Sunday, 30 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





بدعنوانی کے مقدمے میں نیتن یاہوکی معافی کی درخواست پراسرائیلی شہری برہم، صدرکی رہائش گاہ کے باہرکیااحتجاج،معافی نہ دینے کامطالبہ
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو’قومی ہیرو‘نہیں ہیں ۔ شہریوں کے احتجاج سے یہ بات عیاں ہے حالانکہ وزیراعظم نیتن یاہوکے خلاف یہ شہریوں کا پہلا احتجاج بھی نہیں ہے ۔ دراصل وزیراعظم نیتن یاہو نے بدعنوانی کے مقدمات میں صدر ہرزوک سے معافی کی درخواست کی ہے جس پر عوام کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔

تل ابیب میں شہریوں نے صدرہرزوک کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور ان سے بنیامن نیتن یاہو کی درخواست کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس احتجاج میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمان نما لازیمی بھی شامل ہوئے۔
بنیامن نیتن یاہو پر رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد کے خسارے کے تین الگ الگ الزامات ہیں جن پر پانچ برسوں سے مقدمہ چل رہا ہے۔ایک کیس میں نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی عنایات کے بدلے ارب پتیوں سے 260,000 ڈالرمالیت کے لگژری سامان جیسے سگار، زیورات اور شیمپین لیے۔ان پر یہ بھی الزام ہے کہ، ان پر دو دیگر معاملات میں دو اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹس سے زیادہ سازگار کوریج کے لیے ساز بازکے الزاما ت ہیں۔حالانکہ نیتن یاہو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں ۔صدر کے دفترکوارسال کردہ111صفحات پرمشتمل معافی کی درخواست میں وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھروسہ ظاہر کیا ہے کہ قانونی عمل کی تکمیل پر وہ تمام الزامات سے بری ہوں گے۔صدرہرزوگ کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست موصول ہوئی ہے۔صدر کے دفتر نے اسے ایک غیر معمولی درخواست بتایا ، جس کے اہم مضمرات ہیں۔ تمام متعلقہ آراء حاصل کرنے کے بعد، صدر اس درخواست پر ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ غور کریں گے۔قابل ذکربات یہ ہے کہ،وزیراعظم نیتن یاہو کی معافی کی درخواست سے قبل ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی صدر کوایک مکتوب روانہ کیا تھاجس میں انھوں نے بنیامن نیتن یاہو کو معافی دینے کا ذکر کیا تھا ۔خیال رہے کہ،اکتوبر2023 سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔










پارلیمان کا سرمائی اجلاس ، ہنگامے کے آثار
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آج(پیر)سے شروع ہورہا ہے۔ اس اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کے آثار ہیں۔ 19روزہ سرمائی اجلاس کے دوران15نشستیں ہوں گی۔اپوژیشن نے اپنا ایجنڈا صاف کردیا ہے۔وہ ایس آئی آر پرحکومت کو گھیرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ اپوزیشن نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسپیشل انٹینسیو ریویژن پر بحث نہیں ہوئی تو کارروائی آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔

اپوزیشن اس معاملے پر متحد ہے۔ تاہم ،حکومت نے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے اپوزیشن سے تعاون کی بات کہی ہے ۔ حکومت نے اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر غور کرے گی۔ تاہم اپوزیشن کے تیورسخت ہیں ۔حکومت نے راجیہ سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں وندے ماترم کے 150 سال پورے ہونے پربحث کی تجویز پیش کی۔ اپوزیشن نے اتفاق کیا لیکن اپنی شرائط بھی عائد کر دیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ، حکومت کو ایس آئی آر پر بھی بات کرنی چاہیے۔حزب اختلاف چاہتا ہے کہ ، اسے انتخابی اصلاحات پر ایک وسیع بحث کے حصے کے طور پر شامل کیا جائے، اور یہ بحث پیر کی سہ پہر کو ہونی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کرکے جواب دے گی۔

انتخابی اصلاحات پربحث
اپوزیشن نے لوک سبھا کی بی اے سی میٹنگ میں ایس آئی آر کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ اپوزیشن جماعتیں، انتخابی اصلاحات کے مسئلے پر بحث کے لیے ٹائم سلاٹ چاہتی ہیں۔اس بیچ، حکومت کا موقف ہے کہ منی پور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (دوسری ترمیم) بل 2025 پر پہلے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں بحث کی جائے گی۔ حکومت نے اسے آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ابھی تک ایجنڈے پر اتفاق نہیں ہے۔

کن مسائل پر بحث کا مطالبہ؟
اتوار کو کل جماعتی اجلاس میں 36 پارٹیوں کے تقریباً پچاس لیڈروں نے شرکت کی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کی صدارت کی۔ اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور وزیر قانون ارجن رام میگھوال بھی موجود تھے۔ اپوزیشن نے، SIR کے علاوہ،قومی سلامتی،آلودگی اورخارجہ پالیسی پر بھی بحث کا مطالبہ کیا۔

سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے سختی سے کہا کہ اگر ایس آئی آر پر بحث نہیں ہوئی تو وہ ایوان کو چلنے نہیں دیں گے۔ سی پی آئی (ایم) لیڈرجان برٹاس نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ان باتوں پر متفق ہیں کہ ایس آئی آر، قومی سلامتی، دیہی بحرانوں اور گورنروں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے۔ بیجو جنتا دل نے بھی انتخابی شفافیت پر بحث کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ،بیجو جنتا دل ، انڈیا بلاک کا حصہ نہیں ہے۔

ایس آئی آر پر بحث اورحکومت کا اشارہ
حکومت نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ایس آئی آرپر راست بحث ممکن نہیں۔ دلیل یہ تھی کہ یہ الیکشن کمیشن کا انتظامی امورسے جڑا ہےجو ایک خود مختار ادارہ ہے۔ حکومت اپنی طرف سے جواب نہیں دے سکتی۔ تاہم، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایک تقریب میں کہا کہ اگر اس موضوع کا دائرہ ’انتخابی اصلاحات‘ تک وسیع کیا جائے تو حکومت اس پر غور کر سکتی ہے۔ اپوزیشن نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔بہارانتخابات میں شکست کے بعد اپوزیشن اس اجلاس کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ SIR کا مسئلہ نہ صرف کانگریس بلکہ ڈی ایم جے، ٹی ایم سی اور سی پی آئی (ایم ) کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ آئندہ سال مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کو ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ پر بحث چاہتی ہے جس میں ووٹر لسٹ کی حفاظت بھی شامل ہے۔









کشمیری شاعر عبدالاحد آزاد کی ادبی خدمات پر یک روزہ سیمنار منعقد
سرینگر (پرویز الدین) : کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن نامی ادبی تنظیم نے بمنہ ڈگری کالج، سرینگر میں معروف کشمیری شاعر عبدالاحد آزاد کی زندگی، خدمات اور ادبی کارناموں پر ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں اسکالروں، طلبہ، شاعروں اور مختلف معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

تقریب میں پروفیسر بشر بشیر نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ پروفیسر رئیس احمد وائس پرنسپل، عبدالاحد آزاد میموریل ڈگری کالج، بمنہ نے مہمان اعزاز کے طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر بشر بشیر نے عبدالاحد آزاد کی ادبی میراث پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ’’عبدالاحد آزاد صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک دوراندیش مفکر بھی تھے جنہوں نے ادب کے ذریعے سماج کو جگانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں اصلاح کا لازوال پیغام موجود ہے، جسے نوجوانوں کے لیے سمجھنا اور پڑھنا بہت ضروری ہے۔‘‘

کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن کے پیٹرن ایڈوکیٹ عبدالرشید ہانجورہ نے طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا: ’’عبدالاحد آزاد صاحب جیسی شخصیات ہماری مشترکہ پہچان اور فخر ہیں۔ جب ہم ان کے خیالات سے دوبارہ جڑتے ہیں تو اپنی جڑوں سے وابستگی مزید مضبوط ہوتی ہے۔ فاؤنڈیشن نوجوانوں میں ادبی شعور پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے گی تاکہ ہماری تہذیبی وراثت مزید مستحکم ہو۔‘‘

آزاد چیئر،جن کے اشتراک سے یہ ادبی تقریب منعقد ہوئی، کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رؤف عادل نے سمپوزیم میں طلبہ کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا: ’’سب سے زیادہ متاثر کن بات طلبہ کی لگن اور ان کے مدلل خیالات ہیں۔ ان نوجوان مقررین کی گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ آزاد کے افکار آج بھی زندہ اور رہنما ہیں۔ ایسے پلیٹ فارم طلبہ کو اظہارِ خیال اور فکری نشوونما کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘

سمپوزیم کے دوران متعدد طلبہ نے کشمیری ادب اور سماجی اصلاح میں عبدالاحد آزاد کی خدمات پر مدلل تقاریر پیش کیں، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ سمپوزیم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عبدالاحد آزاد کا ادبی کام آج کے دور میں بھی نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے اور ان کی تحریریں کشمیری ادب کی مضبوط بنیادوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر بہترین مقررین کا انتخاب کیا گیا اور طلبہ میں ایوارڈز اور اسنادِ شمولیت تقسیم کی گئیں تاکہ ان کی محنت کا اعتراف کیا جا سکے۔واضح رہے کہ تقریب میں شریک دیگر معزز شخصیات میں کشمیر کنسرن فاؤنڈیشن کے بانی ایڈوکیٹ عبدالرشید ہنجورہ، کالج کوآرڈینیٹر عبدالاحد آزاد چیئر کے ڈاکٹر رؤف عادل، پروفیسر نیلوفر ناز نحوی، ڈاکٹر تنویر حبیب، ڈاکٹر ریاض اطہر، شاعر عبدالرحمان بٹ، ڈاکٹر معروف شاہ کے علاوہ ڈگری کالج بمنہ کے اساتذہ اور طلبہ شامل تھے۔







*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...