Sunday, 30 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل پی ایم مودی کا خطاب، کہا ڈرامہ نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے لیے نتیجہ خیز اجلاس چلانے پر توجہ دیں۔

وزیر اعظم نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہار کے انتخابات میں اپنی حالیہ شکست کی وجہ سے "پریشان" لگ رہے ہیں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو حل کریں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں کہ پارلیمنٹ میں اچھی پالیسی اور قوانین پاس ہوں تاکہ مانسون اجلاس کی طرح یہ اجلاس بھی ضائع نہ ہو۔پی ایم مودی نے کہا کہ "میں سب سے درخواست کروں گا کہ ہر کوئی موجودہ مسائل کے بارے میں سوچے۔ ڈرامہ کرنے کے لیے بہت سی جگہیں ہیں، جو کوئی بھی ڈرامہ کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے، یہاں ڈرامہ نہیں، ڈیلیوری ہونی چاہیے، جو کوئی بھی نعرے لگانا چاہتا ہے، اس کے لیے پورا ملک پڑا ہے۔ آپ نے بہار الیکشن میں شکست کے دوران یہ بات پہلے ہی کہہ چکے ہیں، لیکن یہاں نعروں پر نہیں بلکہ پالیسی پر توجہ ہونی چاہیے۔"انہوں نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ سیاست میں منفی کام کریں، لیکن آخر میں قوم کی تعمیر کے لیے مثبت سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ منفیت کو ایک طرف رکھ کر قوم کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔"

اپوزیشن سے ضروری اور مضبوط ایشوز اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ پارٹیاں بہار میں اپنی حالیہ شکست کے صدمے سے نکل سکتتی تھیں، لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ابھی تک 'ان سیٹلڈ' ہیں۔انہوں نے کہا، "اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ میں مضبوط اور ضروری ایشوز اٹھانے چاہئیں۔ انہیں انتخابی شکست سے کی پریشانی سے باہر نکلنا چاہیے اور حصہ لینا چاہیے۔ میں نے سوچا تھا کہ چونکہ بہار انتخابات کو کافی وقت ہو گیا ہے، اس لیے انہوں نے خود کو سنھال لیا ہوگا، لیکن کل ایسا لگا کہ شکست نے ان پر صاف طور پر اثر ڈالا ہے۔"

انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ سرمائی اجلاس ہار سے پیدا ہونے والی مایوسی کا میدان نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی فتح سے پیدا ہونے والے گھمنڈ کا اکھاڑا بننا چاہیے۔پی ایم مودی نے کہا، "اس سیشن میں اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ پارلیمنٹ ملک کے لیے کیا سوچ رہی ہے، پارلیمنٹ ملک کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے، اور کیا کرنے جا رہی ہے۔ اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور بحث میں مضبوط مسائل اٹھانے چاہئیں۔"

قبل ازیں، انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے اراکین نے پیر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تقریباً تین ہفتے کے اجلاس سے قبل اپوزیشن بلاک کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے میٹنگ کی۔کانگریس ذرائع کے مطابق، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اراکین اسمبلی نے سرمائی اجلاس سے قبل اپنی مصروف پارٹی میٹنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے اتحادی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔

پارلیمنٹ میں 19 دنوں میں 15 اجلاس ہونے ہیں۔ اس دوران پرائیویٹ ممبرز کے بلز 5 اور 19 دسمبر جب کہ پرائیویٹ ممبرز کی قراردادیں 12 دسمبر کو غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔

ایس آئی آر کی جاری مشق پر اپوزیشن جماعتوں کی مسلسل نعرے بازی اور احتجاج کی وجہ سے گذشتہ مانسون اجلاس کو "واش آؤٹ" سمجھا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکوں، قومی دارالحکومت میں ہوا کے معیار اور خارجہ پالیسی کے ایشو کو بھی اٹھانا چاہتی ہیں۔









پاکستان میں خودکش حملہ آوروں نے نوکنڈی میں فوجی کمپاؤنڈ کو بنایا نشانہ، بی ایل ایف نے قبول کی ذمہ داری
نئی دہلی: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں نے ایک بار پھر خوفناک دہشت گرد حملہ کیا ہے۔ بلوچستان کے نوکنڈی علاقے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر کے قریب اتوار 30 نومبر کی رات تقریباً 9 بجے خودکش حملوں کی جھڑی لگا دی ۔ حملہ ریکو ڈک اور سینڈک مائننگ پروجیکٹ سے وابستہ غیر ملکی ماہرین، انجینئروں اور دیگر عملے کے لیے بنائے گئے حساس رہائشی و ورک کمپاؤنڈ پر کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پہلے پانچ بڑے دھماکے کیے گئے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کرلی

اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کرلی ہے۔ تنظیم کے ترجمان میجر گوہرَم بلوچ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی بی ایل ایف کی ’’سادو آپریشنل بٹالین (SOB)‘‘ نے انجام دی۔ ترجمان کے مطابق حملے کا مقصد اس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانا تھا، جہاں حکومت نے بڑے غیر ملکی کان کنی منصوبوں سے وابستہ افراد کو ٹھہرنے اور کام کرنے کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔

ہلاکتوں کے اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں

بلوچ شدت پسندوں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ سرکاری طور پر ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد جاری نہیں کی گئی، لیکن پاکستانی میڈیا کے مطابق واقعہ چاغی ضلع کے نوکنڈی علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد پورے ضلع کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ پاکستان کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ’’سب سے محفوظ اور محفوظ ترین‘‘ منصوبے کی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔

صورتحال مزید کشیدہ

حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں ہے اور میڈیا رسائی محدود کر دی گئی ہے ۔سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔












وزن کم کرتے وقت کن تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
زیادہ تر لوگ جب اپنی فٹنس یا وزن کم کرنے کے سفر کی شروعات کرتے ہیں تو وہ فوری نتائج کے پیچھے بھاگتے ہیں; کریش ڈائٹس، تیز رفتار چیلنجز اور جلد از جلد ’دبلے‘ ہونے کی خواہش۔ مگر پائیدار بہتری نہ خود کو فاقوں پر رکھنے سے آتی ہے اور نہ ہی بے تحاشہ کیلوریز خرچ کرنے سے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اصل تبدیلی آہستہ، مسلسل چربی کم کرنے اور مسلز بنانے سے آتی ہے، جو طویل عرصے تک وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلیل مدتی ڈرامائی نتائج کے بجائے طاقت اور دیرپا عادات کو ترجیح دینا ہی جسم اور صحت میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔’سلو برن میتھڈ‘ کے بانی، کوآڈ فٹنس کے شریک بانی اور ہیڈ کوچ، اور کتاب ’سمپل، ناٹ ایزی‘ کے مصنف فٹنس ٹرینر راج گنپتھ نے وزن کم کرنے کے آغاز سے متعلق تین اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے حقائق بیان کیے ہیں۔
ایک انسٹاگرام ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ کیوں آہستہ اور مسلسل پیش رفت تیز رفتار پروگراموں کے مقابلے میں بہتر ہے، اور کیوں مقصد صرف ’دبلے‘ ہونا نہیں بلکہ لین اور مضبوط بننا ہونا چاہیے۔
سست رفتاری سے وزن میں کمی زیادہ پائیدار
راج کے مطابق وزن میں کمی کبھی صرف چربی میں کمی نہیں ہوتی؛ اس میں مسلز کا کم ہونا بھی شامل ہوتا ہے، چاہے آپ کوئی بھی ڈائیٹ فالو کر رہے ہوں یا جتنی بھی ورزش کر رہے ہوں۔ البتہ جب وزن دوبارہ بڑھتا ہے تو کھوئے ہوئے مسلز واپس نہیں آتے، بلکہ ان کی جگہ چربی لے لیتی ہے۔زیادہ مسلز کا مطلب زیادہ چربی کا خاتمہ
زیادہ تر لوگ وزن کم کرنے کے لیے کارڈیو، کیلوریز جلانے اور کم کھانے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن راج کے مطابق اصل ترجیح مسلز بنانا ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جتنے زیادہ مسلز ہوں گے، اتنی ہی آپ کا بیسل میٹابولک ریٹ زیادہ ہو گا۔ اگر آپ وزن کو منظم رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو جتنے زیادہ ہو سکے مسلز بنائیں۔‘
دبلے ہونے کے بجائے مضبوط بننے پر توجہ دیں
راج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دبلے ہونا تقریباً بے فائدہ ہے۔ اگر آپ زیادہ وزن کے حامل ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ دبلے ہونا ہی حل ہے۔ مگر دبلے کا مطلب کم توانائی، کمزور ہڈیاں، تھکاوٹ اور ڈھیلا جسم ہے۔‘انہوں نے واضح کیا کہ اصل ہدف لین اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرضروری وزن، یعنی چربی کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، جبکہ ضروری مسلز، ہڈیاں، اور اعضا کو محفوظ رکھا جائے۔‘

*🔴سیف نیوز بلاگر*





بدعنوانی کے مقدمے میں نیتن یاہوکی معافی کی درخواست پراسرائیلی شہری برہم، صدرکی رہائش گاہ کے باہرکیااحتجاج،معافی نہ دینے کامطالبہ
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو’قومی ہیرو‘نہیں ہیں ۔ شہریوں کے احتجاج سے یہ بات عیاں ہے حالانکہ وزیراعظم نیتن یاہوکے خلاف یہ شہریوں کا پہلا احتجاج بھی نہیں ہے ۔ دراصل وزیراعظم نیتن یاہو نے بدعنوانی کے مقدمات میں صدر ہرزوک سے معافی کی درخواست کی ہے جس پر عوام کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔

تل ابیب میں شہریوں نے صدرہرزوک کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور ان سے بنیامن نیتن یاہو کی درخواست کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس احتجاج میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمان نما لازیمی بھی شامل ہوئے۔
بنیامن نیتن یاہو پر رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد کے خسارے کے تین الگ الگ الزامات ہیں جن پر پانچ برسوں سے مقدمہ چل رہا ہے۔ایک کیس میں نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی عنایات کے بدلے ارب پتیوں سے 260,000 ڈالرمالیت کے لگژری سامان جیسے سگار، زیورات اور شیمپین لیے۔ان پر یہ بھی الزام ہے کہ، ان پر دو دیگر معاملات میں دو اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹس سے زیادہ سازگار کوریج کے لیے ساز بازکے الزاما ت ہیں۔حالانکہ نیتن یاہو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں ۔صدر کے دفترکوارسال کردہ111صفحات پرمشتمل معافی کی درخواست میں وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھروسہ ظاہر کیا ہے کہ قانونی عمل کی تکمیل پر وہ تمام الزامات سے بری ہوں گے۔صدرہرزوگ کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست موصول ہوئی ہے۔صدر کے دفتر نے اسے ایک غیر معمولی درخواست بتایا ، جس کے اہم مضمرات ہیں۔ تمام متعلقہ آراء حاصل کرنے کے بعد، صدر اس درخواست پر ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ غور کریں گے۔قابل ذکربات یہ ہے کہ،وزیراعظم نیتن یاہو کی معافی کی درخواست سے قبل ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی صدر کوایک مکتوب روانہ کیا تھاجس میں انھوں نے بنیامن نیتن یاہو کو معافی دینے کا ذکر کیا تھا ۔خیال رہے کہ،اکتوبر2023 سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔










پارلیمان کا سرمائی اجلاس ، ہنگامے کے آثار
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آج(پیر)سے شروع ہورہا ہے۔ اس اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کے آثار ہیں۔ 19روزہ سرمائی اجلاس کے دوران15نشستیں ہوں گی۔اپوژیشن نے اپنا ایجنڈا صاف کردیا ہے۔وہ ایس آئی آر پرحکومت کو گھیرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ اپوزیشن نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسپیشل انٹینسیو ریویژن پر بحث نہیں ہوئی تو کارروائی آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔

اپوزیشن اس معاملے پر متحد ہے۔ تاہم ،حکومت نے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے اپوزیشن سے تعاون کی بات کہی ہے ۔ حکومت نے اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر غور کرے گی۔ تاہم اپوزیشن کے تیورسخت ہیں ۔حکومت نے راجیہ سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں وندے ماترم کے 150 سال پورے ہونے پربحث کی تجویز پیش کی۔ اپوزیشن نے اتفاق کیا لیکن اپنی شرائط بھی عائد کر دیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ، حکومت کو ایس آئی آر پر بھی بات کرنی چاہیے۔حزب اختلاف چاہتا ہے کہ ، اسے انتخابی اصلاحات پر ایک وسیع بحث کے حصے کے طور پر شامل کیا جائے، اور یہ بحث پیر کی سہ پہر کو ہونی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کرکے جواب دے گی۔

انتخابی اصلاحات پربحث
اپوزیشن نے لوک سبھا کی بی اے سی میٹنگ میں ایس آئی آر کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ اپوزیشن جماعتیں، انتخابی اصلاحات کے مسئلے پر بحث کے لیے ٹائم سلاٹ چاہتی ہیں۔اس بیچ، حکومت کا موقف ہے کہ منی پور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (دوسری ترمیم) بل 2025 پر پہلے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں بحث کی جائے گی۔ حکومت نے اسے آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ابھی تک ایجنڈے پر اتفاق نہیں ہے۔

کن مسائل پر بحث کا مطالبہ؟
اتوار کو کل جماعتی اجلاس میں 36 پارٹیوں کے تقریباً پچاس لیڈروں نے شرکت کی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کی صدارت کی۔ اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور وزیر قانون ارجن رام میگھوال بھی موجود تھے۔ اپوزیشن نے، SIR کے علاوہ،قومی سلامتی،آلودگی اورخارجہ پالیسی پر بھی بحث کا مطالبہ کیا۔

سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے سختی سے کہا کہ اگر ایس آئی آر پر بحث نہیں ہوئی تو وہ ایوان کو چلنے نہیں دیں گے۔ سی پی آئی (ایم) لیڈرجان برٹاس نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ان باتوں پر متفق ہیں کہ ایس آئی آر، قومی سلامتی، دیہی بحرانوں اور گورنروں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے۔ بیجو جنتا دل نے بھی انتخابی شفافیت پر بحث کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ،بیجو جنتا دل ، انڈیا بلاک کا حصہ نہیں ہے۔

ایس آئی آر پر بحث اورحکومت کا اشارہ
حکومت نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ایس آئی آرپر راست بحث ممکن نہیں۔ دلیل یہ تھی کہ یہ الیکشن کمیشن کا انتظامی امورسے جڑا ہےجو ایک خود مختار ادارہ ہے۔ حکومت اپنی طرف سے جواب نہیں دے سکتی۔ تاہم، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایک تقریب میں کہا کہ اگر اس موضوع کا دائرہ ’انتخابی اصلاحات‘ تک وسیع کیا جائے تو حکومت اس پر غور کر سکتی ہے۔ اپوزیشن نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔بہارانتخابات میں شکست کے بعد اپوزیشن اس اجلاس کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ SIR کا مسئلہ نہ صرف کانگریس بلکہ ڈی ایم جے، ٹی ایم سی اور سی پی آئی (ایم ) کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ آئندہ سال مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کو ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ پر بحث چاہتی ہے جس میں ووٹر لسٹ کی حفاظت بھی شامل ہے۔









کشمیری شاعر عبدالاحد آزاد کی ادبی خدمات پر یک روزہ سیمنار منعقد
سرینگر (پرویز الدین) : کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن نامی ادبی تنظیم نے بمنہ ڈگری کالج، سرینگر میں معروف کشمیری شاعر عبدالاحد آزاد کی زندگی، خدمات اور ادبی کارناموں پر ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں اسکالروں، طلبہ، شاعروں اور مختلف معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

تقریب میں پروفیسر بشر بشیر نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ پروفیسر رئیس احمد وائس پرنسپل، عبدالاحد آزاد میموریل ڈگری کالج، بمنہ نے مہمان اعزاز کے طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر بشر بشیر نے عبدالاحد آزاد کی ادبی میراث پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ’’عبدالاحد آزاد صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک دوراندیش مفکر بھی تھے جنہوں نے ادب کے ذریعے سماج کو جگانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں اصلاح کا لازوال پیغام موجود ہے، جسے نوجوانوں کے لیے سمجھنا اور پڑھنا بہت ضروری ہے۔‘‘

کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن کے پیٹرن ایڈوکیٹ عبدالرشید ہانجورہ نے طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا: ’’عبدالاحد آزاد صاحب جیسی شخصیات ہماری مشترکہ پہچان اور فخر ہیں۔ جب ہم ان کے خیالات سے دوبارہ جڑتے ہیں تو اپنی جڑوں سے وابستگی مزید مضبوط ہوتی ہے۔ فاؤنڈیشن نوجوانوں میں ادبی شعور پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے گی تاکہ ہماری تہذیبی وراثت مزید مستحکم ہو۔‘‘

آزاد چیئر،جن کے اشتراک سے یہ ادبی تقریب منعقد ہوئی، کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رؤف عادل نے سمپوزیم میں طلبہ کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا: ’’سب سے زیادہ متاثر کن بات طلبہ کی لگن اور ان کے مدلل خیالات ہیں۔ ان نوجوان مقررین کی گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ آزاد کے افکار آج بھی زندہ اور رہنما ہیں۔ ایسے پلیٹ فارم طلبہ کو اظہارِ خیال اور فکری نشوونما کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘

سمپوزیم کے دوران متعدد طلبہ نے کشمیری ادب اور سماجی اصلاح میں عبدالاحد آزاد کی خدمات پر مدلل تقاریر پیش کیں، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ سمپوزیم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عبدالاحد آزاد کا ادبی کام آج کے دور میں بھی نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے اور ان کی تحریریں کشمیری ادب کی مضبوط بنیادوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر بہترین مقررین کا انتخاب کیا گیا اور طلبہ میں ایوارڈز اور اسنادِ شمولیت تقسیم کی گئیں تاکہ ان کی محنت کا اعتراف کیا جا سکے۔واضح رہے کہ تقریب میں شریک دیگر معزز شخصیات میں کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن کے بانی ایڈوکیٹ عبدالرشید ہنجورہ، کالج کوآرڈینیٹر عبدالاحد آزاد چیئر کے ڈاکٹر رؤف عادل، پروفیسر نیلوفر ناز نحوی، ڈاکٹر تنویر حبیب، ڈاکٹر ریاض اطہر، شاعر عبدالرحمان بٹ، ڈاکٹر معروف شاہ کے علاوہ ڈگری کالج بمنہ کے اساتذہ اور طلبہ شامل تھے۔







*🔴سیف نیوز بلاگر*





99 پر تھے وراٹ... سنچری بناتے ہی کوہلی کی دیوانی ہوئی لڑکی، وائرل ہوا ویڈیو
Virat kohli women fan viral video : ہندوستان کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی خوشی سے جھوم اٹھے اور بھگوان کا شکریہ ادا کیا جب انہوں نے رانچی میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی 52 ویں ون ڈے اور انٹرنیشنل کرکٹ میں 83 ویں سنچری مکمل کی ۔ کوہلی نے اس ماہ کے آغاز میں اپنا 37واں یوم پیدائش منایا تھا۔ رانچی ون ڈے میں وہ جنوبی افریقی بولرز پر حاوی رہے اور انہیں مشکلات میں ڈال دیا۔ 2023 ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد کریز پر یہ ان کی بہترین کارکردگی تھی ۔ جب وراٹ 99 کے اسکور پر تھے تو اسٹیڈیم میں موجود شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے تھے۔ اسی دوران کیمرہ ایک خاتون فین کی طرف گیا جو اپنے ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر “کوہلی، کوہلی” کے نعرے لگا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ کوہلی کی دیوانی ہے۔

تیز گیندباز ناندری برگر نے سلامی بلے باز یشسوی جیسوال کو آؤٹ کیا تو کوہلی تیسرے اوور میں بیٹنگ کے لیے آئے۔ پہلی ہی گیند سے انہوں نے اپنے ارادے دکھا دئے۔ تھرڈ مین کے اوپر سے ایک لکی چوکا لگایا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس وقت کوہلی کی نظریں 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ پر ہیں۔ پاور پلے میں انہوں نے برگر اور اوٹنیئل بارٹمَن کے خلاف دو زبردست چھکے لگاکر رانچی کی بھیڑ کو جذباتی کر دیا۔ جن کو اکثر درمیانی اووروں میں سست ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اسی کوہلی نے رفتار برقرار رکھی اور وقفے وقفے سے باؤنڈریاں لگاتے رہے۔ انہوں نے روہت شرما کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 136 رنز کی شراکت داری بھی کی۔کوہلی نے فینس کو جھومنے کا دیا موقع
چوکے کے ساتھ اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد کوہلی خوشی سے اچھل پڑے اور رانچی کے لوگوں کو جشن منانے کا موقع دیا۔ سنچری کے بعد انہوں نے اپنی پرانی روایت نبھاتے ہوئے گلے میں پہن رکھی انگوٹھی کو چوما۔ اس سنچری نے رانچی سے کوہلی کے پیار کو اور بھی بڑھا دیا۔ یہ رانچی میں ان کی تیسری ون ڈے سنچری ہے۔ یہاں انہوں نے ایک نصف سنچری بھی بنائی ہے، جو ہندوستان کے عظیم کپتان ایم ایس دھونی کا ہوم ٹاؤن ہے۔وراٹ کوہلی نے اکتوبر میں ون ڈے میں کی تھی واپسی
کوہلی نے اس سال کے آغاز میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔ اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف تین ون ڈے میچوں کے دوران انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی۔ پہلے دونوں میچوں میں مسلسل صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے سڈنی میں آخری ون ڈے میں اپنی فارم واپس حاصل کی اور ناٹ آوٹ 74 رنز بنائے۔ کوہلی نے روہت کے ساتھ 168 رنز کی شراکت داری قائم کر ہندوستان کو یادگار جیت دلائی تھی۔









طوفان دتواہ نے سری لنکا میں 153 افراد کی لی جان، اب 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آرہا ہندوستان، 3 ریاستوں میں ریڈ الرٹ
Cyclonic Storm DITWAH : سری لنکا میں بھاری تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان دِتواہ اب ہندوستان کے جنوبی ساحلی ریاستوں تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے دروازے پر آن پہنچا ہے۔ سری لنکا میں اب تک 153 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 100 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ پڑوسی ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔ دن بھر طوفان کی رفتار اور اس کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے محکمہ موسمیات (IMD) نے تینوں ریاستوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ کیرالہ میں بھی بھاری بارش کی پیش گوئی ہے۔

IMD کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرُتیُنجے مہاپاترا نے تصدیق کی کہ سمندری طوفان اس وقت خلیج بنگال میں سری لنکا کے قریب ہے اور تیزی سے شمال-شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ہفتہ دوپہر اسے جافنا سے تقریباً 80 کلو میٹر، ویدرنیم سے 140 کلو میٹر اور چنئی سے 380 کلو میٹر دور ریکارڈ کیا گیا۔تیز ہوائیں اور 8 میٹر تک اونچی لہریں
ڈاکٹر مہاپاترا کے مطابق طوفان کے اثر سے تمل ناڈو اور پڈوچیری کے قریب سمندری ہواؤں کی رفتار 70 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے اور جھونکوں میں یہ رفتار 90 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ ساحلی علاقوں، خاص طور پر رامیشورم میں، سمندر میں 8 میٹر تک اونچی لہریں اٹھتی دیکھی گئی ہیں۔
IMD نے خبردار کیا کہ طوفان اتوار صبح تک تمل ناڈو اور پڈوچیری کے ساحل سے صرف 50 سے 60 کلو میٹر کی دوری سے گزرے گا اور اس کا اثر شام تک محسوس ہوگا۔ کھڑی فصلوں کو نقصان ہونے کا امکان ہے، اگرچہ بڑے ساختی نقصان کی امید کم ہے۔ ساحلی اور نچلے علاقوں کے رہائشیوں کو گھر میں رہنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

چنئی ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر
سمندری طوفان ’دِتواہ‘ کا براہ راست اثر فضائی آمدورفت پر بھی پڑا ہے۔ چنئی ایئرپورٹ پر خراب موسم کے سبب طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف خطرناک ہو گئے ہیں۔ ہفتہ کو 54 سے زائد ATR پروازیں (آنے اور جانے والی) منسوخ کر دی گئیں۔ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (AAI) کے مطابق اتوار کو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے لیے 36 گھریلو اور 11 بین الاقوامی پروازیں پہلے ہی منسوخ کرنے کی تیاری ہے۔ مسافروں کو مسلسل ایئر لائن سے رابطہ میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔










من کی بات میں پی ایم مودی نے سائنس، زراعت اور مہابھارت 3D تجربہ شیئر کیا
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام “من کی بات” کی 128ویں قسط میں اتوار کو قوم سے خطاب کیا۔ یہ پروگرام ایئر نیوز کی ویب سائٹ اور NewsOnAir موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہے۔ یہ ایئر نیوز، ڈی ڈی نیوز، وزیراعظم کے دفتر، اور وزارت اطلاعات و نشریات کے یوٹیوب چینلز پر بھی لائیو نشر کیا جائے گا۔ آل انڈیا ریڈیو ہندی کے فوراً بعد علاقائی زبانوں میں نشریات پیش کرے گا۔ اس ایپی سوڈ میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی موجودہ ترقی اور اس کی شاندار تاریخ کے ساتھ ساتھ سائنس اور زراعت میں اس کی ترقی کے بارے میں بات کی۔ بھوٹانی لوگ بھگوان بدھ کے مقدس آثار بھیجنے پر ہندوستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

پی ایم مودی نے ’’من کی بات‘‘ میں اپنے بھوٹان دورے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یاد کیا کہ بھوٹان میں لوگ بدھ مت کے آثار بھیجنے پر ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ یہ سن کر میرا دل فخر سے پھول گیا۔ ابھی پچھلے مہینے ہی، ان مقدس آثار کو نیشنل میوزیم سے کلمیکیا، روس لے جایا گیا، جہاں بدھ مت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ان کو دیکھنے کے لیے دور دراز روس سے بھی آئی تھی۔14,500 فٹ کی بلندی پر میراتھن کا انعقاد، لوگ جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں:

سردیوں کے موسم میں اولی، منسیاری، چوپٹا اور دیارہ جیسی جگہیں بہت مشہور ہو رہی ہیں۔ ریاست کی پہلی ہائی ایلٹی ٹیوڈ الٹرا رن میراتھن پتھورا گڑھ ضلع میں 14,500 فٹ سے زیادہ کی بلندی پر آدی کیلاش میں منعقد ہوئی۔ ملک بھر کی 18 ریاستوں کے 750 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

 پی ایم مودی کی اپیل
پی ایم مودی نے کاشی کے نمو گھاٹ پر 2 دسمبر کو شروع ہونے والے چوتھے کاشی تامل سمیلن کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ کاشی تمل سمیلن میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا، “اس سال کاشی-تمل سنگم کا تھیم بہت دلچسپ ہے۔ تمل سیکھیں - تمل کاراکلم۔ کاشی-تمل سنگم تمل زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔”
گجرات کے بادشاہ نے دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کی جان کیسے بچائی؟
پی ایم مودی نے من کی بات میں کہا، “دوسری جنگ عظیم کا تصور کریں، جب چاروں طرف تباہی کا خوفناک ماحول تھا۔ ایسے مشکل وقت میں جام صاحب، گجرات کے نواں نگر کے مہاراجہ ڈگ وجئے سنگھ جی کا عظیم کام آج بھی ہمیں متاثر کرتا ہے۔ جام صاحب کسی سٹریٹجک اتحاد یا جنگی حکمت عملی کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے۔ وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں فکر مند تھے۔گجرات میں ہزاروں بچوں کو پناہ دی اور انہیں نئی ​​زندگی دی، ایک روایت جو آج بھی ایک مثال ہے۔ کروکشیتر کے میدان جنگ سے 3D میں مہابھارت کہانی کا لطف اٹھائیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مہابھارت کی لڑائی ہریانہ کے کروکشیتر میں ہوئی تھی۔ لیکن اب آپ وہاں کے مہابھارت ایکسپریئنس سینٹر میں اس جنگ کا تجربہ خود کر سکتے ہیں۔ یہ تجربہ مرکز 3D، لائٹ اینڈ ساؤنڈ، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مہابھارت کی کہانی کو ظاہر کرتا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





لاکھوں لوگوں کو متاثر کرنے والی ’خاموش بیماری‘ فیٹی لیور کی علامات کیا ہیں؟
جگر ہمارے جسم کے سب سے اہم اعضا میں سے ایک ہے، جو ڈیٹاکسیفیکیشن، میٹابولزم اور توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، غیر صحت مند طرزِ زندگی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ جگر کی صحت ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن گئی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فیٹی لیور کی بیماری ایک عام حالت بن چکی ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس بیماری سے لاعلم رہتے ہیں اور جب انہیں اس کے بارے میں پتا چلتا ہے تو دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
غذائی ماہر راشی چوہدری نے فیٹی لیور کی ابتدائی علامات شیئر کی ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا ’40 فیصد انڈین اس خاموش بیماری میں مبتلا ہیں اور زیادہ تر کو اس کا علم بھی نہیں۔ یہ ہے فیٹی لیور۔‘راشی نے مزید بتایا کہ فیٹی لیور ایک ایسی حالت ہے جس میں جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جاتی ہے۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز: جو زیادہ شراب نوشی سے ہوتی ہے۔
نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز: جو موٹاپے، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دیگر میٹابولک مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔
فیٹی لیور کی علامات
آپ کی خواہشات بدل جاتی ہیں
جب جسم جگر میں بہت زیادہ چربی ذخیرہ کرتا ہے تو یہ انسولین کی سطح کو متاثر کرتا ہے، جس سے جسم میں انسولین بڑھ جاتی ہے۔ یہ تبدیلیاں میٹھا کھانے اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی شدید خواہش پیدا کرتی ہیں۔ تھکا ہوا جگر گلوکوز کو کنٹرول کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے، اسی لیے شوگر کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔جلد پر علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں
جلد کے مسائل فیٹی لیور کی علامت ہو سکتے ہیں، جیسے پیلاہٹ، گردن یا بغلوں پر سیاہ دھبے، جلد پر زیادہ چوٹ لگنا یا مکڑی جیسی رگیں۔ دیگر علامات میں مسلسل خارش، سوجن اور جلد کا بے رونق یا چکنا دکھنا شامل ہیں۔
آپ کی نیند کم ہو جاتی ہے
جگر جسم سے نیند کے ہارمون میلاٹونن کو ختم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ جب جگر صحیح کام نہیں کرتا تو یہ عمل متاثر ہوتا ہے، جس سے میلاٹونن کی سطح اور باڈی کلاک میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ جگر کی حالت بگڑنے کے ساتھ بڑھتا ہے۔
ماہواری کے دن ’مختلف‘ لگتے ہیں
فیٹی لیور ماہواری میں بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے، جیسے بے قاعدہ، زیادہ یا زیادہ تکلیف دہ پیریڈز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جگر ہارمونز کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے اور جب جگر متاثر ہو تو ہارمونل توازن بگڑ جاتا ہے جس سے ماہواری متاثر ہوتی ہے۔ دیگر علامات میں تھکن، پیٹ پھولنا اور دائیں اوپری حصے میں درد شامل ہیں۔













آدم خور بھیڑیوں کے حملوں میں 9 ہلاک، انڈیا نے ٹریک کرنے کے لیے ڈرون تعینات کر دیے
انڈیا میں حالیہ ہفتوں میں آدم خور بھیڑیوں کے ہاتھوں بچوں سمیت نو افراد کے ہلاک ہونے کے بعد آدم خور بھیڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون تعینات کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی سے ایف پی کے مطابق تازہ ترین شکار ایک 10 ماہ کی بچی تھی جسے شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں سنیچر کو اس وقت بھیڑیا اٹھا لے گیا جب وہ اپنی ماں کے ساتھ سو رہی تھی۔ بچی بعد میں کھیت میں مردہ حالت میں ملی۔
ایک دن پہلے ایک پانچ سالہ لڑکے کو اس کی ماں کے سامنے گھر کے باہر سے بھیڑیا اٹھا کر لے گیا۔ بچہ گنے کے کھیت میں زخمی حالت میں ملا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔حکام نے کہا کہ حملہ اسی پیٹرن کے مطابق ہوا جو ستمبر سے ملحقہ دیہاتوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں دیکھا گیا ہے۔
پولیس، محکمہ جنگلات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین اموات نے بہرائچ میں مشتبہ بھیڑیوں کے حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد تین ماہ میں کم از کم نو تک پہنچا دی ہے۔ بھیڑیوں کے شکار میں ایک بوڑھا جوڑا بھی شامل تھا۔
محکمہ جنگلات کے افسر رام سنگھ یادو نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے علاقے میں ڈرون، کیمرہ ٹریپس اور شوٹرز تعینات کیے ہیں۔ بھیڑیوں کا رویہ بدلتا ہوا لگ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ دن کے وقت سرگرم نظر آتے ہیں، جو عجیب ہے۔‘
دیگر حکام نے کہا کہ جانور غیر معمولی حد تک بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔
بہرائچ میں گذشتہ سال بھی اسی طرح کے حملے ہوئے تھے، جب بھیڑیوں کے ایک جھنڈ نے کم از کم نو افراد کو ہلاک اور کئی دیگر کو زخمی کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھیڑیے انسانوں یا مویشیوں پر صرف اس وقت حملہ کرتے ہیں جب وہ بھوکے ہوں، ورنہ وہ چھوٹے ہرن جیسے کم خطرناک شکار کو ترجیح دیتے ہیں۔
بہرائچ کے دیہاتی کہتے ہیں کہ وہ اب اپنے گھروں کے قریب چھپے بھیڑیوں سے جان کے خوف میں جی رہے ہیں۔ ہمارے بچے گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں، ہم صرف چاہتے ہیں کہ یہ حملے رک جائیں۔‘












مقامی طور پر تیار ہونے والے دو سعودی سیٹلائٹس کی کامیاب لانچنگ
سعودی خلائی ایجنسی نے کہا ہے کہ سعودی سیٹلائٹس ’روضہ سكوپ‘ اور ’افق‘ کی کامیاب لانچنگ ہو گئی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق دونوں سیٹلائٹس ام القرى یونیورسٹی اور پرنس سلطان یونیورسٹی کے طلبہ نے ’ساری‘ مقابلے کے تحت تیار کیے جو چھوٹے مصنوعی سیاروں کے ڈیزائن اور تیاری کا علمی و سائنسی پروگرام ہے۔
دونوں سیٹلائٹس بین الاقوامی مشن کے ساتھ خلا کی جانب روانہ ہوئے جو قومی سنگِ میل ہے اور سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور خلائی علوم و اختراع کے میدان میں قیادت حاصل کرنا ہے۔یہ لانچنگ طویل اور جامع مقابلے کا نتیجہ ہے جس میں 42 سعودی جامعات کے 480 سے زائد طلبہ پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا۔
یہ ٹیمیں سخت سائنسی اور انجینیئرنگ معیارات کے مطابق چھوٹے مصنوعی سیاروں کے ڈیزائن میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے کوشاں رہیں۔
مقابلے کا مقصد طلبہ کو سیٹلائٹ کے ڈیزائن، تیاری اور آپریشن کے عملی تجربے فراہم کرنا اور انہیں علوم، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں مہارت دلانا تھا تاکہ مستقبل میں خلائی شعبے کی قومی قیادت سنبھالنے کے لیے ماہر نسل تیار کی جا سکے۔
پرنس سلطان یونیورسٹی کی ٹیم ’روضہ سكوپ‘ نے ایسا سیٹلائٹ تیار کیا جو کم توانائی استعمال کرنے والی انٹرنیٹ آف تھنگز ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کا مقصد ماحولیاتی پہل کاریوں کی معاونت اور دور دراز علاقوں میں پائیدار کمیونی کیشن کو بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب جامعہ ام القرى کی ٹیم نے ’افق‘ سیٹلائٹ تیار کیا جو خلائی موسم کی نگرانی اور شمسی تابکاری کے اثرات کو درست وقت اور نیویگیشن کے نظام پر جانچنے کے لیے وقف ہے۔
دونوں منصوبے مملکت کی ترقی اور سائنسی اختراع کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Saturday, 29 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ادارہ نثری ادب کی ٢٣٠ ویں ماہانہ ادبی نشست ٣٠ نومبر بروز اتوار کو شب دس بجے
مسنگ فرینڈس گروپ کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کا استقبال کیا جائے گا 

ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(230) بتاریخ 30 نومبر 2025ء بروز اتوار کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی- صدارت کے فرائض ڈاکٹر احمد ایوبی سر (سابق پرنسپل جمہور ہائی اسکول)انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ڈاکٹر مبین نذیر (سٹی کالج) ہارون اختر(افسانہ نگار) عظمت اقبال(افسانہ نگار) و جاوید آفاق(انشائیہ نگار) اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- ادارہ نثری ادب کی اردو زبان و ادب کی ترقی ترویج و اشاعت میں گرانقدر خدمات کے ٢٢ سال مکمل ہونے پر مسنگ فرینڈس گروپ کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کا استقبال کیا جائے گا- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-










*29/نومبر، عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین اور مقدس سرزمین سے یہود و عرب اقوام کا تعلق*
تحریر و ترتیب: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313 

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن ہر سال 29/نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے ذریعہ فلسطینی عوام کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ یہ دن 2/دسمبر 1977ء اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے بعد سے منایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ و فلسطین سمیت مشرقی وسطی کے علاقے آج دنیا میں مظلومیت کا استعارہ کیوں بنے ہوئے ہیں؟

دراصل فلسطین کی تاریخ اتنی ہی پُرانی ہے جتنی خود انسانی تہذیب کی تاریخ۔ یہ خطہ کبھی تین براعظموں کی شاہراہِ تجارت رہا ہے، کبھی انبیاء کرام کی سرزمین اور کبھی فاتحین کی منزل۔ یہاں کے پہاڑوں، دریاؤں اور شہروں سے مذہبی تقدس بھی وابستہ ہے اور عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات بھی۔ قدیم ادوار میں یہاں کنعانی، عموری، یبوسی اور بعد میں اسرائیلی قبائل آباد ہوئے۔ لیکن یہ تصور کہ یہ خطہ کبھی مخصوص قوم کی مستقل میراث رہا ہو، تاریخی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔ مصر کے فراعنہ ہوں یا آشوری، بابل کے بادشاہ ہوں یا رومی، ہر دور میں فلسطین مختلف تہذیبوں کے زیرِ اثر رہا۔
یہی وہ خطہ ہے جہاں ساتویں صدی عیسوی میں خلیفہء دوم، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں یہاں پُرامن اسلامی عہد کی بنیاد پڑی۔ اسلامی حکمرانی قائم ہونے کے بعد فلسطین معاشی، تعلیمی اور مذہبی طور پر ترقی کرتا رہا۔ بیت المقدس کا نظم و نسق، یہاں موجود اقلیتوں کے حقوق اور شہری امن وغیرہ مسلمانوں کے سنہرے ادوار کی پہچان بنے۔ مگر یہی خطہ آنے والی صدیوں میں صلیبی یلغار، عثمانی عہد، یورپی نوآبادیاتی سازشوں اور بالآخر جدید اسرائیلی تصادم کا محور بھی بنا ہوا ہے۔ غزہ و فلسطین کی اس دردناک سیاسی تاریخ کے پیچھے کے راز کیا ہیں؟ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ایک حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسحٰق علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے عرب اقوام نے جنم لیا جبکہ دوسرے بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے، جن کی نسل سے یہودی قوم پیدا ہوئی۔
حضرت یعقوب علیہ السلام، اللہ تعالی کے بڑے ہی برگزیدہ نبی ہوئے، جن کا تذکرہ قرآنِ مجید میں متعدد بار آیا ہے، انہیں اللہ تعالی نے ”اسرائیل“ کا لقب عطا کیا جو عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اسکا مطلب "اللہ تعالی کا بندہ" ہے۔ عربی زبان میں بیٹے کو "بن" کہتے ہیں اور "بنی" اسکی جمع ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعنی حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بیٹے ہیں، ان کے بارہ بیٹے تھے جن سے ان کی نسل چلی۔ ان بیٹوں کو اور ان کی نسل کو قرآن نے "بنی اسرائیل" یعنی اولاد یعقوب علیہ السلام سے یاد کیا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا چوتھا بیٹا "یہودہ" نامی شخص تھا جس کے ہاں اولاد نرینہ بہت تھی۔ بنی اسرائیل کا ہر دوسرا تیسرا نوجوان "یہودہ" کا بیٹا یا پوتا ہوتا تھا اسی وجہ سے اس قبیلے کو "یہودی" کہا جانے لگا جو آج تک مروّج ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہء اقتدار میں یہ قبیلہ اپنے آبائی علاقے سے مصر منتقل ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد چار سو تیس سالوں تک ان پر تاریخ کی بدترین غلامی مسلط رہی اور مصر کے مقامی لوگوں نے انہیں اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا۔ مصر کا ہر حکمران فرعون کہلاتا تھا، فرعونوں اور فرعونیوں نے اس قبیلے یعنی بنی اسرائیل پر بے پناہ تشدد کیا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں ان لوگوں نے مصر سے ہجرت کی اور صحرائے سینا پہنچے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالی کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اپنے درمیان موجود نافرمانوں سے قتّال کرنے کا حکم دیا۔ مگر انہوں نے انکار کردیا کہ اپنے ہی رشتہ داروں کو کیسے قتل کریں۔ قتّال سے انکار پر عذاب کی صورت میں چالیس سال تک صحرا نوردی ان کا مقدر بنی رہی یہاں تک کہ وہ ساری نسل ختم ہو گئی جس نے قتّال سے انکار کیا تھا۔ نئی نسل نے طالوت کی قیادت میں قتّال کیا اور انہیں تمدنی زندگی نصیب ہوئی۔
طالوت کی فوج میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔ طالوت کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ جو اُس کے دشمن "جالوت" کو قتل کرے گا وہ اپنی بیٹی اس سے بیاہ دے گا۔ چنانچہ یہ سعادت حضرت داؤد علیہ السلام کے حصے میں آئی۔ طالوت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام حکمراں بنے اور اپنے زمانے کے بڑے ہی شاندار حکمراں رہے، لوہے کی ٹیکنالوجی کا آغاز آپ کے زمانے میں ہی ہوا۔ آپ کے اقتدار، فوجی طاقت، خزانہ اور رعب و دبدبہ کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ کم و بیش تین برِّ اعظموں پر آپ کی حکومت تھی… آپ پر آسمانی کتاب "زبور" نازل ہوئی۔ آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام بھی بنی اسرائیل میں سے تھے جنہیں اللہ تعالی نے دیگر مخلوقات پر بھی اقتدار عطا کیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیٹا "رجعام" جب تخت نشین ہوا تو سلطنت اس کے قابو میں نہ آسکی اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس زمانے میں ایک حصے کا نام اسرائیل اور دوسرے کا نام یہودیہ تھا، ان کے درمیان اگرچہ لڑائیاں بھی رہیں لیکن صلح صفائی بھی ہوتی رہی۔
یہودی سن عیسوی 1948ء کے بعد عالمی سازش کے نتیجے میں فلسطینی عرب سرزمین پر بسائے گئے اور حیلے بہانے یہاں کی زمینوں پر قبضہ کرتے رہے ہیں۔ وہ دعوی کرتے ہیں کہ مشرق وسطی پر ان کا حق ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے مشرق وسطی کا علاقہ دیا تھا اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کی اولاد سے ہیں جبکہ عرب قوم دوسرے بیٹے کی اولاد سے ہیں۔ لھذا آدھے مشرق وسطی پر عربوں کا حق ہے اور بقیہ آدھے پر یہودیوں کا۔ جبکہ اُن کا یہ موقف غلط ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے خلافتِ ارضی کسی نسلی تفوّق کی بنیاد پر نہیں فرمائی تھی بلکہ خلافتِ ارضی خالصتاََ تقوی کی بنیاد پر تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آلِ اسحٰق یعنی یہود سے زیادہ عزت والے آلِ اسمٰعیل تھے کیونکہ وہ زیادہ تقوی اختیار کرنے والے تھے۔ اسی لیے ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ختمِ نبوّت، آلِ اسمعیل میں واقع ہوئی اور قرآن مجید جیسی جامع کتاب فلسطین و یروشلم کی بجائے مکہء مکرمہ اور مدینہء منورہ میں نازل ہوئی۔ اور یہ ابدی حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کو نسلوں اور علاقوں سے زیادہ تقویٰ و پرہیزگاری پسند ہے اور متقی و پرہیزگار ہی اللہ تعالی کے برگزیدہ ہیں چاہے وہ کسی نسل، رنگ اور علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔
یہود آج بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبیِ آخر الزّماں، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں، قرآن نے ان کی اس بات پر یوں تبصرہ کیا ہے کہ "اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم)، یہ (اہل کتاب) آپ کو یوں پہچانتے ہیں جیسے اپنے سگے بیٹوں کو۔" لیکن محض نسلی تفرق (یا تعصب) کی بنیاد پر جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ولادتِ مبارکہ کے ایک ہزار سال پہلے سے یہودیوں کے تین قبائل محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تلاش میں ہی یثرب (آج کے مدینہء منورہ) کے مقام پر آکر آباد ہوئے تھے۔ کیونکہ گزشتہ کتب میں یہی لکھا تھا کہ یثرب کے مقام پر آخری نبی، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ریاست بنائیں گے۔ لیکن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے تو یہود محض اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسمٰعیل میں کیوں کردی؟ حالانکہ یہ خالصتاََ خدائی فیصلہ تھا اور یہود اس خدائی فیصلے کے خلاف ہوکر زمین کی بدترین قوم میں شمار ہوئے۔ (بقیہ اگلی قسط میں) 











مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے طلبہ کو نیشنل کانفرنس میں بیسٹ ریسرچ پیپر ایوارڈتفویض
میکانیکل انجینئرنگ کے طلبہ کے بائیو ڈیزل پروڈکشن پر پیش کردہ تحقیقی مقالہ کو قومی سطح پر پذیرائی

مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر مالیگاؤں کے اولین انجینئرنگ ادارہ مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کالج نے نہ صرف تعلیمی شعبوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے بلکہ تحقیقی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں طلبہ کیلئے بہترین نظام تعلیم کے ساتھ مختلف انجینئرنگ و سائنس کے شعبوں میں تحقیقی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جن کے نتیجے میں اساتذہ کے ساتھ طلبہ کے تحقیقی مقالے بھی بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو رہے ہیں اور طلبہ مختلف ریسرچ کانفرنسوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں شہر وارانسی( اترپردیس) کے معروف تعلیمی ادارہ اسکول آف منیجمنٹ سائنس کے زیر اہتمام 22 نومبر 2025 کو نیشنل کانفرنس بعنوان “TECHCON 2025 – NextGen AI” منعقد ہوئی، جس میں مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے میکانیکل انجینئرنگ کے طلبہ نے “بائیو ڈیزل پروڈکشن” کے عنوان پرتحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اعلیٰ تحقیقی معیار اور بہترین پریزنٹیشن کے باعث اس تحقیقی مقالہ کو “بیسٹ ریسرچ پیپر ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ ایوارڈ یافتہ میکانیکل انجینئرنگ سال آخر کے طلبہ میں شعیب علی، محمد فواز، ابصار علی، محمد مجاہد اور محمد اسعد شامل تھے، جنہوں نے ڈاکٹر دلاور حسین (ہیڈ، میکانیکل انجینئرنگ) اور ڈاکٹر ساجد نعیم کی رہنمائی میں یہ تحقیقی کام مکمل کیا۔ واضح رہے مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے 25 طلبہ و اسٹاف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور کل 13 مقالے کالج ہذا کی جانب سے پیش کئے گئے۔ جبکہ اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں سے 60 سے زائد مقالے پیش کئے گئے تھے۔ 

اس کامیابی پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ) کے چیئرمن جناب ارشد مختار صاحب نے طلبہ اور ان کے اساتذہ کو دلی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسی طرح سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب نے ایوارڈ یافتہ طلبہ کا پُرجوش استقبال کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مزید برآں، ڈاکٹر شاہ عقیل احمد (پرنسپل، ڈگری کالج)، ڈاکٹر یعقوب انصاری (پرنسپل، ڈپلومہ کالج)، ڈاکٹر سلمان بیگ (ڈین اکیڈمکس) اور دیگر فیکلٹی ممبران نے بھی طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔ اس کانفرنس کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر آنند دوبے اور آرگنائزنگ ٹیم کی جانب سے کالج ہذا کے طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔













*مچھلی بازار کی بیتُ الخلاء کچرے اور گندگیوں کا انبار ذمے دار کون؟(قسط 2)*
محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) مچھلی بازار یہ علاقہ مالیگاؤں شہر کے قَلب کی حیثیت رکھتا ہے کثیر آبادی، تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کے اس علاقے میں واقع مچھلی بازار مرد اور خواتین کی بیتُ الخلاء جسے پرانے وارڈ نمبر 12 اور وارڈ نمبر 13 دونوں وارڈ کے لوگ استعمال کرتے ہیں بیت-الخلاء کی حالت انتہائی خَستہ ہوچکی ہے کَچروں کا انبار کسی ڈَمپنگ گراؤنڈ سے کم نہیں! بے انتہا بَدبو، گندگی، مچھروں اور دیگر مُضِر کیڑوں، مَکوڑوں کی بُہتات سے اطراف کے لوگ بے انتہا پریشان ہیں دیگر بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے کارپوریشن اور انتظامیہ ایسا لگتا ہے کہ جان بُوجھ کر اِس علاقے کے لوگوں کے ساتھ تعصّب اور سوتیلا سلوک کرتے ہیں خواتین کی بیت-الخلا کے باہر سینکڑوں کلو کچرا روزانہ جمع رہتا ہے خونخوار آوارہ کتّوں کا جُھنڈ رات و دِن گھومتا رہتا ہے معصوم بچّوں، خواتین، بزرگوں، نوجوانوں کو اپنا شکار بناتا ہے راہگیروں اور علاقہ مکینوں کو بے انتہا تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وارڈ کے بیسٹ کارپوریٹر اور اپنے آپ کو قوم کا خادم کہلوانے والے وارڈ کو الیکشن کے وقت گِروی رکھنے اور بیچنے والے نابینا حضرات پانچ سال بعد عین الیکشن کے وقت بینا ہوجاتے ہیں وارڈ اور قوم کے دَرد میں ایسا مَست ہوجاتے ہیں کہ اگر اِن سے کِڈنی بھی مانگ لی جائے تو پیچھے نہیں ہَٹے گے صرف ووٹنگ ہونے تک بعد کا کوئی بھروسہ نہیں۔
وارڈ میں چوک چوراہوں، ہوٹلوں، گلیوں وغیرہ پر اِس دھوکے باز جُھنڈ نے اپنا ڈیرا جمانا شروع کردیا ہے کارپوریشن الیکشن قریب ہے فیصلہ وارڈ کے لوگوں کو کرنا ہے اگلے پانچ سال کیسے گزارنا ہے........... جاری

*🔴سیف نیوز بلاگر*





عمران خان سے آخر کیا چاہتے ہیں شہباز - منیر؟ پردے کے پیچھے منوا رہے یہ گھٹیا شرط، PTI سینیٹر نے لیک کردیا سکریٹ
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے قتل کی افواہ نے گھر والوں کی سانسیں روک دی تھیں ۔ جیل انتطامیہ نے حالانکہ انہیں زندہ بتایا ہو، لیکن فیملی کو عمران کی شکل دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان کی عزت دنیا بھر میں اچھالی جا رہی ہے لیکن شہباز شریف اور عاصم منیر پھر بھی خاموش بیٹھے ہیں۔ ان سب کے درمیان حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے سینیٹر خُرم ذیشان نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح شہباز–منیر، عمران کو ایک شرط منوانے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ یہ سارا کھیل پردے کے پیچھے سے چل رہا ہے۔

قتل پر PTI سینیٹر نے کیا کہا؟خیبر پختونخوا سے سینیٹر خرم ذیشان نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جیل میں زندہ ہیں۔ انہیں تشدد کرنے کے لیے تنہائی میں رکھا گیا ہے لیکن ان کا قتل نہیں ہوا ہے۔

شہباز–منیر کا اصل کھیل
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک چونکا دینے والا دعوی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر، عمران پر تشدد کرکے اور فیملی کو دور رکھ کر دراصل اپنی شرطیں منوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک سمجھوتہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ شہباز–منیر کو ڈر ہے کہ عمران خان دونوں کی ہی حالت خراب کر سکتے ہیں، اسی لیے انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ خاموشی سے پاکستان چھوڑ دیں اور بیرون ملک جا کر رہنے لگیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت پردے کے پیچھے سے انہیں یہ شرط منوانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے لیکن عمران خان اس بات کے لیے کبھی راضی نہیں ہوں گے۔بہن بولیں: ’بیماری موت کی وجہ نہیں ہو سکتی‘
بتا دیں کہ گزشتہ چند دنوں سے پاکستان کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے قتل کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ان کی بہن علیمہ خان نے نیوز 18 سے خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ وہ چار ہفتے پہلے اپنے بھائی سے ملی تھیں اور ان کی طبیعت بالکل ٹھیک تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “ایسے میں موت کی وجہ بڑھاپا یا بیماری نہیں بتائی جا سکتی۔” انہوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور اگر خان کو کچھ ہوا تو لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔










گڈ کولیسٹرول بھی دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، طبی تحقیق
لندن ..... انسانی جسم میں2طرح کے کولیسٹرول پائے جاتے ہیں جن میں ”گڈ یا اچھا کولیسٹرول“ ( ایچ ڈی ایل) اور ”بیڈ یا برا کولیسٹرول“ (ایل ڈی ایل) شامل ہیں۔ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو جسم کے خلیوں اور خلیوں کے نظام کا ایک اہم جز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جاپان میں کی جانی والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ”گڈ کولیسٹرول“ بھی دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب انسانی جسم میں ایچ ڈی ایل کی شرح بہت زیادہ بڑھ جائے۔ 40 سے 89 سال کی عمر کے 43 ہزار افراد پر 12 سال تک تحقیق کی گئی جس کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کا لیول ڈی ایل /90 ایم جی سے زیادہ ہو ان میں دل کی بیماری سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان افراد کی نسبت 2.4 گنا زیادہ ہے جن کا ایچ ڈی ایل لیول 40 سے ڈی ایل /59 ایم جی ہو۔










کیا آخری بار ٹیم انڈیا کی جرسی میں نظر آئیں گے کوہلی اور روہت شرما، ون ڈے سیریز کے بعد ہوگا مستقبل کا فیصلہ
نئی دہلی: ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان رانچی میں ون ڈے سیریز شروع ہونے والی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 30 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ اس سیریز میں ہندوستانی ٹیم کے لیجنڈ وراٹ کوہلی اور روہت شرما بھی کھیل رہے ہیں۔ یہ دونوں کھلاڑی اب ٹیم انڈیا کے لیے اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ہی دکھائی دیں گے، جو جنوری میں ہوگی۔ اس کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کھیلا جائے گا۔ ایسے میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے لیے ایک طویل بریک ہو جائے گا۔

بیک ٹو بیک کرکٹ کے درمیان ٹیم انڈیا کو 2027 ورلڈ کپ کے لیے بھی ٹیم کو تیار کرنا ہے۔ ایسے میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما ورلڈ کپ 2027 کے لیے دستیاب رہیں گے یا نہیں، اس کو لے کر ٹیم مینجمنٹ کی ایک میٹنگ ہونے والی ہے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد کوچ گوتم گمبھیر اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اگلے ہفتے وشاکھاپٹنم میں تیسرے ون ڈے کے بعد احمد آباد میں ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔
وراٹ – روہت کے لیے اس میٹنگ کی کیا اہمیت ہے؟
وراٹ اور روہت کو لے کر ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ون ڈے ورلڈ کپ میں کھیلیں گے یا نہیں۔ اس کو لے کر ٹیم مینجمنٹ میں کوئی بحث بھی نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں کوچ گمبھیر ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے بیک اپ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ بیک اپ کی ضرورت اس لیے ہے کہ اگر دونوں میں سے کوئی بھی ورلڈ کپ نہیں کھیلتا ہے تو پھر ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو تیار کیا جائے۔بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق کہا گیا ہے کہ “یہ بہت ضروری ہے کہ روہت اور کوہلی جیسے قد کے کھلاڑیوں کو اس بارے میں صاف صاف بتایا جائے کہ ان سے کیا امید کی جاتی ہے اور مینجمنٹ ان کے رول کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ صرف غیر یقینی صورتحال کے ساتھ نہیں کھیل سکتے۔” اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وراٹ اور روہت کا ٹیم انڈیا کے لیے کیا مستقبل ہے، اس کے بارے میں جلد ہی سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





بزم صحافت کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں شاندار آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن کا کامیاب انعقاد، شعروسخن کی محفل نے لوگوں کو تالیاں بجانے پر کردیا مجبور
نئی دہلی: بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام بزم صحافت کے تحت اردو کانکلیو میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ میں 26 نومبر کو ’بزم صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو کا شاندار اور تاریخی انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کانکلیو کا افتتاح کیا۔ آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز کے وزیر کپل مشرا مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروگرام میں شامل ہوئے۔ اس سیشن کی صدارت بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے کی۔ سیاسی، ثقافتی و ادبی اعتبار سے یہ پروگرام نہایت اہم ثابت ہوا، جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان کے چاہنے والے، ادیب، اسکالرز، صحافی اور طلبہ شریک ہوئے۔اس پروگرام کا آخری سیشن آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن تھا جو روایات سے بالکل الگ اور اپنے انداز کا ایک کامیاب اور منفرد مشاعرہ رہا۔ مشاعرے نے تاریخ رقم کرتے ہوئے شام کے منظر کو مزید حسین اور یادگار بنادیا۔ مشاعرے وکوی سمیلن کی صدارت شکیل اعظمی نے کی، مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر رحمان مصور شریک ہوئے جبکہ معین شاداب نے ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔ ملک کے الگ الگ حصوں سے شریک شعرا میں اقبال اشہر، انل اگرونشی، اظہر اقبال، ڈاکٹر افروز طالب، سریتا جین، ممتاز نسیم، ہمانشی بابرا اور اکمل بلرامپوری نے اپنے اشعار کے ذریعہ لوگوں کو شعروادب کا پرستار بنادیا۔ شعرا کے ذریعہ پیش کیے اشعار:

دل بسے تھے مگر اجڑ رہے تھے

ہم محبت کی جنگ لڑرہے تھے

ایک ہی دن میں سب نہیں ہوا ختم

ہم کئی روز سے بچھڑ رہے تھے

شکیل اعظمی

ہندی مہک رہی ہے لوبان جیسی میری

لہجے کو میں نے اپنے اردو کیا ہوا ہے

رحمان مصور

میں نیچا ہوگیا اپنی نظر میں

مری آواز اونچی ہوگئی تھی

اقبال اشہر

کپ میں موجود رہی اس کے چھون کی خوشبو

چائے پیتا ہوں تو آتی ہے بدن کی خوشبو

اظہر اقبال

ہمارے آنسوؤں کی کس قدر توہین کی اس نے

کسی کے سامنے روکر بہت پچھتا رہے ہیں ہم

معین شاداب

ہنسنا ہنسانا عادت ہے میری

اپنا بنانا عادت ہے میری

لوگ منہ پھیر کے چل دیتے ہیں

آواز دے کر بلانا عادت ہے میری

انل اگرونشی

گل کبھی سوکھ کے بھی دوب نہیں ہوتا ہے

سچ کبھی جھوٹ سے مرعوب نہیں ہوتا ہے

ڈاکٹر افروز طالب

کیسا صلہ ملا ہے مجھے اعتبار کا

منہ دیکھتی ہوں روز ترے انتظار کا

ہمانشی بابرا

محبتوں کو ترازو پہ تولنے والے

تو میری سوچ کی دنیا سے جانے والا ہے

جو حیثیت کو پرکھ کرکے سب سے ملتے ہیں

انہیں بتاؤ میرا وقت آنے والا ہے

اکمل بلرامپوری

















دہلی بلاسٹ کیس کی جانچ ہوئی تیز، پولیس نے نجی اسپتالوں سے بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی طلب کیں تفصیلات
نئی دہلی: دہلی بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔ دہلی پولیس نے شہر کے تمام نجی اسپتالوں کو نوٹس جاری کرکے ان ڈاکٹروں کی معلومات فراہم کرنے کو کہا ہے جنہوں نے بیرونِ ملک سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس وقت دہلی میں پریکٹس کر رہے ہیں۔

پولیس نے خاص طور پر پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور چین سے ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹروں کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم سیکورٹی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ اس کے تحت اسپتال انتظامیہ کو بیرونِ ملک سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی مکمل معلومات پولیس کے حوالے کرنی ہوں گی۔

شعیب کو فریدآباد سے کیا گیا تھا گرفتار

اس سے قبل 26 نومبر کو دہلی بلاسٹ کیس میں این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی) نے شعیب نامی ملزم کو 10 روزہ ریمانڈ پر لیا تھا۔ شعیب کو فریدآباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ریمانڈ کی منظوری دی گئی۔ دہلی دھماکہ کیس کے ایک اور ملزم عامر راشد علی جس کی این آئی اے کی حراست اس دن ختم ہو رہی تھی، کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کی تحویل میں سات دن کی توسیع کر دی گئی۔

شعیب پر ڈاکٹر عمر کو پناہ دینے کا الزام

این آئی اے کے مطابق، شعیب نے ڈاکٹر عمر محمد (جو عمر النبی کے نام سے بھی مشہور ہے) کو دھماکے سے قبل پناہ دی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے دھماکے کی منصوبہ بندی میں لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی۔ یہ کار بم دھماکہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہوا تھا، جس میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے شعیب

شعیب اس معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے۔ اس سے قبل این آئی اے عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے سے متعلق تمام شواہد اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ این آئی اے کا مقصد ہے کہ پورا دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے اور اس کے تمام اراکین کو گرفتار کیا جائے۔











سونے اور چاندی کے دام میں ہوا اضافہ، کیا یہی ہے سرمایہ کاری کا درست وقت ، مکمل معلومات یہاں جانیں
شادیوں کا سیزن شروع ہو چکا ہے، ایسے میں لوگوں کا بازاروں کا رخ کرنا اور سونا چاندی خریدنے کا سلسلہ آئندہ کئی مہینوں تک جاری رہنے والا ہے۔ اگر آپ بھی سونا چاندی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا سونا چاندی میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو آج کی یہ خبر آپ کے لیے ضروری ہے۔ بتا دیں کہ سررافہ بازار میں آج سونے اور چاندی کے دام میں بھاری تیزی درج کی گئی ہے۔ آئیے جانتے ہیں سررافہ بازار میں آج سونا چاندی کتنے میں فروخت ہو رہا ہے۔

دہلی میں سونے کے دام

دارالحکومت دہلی کے سررافہ بازار میں سونے کے ریٹ میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بتا دیں کہ جو 22 کیرٹ سونا کل 1,17,900 روپے فی 10 گرام کی قیمت پر فروخت ہو رہا تھا، وہ آج 1,19,150 روپے فی 10 گرام کے حساب سے فروخت ہوگا۔ وہیں اگر 24 کیرٹ سونے کی بات کریں تو جو کل 1,28,610 روپے فی 10 گرام کی قیمت میں دستیاب تھا، وہ آج 1,29,970 روپے فی 10 گرام کے حساب سے فروخت ہوگا۔

چاندی کی قیمت

اگر ملک کی راجدھانی دہلی میں چاندی کے ریٹ کی بات کریں تو بتا دیں کہ چاندی کے داموں میں بھاری اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سررافہ بازار میں آج چاندی 1,85,000 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہوگی، جو کل 1,76,000 روپے فی کلوگرام کی قیمت پر دستیاب تھی۔
یوپی میں سونے کا ریٹ

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے سررافہ بازار میں بھی سونے کے ریٹ میں بھاری اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 22 کیرٹ سونا جو کل 1,17,900 روپے فی 10 گرام پر فروخت ہو رہا تھا، وہ آج 1,19,150 روپے فی 10 گرام کی قیمت پر دستیاب ہوگا۔ وہیں 24 کیرٹ سونا جو کل 1,28,610 روپے فی 10 گرام مل رہا تھا، وہ آج 1,29,970 روپے فی 10 گرام ملے گا۔

ایم پی میں سونے کی قیمت

اگر مدھیہ پردیش کی تجارتی راجدھانی اندور کے سررافہ بازار کی بات کریں تو یہاں بھی سونے کی قیمت میں کافی تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ 22 کیرٹ سونا جو کل 1,17,900 روپے فی 10 گرام میں فروخت ہو رہا تھا، وہ آج 1,19,150 روپے فی 10 گرام میں فروخت ہوگا۔ 24 کیرٹ سونا جو کل 1,28,610 روپے فی 10 گرام مل رہا تھا، وہ آج 1,29,970 روپے فی 10 گرام دستیاب ہوگا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ٹرمپ انتظامیہ کا پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلان
وائٹ ہاؤس کے نزدیک افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے اُس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم یہ یقین نہ کر لیں کہ ہر اجنبی کی مکمل طور پر جانچ اور سکریننگ ہو چکی ہے۔‘دوسری جانب واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کو ہلاک کرنے کے الزام میں افغان شہری پر فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
روئٹرز کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے جمعے کو فاکس نیوز پر بتایا کہ 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے خلاف مزید الزامات بھی لگائے جائیں گے۔ 
ان کے مطابق ملزم نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔
رحمان اللہ لکنوال پر باقاعدہ فردِ جرم ابھی تک عائد نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو ایک افغان نژاد شہری نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔
تفتیش کاروں نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نامی حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا ہے، جو امریکی شہری ہے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس حملے کو ’برائی، نفرت اور دہشت گردی‘ کی کارروائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص 2021 میں اُن ’بدنامِ زمانہ پروازوں‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔
اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹے بعد امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ اس نے افغان شہریوں کے کیسز کی پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کے لیے روک دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے امریکہ نقل مکانی (مائیگریشن) کو مستقل طور پر بند کرنے کا ارادہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میں امریکہ کے نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے تمام تیسری دنیا کے ممالک سے نقلِ مکانی کو مستقل طور پر روک دوں گا۔‘
انہوں نے اپنے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں دی گئی ’لاکھوں‘ منظوریوں کو منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی، اور کہا کہ وہ ’ہر اُس شخص کو نکال دیں گے جو ریاست ہائے متحدہ کے لیے خالص اثاثہ نہ ہو۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ غیر امریکی شہریوں کے لیے تمام وفاقی فائدے اور سبسڈیز ختم کر دیں گے، اور کسی بھی غیر ملکی شہری کو جو سکیورٹی رسک ہو یا ’مغربی تہذیب سے ہم آہنگ نہ ہو‘ ملک بدر کر دیں گے۔











عمران خان کی صحت پر خدشات، خاندان کو شدید تشویش! اڈیالہ جیل میں حالات بے نقاب
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں انتہائی خراب حالات اور تقریباً مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خان کو متعدد بار مارا پیٹا گیا، انہیں شدید قید میں رکھا گیا، اور وہ ہفتوں سے اپنے خاندان یا قانونی ٹیم سے ملنے سے قاصر ہیں۔

گھر والوں کو ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟
عمران خان کی بہن، علیمہ خانم نے CNN-News18 کو بتایا کہ حکومت اس معاملے کو غیر ضروری طور پر اڑا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان سے ملنے کی اجازت دینے میں کیا حرج ہے؟ اگر وہ ہمیں ان سے ملنے دیتے تو یہ تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جاتیں۔ علیمہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ پاکستان کی طاقت کا ڈھانچہ عمران خان کو جسمانی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن حکومت کا رویہ عوامی غصے کو ہوا دے رہا ہے۔
کیا واقعی صورتحال اتنی خراب ہے؟
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان کی صحت بتدریج خراب ہو رہی ہے۔ یہ بگاڑ مسلسل دباؤ، جیل کے خراب حالات، اور محدود مواصلات کی وجہ سے ہے۔ پہلے کے پی کے وزیر اعلیٰ ان سے ملاقات کر سکتے تھے لیکن اب وہ دورے بھی بند ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جو بھی ہیلتھ اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں وہ صرف حقیقی صورتحال کو چھپانے کے لیے تھیں۔
کیا سڑکوں پر احتجاج پھوٹ سکتا ہے؟

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ عوام کا غصہ پھوٹنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ہونا ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب عمران خان کی بہنیں کھل کر بولیں تو پاکستان بھر میں احتجاج پھوٹ سکتا ہے۔ اہل خانہ اب عدالت میں درخواست دائر کر رہے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔












روس کا ہائپرسونک میزائل ٹیسٹ ناکام! ویڈیو وائرل
Russian Missile Crash**:** روس کی فوجی طاقت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ روسی ٹیلیگرام چینلز پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں UR-100N بین البراعظمی بیلسٹک میزائل دکھایا گیا ہے، جو Avangard ہائپرسونک گلائیڈ گاڑی سے لیس ہے، لانچ کے بعد شعلوں میں پھٹ رہا ہے۔ ویڈیو میں یاسنی کے قصبے پر جامنی رنگ کا دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی باشندوں نے دعویٰ کیا کہ میزائل درمیانی فضا میں پھٹا۔ یہ واقعہ روس کے اورینبرگ اوبلاست میں یاسنی لانچ سائٹ پر پیش آیا، جہاں روسی اسٹریٹجک راکٹ فورسز کا 13 واں ریڈ بینر راکٹ ڈویژن تعینات ہے۔

یاسنی روس کے 11 بڑے لانچ سائٹس میں سے ایک ہے، جہاں طویل فاصلے تک زمین سے مار کرنے والے جوہری وار ہیڈز والے میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔ یوکرین کے ملٹری میڈیا آؤٹ لیٹس کے مطابق ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ میزائل کو پرواز کے دوران جہاز پر ہی دھماکے کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ کنٹرول کھو بیٹھا۔ باقی راکٹ کا ایندھن جل گیا۔ انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں شروع میں صاف آسمان نظر آتا ہے، پھر اچانک جامنی نیلے دھوئیں کا ایک بڑا بادل نمودار ہوتا ہے، جو آہستہ آہستہ پھیلتا ہے اور آس پاس کے علاقے کو ڈھانپتا ہے۔ مائع ایندھن کے کیمیائی مرکب کی وجہ سے بادل کا رنگ جامنی ہو گیا، جو ہوا میں گھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو کے آخر میں ایک چمکتا ہوا نارنجی بادل نمودار ہوتا ہے، جو باقی ایندھن سے آگ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی آتش فشاں پھٹا ہو۔روس ان میزائلوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟
روسی میڈیا آؤٹ لیٹ آسٹرا نے اطلاع دی ہے کہ لانچ سائٹ سے منسلک یاسنی قصبے کے قریب میزائل تجربے کے بعد ارغوانی کہرا چھا گیا۔ اس سائٹ نے سوویت دور کے R-36M2 Voyevoda ICBMs کا استعمال کیا۔ تاہم، 2019 سے، انہیں Avangard میزائل سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے، جو گائیڈڈ ہائپرسونک وار ہیڈ سے لیس ہے۔ 13ویں ڈویژن کی ایک رجمنٹ کو 2022 میں Avangard سے لیس کیا گیا تھا۔ Avangard وار ہیڈ کو دو میزائلوں کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے: پرانے UR-100N اور نئے RS-28 Sarmat۔ تاہم، RS-28 کے استعمال کا امکان کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ کئی ٹیسٹ لانچ ناکام ہو چکے ہیں، اس دعوے کے باوجود کہ یہ 2023 میں سروس میں داخل ہو جائے گا۔ناقابل تسخیر ہتھیار کے بارے میں سوالات
یوکرین کی جنگ کے درمیان، یہ ناکامی روس کی ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔ ایونگارڈ کو “ناقابل دفاع” کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو مچ 20 سے 27 کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، یہ پہلی بڑی ناکامی نہیں ہے۔ ایک پچھلا ٹیسٹ 2018 میں ناکام ہوا۔روسی حکومت نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن ویڈیو ٹیلی گرام چینلز پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ UR-100N کا مائع ایندھن کا ٹیسٹ تھا، جیسا کہ جامنی کہرے سے ظاہر ہوتا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...