لاکھوں لوگوں کو متاثر کرنے والی ’خاموش بیماری‘ فیٹی لیور کی علامات کیا ہیں؟
جگر ہمارے جسم کے سب سے اہم اعضا میں سے ایک ہے، جو ڈیٹاکسیفیکیشن، میٹابولزم اور توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، غیر صحت مند طرزِ زندگی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ جگر کی صحت ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن گئی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فیٹی لیور کی بیماری ایک عام حالت بن چکی ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس بیماری سے لاعلم رہتے ہیں اور جب انہیں اس کے بارے میں پتا چلتا ہے تو دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
غذائی ماہر راشی چوہدری نے فیٹی لیور کی ابتدائی علامات شیئر کی ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا ’40 فیصد انڈین اس خاموش بیماری میں مبتلا ہیں اور زیادہ تر کو اس کا علم بھی نہیں۔ یہ ہے فیٹی لیور۔‘راشی نے مزید بتایا کہ فیٹی لیور ایک ایسی حالت ہے جس میں جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جاتی ہے۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز: جو موٹاپے، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دیگر میٹابولک مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔
فیٹی لیور کی علامات
آپ کی خواہشات بدل جاتی ہیں
جب جسم جگر میں بہت زیادہ چربی ذخیرہ کرتا ہے تو یہ انسولین کی سطح کو متاثر کرتا ہے، جس سے جسم میں انسولین بڑھ جاتی ہے۔ یہ تبدیلیاں میٹھا کھانے اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی شدید خواہش پیدا کرتی ہیں۔ تھکا ہوا جگر گلوکوز کو کنٹرول کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے، اسی لیے شوگر کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔جلد پر علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں
جلد کے مسائل فیٹی لیور کی علامت ہو سکتے ہیں، جیسے پیلاہٹ، گردن یا بغلوں پر سیاہ دھبے، جلد پر زیادہ چوٹ لگنا یا مکڑی جیسی رگیں۔ دیگر علامات میں مسلسل خارش، سوجن اور جلد کا بے رونق یا چکنا دکھنا شامل ہیں۔
آپ کی نیند کم ہو جاتی ہے
جگر جسم سے نیند کے ہارمون میلاٹونن کو ختم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ جب جگر صحیح کام نہیں کرتا تو یہ عمل متاثر ہوتا ہے، جس سے میلاٹونن کی سطح اور باڈی کلاک میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ جگر کی حالت بگڑنے کے ساتھ بڑھتا ہے۔
ماہواری کے دن ’مختلف‘ لگتے ہیں
فیٹی لیور ماہواری میں بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے، جیسے بے قاعدہ، زیادہ یا زیادہ تکلیف دہ پیریڈز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جگر ہارمونز کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے اور جب جگر متاثر ہو تو ہارمونل توازن بگڑ جاتا ہے جس سے ماہواری متاثر ہوتی ہے۔ دیگر علامات میں تھکن، پیٹ پھولنا اور دائیں اوپری حصے میں درد شامل ہیں۔
آدم خور بھیڑیوں کے حملوں میں 9 ہلاک، انڈیا نے ٹریک کرنے کے لیے ڈرون تعینات کر دیے
انڈیا میں حالیہ ہفتوں میں آدم خور بھیڑیوں کے ہاتھوں بچوں سمیت نو افراد کے ہلاک ہونے کے بعد آدم خور بھیڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون تعینات کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی سے ایف پی کے مطابق تازہ ترین شکار ایک 10 ماہ کی بچی تھی جسے شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں سنیچر کو اس وقت بھیڑیا اٹھا لے گیا جب وہ اپنی ماں کے ساتھ سو رہی تھی۔ بچی بعد میں کھیت میں مردہ حالت میں ملی۔
ایک دن پہلے ایک پانچ سالہ لڑکے کو اس کی ماں کے سامنے گھر کے باہر سے بھیڑیا اٹھا کر لے گیا۔ بچہ گنے کے کھیت میں زخمی حالت میں ملا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔حکام نے کہا کہ حملہ اسی پیٹرن کے مطابق ہوا جو ستمبر سے ملحقہ دیہاتوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں دیکھا گیا ہے۔
پولیس، محکمہ جنگلات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین اموات نے بہرائچ میں مشتبہ بھیڑیوں کے حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد تین ماہ میں کم از کم نو تک پہنچا دی ہے۔ بھیڑیوں کے شکار میں ایک بوڑھا جوڑا بھی شامل تھا۔
محکمہ جنگلات کے افسر رام سنگھ یادو نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے علاقے میں ڈرون، کیمرہ ٹریپس اور شوٹرز تعینات کیے ہیں۔ بھیڑیوں کا رویہ بدلتا ہوا لگ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ دن کے وقت سرگرم نظر آتے ہیں، جو عجیب ہے۔‘
دیگر حکام نے کہا کہ جانور غیر معمولی حد تک بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔
بہرائچ میں گذشتہ سال بھی اسی طرح کے حملے ہوئے تھے، جب بھیڑیوں کے ایک جھنڈ نے کم از کم نو افراد کو ہلاک اور کئی دیگر کو زخمی کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھیڑیے انسانوں یا مویشیوں پر صرف اس وقت حملہ کرتے ہیں جب وہ بھوکے ہوں، ورنہ وہ چھوٹے ہرن جیسے کم خطرناک شکار کو ترجیح دیتے ہیں۔
بہرائچ کے دیہاتی کہتے ہیں کہ وہ اب اپنے گھروں کے قریب چھپے بھیڑیوں سے جان کے خوف میں جی رہے ہیں۔ ہمارے بچے گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں، ہم صرف چاہتے ہیں کہ یہ حملے رک جائیں۔‘
مقامی طور پر تیار ہونے والے دو سعودی سیٹلائٹس کی کامیاب لانچنگ
سبق ویب سائٹ کے مطابق دونوں سیٹلائٹس ام القرى یونیورسٹی اور پرنس سلطان یونیورسٹی کے طلبہ نے ’ساری‘ مقابلے کے تحت تیار کیے جو چھوٹے مصنوعی سیاروں کے ڈیزائن اور تیاری کا علمی و سائنسی پروگرام ہے۔
دونوں سیٹلائٹس بین الاقوامی مشن کے ساتھ خلا کی جانب روانہ ہوئے جو قومی سنگِ میل ہے اور سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور خلائی علوم و اختراع کے میدان میں قیادت حاصل کرنا ہے۔یہ لانچنگ طویل اور جامع مقابلے کا نتیجہ ہے جس میں 42 سعودی جامعات کے 480 سے زائد طلبہ پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا۔
یہ ٹیمیں سخت سائنسی اور انجینیئرنگ معیارات کے مطابق چھوٹے مصنوعی سیاروں کے ڈیزائن میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے کوشاں رہیں۔
مقابلے کا مقصد طلبہ کو سیٹلائٹ کے ڈیزائن، تیاری اور آپریشن کے عملی تجربے فراہم کرنا اور انہیں علوم، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں مہارت دلانا تھا تاکہ مستقبل میں خلائی شعبے کی قومی قیادت سنبھالنے کے لیے ماہر نسل تیار کی جا سکے۔
پرنس سلطان یونیورسٹی کی ٹیم ’روضہ سكوپ‘ نے ایسا سیٹلائٹ تیار کیا جو کم توانائی استعمال کرنے والی انٹرنیٹ آف تھنگز ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کا مقصد ماحولیاتی پہل کاریوں کی معاونت اور دور دراز علاقوں میں پائیدار کمیونی کیشن کو بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب جامعہ ام القرى کی ٹیم نے ’افق‘ سیٹلائٹ تیار کیا جو خلائی موسم کی نگرانی اور شمسی تابکاری کے اثرات کو درست وقت اور نیویگیشن کے نظام پر جانچنے کے لیے وقف ہے۔
دونوں منصوبے مملکت کی ترقی اور سائنسی اختراع کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال میں اہم کردار ادا کریں گے۔