مالیگاؤں،محمدیہ طبیہ کالج و السایر اسپتال،منصورہ،مالیگاؤں نے ایک بار پھر اپنی برتری کا لوہا منوالیا ہے۔آل انڈیا آیوش پی جی مقابلہ جاتی امتحان (AIAPGET) 2025میں کالج کے ہونہار طلباء نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔فاطمہ بی نسیم الدین شیخ نے آل انڈیا 8ویں رینک اور خان جویریہ عندلیب عابد خان نے آل انڈیا 10ویں رینک حاصل کرتے ہوئے ادارے کی تاریخ میں سنہرے باب کا اضافہ کیاہے۔ان کے علاوہ دیگر 18طلباء نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے نامور کالجز میں فری سیٹ PGکورس میں داخلے کے اہل قرار پائے ہیں۔
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
کالج و ادارے کے چیئرمین محترم جناب ارشد مختار صاحب کی ذاتی توجہ اور رہنمائی نے ادارے کو دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ان کا مقصد ہے کہ محمدیہ طبیہ کالج سے فارغ ہونے والے ڈاکٹرز نہ صرف مکمل ڈاکٹرز ہوں بلکہ ان کے پاس ڈگری کے ساتھ بہترین تجربہ اور اعلیٰ اخلاقیات بھی ہوں۔موصوف کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد صرف ڈگری تقسیم کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے ڈاکٹرز تیار کرنا ہے جو علم،مہارت،اعلیٰ اخلاق اور خدمت خلق کے جذبے سے لیس ہوں۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ میں اپنے تمام ہونہار طلباء کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔میری دُعا ہے کہ آپ سب مستقبل میں مزید بلندیوں کو حاصل کریں اور انسانیت کی خدمت کیلئے اپنا علم و ہنروقف کردیں۔
جدید تدریسی نظام،ماہر اساتذہ، تمام سہولیات سے مزین لیب، کالج سے منسلک ہاسپٹل اور تحقیقی و علمی تربیت کے مواقع،محمدیہ طبیہ کالج والسایر اسپتال کو نمایاں اداروں میں شامل کرتے ہیں۔
ادارے کے نائب صدر جناب راشد ارشد مختار،سکریٹری جناب بلال ارشد مختار، سی ای او ڈاکٹر عبدالماجد صاحب اور پرنسپل ڈاکٹر محمد زبیرصاحب نے بھی اِن طلباء اور ان کے والدین کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔کالج کا تعلیمی ماحول بہتر بنانے اور طلباء کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ان ذمہ داروں کی نمایاں خدمات ہیں۔ طلباء کے اس کامیابی کے پیچھے کالج کے منتظم تربیتی پروگرام، ماہانہ جائزہ طلباء کیلئے خصوصی رہنمائی کا اہم کردار رہا ہے۔کالج اساتذہ نے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھار نے میں مدد کی۔مزید براں کالج کی لائبریری میں موجود جدید علمی مواد اور ڈیجیٹل وسائل نے طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں برتری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
گذشتہ سال QCI(کوالیٹی کونسل آف انڈیا) نے کالج کو Aگریڈ سے نوازا جو ادارے کے تعلیمی،تحقیقی اور انتظامی معیار کی واضح عکاسی کرتا ہے اور واضح ہوتا ہے کہ کالج کا علمی اور طبی حلقوں میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔QCIٹیم نے کالج کی تعلیمی سرگرمیوں، انفرا سٹرکچر اور طلباء کی فلاح وبہبود کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کالج کو Aگریڈ سے نوازا ہے۔ محمدیہ طبیہ کالج اسٹاف و انتظامیہ اپنے طلباء کی اس کامیابی پر نہ صرف فخر کرتا ہے بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کی شاندار کامیابیوں کے حصول کیلئے پر عظم ہے۔یہ ادارہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ سماجی خدمت اور صحت کے شعبے میں بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے جو اسے ایک مثالی ادارہ بناتا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے دیا استعفی ، آئینی عہدوں پر فائز شخصیات احتجاجیوں کےنشانے پر، تھوڑ پھوڑ جاری
نیپال میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ احتجاج کی زد میں وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی آگئے ہیں۔ بڑھتی عدم اطمینانی کے درمیان انھوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔سوشل میڈیا پر عائد پابندی کے خلاف شروع ہوا احتجاج اتنی شدت اختیار کرے گا اس کا اندازہ شائد وزیراعظم اولی کو نہیں تھا۔
حالانکہ حکومت نے پُرتشدد احتجاج کے بعد،اپنا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔مگر اس فیصلے کے باوجود احتجاجی مطمئین نہیں ہوئے اوران کا احتجاج جاری رہا۔ اب نیپال میں ایک بڑاآئینی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اولی مستعفی ہوگئے ہیں ۔ آرمی چیف نے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اور نیپالی کانگریس نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ سیکڑوں احتجاجی ان کے دفتر میں گھس گئے جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ پی ایم اولی نے اپنا استعفیٰ صدر کو پیش کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اولی دبئی جا سکتے ہیں۔ ان کی کابینہ کے 4 وزرا پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ آر ایس پی کے 21 ارکان پارلیمان احتجاج کی حمایت میں استعفی دے چکے ہیں۔نیپال کے راجا بھی احتجاجیوں کی حمایت میں آگئے ہیں۔ انھوں نے احتجاجی طلباء کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی نسل کے مسائل کو نہیں سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔
احتجاج کے پہلے دن تو سوشل میڈیا ایک ایشو بنا رہا لیکن پابندی ہٹنے کے بعد دوسرے دن پوری توجہ کے پی کے اولی کی حکومت کا تختہ الٹنے پر مرکوز ہوگئی۔ آج صبح مشتعل ہجوم نے صدر اور وزیر اعظم کی نجی رہائش گاہوں کو نذر آتش کر دیا اور وزراء کے گھروں کا محاصرہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ احتجاجیوں نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیااور اہم آئینی عہدوں پر فائز اعلیٰ شخصیات کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔
صورتحال یہ ہے کہ نیپال کے کئی علاقوں میں نوجوان ہاتھوں میں پتھر اور لاٹھیاں لیے گھوم رہے ہیں۔ پولیس کو ان پر قابو پانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ کھٹمنڈو میں مظاہرین نے مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج جاری رکھا اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور آگ لگا دی۔ اس وقت کھٹمنڈو کی سڑکوں پر بغاوت کی آگ اس طرح جل رہی ہے کہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔
نیپال میں جاری صورتحال کے پیش نظر تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں روک دی گئی ہیں۔ نیپال کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے اور گھریلو ہوائی اڈوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
حیدرآباد میں انٹرنیٹ مکمل بندہونے کا خدشہ: کیبل تاروں کی کٹائی، بحران میں تبدیل
حیدرآباد اس وقت شدید انٹرنیٹ اور کیبل بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں بڑے پیمانے پر کیبل کریک ڈاؤن کے باعث ہزاروں گھروں، دفاتر اور کاروباری اداروں میں رابطے معطل ہو گئے ہیں۔ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو پورے شہر میں انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کے ’’مکمل شٹ ڈاؤن‘‘ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
یہ بحران اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (TGSPDCL) نے بجلی کے کھمبوں سے نیچی لٹکی تاروں کو کاٹنے کی مہم تیز کردی۔ یہ مہم اس وقت شروع کی گئی جب حالیہ دنوں میں مذہبی اور عوامی جلوسوں کے دوران کئی افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے تھے۔
مگر اس کارروائی نے پورے شہر کو افراتفری میں مبتلا کردیا۔ سڑکوں پر کٹے ہوئے تار بکھرے پڑے ہیں اور بحالی کی اجازت پر حکام اور آپریٹرز کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
تلنگانہ کیبل ٹی وی انٹرنیٹ اینڈ ٹیلی کام سروس پرووائیڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر مدھیلا جیتندر نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو حیدرآباد کو مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
پورے شہر میں تقریباً 2000 کلومیٹر کیبل لائنیں گزشتہ 30 سال میں بچھائی گئی ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کے باعث OTT، ٹیلی کام، اور ایئرٹیل کے 30 سے 40 فیصد ٹاورز ڈاؤن ہیں۔ ہم نے صرف پچھلے دو ہفتوں میں 500–700 کلومیٹر تاریں درست کی ہیں، لیکن جب حکومت دوسری طرف سے بار بار کاٹ رہی ہے تو ایک طرف کی صفائی کا کیا فائدہ؟‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سے چھوٹے اور غیر رجسٹرڈ آپریٹرز ’’آدھی تیاری‘‘ کے ساتھ بے ترتیبی سے تار بچھا کر غائب ہوجاتے ہیں، جس سے مسئلہ اور بڑھ گیا ہے۔
معاشرتی اور معاشی نقصان
اس بحران نے شہریوں کی زندگی بری طرح متاثر کر دی ہے۔
گھروں میں بچے آن لائن کلاسز سے محروم ہو گئے۔
گھر سے کام کرنے والے ملازمین ڈیڈ لائنز پوری نہ کر سکے۔
کئی اسپتالوں اور لیبارٹریز کا براڈبینڈ کنکشن منقطع ہو گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کی رپورٹس اپلوڈ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
شہری مہنگے موبائل ڈیٹا پیکجز خریدنے پر مجبور ہیں، مگر انٹرنیٹ بار بار ڈراپ ہو رہا ہے۔
ایک سافٹ ویئر انجینئر نے بتایا:
’’میں نے گھر سے کام کرنے کے کئی دن ضائع کیے۔ کمپنی نے وارننگ دی ہے۔ حکومت اور آپریٹرز ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں، لیکن اصل نقصان ہم صارفین کو ہو رہا ہے۔"
حکومت کا مؤقف
حکومت نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب عوامی حفاظت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر نے کہا:
“ہم صرف وہ تار کاٹ رہے ہیں جو 15 فٹ سے نیچے لٹک رہے ہیں یا پھر غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقصد صرف عوام اور لائن مینوں کی جان بچانا ہے۔”
حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباً 60 فیصد تار غیر استعمال شدہ ہیں، جو پرانے گاہکوں کے دوسرے نیٹ ورک پر منتقل ہونے کے بعد کھمبوں پر ہی چھوڑ دیے گئے۔
یہ تنازعہ دراصل تلنگانہ ہائی کورٹ کے اُس حکم کے بعد شدت اختیار کر گیا جس میں تمام غیر قانونی تاروں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب حیدرآباد میں بجلی کے کھمبوں پر لٹکتی تاروں نے عوامی زندگی مفلوج کی ہو۔ ماضی میں بھی جلوسوں اور بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے کئی اموات ہوئی ہیں۔ تاہم، اس بار مسئلہ زیادہ سنگین اس لیے ہے کہ حیدرآباد ایک ڈیجیٹل معیشت پر چلنے والا شہر ہے، جہاں IT کمپنیاں، اسپتال اور آن لائن تعلیم پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگ براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں
اگر حکومت اور کیبل آپریٹرز نے مشترکہ حکمتِ عملی نہ اپنائی تو یہ بحران شہریوں کی روزمرہ زندگی اور کاروبار پر طویل مدتی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔