Monday, 22 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






پورے شہر مالیگاوءں میں انڈر گراونڈ ڈرینج کام کرنے والی گجرات کی کمپنی کی کے کام کرنے کی نا اہلی سے بیشتر روڈ وبال جان بنی ہوئی ہے 

جاری ایام میں گولڈن نگر نورو پہلوان المعروف رضاپورہ روڈ وبال جان بنی ہوئی ہے۔ یا یوں کہاں جائے کہ سیاسی لیڈران اور کارپوریشن پرشاشک کسی انسانی جان جانے کے انتظار میں ہو ، اسی لئے کسی کے کانوں تک جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ گذشتہ دیڑھ مہینے سے بلیو برڈ سائزنگ سے لیکر رضاپورہ کیفی سوئیٹ کارنر تک اس اہم اور 24 گھنٹہ جاری وساری روڈ پر انڈر گراونڈ ڈرینج کا کام شروع تھا ۔ اور یہ کام جیسے تیسے کیفی سوئیٹ کارنر تک کیا گیا، ستم ظرفی یہ کہ پوری روڈ انتہائی حد درجہ گہرائی تک کھود کر انڈر گراونڈ پائپ تو ڈالا گیا ، مگر وہ بھی ایکدم باریک اور گجرات کمپنی کے کام کرنے کا نہ اہل اور جنگر چور پن عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ زہرہ حجن مسجد تک ہی گول چیمبر کے ساتھ سائڈ کا چوکون چیمبر بنایا گیا۔ اور اسکے آگے سے کیفی تک سائد کا چوکون چیمبر بغیر بنائے ہوئے کمپنی کے سپر وائزر سمیت سب بھاگ گئے۔ اور پوری روڈ پر درجنوں نل کنیکشن بھی تھوڑ ڈالے اور وہ بھی بغیر درست کئے بھاگ گئے۔ نل کنیکشن ٹوٹنے سے پانی سپلائی کے دن پوری روڈ پر عوام کو چلنا دشوار بنا ہوا ہے۔ کیا پیدل ،کیا سواری سب کے سب جان ہتھیلی پر لیکر اس روڈ سے آمدو رفت کررہے ہیں ۔ یہی ہے انڈر گروانڈ ڈرینج کمپنی کا ناروا سلوک جو گولڈن نگر میں نظر آرہا ہے۔ آج یہ روڈ اتنی کھنڈر کر دئے گجرات کمپنی والے کہ پچاسوں لوگ راستہ چلتے ہوئے گر چکے ہیں ۔ مگر نہ تو کمپنی کو کوئی بولنے تیار کے کمپنی اچھا رولر چلاکر کر روڈ لیول کرے۔ اور سیاسی لیڈران آج کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 1100 کروڑ ہوگیا ہے اور 3. سال سے کمشنر راج ہے۔ الیکشن تو ابھی ڈکلیئر ہوا۔ کچھ دنوں میں الیکشن ہوجائے گا۔ وارڈ کے نمائندے پتہ نہیں اس روڈ کے بارے میں محترک ہوتے ہیں یا نہیں ۔ سوال یہ ہیکہ پرشاشک کمشنر اور شہر کے سبھی لیڈران اس روڈ کی از سر نو پختہ تعمیر کانکریٹ روڈ کی مکمل تعمیر کے لئے آگے آئے۔ تاکہ اس اہم روڈ سے روزآنہ جو راستہ چلنے والے گر رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی چاروں جانب اسکول مدارس ہیں۔ چھٹی کے اوقات میں آج کی اس روڈ کی جو حالت ہے طلبہ و طالبات آمدورفت کرنے والے ہی جانتے ہونگے۔ 


لہذا سبھی سیاسی لیڈران اور کارپوریشن کمشنر اس روڈ کی جلد از جلد کانکریٹ روڈ تعمیر کرکے عوام کو راحت پہچائیں








*کارپوریشن انتخابات اور امیدواروں کا انتخاب*

*دینی و تعمیری کسوٹی کا تعین ناگزیر*

*تحریر: محمد خالد شاہد ملی*
*(نظام پورہ، مالیگاؤں)*
شہرِ مالیگاؤں میں کارپوریشن کے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ مختلف جماعتیں امیدواروں کے انتخاب کے مرحلے میں ہیں اور ہر حلقے میں سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کے انتخاب کا معیار کیا ہونا چاہیے اور کن اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جانا ضروری ہے۔

*بلدیاتی ادارے کسی بھی شہر کے بنیادی انتظامی ستون ہوتے ہیں۔* صفائی، پینے کا پانی، سڑکوں کی حالت، فضلاتی پانی کی نکاسی، صحت و تعلیم کی سہولیات اور شہری نظم و نسق کا براہِ راست تعلق کارپوریشن سے ہوتا ہے۔ اس لیے کارپوریشن کا رکن محض ایک سیاسی نمائندہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور اجتماعی مفاد کا امین ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ *"بے شک! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو (النساء:58)"* جو اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ ذمہ داریاں اہلیت اور دیانت کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں۔

دینی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو امیدوار کے لیے سب سے پہلی شرط دیانت و امانت ہے۔ ایسا شخص جو مالی بدعنوانی، جھوٹ اور ذاتی مفاد سے پاک ہو، وہی حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کا اہل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح امیدوار کا عمومی کردار، سماجی رویہ اور معاملات میں شفافیت بھی اہم معیار ہے۔ دین سے وابستگی محض نعروں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی زندگی میں اخلاق، انصاف اور ذمہ داری کے احساس سے ظاہر ہو۔

تعمیری اعتبار سے امیدوار کا شہری مسائل سے واقف ہونا ناگزیر ہے۔ شہر کو درپیش مسائل جیسے آب رسانی کے معمول میں بے ضابطگی، صفائی کی ناقص صورتِ حال، گندے پانی کی نکاسی میں خلل، خستہ حال شاہراہیں، دھول سے اٹی سڑکیں، فضائی آلودگی اور صحت و تعلیم کی کمزور سہولیات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک موزوں امیدوار وہی ہو سکتا ہے جو ان مسائل کا شعور رکھتا ہو اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی، مضبوط لائحۂ عمل کی صلاحیتوں کا حامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی قوانین، کارپوریشن کے اختیارات اور انتظامی ڈھانچے سے واقفیت بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر فہم کے نمائندگی محض رسمی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

سیاسی جماعتوں پر بھی اس ضمن میں بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم محض انتخابی حساب کتاب یا وقتی فائدے کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے اور نہ اقرباء پروری کو اولیت دینی چاہیے، بلکہ امیدوار کی ساکھ، ماضی، کردار اور عوامی خدمت کے جذبے کو معیار بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسے افراد کو آگے لایا گیا جو اخلاقی یا عملی اعتبار سے کمزور ہوں تو اس کا نقصان صرف جماعت کو نہیں بلکہ پورے شہر کو اٹھانا پڑتا ہے، یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ امیدواروں کے انتخاب میں اہلیت کو نظر انداز کر کے کی جانے والی اقرباپروری کسی بھی ادارے اور پورے سماج کے لیے سمِّ قاتل ثابت ہوتی ہے۔

عوام الناس کا کردار بھی اس عمل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ووٹ صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ غلط انتخاب کے اثرات برسوں تک شہری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذات، برادری اور وقتی نعروں سے بلند ہو کر امیدوار کے کردار، اہلیت اور عوامی خدمت کے ریکارڈ کو بنیاد بنائیں۔

؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ
(علامہ اقبالؒ)

آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مالیگاؤں جیسے بیدار اور حساس شہر کو ایسے بلدیاتی نمائندوں کی ضرورت ہے جو دینی اقدار کے پابند بھی ہوں اور تعمیری صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ اگر امیدواروں کے انتخاب میں دین اور تعمیر—دونوں کو کسوٹی بنایا جائے تو بلدیاتی سیاست اقتدار کی کشمکش کے بجائے خدمت اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے، جو کسی بھی شہر کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہی کچھ راقم کے فہم میں آیا، اللہ بہتر جانتا ہے۔











*قلعہ، قلعہ جھوپڑپٹی، غالب نگر،سدھارتھ واڈی، اسلام آباد، موتی پورہ، رسولپورہ ،بوہرہ باغ کی پہلی پسند*۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ذمدارن و پارلیمنٹری بورڈ و *ایم ایل اے مفتی محمّد اسماعیل قاسمی صاحب* سے گزارش ہیکہ 

وارڈ نمبر 19 سے *سابق مئیر عبدالمالک وجاوید عبدالستار* کو ھی ٹکٹ دیا جاۓ یہ لوگ کام کرنے والے لوگ ھیں پورے شہر میں گرنہ ڈیم سے پانی ملتا تھامگر *سابق کارپوریٹر جاوید عبدالستار* نے لزائی کرکےھمیں علاقوں کے لوگوں کوچنگاپور ڈیم کاپانی غیروں کی طرف پائپ جانے سے روک کر کے پانی چالو کروایا پائپ لائین درستگی کی وجہ سے ہمیں گرنہ ڈیم کا پانی مل رہا *جاوید عبدالستار** نے کمشنر سے گزارش کی ھے کہ ہمیں پہلے جیسے پانی ملتا تھا وہی پانی چاھیے کمشنر نے جاوید عبدالستار صاحب سے گزارش کی ھے پائپ لائن درست ہونے کے بعد چنگاپور ھی پانی ملے گا۔ اس لیے *جاوید عبدالستار و عبدالمالک* ھی وارڈ کا کارپوریٹر چن کر لانا ھے ایسا وارڈ کے ووٹروں نے فیصلہ کیا ھے۔ مفتی محترم سے گزارش کرتے ھیں ان دونوں صاحبان کو وارڈ نمبر 19 سے ھی ٹکٹ دیں














*وارڈ نمبر 21 کانگریس پارٹی سے خواہش مند امیدوار*
*12/12/2025*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
   *وارڈ نمبر 21 میں پٹھان فیمیلی سے زین العابدین پٹھان صاحب جنرل لیڈیز سیٹ سے کانگریس پارٹی پارلیمنٹری بورڈ سے اور صدر کانگریس پارٹی اعجاز بیگ صاحب سے ٹکٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔*
   *کانگریس ترجمان جناب زین العابدین پٹھان صاحب نے تقریباً 1996 میں کانگریس پارٹی جوائن کیا اور کئی سال تک یوتھ کانگریس جنرل سیکرٹری کے عہدے پر براجمان رہنے کے بعد 2002 میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹ سے امیدواری کی اور صرف 169 ووٹوں سے کامیاب ہونے سے رہے گئے اور اسی طرح زین العابدین پٹھان صاحب 1996 سے آج تک کانگریس پارٹی سے منسلک رہے سیاسی سماجی عوامی کام کرتے چلے آ رہے ہیں. اب ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایک اچھا موقع ہاتھ آیا ہے اور ہمیں پٹھان صاحب کو امیدوار بنانا ہے فیمیلی کے تمام افراد نے یہ تئے کر لیا ہے. اسی لیے ہم صدر کانگریس پارٹی اعجاز بیگ صاحب و پارلیمنٹری بورڈ سے درخواست کرتے ہیں کہ پٹھان صاحب کو کام کرنے اور کروانے اچھا خاصا تجربہ ہے اور وہ کارپوریشن کو اچھی سے سمجھتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے عوامی خدمت کر سکتے ہیں اسی بنیاد پر انہیں کانگریس پارٹی سے لیڈیز جنرل سیٹ پر ہم پارٹی سے ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔*
   *ہمیں پوری مکمل امید ہے کہ کانگریس پارٹی ہمیں ٹکٹ دے کر نمائندگی کرنے کا موقع دے گی*

*(منجانب : پٹھان فیمیلی)*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...