Saturday, 29 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





عمران خان سے آخر کیا چاہتے ہیں شہباز - منیر؟ پردے کے پیچھے منوا رہے یہ گھٹیا شرط، PTI سینیٹر نے لیک کردیا سکریٹ
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے قتل کی افواہ نے گھر والوں کی سانسیں روک دی تھیں ۔ جیل انتطامیہ نے حالانکہ انہیں زندہ بتایا ہو، لیکن فیملی کو عمران کی شکل دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان کی عزت دنیا بھر میں اچھالی جا رہی ہے لیکن شہباز شریف اور عاصم منیر پھر بھی خاموش بیٹھے ہیں۔ ان سب کے درمیان حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے سینیٹر خُرم ذیشان نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح شہباز–منیر، عمران کو ایک شرط منوانے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ یہ سارا کھیل پردے کے پیچھے سے چل رہا ہے۔

قتل پر PTI سینیٹر نے کیا کہا؟خیبر پختونخوا سے سینیٹر خرم ذیشان نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جیل میں زندہ ہیں۔ انہیں تشدد کرنے کے لیے تنہائی میں رکھا گیا ہے لیکن ان کا قتل نہیں ہوا ہے۔

شہباز–منیر کا اصل کھیل
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک چونکا دینے والا دعوی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر، عمران پر تشدد کرکے اور فیملی کو دور رکھ کر دراصل اپنی شرطیں منوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک سمجھوتہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ شہباز–منیر کو ڈر ہے کہ عمران خان دونوں کی ہی حالت خراب کر سکتے ہیں، اسی لیے انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ خاموشی سے پاکستان چھوڑ دیں اور بیرون ملک جا کر رہنے لگیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت پردے کے پیچھے سے انہیں یہ شرط منوانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے لیکن عمران خان اس بات کے لیے کبھی راضی نہیں ہوں گے۔بہن بولیں: ’بیماری موت کی وجہ نہیں ہو سکتی‘
بتا دیں کہ گزشتہ چند دنوں سے پاکستان کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے قتل کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ان کی بہن علیمہ خان نے نیوز 18 سے خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ وہ چار ہفتے پہلے اپنے بھائی سے ملی تھیں اور ان کی طبیعت بالکل ٹھیک تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “ایسے میں موت کی وجہ بڑھاپا یا بیماری نہیں بتائی جا سکتی۔” انہوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور اگر خان کو کچھ ہوا تو لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔










گڈ کولیسٹرول بھی دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، طبی تحقیق
لندن ..... انسانی جسم میں2طرح کے کولیسٹرول پائے جاتے ہیں جن میں ”گڈ یا اچھا کولیسٹرول“ ( ایچ ڈی ایل) اور ”بیڈ یا برا کولیسٹرول“ (ایل ڈی ایل) شامل ہیں۔ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو جسم کے خلیوں اور خلیوں کے نظام کا ایک اہم جز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جاپان میں کی جانی والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ”گڈ کولیسٹرول“ بھی دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب انسانی جسم میں ایچ ڈی ایل کی شرح بہت زیادہ بڑھ جائے۔ 40 سے 89 سال کی عمر کے 43 ہزار افراد پر 12 سال تک تحقیق کی گئی جس کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کا لیول ڈی ایل /90 ایم جی سے زیادہ ہو ان میں دل کی بیماری سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان افراد کی نسبت 2.4 گنا زیادہ ہے جن کا ایچ ڈی ایل لیول 40 سے ڈی ایل /59 ایم جی ہو۔










کیا آخری بار ٹیم انڈیا کی جرسی میں نظر آئیں گے کوہلی اور روہت شرما، ون ڈے سیریز کے بعد ہوگا مستقبل کا فیصلہ
نئی دہلی: ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان رانچی میں ون ڈے سیریز شروع ہونے والی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 30 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ اس سیریز میں ہندوستانی ٹیم کے لیجنڈ وراٹ کوہلی اور روہت شرما بھی کھیل رہے ہیں۔ یہ دونوں کھلاڑی اب ٹیم انڈیا کے لیے اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ہی دکھائی دیں گے، جو جنوری میں ہوگی۔ اس کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کھیلا جائے گا۔ ایسے میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے لیے ایک طویل بریک ہو جائے گا۔

بیک ٹو بیک کرکٹ کے درمیان ٹیم انڈیا کو 2027 ورلڈ کپ کے لیے بھی ٹیم کو تیار کرنا ہے۔ ایسے میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما ورلڈ کپ 2027 کے لیے دستیاب رہیں گے یا نہیں، اس کو لے کر ٹیم مینجمنٹ کی ایک میٹنگ ہونے والی ہے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد کوچ گوتم گمبھیر اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اگلے ہفتے وشاکھاپٹنم میں تیسرے ون ڈے کے بعد احمد آباد میں ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔
وراٹ – روہت کے لیے اس میٹنگ کی کیا اہمیت ہے؟
وراٹ اور روہت کو لے کر ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ون ڈے ورلڈ کپ میں کھیلیں گے یا نہیں۔ اس کو لے کر ٹیم مینجمنٹ میں کوئی بحث بھی نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں کوچ گمبھیر ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے بیک اپ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ بیک اپ کی ضرورت اس لیے ہے کہ اگر دونوں میں سے کوئی بھی ورلڈ کپ نہیں کھیلتا ہے تو پھر ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو تیار کیا جائے۔بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق کہا گیا ہے کہ “یہ بہت ضروری ہے کہ روہت اور کوہلی جیسے قد کے کھلاڑیوں کو اس بارے میں صاف صاف بتایا جائے کہ ان سے کیا امید کی جاتی ہے اور مینجمنٹ ان کے رول کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ صرف غیر یقینی صورتحال کے ساتھ نہیں کھیل سکتے۔” اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وراٹ اور روہت کا ٹیم انڈیا کے لیے کیا مستقبل ہے، اس کے بارے میں جلد ہی سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...