Monday, 22 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ماسکو میں کار بم دھماکہ، روسی فوج کے جنرل فانیل سروروف ہلاک
روس میں ایک کار بم دھماکے میں فوج کے جنرل ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق رواں سال کے دوران روسی فوج کے یہ تیسرے سینیئر عہدیدار ہیں جو قتل کیے گئے۔
روسی تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔جرائم کی تفتیش کرنے والی اعلٰی ترین روسی ایجنسی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینکو نے بتایا کہ ’مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے آپریشنل ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔‘
ترجمان پیٹرینکو نے کہا کہ ’تفتیش کار اس قتل کے حوالے سے کئی زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس جرم کی منصوبہ بندی یوکرین کی انٹیلیجنس سروسز کی طرف کی گئی۔‘
لگ بھگ چار سال قبل جب سے ماسکو نے یوکرین میں فوج بھیجی ہے تب سے روسی حکام نے یوکرین کو روس میں متعدد فوجی افسران اور عوامی شخصیات کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یوکرین نے ان میں سے بعض کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم حالیہ واقعے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو سروروف کے قتل کے بارے میں فوری طور پر مطلع کر دیا گیا تھا۔
وزارت دفاع نے کہا کہ سروروف اس سے قبل چیچنیا میں لڑ چکے تھے اور انہوں نے شام میں ماسکو کی فوجی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔ 
ایک سال قبل روس کی نیوکلیئر، بائیولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آئگور کیریلوف کو اُن کے اپارٹمنٹ کے باہر بم دھماکے میں قتل کیا گیا تھا۔ اُن کے ایک معاون بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یوکرین کی سکیورٹی سروس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
روسی حکام نے ایک ازبک شہری کو اس قتل کے بعد حراست میں لیا تھا کہ اُس نے یوکرین کی سکیورٹی سروس کی ایما پر بم نصب کیا تھا۔صدر پوتن نے جنرل آئگور کی ہلاکت کو روسی سکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس غلطی سے سیکھنا چاہیے اور اہلکاروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے۔
رواں سال اپریل میں روس کی فوج کے سینیئر عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل یاروسلیف موسکالک کو بھی دھماکہ خیز مواد کے ذریعے قتل کیا گیا تھا۔ وہ روسی فوج کے جنرل سٹاف میں آپریشنل ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ تھے۔
دھماکہ خیز مواد ماسکو سے باہر اُن کی رہائش گاہ کے قریب کھڑی اُن کی کار میں نصب کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ملوث ایک شخص کو فوری طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔










یونس سرکار کا ہوگا تختہ پلٹ ! انقلاب منچ کی دھمکی ، عثمان ہادی کے قاتلوں کو پکڑو یا کرسی چھوڑو
ڈھاکہ/نئی دہلی۔ بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر انتشار کا شکار ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو اب خود ایک بڑے بحران کا سامنا ہے۔ وہی طلبہ طاقت اور انقلابی تنظیمیں جنہوں نے اسے امید کی کرن قرار دے کر اقتدار تک پہنچایا تھا اب ان کا تختہ الٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عثمان ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری میں ناکامی سے ناراض، انقلاب منچ نے دھمکی دی ہے کہ اگر قاتلوں کو نہ پکڑا گیا تو یونس کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ انقلاب منچ کے ترجمان نے کہا کہ اگر عثمان ہادی کے قتل کے معاملے میں فوری طور پر انصاف نہ ملا تو وہ عبوری حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ڈھاکہ کی سڑکیں ایک بار پھر انہی نعروں سے گونج رہی ہیں جو چند ماہ قبل حسینہ واجد حکومت کے خلاف گونجتے تھے لیکن اس بار یونس حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انقلاب منچ اس بات پر ناراض ہے کہ دو ہفتے گزر گئے اور قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پیر کو، انقلاب منچ کے عہدیداروں نے ایک بڑی میٹنگ کی اور یونس حکومت کو واضح الٹی میٹم جاری کیا۔ انقلاب منچ کے ترجمان اور ممتاز نوجوان رہنما عثمان ہادی کو چند روز قبل بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عثمان ہادی ان شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے بنگلہ دیش میں تبدیلی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ ان کے قتل سے نہ صرف ان کی تنظیم بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کو صدمہ پہنچا ہے۔ قتل کے بعد، انقلاب منچ نے حکومت کو قاتلوں کو پکڑنے کے لیے ایک مخصوص ڈیڈ لائن دی تھی۔ تاہم اب وہ ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے اور پولیس ابھی تک خالی ہاتھ ہے۔ اس سے ناراض ہو کر انقلاب منچ نے اب آر پار کی لڑائی کا اعلان کردیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ حکومت یا تو مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے یا پھر انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔کرسی چھوڑنے کے لئے تیار رہیں یونس
انقلاب منچ کی طرف سے بلائی گئی ایک ہنگامی پریس کانفرنس اور احتجاجی ریلی میں مقررین نے انتہائی سخت ریمارکس دیے۔ منچ کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا، “اگر عثمان ہادی کے قتل کے معاملے میں انصاف کو یقینی نہیں بنایا گیا تو، انقلاب منچ عبوری حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے تحریک شروع کرے گا۔ ہم حکومتیں بنانا جانتے ہیں، لیکن ہم انہیں گرانا بھی جانتے ہیں۔”

یونس کے لیے خطرے کی گھنٹی
یہ بیان محمد یونس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بنگلہ دیش کی حالیہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب طلبہ اور نوجوان تنظیمیں کسی مسئلے پر متحد ہو جاتی ہیں تو طاقتور ترین طاقتیں بھی کھڑے نہیں ہو سکتیں۔ انقلاب منچ نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر یونس کی حکومت، جو قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے لائی گئی تھی، اپنے ہی حامیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مشیر داخلہ اور پولیس انتظامیہ پر سنگین سوالات
انقلاب منچ کا غصہ نہ صرف ڈاکٹر یونس پر ہے بلکہ خاص طور پر وزارت داخلہ اور پولیس انتظامیہ پر ہے۔ اپنے بیان میں تنظیم نے کہا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود مشیر داخلہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی کے قاتلوں کے بارے میں سراغ ملنے کے باوجود پولیس خاموش بیٹھی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مشیر داخلہ معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھتے۔ منچ نے سوال کیا کہ کیا پرانی حکومت کے وفادار اب بھی انتظامیہ کے اندر ہیں اور جان بوجھ کر تحقیقات کو پٹڑی سے اتار رہے ہیں؟ یا موجودہ حکومت نے مجرموں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟ منچ کے ارکان نے کہا کہ جب عثمان ہادی جیسی اہم شخصیات محفوظ نہیں ہیں تو عام لوگوں کی حفاظت کی ضمانت کون دے گا؟ یہ ناکامی براہ راست عبوری حکومت کی انتظامی نااہلی کی عکاسی کرتی ہے۔
کیا پھر جل اٹھے گا بنگلہ دیش ؟
انقلاب منچ کی دھمکی کو محض بیان بازی کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عثمان ہادی کے قتل کے بعد نوجوانوں میں پیدا ہونے والا غصہ کسی بھی وقت بڑی عوامی تحریک میں پھوٹ سکتا ہے۔ انقلاب منچ نے اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے: اگر قاتل نہ پکڑے گئے تو وہ حکومتی کارروائیوں میں خلل ڈالیں گے، ڈھاکہ میں طاقت کا مظاہرہ کریں گے، اور اہم سرکاری عمارتوں کا محاصرہ کریں گے۔ وہ یونس حکومت کے خلاف ملک گیر مہم چلائیں گے اور نئے نظام کا مطالبہ کریں گے۔ بنگلہ دیش میں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر انقلاب منچ سڑکوں پر نکلتا ہے تو دیگر اختلافی گروپ بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے ملک میں افراتفری کی فضا دوبارہ جنم لے گی جس سے نمٹنا یونس حکومت کے لیے لوہے کے چنے چبانے جیسا ہوگا ۔











آدھی دنیا فتح کرنے والا چنگیز خان ہندوستان کی سرحد سے واپس کیوں لوٹ گیا؟
تقریباً 800 سال پہلے، ایک منگول خانہ بدوش نے بحیرہ اسود سے لے کر بحرالکاہل تک پھیلی ہوئی ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس کا نام تیموجن تھا جو بعد میں پوری دنیا میں چنگیز خان کے نام سے مشہور ہوا۔

’منگولوں کی خفیہ تاریخ‘ میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس کی ہتھیلی میں خون کا ایک لوتھڑا موجود تھا۔ مقامی لوگوں کے نزدیک یہ اس بچے کے عظیم فاتح ہونے کی علامت تھی۔
لیکن چنگیز خان کے لیے ابتدائی زندگی آسان نہ تھی۔ ان کے والد کو دشمنوں نے زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور یوں وہ بہت چھوٹی عمر میں ہی بے سہارا ہو گئے۔

خان نام کی وجہ سے بہت سے لوگ انھیں مسلمان مانتے ہیں جبکہ خان دراصل ایک لقب ہے۔ وہ منگول تھے اور شمن پرستی پر یقین رکھتے تھے، جس میں آسمان کی پوجا کرنے کی روایت تھی۔



*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...