گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ محض ایک دن کا نہیں بلکہ کئی اندرونی اور بیرونی عوامل کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔

فوریکس مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق روپے کی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، مگر کسی حتمی نتیجے میں تاخیر کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت نے بھی روپے کو کمزور کیا ہے، جبکہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فِن ریکس ٹریژری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ٹریژری ہیڈ انیل کمار بھنسالی کے مطابق روپے کے لیے اگلی اہم سپورٹ لیول 90.80 ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو روپیہ 91 سے 92 کی حد کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت عدم استحکام نمایاں ہے اور سرمایہ کار ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بھارتی ریزرو بینک کے کردار پر بات کریں تو ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک نے فی الحال مارکیٹ کو خود قیمت طے کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ آر بی آئی صرف انتہائی اتار چڑھاؤ کی صورت میں مداخلت کر رہا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ روپے کی قدر پر نظر تو رکھے ہوئے ہے، مگر غیر ضروری مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت اور امریکہ کے درمیان دو روزہ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے، جن میں دو طرفہ تجارتی معاہدے سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر بات چیت بھی ہوئی، جس میں اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ ان خبروں سے بازار کو کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں۔

دوسری جانب ڈالر انڈیکس ہلکی گراوٹ کے ساتھ 98.37 پر رہا۔ گھریلو شیئر بازار میں بھی کمزوری دیکھی گئی، جہاں سینسیکس 51.77 پوائنٹس گر کر 85,215.89 اور نفٹی 31.30 پوائنٹس گر کر 26,015.65 پر بند ہوا۔ برینٹ کروڈ آئل 61.36 ڈالر فی بیرل پر رہا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایک دن میں 1,114.22 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے۔ آر بی آئی کے مطابق 5 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھارت کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.033 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 687.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط زر مبادلہ ذخائر آنے والے وقت میں روپے کو کچھ حد تک سہارا فراہم کر سکتے ہیں، تاہم قلیل مدت میں چیلنجز برقرار رہنے کا امکان ہے۔













مرکزی حکومت نے ’وکست بھارت روزگار گارنٹی‘ بل کرایا متعارف، بدلے گا منریگا کا نام، کیا ہے ’وکست بھارت جی رام جی ایکٹ 2025؟
گرام پنچایت سطح پر مربوط منصوبہ بندی (PM گتی شکتی سے ربط)۔

شفافیت، نگرانی اور جواب دہی میں اضافہ۔

دیہی معیشت اور کسانوں کو فائدہ کیسے؟

آبی ذخائر، سڑکیں، منڈیوں تک رسائی، ذخیرہ گاہیں۔

بوائی/کٹائی کے دوران 60 دن تک عوامی کام روکنے کی گنجائش تاکہ زرعی مزدور دستیاب رہیں اور اجرتی افراط نہ بڑھے۔

موسمیاتی مزاحمت اور فصلوں کا تحفظ۔

مزدوروں کو کیا ملے گا؟

25 فیصد زیادہ ممکنہ آمدنی (125 دن)۔

پیشگی منصوبہ بند کام، ڈیجیٹل ادائیگیاں، آدھار پر مبنی تصدیق۔

کام نہ ملنے پر بیروزگاری الاؤنس۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...