Saturday, 29 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ادارہ نثری ادب کی ٢٣٠ ویں ماہانہ ادبی نشست ٣٠ نومبر بروز اتوار کو شب دس بجے
مسنگ فرینڈس گروپ کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کا استقبال کیا جائے گا 

ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(230) بتاریخ 30 نومبر 2025ء بروز اتوار کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی- صدارت کے فرائض ڈاکٹر احمد ایوبی سر (سابق پرنسپل جمہور ہائی اسکول)انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ڈاکٹر مبین نذیر (سٹی کالج) ہارون اختر(افسانہ نگار) عظمت اقبال(افسانہ نگار) و جاوید آفاق(انشائیہ نگار) اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- ادارہ نثری ادب کی اردو زبان و ادب کی ترقی ترویج و اشاعت میں گرانقدر خدمات کے ٢٢ سال مکمل ہونے پر مسنگ فرینڈس گروپ کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کا استقبال کیا جائے گا- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-










*29/نومبر، عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین اور مقدس سرزمین سے یہود و عرب اقوام کا تعلق*
تحریر و ترتیب: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313 

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن ہر سال 29/نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے ذریعہ فلسطینی عوام کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ یہ دن 2/دسمبر 1977ء اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے بعد سے منایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ و فلسطین سمیت مشرقی وسطی کے علاقے آج دنیا میں مظلومیت کا استعارہ کیوں بنے ہوئے ہیں؟

دراصل فلسطین کی تاریخ اتنی ہی پُرانی ہے جتنی خود انسانی تہذیب کی تاریخ۔ یہ خطہ کبھی تین براعظموں کی شاہراہِ تجارت رہا ہے، کبھی انبیاء کرام کی سرزمین اور کبھی فاتحین کی منزل۔ یہاں کے پہاڑوں، دریاؤں اور شہروں سے مذہبی تقدس بھی وابستہ ہے اور عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات بھی۔ قدیم ادوار میں یہاں کنعانی، عموری، یبوسی اور بعد میں اسرائیلی قبائل آباد ہوئے۔ لیکن یہ تصور کہ یہ خطہ کبھی مخصوص قوم کی مستقل میراث رہا ہو، تاریخی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔ مصر کے فراعنہ ہوں یا آشوری، بابل کے بادشاہ ہوں یا رومی، ہر دور میں فلسطین مختلف تہذیبوں کے زیرِ اثر رہا۔
یہی وہ خطہ ہے جہاں ساتویں صدی عیسوی میں خلیفہء دوم، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں یہاں پُرامن اسلامی عہد کی بنیاد پڑی۔ اسلامی حکمرانی قائم ہونے کے بعد فلسطین معاشی، تعلیمی اور مذہبی طور پر ترقی کرتا رہا۔ بیت المقدس کا نظم و نسق، یہاں موجود اقلیتوں کے حقوق اور شہری امن وغیرہ مسلمانوں کے سنہرے ادوار کی پہچان بنے۔ مگر یہی خطہ آنے والی صدیوں میں صلیبی یلغار، عثمانی عہد، یورپی نوآبادیاتی سازشوں اور بالآخر جدید اسرائیلی تصادم کا محور بھی بنا ہوا ہے۔ غزہ و فلسطین کی اس دردناک سیاسی تاریخ کے پیچھے کے راز کیا ہیں؟ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ایک حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسحٰق علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے عرب اقوام نے جنم لیا جبکہ دوسرے بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے، جن کی نسل سے یہودی قوم پیدا ہوئی۔
حضرت یعقوب علیہ السلام، اللہ تعالی کے بڑے ہی برگزیدہ نبی ہوئے، جن کا تذکرہ قرآنِ مجید میں متعدد بار آیا ہے، انہیں اللہ تعالی نے ”اسرائیل“ کا لقب عطا کیا جو عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اسکا مطلب "اللہ تعالی کا بندہ" ہے۔ عربی زبان میں بیٹے کو "بن" کہتے ہیں اور "بنی" اسکی جمع ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعنی حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بیٹے ہیں، ان کے بارہ بیٹے تھے جن سے ان کی نسل چلی۔ ان بیٹوں کو اور ان کی نسل کو قرآن نے "بنی اسرائیل" یعنی اولاد یعقوب علیہ السلام سے یاد کیا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا چوتھا بیٹا "یہودہ" نامی شخص تھا جس کے ہاں اولاد نرینہ بہت تھی۔ بنی اسرائیل کا ہر دوسرا تیسرا نوجوان "یہودہ" کا بیٹا یا پوتا ہوتا تھا اسی وجہ سے اس قبیلے کو "یہودی" کہا جانے لگا جو آج تک مروّج ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہء اقتدار میں یہ قبیلہ اپنے آبائی علاقے سے مصر منتقل ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد چار سو تیس سالوں تک ان پر تاریخ کی بدترین غلامی مسلط رہی اور مصر کے مقامی لوگوں نے انہیں اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا۔ مصر کا ہر حکمران فرعون کہلاتا تھا، فرعونوں اور فرعونیوں نے اس قبیلے یعنی بنی اسرائیل پر بے پناہ تشدد کیا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں ان لوگوں نے مصر سے ہجرت کی اور صحرائے سینا پہنچے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالی کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اپنے درمیان موجود نافرمانوں سے قتّال کرنے کا حکم دیا۔ مگر انہوں نے انکار کردیا کہ اپنے ہی رشتہ داروں کو کیسے قتل کریں۔ قتّال سے انکار پر عذاب کی صورت میں چالیس سال تک صحرا نوردی ان کا مقدر بنی رہی یہاں تک کہ وہ ساری نسل ختم ہو گئی جس نے قتّال سے انکار کیا تھا۔ نئی نسل نے طالوت کی قیادت میں قتّال کیا اور انہیں تمدنی زندگی نصیب ہوئی۔
طالوت کی فوج میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔ طالوت کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ جو اُس کے دشمن "جالوت" کو قتل کرے گا وہ اپنی بیٹی اس سے بیاہ دے گا۔ چنانچہ یہ سعادت حضرت داؤد علیہ السلام کے حصے میں آئی۔ طالوت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام حکمراں بنے اور اپنے زمانے کے بڑے ہی شاندار حکمراں رہے، لوہے کی ٹیکنالوجی کا آغاز آپ کے زمانے میں ہی ہوا۔ آپ کے اقتدار، فوجی طاقت، خزانہ اور رعب و دبدبہ کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ کم و بیش تین برِّ اعظموں پر آپ کی حکومت تھی… آپ پر آسمانی کتاب "زبور" نازل ہوئی۔ آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام بھی بنی اسرائیل میں سے تھے جنہیں اللہ تعالی نے دیگر مخلوقات پر بھی اقتدار عطا کیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیٹا "رجعام" جب تخت نشین ہوا تو سلطنت اس کے قابو میں نہ آسکی اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس زمانے میں ایک حصے کا نام اسرائیل اور دوسرے کا نام یہودیہ تھا، ان کے درمیان اگرچہ لڑائیاں بھی رہیں لیکن صلح صفائی بھی ہوتی رہی۔
یہودی سن عیسوی 1948ء کے بعد عالمی سازش کے نتیجے میں فلسطینی عرب سرزمین پر بسائے گئے اور حیلے بہانے یہاں کی زمینوں پر قبضہ کرتے رہے ہیں۔ وہ دعوی کرتے ہیں کہ مشرق وسطی پر ان کا حق ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے مشرق وسطی کا علاقہ دیا تھا اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کی اولاد سے ہیں جبکہ عرب قوم دوسرے بیٹے کی اولاد سے ہیں۔ لھذا آدھے مشرق وسطی پر عربوں کا حق ہے اور بقیہ آدھے پر یہودیوں کا۔ جبکہ اُن کا یہ موقف غلط ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے خلافتِ ارضی کسی نسلی تفوّق کی بنیاد پر نہیں فرمائی تھی بلکہ خلافتِ ارضی خالصتاََ تقوی کی بنیاد پر تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آلِ اسحٰق یعنی یہود سے زیادہ عزت والے آلِ اسمٰعیل تھے کیونکہ وہ زیادہ تقوی اختیار کرنے والے تھے۔ اسی لیے ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ختمِ نبوّت، آلِ اسمعیل میں واقع ہوئی اور قرآن مجید جیسی جامع کتاب فلسطین و یروشلم کی بجائے مکہء مکرمہ اور مدینہء منورہ میں نازل ہوئی۔ اور یہ ابدی حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کو نسلوں اور علاقوں سے زیادہ تقویٰ و پرہیزگاری پسند ہے اور متقی و پرہیزگار ہی اللہ تعالی کے برگزیدہ ہیں چاہے وہ کسی نسل، رنگ اور علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔
یہود آج بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبیِ آخر الزّماں، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں، قرآن نے ان کی اس بات پر یوں تبصرہ کیا ہے کہ "اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم)، یہ (اہل کتاب) آپ کو یوں پہچانتے ہیں جیسے اپنے سگے بیٹوں کو۔" لیکن محض نسلی تفرق (یا تعصب) کی بنیاد پر جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ولادتِ مبارکہ کے ایک ہزار سال پہلے سے یہودیوں کے تین قبائل محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تلاش میں ہی یثرب (آج کے مدینہء منورہ) کے مقام پر آکر آباد ہوئے تھے۔ کیونکہ گزشتہ کتب میں یہی لکھا تھا کہ یثرب کے مقام پر آخری نبی، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ریاست بنائیں گے۔ لیکن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے تو یہود محض اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسمٰعیل میں کیوں کردی؟ حالانکہ یہ خالصتاََ خدائی فیصلہ تھا اور یہود اس خدائی فیصلے کے خلاف ہوکر زمین کی بدترین قوم میں شمار ہوئے۔ (بقیہ اگلی قسط میں) 











مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے طلبہ کو نیشنل کانفرنس میں بیسٹ ریسرچ پیپر ایوارڈتفویض
میکانیکل انجینئرنگ کے طلبہ کے بائیو ڈیزل پروڈکشن پر پیش کردہ تحقیقی مقالہ کو قومی سطح پر پذیرائی

مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر مالیگاؤں کے اولین انجینئرنگ ادارہ مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کالج نے نہ صرف تعلیمی شعبوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے بلکہ تحقیقی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں طلبہ کیلئے بہترین نظام تعلیم کے ساتھ مختلف انجینئرنگ و سائنس کے شعبوں میں تحقیقی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جن کے نتیجے میں اساتذہ کے ساتھ طلبہ کے تحقیقی مقالے بھی بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو رہے ہیں اور طلبہ مختلف ریسرچ کانفرنسوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں شہر وارانسی( اترپردیس) کے معروف تعلیمی ادارہ اسکول آف منیجمنٹ سائنس کے زیر اہتمام 22 نومبر 2025 کو نیشنل کانفرنس بعنوان “TECHCON 2025 – NextGen AI” منعقد ہوئی، جس میں مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے میکانیکل انجینئرنگ کے طلبہ نے “بائیو ڈیزل پروڈکشن” کے عنوان پرتحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اعلیٰ تحقیقی معیار اور بہترین پریزنٹیشن کے باعث اس تحقیقی مقالہ کو “بیسٹ ریسرچ پیپر ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ ایوارڈ یافتہ میکانیکل انجینئرنگ سال آخر کے طلبہ میں شعیب علی، محمد فواز، ابصار علی، محمد مجاہد اور محمد اسعد شامل تھے، جنہوں نے ڈاکٹر دلاور حسین (ہیڈ، میکانیکل انجینئرنگ) اور ڈاکٹر ساجد نعیم کی رہنمائی میں یہ تحقیقی کام مکمل کیا۔ واضح رہے مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے 25 طلبہ و اسٹاف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور کل 13 مقالے کالج ہذا کی جانب سے پیش کئے گئے۔ جبکہ اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں سے 60 سے زائد مقالے پیش کئے گئے تھے۔ 

اس کامیابی پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ) کے چیئرمن جناب ارشد مختار صاحب نے طلبہ اور ان کے اساتذہ کو دلی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسی طرح سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب نے ایوارڈ یافتہ طلبہ کا پُرجوش استقبال کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مزید برآں، ڈاکٹر شاہ عقیل احمد (پرنسپل، ڈگری کالج)، ڈاکٹر یعقوب انصاری (پرنسپل، ڈپلومہ کالج)، ڈاکٹر سلمان بیگ (ڈین اکیڈمکس) اور دیگر فیکلٹی ممبران نے بھی طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔ اس کانفرنس کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر آنند دوبے اور آرگنائزنگ ٹیم کی جانب سے کالج ہذا کے طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔













*مچھلی بازار کی بیتُ الخلاء کچرے اور گندگیوں کا انبار ذمے دار کون؟(قسط 2)*
محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) مچھلی بازار یہ علاقہ مالیگاؤں شہر کے قَلب کی حیثیت رکھتا ہے کثیر آبادی، تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کے اس علاقے میں واقع مچھلی بازار مرد اور خواتین کی بیتُ الخلاء جسے پرانے وارڈ نمبر 12 اور وارڈ نمبر 13 دونوں وارڈ کے لوگ استعمال کرتے ہیں بیت-الخلاء کی حالت انتہائی خَستہ ہوچکی ہے کَچروں کا انبار کسی ڈَمپنگ گراؤنڈ سے کم نہیں! بے انتہا بَدبو، گندگی، مچھروں اور دیگر مُضِر کیڑوں، مَکوڑوں کی بُہتات سے اطراف کے لوگ بے انتہا پریشان ہیں دیگر بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے کارپوریشن اور انتظامیہ ایسا لگتا ہے کہ جان بُوجھ کر اِس علاقے کے لوگوں کے ساتھ تعصّب اور سوتیلا سلوک کرتے ہیں خواتین کی بیت-الخلا کے باہر سینکڑوں کلو کچرا روزانہ جمع رہتا ہے خونخوار آوارہ کتّوں کا جُھنڈ رات و دِن گھومتا رہتا ہے معصوم بچّوں، خواتین، بزرگوں، نوجوانوں کو اپنا شکار بناتا ہے راہگیروں اور علاقہ مکینوں کو بے انتہا تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وارڈ کے بیسٹ کارپوریٹر اور اپنے آپ کو قوم کا خادم کہلوانے والے وارڈ کو الیکشن کے وقت گِروی رکھنے اور بیچنے والے نابینا حضرات پانچ سال بعد عین الیکشن کے وقت بینا ہوجاتے ہیں وارڈ اور قوم کے دَرد میں ایسا مَست ہوجاتے ہیں کہ اگر اِن سے کِڈنی بھی مانگ لی جائے تو پیچھے نہیں ہَٹے گے صرف ووٹنگ ہونے تک بعد کا کوئی بھروسہ نہیں۔
وارڈ میں چوک چوراہوں، ہوٹلوں، گلیوں وغیرہ پر اِس دھوکے باز جُھنڈ نے اپنا ڈیرا جمانا شروع کردیا ہے کارپوریشن الیکشن قریب ہے فیصلہ وارڈ کے لوگوں کو کرنا ہے اگلے پانچ سال کیسے گزارنا ہے........... جاری

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...