ریلوے میں 1100 سے زیادہ نوکریاں، 10ویں پاس درخواست دے سکتے ہیں
اگر آپ نے دسویں اور آئی ٹی آئی پاس کی ہے اور ریلوے میں نوکری کا خواب دیکھ رہے ہیں تو آپ کے لیے خوشخبری ہے۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے نے 1,100 سے زیادہ اپرنٹس کے عہدوں پر بھرتی کا اعلان کیا ہے۔ اسامیوں کی کل تعداد 1,149 ہے۔ یہ ملازمتیں تربیت، اچھی تنخواہ، اور مستقبل کی سیکیورٹی پیش کرتی ہیں۔ درخواست کا عمل آج سے شروع ہوا، اور آخری تاریخ 25 اکتوبر 2025 ہے۔ درخواست دینے کے لیے، rrcpatna.gov.in پر جائیں اور درخواست دیں۔
یہ بھرتی کیا ہے اور آپ کو کب اپلائی کرنا چاہیے؟
ایسٹ سنٹرل ریلوے بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کے کچھ حصوں پر محیط ہے۔ اس نے اپرنٹس کے لیے اسامیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ ملازمتیں تربیت پر مبنی ہیں، جہاں آپ تکنیکی اور غیر تکنیکی ریلوے کا کام سیکھیں گے۔ تربیت کے بعد، آپ کو مستقل ملازمت کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ درخواستیں آج، 26 ستمبر 2025 کو کھلیں گی، اور 25 اکتوبر 2025 تک درخواست دی جا سکتی ہے۔ تاخیر نہ کریں، ورنہ آپ موقع سے محروم ہو جائیں گے۔کون درخواست دے سکتا ہے اور مطلوبہ اہلیت کیا ہیں؟
اس نوکری کے لیے کم از کم 50% نمبروں کے ساتھ تسلیم شدہ بورڈ سے 10ویں جماعت کی ڈگری درکار ہے۔ آپ کے پاس تجارت سے متعلق ITI سرٹیفکیٹ (NCVT/SCVT سے درست) بھی ہونا چاہیے۔ عمر کے حوالے سے، آپ کی عمر 25 اکتوبر 2025 تک 15 اور 24 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ SC/ST/OBC امیدواروں کو عمر میں چھوٹ ملے گی، SC/ST کو عمر میں 5 سال کی چھوٹ ملے گی، اور OBC امیدواروں کو 3 سال کی عمر میں چھوٹ دی جائے گی۔ انتخاب کے بعد میڈیکل ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ کے پاس یہ قابلیت ہے تو یہ نوکری آپ کے لیے بہترین ہے۔
ایسٹ سنٹرل ریلوے کی ان بھرتیوں کے لیے، جنرل اور او بی سی زمروں کے امیدواروں کو 100 روپے کی فیس ادا کرنی ہوگی، جب کہ ایس سی/ایس ٹی، پی ڈبلیو ڈی، اور خواتین مستثنیٰ ہیں۔ فیس UPI یا ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن ادا کی جانی چاہیے۔
انتخاب کیسے کیا جائے گا؟ ان عہدوں کے لیے انتخاب بہت آسان ہے۔ انتخاب آپ کے 10ویں اور ITI نمبروں کی اوسط کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ دونوں کو برابر وزن دیا جائے گا۔ فیصد کا تعین 10ویں کے تمام مضامین کے کل نمبروں سے کیا جائے گا۔ کسی ایک مضمون کے اسکور پر غور نہیں کیا جائے گا۔ اگر دو افراد کے نمبر برابر ہیں تو بڑی عمر کے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی۔ اگر ان کی عمر بھی برابر ہے تو پہلے دسویں پاس کرنے والے امیدوار کو موقع ملے گا۔ انتخاب کے بعد، آپ کے اصل کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور آپ کو میڈیکل فٹنس ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔
درخواست کیسے دی جائے؟
سب سے پہلے، rrcpatna.gov.in ملاحظہ کریں۔
نئے صارفین کے لیے، رجسٹریشن فارم پُر کریں اور لاگ ان ID بنائیں۔
لاگ ان ہونے کے بعد، اپنی ذاتی تفصیلات درج کریں، بشمول آپ کا 10 ویں گریڈ اور ITI سرٹیفکیٹ۔
اپنے دستاویزات اپ لوڈ کریں۔ اپنی 10ویں جماعت کی مارک شیٹ، ITI سرٹیفکیٹ، تصویر، اور دستخط اسکین کریں۔
اگر آپ جنرل/او بی سی ہیں تو آن لائن 100 روپے ادا کریں۔
فارم چیک کرنے کے بعد، اسے جمع کروائیں اور پرنٹ آؤٹ لیں۔
بھارت نے کر دکھایا! امریکی ٹیرف کی دیوار کیسے ٹوٹی؟ جانئے ’زبردست واپسی‘ کا راز
نئی دہلی: امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیر متوقع بحالی کے پیچھے سپلائی چین میں تبدیلیاں اور امریکی مارکیٹ میں تعطیلاتی سیزن سے قبل اسٹاک جمع کرنے کی حکمت عملی اہم وجہ بنی ہے۔
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے مطابق، اگست سے امریکہ کی جانب سے بھارتی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیے گئے تھے، جس کے بعد ستمبر اور اکتوبر میں برآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم نومبر میں صورتحال یکسر بدل گئی اور بھارت سے امریکہ کو ہونے والی برآمدات 22.61 فیصد اضافے کے ساتھ 6.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اچانک اضافے نے تجارتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے نمایاں واپسی اسمارٹ فون سیکٹر نے کی ہے۔ مئی میں جہاں اسمارٹ فونز کی برآمدات 2.29 ارب ڈالر تھیں، وہ ستمبر میں گھٹ کر صرف 88.46 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں۔ لیکن نومبر میں یہ دوبارہ بڑھ کر 1.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جسے ماہرین ایک ’گرانڈ کم بیک‘ قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح جواہرات اور زیورات کی برآمدات بھی سنبھل گئیں اور نومبر میں 40.62 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ستمبر میں آدھی سے بھی کم رہ گئی تھیں۔ مشینری اور مکینیکل آلات کی برآمدات بھی اپنی پرانی سطح، یعنی 61.46 کروڑ ڈالر، کے قریب واپس آ گئیں۔
جی ٹی آر آئی کے بانی اجے شریواستو نے اس واپسی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں بھاری ٹیرف کے خوف سے امریکی خریداروں نے آرڈرز روک دیے تھے۔ تاہم جب یہ واضح ہو گیا کہ ٹیرف برقرار رہیں گے، تو بھارتی برآمد کنندگان اور امریکی خریداروں کے درمیان نئی حکمت عملی اپنائی گئی۔ دونوں فریقوں نے اضافی لاگت کو آپس میں تقسیم کیا اور قیمتوں پر دوبارہ مذاکرات کیے۔ اس کے ساتھ ہی ان مصنوعات پر توجہ بڑھائی گئی جن کے متبادل آسانی سے دستیاب نہیں تھے۔
اگرچہ نومبر کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، لیکن ماہرین نے محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ جی ٹی آر آئی کا کہنا ہے کہ یہ بحالی ممکن ہے طویل مدت تک برقرار نہ رہے، کیونکہ یہ سخت ٹیرف کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے اور قلیل مدتی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ تجارت میں کسی مستقل بہتری کا۔ دوا سازی اور معدنی ایندھن کے شعبوں میں بھی کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن یہ اب بھی مئی کی سطح سے نیچے یا اس کے آس پاس ہی ہے۔ اس لیے آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ بھارت کی یہ ’زبردست واپسی‘ کتنی مضبوط ثابت ہوتی ہے۔
وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا بڑھتا استعمال صحت کے لیے خطرناک؟
انڈیا کے معروف ڈاکٹروں نے ’وزن کم کرنے والے‘ انجیکشنز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اُن کے ممکنہ خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجیکشنز موٹاپے اور ذیابیطس کا کوئی جادوئی حل نہیں اور ان کا غیرمنظم استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈیا میں ’مونجارو‘، ’ویگووی‘ اور ’اوزمپک‘ جیسے بھوک کم کرنے والے انجیکشنز کی طلب میں رواں برس غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف آٹھ ماہ میں ’مونجارو‘ انڈیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا بن گئی ہے جو اینٹی بائیوٹکس کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اس کامیابی کے بعد دواساز کمپنی ’ایلی للی‘ نے اسی طرح کی ایک نئی میڈیسن پر تحقیق شروع کر دی ہے جو اگلے سال گولی (ٹیبلٹ) کی صورت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب دواساز کمپنی ’نوو نورڈسک‘ نے بھی اوزمپک کو متعارف کرایا ہے تاہم ان دواؤں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس کئی دواؤں کے پیٹنٹ ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد مقامی کمپنیاں سستے متبادل متعارف کرائیں گی اور مارکیٹ میں ان ادویات کی بھرمار ہو جائے گی۔
ڈاکٹروں کے مطابق انڈیا میں بعض شہریوں کو موٹاپے اور ذیابیطس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ موٹاپے کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔سرجن ڈاکٹر موہت بھنڈاری اور دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز کا بے جا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات پٹھوں کی کمزوری، لبلبے کی سوزش، پتے میں پتھری اور بعض صورتوں میں بینائی کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دواؤں کی فراہمی اور تجویز کو سخت ضابطوں کے تحت لایا جائے۔
کئی ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ انجیکشنز اب جمز اور بیوٹی کلینکس پر بھی بغیر مکمل طبی جانچ کے فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز مددگار ہو سکتے ہیں مگر اصل حل صحت مند غذا، ورزش اور طرزِِ زندگی میں تبدیلی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادویات عارضی سہارا ہو سکتی ہیں لیکن مستقل صحت کے لیے زندگی گزارنے کے طریقے بدلنا ناگزیر ہے۔