کون سی سادہ تراکیب پر عمل کر کے جلد کی حفاظت کی جا سکتی ہے؟
سکن کیئر یعنی جلد کی حفاظت کی دنیا میں بعض افراد کے لیے ریٹینول، اے ایچ اے (اے ایچ ایس) اور بی ایچ اے (بی ایچ اے) جیسے الفاظ خوف ناک لگ سکتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یوں تو درجنوں انفلوئنسرز کی طرف سے جلد کی حفاظت کی روٹین شیئر کی جاتی ہے لیکن ابتدائی طور اس عادت کو اپنانے والے نئے افراد کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے شروع کریں اور ان کی جلد کے لیے کیا موزوں ہے۔اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر گروین وڑائچ نے سادہ تراکیب شیئر کی ہیں جن پر عمل کر کے سکن کیئر کی شروعات کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق تل آئل والی یا مہاسوں کی شکار جلد کے لیے سب سے پہلا اور محفوظ انتخاب سیلیسیلک ایسڈ ہے جو عام طور پر فیس واش کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔
نئے افراد کو چاہیے کہ اسے ہفتے میں دو سے تین مرتبہ صرف چند سیکنڈ کے لیے استعمال کریں مگر ریٹینول (وٹامن اے کے سیرم) کے ساتھ ایک ہی دن نہ لگائیں۔
اسی طرح ایزیلائیک ایسڈ ایک نہایت نرم جزو ہے جو 10 فیصد سے کم مقدار میں صبح یا رات کسی بھی وقت جلد پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور حساس، مہاسوں والی اور خراب رنگت والی جلد کے لیے فائدہ مند ہے۔
بڑھتی عمر کے آثار یا کھردری جلد کے لیے ریٹینول بہترین مانا جاتا ہے لیکن ابتدا میں 0.2 سے 0.5 فیصد والی کریم ہفتے میں صرف دو بار رات کو استعمال کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ موئسچرائزنگ اور روزانہ سن سکرین لگانا لازمی ہے۔گلیکولک ایسڈ بھی نئے افراد کے لیے پانچ سے آٹھ فیصد کی مقدار میں مناسب ہے جسے ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ رات کو استعمال کرنے کے بعد موائسچر لگانا ضروری ہے۔
نیا سینامائیڈ وہ عنصر ہے جو ہر جلد اور ہر نئے شخص کے لیے سب سے آسان اور محفوظ ہے اور دو سے پانچ فیصد تک روزانہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق اگر سکن کیئر آہستہ آہستہ اور سمجھ داری سے شروع کی جائے تو ابتدا میں بھی ریٹینول، اے ایچ اے ایس اور بی ایچ اے ایس جیسے اجزا سے بغیر کسی نقصان کے بہترین فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
پوتن کا ایک مطالبہ ہوا پورا، زیلینسکی نے چھوڑدی یہ بڑی ضد، مگر امریکہ کے سامنے رکھی بڑی شرط، کیا مانیں گے ٹرمپ؟
روس اور یوکرین کی جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں کافی عرصے سے جاری ہیں۔ اب یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وہ روس کے اُس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار ہیں، جس کی وجہ سے یہ پوری جنگ شروع ہوئی تھی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے، جس پر امریکی صدر کو غور کرنا ہوگا۔ پہلی بار زیلینسکی نے نیٹو کی رکنیت کے معاملے میں لچک دکھائی ہے، جس کے بعد جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
انہوں نے برلن میں ہونے والی اہم ملاقاتوں سے پہلے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ یوکرین میں موجودہ حالات کے مطابق فرنٹ لائن کو وہیں مستحکم رکھنے کی تجویز کی حمایت کرے۔ زیلینسکی نے بتایا کہ وہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیلینسکی یہ رکنیت مفت میں چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں، انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اس حوالے سے ایک شرط رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے لیے سیکورٹی کی ضمانت چاہتے ہیں اور اپنی زمین کسی بھی حال میں چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔کس شرط پر نیٹو کی رکنیت چھوڑیں گے زیلینسکی؟
برلن میں زیلینسکی نے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر سے ملاقات کی، جو پہلے ہی اس معاملے پر روس سے بات کر چکے ہیں۔ اس ملاقات میں جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز بھی موجود تھے۔ زیلینسکی نے کہا کہ امریکہ اور کچھ یورپی ممالک یوکرین کو نیٹو کی رکنیت دینا نہیں چاہتے۔ ایسی صورت میں وہ اس کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے مانا کہ نیٹو کی رکنیت چھوڑنا یوکرین کی جانب سے ایک بڑا سمجھوتہ ہوگا۔ اس کے بدلے میں وہ امریکہ اور مغربی ممالک سے ویسی ہی قانونی اور مضبوط سیکورٹی ضمانت چاہتے ہیں جیسی نیٹو ممالک کو حاصل ہے۔
سمجھوتہ کروں گا، مگر امریکہ کی حمایت چاہیے
زیلینسکی نے واضح کیا ہے کہ یہ ضمانتیں صرف بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ قانونی طور پر پابند ہوں اور انہیں امریکی پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہو۔ زیلینسکی نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں یوکرین اور امریکہ کے فوجی حکام کی ملاقات کے بعد اس معاملے میں ٹھوس پیش رفت ہوگی۔ زیلینسکی کا کہنا ہے کہ سب سے منصفانہ راستہ یہی ہے کہ ہم جہاں ہیں، وہیں رک جائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ روس کو یہ پسند نہیں آئے گا، لیکن میں چاہتا ہوں کہ امریکہ اس معاملے پر ہماری حمایت کرے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس پر تنقید بھی ہوئی تھی۔ اس منصوبے میں یوکرین سے کچھ علاقوں کو چھوڑنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے بعد امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ یوکرین نے اس منصوبے میں کچھ ترامیم کر کے امریکہ کو بھیجی ہیں، لیکن زیلینسکی کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ اس دوران یوکرین اور روس کی جانب سے فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔
کھڑگے کی عمر پر سوال اٹھانے والے اڈیشہ کے لیڈر محمد مقیم کو کانگریس نے پارٹی سے نکال دیا
اڈیشہ کے سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق ایم ایل اے محمد مقیم کو کانگریس پارٹی کی موجودہ قیادت پر سوال اٹھانے اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی عمر سے متعلق خدشات ظاہر کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ محمد مقیم نے یہ نکات ایک خط کے ذریعے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے سامنے رکھے تھے، جس کے بعد پارٹی کے اندر شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) نے ایک باضابطہ خط جاری کرتے ہوئے محمد مقیم کو ’’پارٹی مخالف سرگرمیوں‘‘ کا حوالہ دے کر پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کرنے کا اعلان کیا۔
نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے محمد مقیم نے کہا :
’’کانگریس پارٹی نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ صبح میں نے نیوز چینلز کے ذریعے جانا کہ مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ مجھے اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں، کیونکہ میری سوچ میں کانگریس آج بھی ایک عظیم جماعت ہے، لیکن اسے خود احتسابی کی سخت ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا :
’’بھارت کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ مجھے ملکارجن کھڑگے جی سے مکمل احترام ہے، لیکن آج جس طرح کی سوچ اور توانائی کی ضرورت ہے، وہ عمر کے ساتھ ممکن نہیں۔ جب کوئی پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اسے خود کو ازسرنو تعمیر کرنا ہوتا ہے، اور کھڑگے جی کی عمر اس عمل کے لیے موزوں نہیں۔ ہم مسلسل ایک کے بعد ایک انتخاب ہار رہے ہیں۔ قیادت کی باگ ڈور نئی نسل کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔‘‘
محمد مقیم کے مطابق کانگریس پارٹی بتدریج کمزور ہو رہی ہے اور اڈیشہ میں پارٹی مسلسل چھ انتخابات ہار چکی ہے۔ انہوں نے کہا :
’’جب راہل گاندھی یہ کہتے ہیں کہ پارٹی کارکن ہماری طاقت ہیں، تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ زمینی سطح کے کارکنوں کو وقت نہیں دیا جا رہا۔ میں خود تین سال تک راہل گاندھی سے ملاقات نہیں کر سکا۔ اسی لیے ہم نے سونیا جی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔‘‘محمد مقیم نے خط میں کیا لکھا؟
محمد مقیم نے پیر کے روز سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط میں اڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی (OPCC) کی قیادت کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے موجودہ صدر بھکتا چرن داس اور سابق صدر سرت پٹنائک پر پارٹی کو انتخابی طور پر تباہی کی طرف لے جانے کا الزام لگایا۔
انہوں نے 2024 کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات اور 2025 کے نوآپڑا ضمنی انتخاب میں کانگریس کی خراب کارکردگی کو ’’تنظیمی زوال کا واضح ثبوت‘‘ قرار دیا۔
محمد مقیم نے خط میں لکھا :
’’پارٹی اس وقت شدید قیادت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ موجودہ اور سابق دونوں صدور کئی انتخابات ہار چکے ہیں اور کیڈر کو متحرک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ زمینی کارکن الجھن، مایوسی اور بے سمتی کا شکار ہیں۔‘‘
انہوں نے کھل کر کہا کہ:
’’کھڑگے جی کی عمر پارٹی کے حق میں نہیں جا رہی۔ اگر کانگریس کو نوجوان بھارت سے جڑنا ہے تو اسے نوجوان قیادت کو آگے لانا ہوگا۔‘‘
محمد مقیم نے کانگریس سے نوجوان قیادت کے انخلاء کی مثال دیتے ہوئے جیوترادتیہ سندھیا اور ہمانتا بسوا سرما جیسے لیڈروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ پارٹی اپنی اگلی نسل کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے خود کو ’’ایک ڈسپلین پارٹی کارکن‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ OPCC صدر بھکتا چرن داس نے بغیر کسی بنیاد کے انہیں میڈیا میں ’’ویبھیشن‘‘(غدار) کہا، جو اندرونی تنقید کو غداری سے جوڑنے کی خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
خط کے اختتام پر محمد مقیم نے زور دیا کہ :
’’کانگریس کو دوبارہ قابلِ اعتبار بنانے کے لیے کھلے دل کی سرجری، گہری تنظیمی اصلاحات اور نظریاتی تجدید ناگزیر ہے۔‘‘
کانگریس پارٹی 2014 کے بعد سے مسلسل انتخابی ناکامیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ 2022 میں ملکارجن کھڑگے کے پارٹی صدر بننے کے بعد قیادت کے تسلسل، عمر اور نوجوانوں سے رابطے پر اندرونی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ محمد مقیم کا خط اسی اندرونی بے چینی کی ایک نمایاں مثال ہے، جسے پارٹی قیادت نے نظم و ضبط کے خلاف سمجھتے ہوئے سخت کارروائی کی۔