پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل پی ایم مودی کا خطاب، کہا ڈرامہ نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے لیے نتیجہ خیز اجلاس چلانے پر توجہ دیں۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہار کے انتخابات میں اپنی حالیہ شکست کی وجہ سے "پریشان" لگ رہے ہیں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو حل کریں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں کہ پارلیمنٹ میں اچھی پالیسی اور قوانین پاس ہوں تاکہ مانسون اجلاس کی طرح یہ اجلاس بھی ضائع نہ ہو۔پی ایم مودی نے کہا کہ "میں سب سے درخواست کروں گا کہ ہر کوئی موجودہ مسائل کے بارے میں سوچے۔ ڈرامہ کرنے کے لیے بہت سی جگہیں ہیں، جو کوئی بھی ڈرامہ کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے، یہاں ڈرامہ نہیں، ڈیلیوری ہونی چاہیے، جو کوئی بھی نعرے لگانا چاہتا ہے، اس کے لیے پورا ملک پڑا ہے۔ آپ نے بہار الیکشن میں شکست کے دوران یہ بات پہلے ہی کہہ چکے ہیں، لیکن یہاں نعروں پر نہیں بلکہ پالیسی پر توجہ ہونی چاہیے۔"انہوں نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ سیاست میں منفی کام کریں، لیکن آخر میں قوم کی تعمیر کے لیے مثبت سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ منفیت کو ایک طرف رکھ کر قوم کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔"
اپوزیشن سے ضروری اور مضبوط ایشوز اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ پارٹیاں بہار میں اپنی حالیہ شکست کے صدمے سے نکل سکتتی تھیں، لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ابھی تک 'ان سیٹلڈ' ہیں۔انہوں نے کہا، "اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ میں مضبوط اور ضروری ایشوز اٹھانے چاہئیں۔ انہیں انتخابی شکست سے کی پریشانی سے باہر نکلنا چاہیے اور حصہ لینا چاہیے۔ میں نے سوچا تھا کہ چونکہ بہار انتخابات کو کافی وقت ہو گیا ہے، اس لیے انہوں نے خود کو سنھال لیا ہوگا، لیکن کل ایسا لگا کہ شکست نے ان پر صاف طور پر اثر ڈالا ہے۔"
انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ سرمائی اجلاس ہار سے پیدا ہونے والی مایوسی کا میدان نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی فتح سے پیدا ہونے والے گھمنڈ کا اکھاڑا بننا چاہیے۔پی ایم مودی نے کہا، "اس سیشن میں اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ پارلیمنٹ ملک کے لیے کیا سوچ رہی ہے، پارلیمنٹ ملک کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے، اور کیا کرنے جا رہی ہے۔ اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور بحث میں مضبوط مسائل اٹھانے چاہئیں۔"
قبل ازیں، انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے اراکین نے پیر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تقریباً تین ہفتے کے اجلاس سے قبل اپوزیشن بلاک کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے میٹنگ کی۔کانگریس ذرائع کے مطابق، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اراکین اسمبلی نے سرمائی اجلاس سے قبل اپنی مصروف پارٹی میٹنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے اتحادی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
پارلیمنٹ میں 19 دنوں میں 15 اجلاس ہونے ہیں۔ اس دوران پرائیویٹ ممبرز کے بلز 5 اور 19 دسمبر جب کہ پرائیویٹ ممبرز کی قراردادیں 12 دسمبر کو غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔
ایس آئی آر کی جاری مشق پر اپوزیشن جماعتوں کی مسلسل نعرے بازی اور احتجاج کی وجہ سے گذشتہ مانسون اجلاس کو "واش آؤٹ" سمجھا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکوں، قومی دارالحکومت میں ہوا کے معیار اور خارجہ پالیسی کے ایشو کو بھی اٹھانا چاہتی ہیں۔
پاکستان میں خودکش حملہ آوروں نے نوکنڈی میں فوجی کمپاؤنڈ کو بنایا نشانہ، بی ایل ایف نے قبول کی ذمہ داری
نئی دہلی: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں نے ایک بار پھر خوفناک دہشت گرد حملہ کیا ہے۔ بلوچستان کے نوکنڈی علاقے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر کے قریب اتوار 30 نومبر کی رات تقریباً 9 بجے خودکش حملوں کی جھڑی لگا دی ۔ حملہ ریکو ڈک اور سینڈک مائننگ پروجیکٹ سے وابستہ غیر ملکی ماہرین، انجینئروں اور دیگر عملے کے لیے بنائے گئے حساس رہائشی و ورک کمپاؤنڈ پر کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پہلے پانچ بڑے دھماکے کیے گئے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کرلی
اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کرلی ہے۔ تنظیم کے ترجمان میجر گوہرَم بلوچ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی بی ایل ایف کی ’’سادو آپریشنل بٹالین (SOB)‘‘ نے انجام دی۔ ترجمان کے مطابق حملے کا مقصد اس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانا تھا، جہاں حکومت نے بڑے غیر ملکی کان کنی منصوبوں سے وابستہ افراد کو ٹھہرنے اور کام کرنے کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں
بلوچ شدت پسندوں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ سرکاری طور پر ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد جاری نہیں کی گئی، لیکن پاکستانی میڈیا کے مطابق واقعہ چاغی ضلع کے نوکنڈی علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد پورے ضلع کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ پاکستان کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ’’سب سے محفوظ اور محفوظ ترین‘‘ منصوبے کی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔
صورتحال مزید کشیدہ
حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں ہے اور میڈیا رسائی محدود کر دی گئی ہے ۔سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔
وزن کم کرتے وقت کن تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
زیادہ تر لوگ جب اپنی فٹنس یا وزن کم کرنے کے سفر کی شروعات کرتے ہیں تو وہ فوری نتائج کے پیچھے بھاگتے ہیں; کریش ڈائٹس، تیز رفتار چیلنجز اور جلد از جلد ’دبلے‘ ہونے کی خواہش۔ مگر پائیدار بہتری نہ خود کو فاقوں پر رکھنے سے آتی ہے اور نہ ہی بے تحاشہ کیلوریز خرچ کرنے سے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اصل تبدیلی آہستہ، مسلسل چربی کم کرنے اور مسلز بنانے سے آتی ہے، جو طویل عرصے تک وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلیل مدتی ڈرامائی نتائج کے بجائے طاقت اور دیرپا عادات کو ترجیح دینا ہی جسم اور صحت میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔’سلو برن میتھڈ‘ کے بانی، کوآڈ فٹنس کے شریک بانی اور ہیڈ کوچ، اور کتاب ’سمپل، ناٹ ایزی‘ کے مصنف فٹنس ٹرینر راج گنپتھ نے وزن کم کرنے کے آغاز سے متعلق تین اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے حقائق بیان کیے ہیں۔
ایک انسٹاگرام ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ کیوں آہستہ اور مسلسل پیش رفت تیز رفتار پروگراموں کے مقابلے میں بہتر ہے، اور کیوں مقصد صرف ’دبلے‘ ہونا نہیں بلکہ لین اور مضبوط بننا ہونا چاہیے۔
سست رفتاری سے وزن میں کمی زیادہ پائیدار
راج کے مطابق وزن میں کمی کبھی صرف چربی میں کمی نہیں ہوتی؛ اس میں مسلز کا کم ہونا بھی شامل ہوتا ہے، چاہے آپ کوئی بھی ڈائیٹ فالو کر رہے ہوں یا جتنی بھی ورزش کر رہے ہوں۔ البتہ جب وزن دوبارہ بڑھتا ہے تو کھوئے ہوئے مسلز واپس نہیں آتے، بلکہ ان کی جگہ چربی لے لیتی ہے۔زیادہ مسلز کا مطلب زیادہ چربی کا خاتمہ
زیادہ تر لوگ وزن کم کرنے کے لیے کارڈیو، کیلوریز جلانے اور کم کھانے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن راج کے مطابق اصل ترجیح مسلز بنانا ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جتنے زیادہ مسلز ہوں گے، اتنی ہی آپ کا بیسل میٹابولک ریٹ زیادہ ہو گا۔ اگر آپ وزن کو منظم رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو جتنے زیادہ ہو سکے مسلز بنائیں۔‘
دبلے ہونے کے بجائے مضبوط بننے پر توجہ دیں
راج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دبلے ہونا تقریباً بے فائدہ ہے۔ اگر آپ زیادہ وزن کے حامل ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ دبلے ہونا ہی حل ہے۔ مگر دبلے کا مطلب کم توانائی، کمزور ہڈیاں، تھکاوٹ اور ڈھیلا جسم ہے۔‘انہوں نے واضح کیا کہ اصل ہدف لین اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرضروری وزن، یعنی چربی کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، جبکہ ضروری مسلز، ہڈیاں، اور اعضا کو محفوظ رکھا جائے۔‘